Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن شہداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے، تو آپ دس دس آدمیوں پر نماز جنازہ پڑھنے لگے، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش اسی طرح رکھی رہی اور باقی لاشیں نماز جنازہ کے بعد لوگ اٹھا کر لے جاتے رہے، لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش جیسی تھی ویسی ہی رکھی رہی۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن يزيد بن ابي زياد، عن مقسم، عن ابن عباس، قال اتي بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد فجعل يصلي على عشرة عشرة وحمزة هو كما هو يرفعون وهو كما هو موضوع
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے، پھر پوچھتے: ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے ؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا، تو اسے قبر ( قبلہ کی طرف ) میں آگے کرتے، اور فرماتے: میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں،، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور نہ غسل دلایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين والثلاثة من قتلى احد في ثوب واحد ثم يقول " ايهم اكثر اخذا للقران " . فاذا اشير له الى احدهم قدمه في اللحد وقال " انا شهيد على هولاء " . وامر بدفنهم في دمايهم ولم يصل عليهم ولم يغسلوا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے ہتھیار اور پوستین اتار لی جائے، اور ان کو انہیں کپڑوں میں خون سمیت دفنایا جائے۔
حدثنا محمد بن زياد، حدثنا علي بن عاصم، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بقتلى احد ان ينزع عنهم الحديد والجلود وان يدفنوا في ثيابهم بدمايهم
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اپنی شہادت گاہوں کی جانب لوٹا دئیے جائیں، لوگ انہیں مدینہ لے آئے تھے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، وسهل بن ابي سهل، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الاسود بن قيس، سمع نبيحا العنزي، يقول سمعت جابر بن عبد الله، يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بقتلى احد ان يردوا الى مصارعهم وكانوا نقلوا الى المدينة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے تو اس کے لیے کچھ نہیں ہے ۱؎ ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ذيب، عن صالح، مولى التوامة عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى على جنازة في المسجد فليس له شىء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث زیادہ قوی ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا فليح بن سليمان، عن صالح بن عجلان، عن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، قالت والله ما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على سهيل ابن بيضاء الا في المسجد . قال ابن ماجه حديث عايشة اقوى
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تین اوقات میں نماز پڑھنے، اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے: ایک تو جب سورج نکل رہا ہو، اور دوسرے جب کہ ٹھیک دوپہر ہو، یہاں تک کہ زوال ہو جائے یعنی سورج ڈھل جائے، تیسرے جب کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے ۱؎ ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عبد الله بن المبارك، جميعا عن موسى بن على بن رباح، قال سمعت ابي يقول، سمعت عقبة بن عامر الجهني، يقول: ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا ان نصلي فيهن او نقبر فيهن موتانا حين تطلع الشمس بازغة، وحين يقوم قايم الظهيرة حتى تميل الشمس، وحين تضيف للغروب حتى تغرب
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رات میں دفن کیا، اور اس کی قبر کے پاس ( روشنی کے لیے ) چراغ جلایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا يحيى بن اليمان، عن منهال بن خليفة، عن عطاء، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ادخل رجلا قبره ليلا واسرج في قبره
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو رات میں دفن نہ کرو، مگر یہ کہ تم مجبور کر دئیے جاؤ ۱؎ ۔
حدثنا عمرو بن عبد الله الاودي، حدثنا وكيع، عن ابراهيم بن يزيد المكي، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تدفنوا موتاكم بالليل الا ان تضطروا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو ۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ابن لهيعة، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلوا على موتاكم بالليل والنهار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ( منافقین کے سردار ) عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا تو اس کے ( مسلمان ) بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اپنا کرتہ دے دیجئیے، میں اس میں اپنے والد کو کفناؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اس کا جنازہ تیار کر کے ) مجھے اطلاع دینا ، جب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: یہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے، بہرحال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مجھے دو باتوں میں اختیار دیا گیا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ( سورة التوبة: 80 ) تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ( سورة التوبة: 84 ) منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال لما توفي عبد الله بن ابى جاء ابنه الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اعطني قميصك اكفنه فيه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذنوني به " . فلما اراد النبي صلى الله عليه وسلم ان يصلي عليه قال له عمر بن الخطاب ما ذاك لك . فصلى عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " انا بين خيرتين {استغفر لهم او لا تستغفر لهم } " . فانزل الله سبحانه {ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره}
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ منافقین کا سردار ( عبداللہ بن ابی ) مدینہ میں مر گیا، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں۔
حدثنا عمار بن خالد الواسطي، وسهل بن ابي سهل، قالا حدثنا يحيى بن سعيد، عن مجالد، عن عامر، عن جابر، قال مات راس المنافقين بالمدينة واوصى ان يصلي عليه النبي صلى الله عليه وسلم وان يكفنه في قميصه فصلى عليه وكفنه في قميصه وقام على قبره فانزل الله {ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره}
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کی نماز پڑھو، اور ہر امیر ( حاکم ) کے ساتھ ( مل کر ) جہاد کرو ۔
حدثنا احمد بن يوسف السلمي، حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا الحارث بن نبهان، حدثنا عتبة بن يقظان، عن ابي سعيد، عن مكحول، عن واثلة بن الاسقع، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلوا على كل ميت وجاهدوا مع كل امير
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص زخمی ہوا، اور زخم نے اسے کافی تکلیف پہنچائی، تو وہ آہستہ آہستہ تیر کی انی کے پاس گیا، اور اس سے اپنے کو ذبح کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا شريك بن عبد الله، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، ان رجلا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم جرح فاذته الجراحة فدب الى مشاقصه فذبح به نفسه فلم يصل عليه النبي صلى الله عليه وسلم . قال وكان ذلك ادبا منه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں دیکھا، کچھ روز کے بعد اس کے متعلق پوچھا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ اس کا انتقال ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے خبر کیوں نہ دی، اس کے بعد آپ اس کی قبر پہ آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی ۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، حدثنا ثابت، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، . ان امراة، سوداء كانت تقم المسجد ففقدها رسول الله صلى الله عليه وسلم فسال عنها بعد ايام فقيل له انها ماتت . قال " فهلا اذنتموني " . فاتى قبرها فصلى عليها
یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ (وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟ ، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مر جائے تو جب تک میں تم میں زندہ ہوں مجھے خبر کرتے رہو، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا هشيم، حدثنا عثمان بن حكيم، حدثنا خارجة بن زيد بن ثابت، عن يزيد بن ثابت، وكان، اكبر من زيد قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فلما ورد البقيع فاذا هو بقبر جديد فسال عنه فقالوا فلانة . قال فعرفها وقال " الا اذنتموني بها " . قالوا كنت قايلا صايما فكرهنا ان نوذيك . قال " فلا تفعلوا لا اعرفن ما مات فيكم ميت ما كنت بين اظهركم الا اذنتموني به فان صلاتي عليه له رحمة " . ثم اتى القبر فصفنا خلفه فكبر عليه اربعا
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی ؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: اس پہ صف باندھو، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن محمد بن زيد بن المهاجر بن قنفذ، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، ان امراة، سوداء ماتت و لم يوذن بها النبي صلى الله عليه وسلم فاخبر بذلك فقال " هلا اذنتموني بها " . ثم قال لاصحابه " صفوا عليها " . فصلى عليها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کا انتقال ہو گیا، جس کی عیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے، لوگوں نے اسے رات میں دفنا دیا، جب صبح ہوئی اور لوگوں نے ( اس کی موت کے بارے میں ) آپ کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی ؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور تاریکی تھی، ہم نے آپ کو تکلیف دینا اچھا نہیں سمجھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے پاس آئے، اور اس کی نماز جنازہ پڑھی ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن ابي اسحاق الشيباني، عن الشعبي، عن ابن عباس، قال مات رجل وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعوده. فدفنوه بالليل. فلما اصبح اعلموه. فقال " ما منعكم ان تعلموني " . قالوا كان الليل وكانت الظلمة فكرهنا ان نشق عليك . فاتى قبره، فصلى عليه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر دفن کیے جانے کے بعد اس میت کی نماز جنازہ پڑھی۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا غندر، عن شعبة، عن حبيب بن الشهيد، عن ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على قبر بعد ما قبر
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کی اس کے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔
حدثنا محمد بن حميد، حدثنا مهران بن ابي عمر، عن ابي سنان، عن علقمة بن مرثد، عن ابن بريدة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على ميت بعد ما دفن