Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، ایک رات اس کا انتقال ہو گیا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مرنے کی اطلاع دی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہ دی ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تکبیر کہی، اور لوگ آپ کے پیچھے تھے، آپ نے اس کے لیے دعا کی پھر آپ لوٹ آئے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا سعيد بن شرحبيل، عن ابن لهيعة، عن عبيد الله بن المغيرة، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، قال كانت سوداء تقم المسجد فتوفيت ليلا فلما اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم اخبر بموتها فقال " الا اذنتموني بها " . فخرج باصحابه فوقف على قبرها فكبر عليها والناس من خلفه ودعا لها ثم انصرف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مقبرہ بقیع کی طرف گئے، ہم نے صف باندھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، پھر آپ نے چار تکبیریں کہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان النجاشي قد مات " . فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه الى البقيع . فصفنا خلفه وتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبر اربع تكبيرات
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ( دینی ) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، ان کی نماز جنازہ پڑھو عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، میں دوسری صف میں تھا، تو دو صفوں نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی
حدثنا يحيى بن خلف، ومحمد بن زياد، قالا حدثنا بشر بن المفضل، ح وحدثنا عمرو بن رافع، حدثنا هشيم، جميعا عن يونس، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن الحصين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اخاكم النجاشي قد مات فصلوا عليه " . قال فقام فصلينا خلفه واني لفي الصف الثاني فصلى عليه صفين
مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ( دینی ) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، تم لوگ کھڑے ہو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں لگائیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن حمران بن اعين، عن ابي الطفيل، عن مجمع بن جارية الانصاري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اخاكم النجاشي قد مات فقوموا فصلوا عليه " . فصففنا خلفه صفين
حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر نکلے تو فرمایا: اپنے ( دینی ) بھائی پر نماز جنازہ پڑھو جن کی موت تمہارے علاقہ سے باہر ہو گئی ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نجاشی ہیں ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن المثنى بن سعيد، عن قتادة، عن ابي الطفيل، عن حذيفة بن اسيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج بهم فقال " صلوا على اخ لكم مات بغير ارضكم " . قالوا: من هو؟ قال: " النجاشي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی، تو چار تکبیرات کہیں۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا مكي بن ابراهيم ابو السكن، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على النجاشي فكبر اربعا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا، اسے دو قیراط ثواب ہے لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو پہاڑ کے برابر ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى على جنازة فله قيراط ومن انتظر حتى يفرغ منها فله قيراطان " . قالوا وما القيراطان قال " مثل الجبلين
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن میں بھی شریک رہا، تو اس کو دو قیراط برابر ثواب ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، عن قتادة، حدثني سالم بن ابي الجعد، عن معدان بن ابي طلحة، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى على جنازة فله قيراط ومن شهد دفنها فله قيراطان " . قال: فسيل نبي الله صلى الله عليه وسلم عن القيراط؟ فقال " مثل احد
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن تک جنازہ میں حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، قیراط اس احد پہاڑ سے بڑا ہے ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا عبد الرحمن المحاربي، عن حجاج بن ارطاة، عن عدي بن ثابت، عن زر بن حبيش، عن ابى بن كعب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى على جنازة فله قيراط ومن شهدها حتى تدفن فله قيراطان والذي نفس محمد بيده القيراط اعظم من احد هذا
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، عن عامر بن ربيعة، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح: وحدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن عامر بن ربيعة، سمعه يحدث، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " اذا رايتم الجنازة فقوموا لها حتى تخلفكم او توضع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کھڑے ہو جاؤ! اس لیے کہ موت کی ایک گھبراہٹ اور دہشت ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهناد بن السري، قالا حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال مر على النبي صلى الله عليه وسلم بجنازة فقام وقال " قوموا فان للموت فزعا
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے، پھر آپ بیٹھ گئے، تو ہم بھی بیٹھ گئے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن محمد بن المنكدر، عن مسعود بن الحكم، عن علي بن ابي طالب، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم لجنازة فقمنا حتى جلس فجلسنا
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا: اے محمد! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنا شروع کر دیا، اور فرمایا: ان کی مخالفت کرو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن بشار، وعقبة بن مكرم، قالا حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا بشر بن رافع، عن عبد الله بن سليمان بن جنادة بن ابي امية، عن ابيه، عن جده، عن عبادة بن الصامت، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتبع جنازة لم يقعد حتى توضع في اللحد فعرض له حبر فقال هكذا نصنع يا محمد . فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " خالفوهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے انہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( ایک رات ) غائب پایا، پھر دیکھا کہ آپ مقبرہ بقیع میں ہیں، اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين أنتم لنا فرط وإنا بكم لاحقون اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم» اے مومن گھر والو! تم پر سلام ہو، تم لوگ ہم سے پہلے جانے والے ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے ثواب سے محروم نہ کرنا، اور ان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈالنا ۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا شريك بن عبد الله، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن عايشة، قالت فقدته - تعني النبي صلى الله عليه وسلم - فاذا هو بالبقيع فقال " السلام عليكم دار قوم مومنين انتم لنا فرط وانا بكم لاحقون اللهم لا تحرمنا اجرهم ولا تفتنا بعدهم
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں: «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون نسأل الله لنا ولكم العافية» اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلام ہو، ہم تم سے ان شاءاللہ ملنے والے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن عباد بن ادم، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمهم اذا خرجوا الى المقابر. كان قايلهم يقول: السلام عليكم اهل الديار من المومنين والمسلمين وانا ان شاء الله بكم لاحقون نسال الله لنا ولكم العافية
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے۔
حدثنا محمد بن زياد، حدثنا حماد بن زيد، عن يونس بن خباب، عن المنهال بن عمرو، عن زاذان، عن البراء بن عازب، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة فقعد حيال القبلة
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے، اور ہم بھی بیٹھ گئے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن عمرو بن قيس، عن المنهال بن عمرو، عن زاذان، عن البراء بن عازب، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة فانتهينا الى القبر فجلس وجلسنا كان على رءوسنا الطير
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب مردے کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «بسم الله وعلى ملة رسول الله» اور ابوخالد نے اپنی روایت میں ایک بار یوں کہا: جب میت کو اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا تو آپ «بسم الله وعلى سنة رسول الله» کہتے، اور ہشام نے اپنی روایت میں «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» کہا ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا ليث بن ابي سليم، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا ابو خالد الاحمر، حدثنا الحجاج، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا ادخل الميت القبر قال " بسم الله وعلى ملة رسول الله " . وقال ابو خالد مرة اذا وضع الميت في لحده قال " بسم الله وعلى سنة رسول الله " . وقال هشام في حديثه " بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو ان کی قبر کے پائتانے سے سر کی طرف سے قبر میں اتارا، اور ان کی قبر پہ پانی چھڑکا ۱؎۔
حدثنا عبد الملك بن محمد الرقاشي، حدثنا عبد العزيز بن الخطاب، حدثنا مندل بن علي، اخبرني محمد بن عبيد الله بن ابي رافع، عن داود بن الحصين، عن ابيه، عن ابي رافع، قال سل رسول الله صلى الله عليه وسلم سعدا ورش على قبره ماء
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف سے ( قبر میں ) اتارا گیا، اور کھینچ لیا گیا، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا۔
حدثنا هارون بن اسحاق، حدثنا المحاربي، عن عمرو بن قيس، عن عطية، عن ابي سعيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ من قبل القبلة واستقبل استقبالا واستل استلالا