Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک جنازے میں آیا، جب انہوں نے اسے قبر میں رکھا تو کہا: «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» اور جب قبر پر اینٹیں برابر کرنے لگے تو کہا: «اللهم أجرها من الشيطان ومن عذاب القبر اللهم جاف الأرض عن جنبيها وصعد روحها ولقها منك رضوانا» اے اللہ! تو اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے بچا، اے اللہ! زمین کو اس کی پسلیوں سے کشادہ رکھ، اور اس کی روح کو اوپر چڑھا لے، اور اپنی رضا مندی اس کو نصیب فرما میں نے کہا: اے ابن عمر! یہ دعا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، یا اپنی طرف سے پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ایسا ہو تو مجھے اختیار ہو گا، جو چاہوں کہوں ( حالانکہ ایسا نہیں ہے ) بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حماد بن عبد الرحمن الكلبي، حدثنا ادريس الاودي، عن سعيد بن المسيب، قال حضرت ابن عمر في جنازة فلما وضعها في اللحد قال بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله . فلما اخذ في تسوية اللبن على اللحد قال اللهم اجرها من الشيطان ومن عذاب القبر اللهم جاف الارض عن جنبيها وصعد روحها ولقها منك رضوانا . قلت يا ابن عمر اشىء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ام قلته برايك قال اني اذا لقادر على القول بل شىء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر ( لحد ) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا حكام بن سلم الرازي، قال سمعت علي بن عبد الاعلى، يذكر عن ابيه، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللحد لنا والشق لغيرنا
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغلی قبر ( لحد ) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے ۔
حدثنا اسماعيل بن موسى السدي، حدثنا شريك، عن ابي اليقظان، عن زاذان، عن جرير بن عبد الله البجلي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللحد لنا والشق لغيرنا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ( اپنے انتقال کے وقت ) کہا: میرے لیے بغلی قبر ( لحد ) بنانا، اور کچی اینٹوں سے اس کو بند کر دینا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا تھا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو عامر، حدثنا عبد الله بن جعفر الزهري، عن اسماعيل بن محمد بن سعد، عن عامر بن سعد، عن سعد، انه قال: الحدوا لي لحدا وانصبوا على اللبن نصبا كما فعل برسول الله صلى الله عليه وسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے، ایک بغلی قبر بناتا تھا، اور دوسرا صندوقی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں ( پھر جو کوئی پہلے آئے گا، ہم اسے کام میں لگائیں گے ) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے، ان دونوں کو بلوایا گیا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا مبارك بن فضالة، حدثني حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال: لما توفي النبي صلى الله عليه وسلم كان بالمدينة رجل يلحد واخر يضرح. فقالوا: نستخير ربنا ونبعث اليهما فايهما سبق تركناه . فارسل اليهما فسبق صاحب اللحد. فلحدوا للنبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، تو لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر کے سلسلے میں اختلاف کیا، یہاں تک کہ اس سلسلے میں باتیں بڑھیں، اور لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زندگی میں یا موت کے بعد شور نہ کرو، یا ایسا ہی کچھ کہا، بالآخر لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، اس نے بغلی قبر بنائی، پھر اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا۔
حدثنا عمر بن شبة بن عبيدة بن زيد، حدثنا عبيد بن طفيل المقري، حدثنا عبد الرحمن بن ابي مليكة القرشي، حدثنا ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت لما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم اختلفوا في اللحد والشق حتى تكلموا في ذلك وارتفعت اصواتهم . فقال: عمر لا تصخبوا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم حيا ولا ميتا او كلمة نحوها . فارسلوا الى الشقاق واللاحد جميعا فجاء اللاحد فلحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثم دفن صلى الله عليه وسلم
ادرع سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات آیا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کیا کرتا تھا، ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو ریاکار معلوم ہوتا ہے، پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، جب لوگ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے، تو لوگوں نے اس کی لاش اٹھائی تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ نرمی کرو ، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی کرے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا، ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کی قبر کھودی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قبر کشادہ کرو، اللہ اس پر کشادگی کرے ، یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کی وفات پر آپ کو غم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا موسى بن عبيدة، حدثني سعيد بن ابي سعيد، عن الادرع السلمي، قال جيت ليلة احرس النبي صلى الله عليه وسلم فاذا رجل قراءته عالية فخرج النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله هذا مراء . قال فمات بالمدينة ففرغوا من جهازه فحملوا نعشه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارفقوا به رفق الله به انه كان يحب الله ورسوله " . قال وحفر حفرته فقال " اوسعوا له وسع الله عليه " . فقال بعض اصحابه يا رسول الله لقد حزنت عليه . فقال " اجل انه كان يحب الله ورسوله
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبر کو خوب کھودو، اسے کشادہ اور اچھی بناؤ ۔
حدثنا ازهر بن مروان، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا ايوب، عن حميد بن هلال، عن ابي الدهماء، عن هشام بن عامر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احفروا واوسعوا واحسنوا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کو ایک پتھر سے نشان زد کیا۔
حدثنا العباس بن جعفر، حدثنا محمد بن ايوب ابو هريرة الواسطي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن كثير بن زيد، عن زينب بنت نبيط، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعلم قبر عثمان بن مظعون بصخرة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا ازهر بن مروان، ومحمد بن زياد، قالا حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تقصيص القبور
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر کچھ لکھنے سے منع کیا ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا حفص بن غياث، عن ابن جريج، عن سليمان بن موسى، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يكتب على القبر شىء
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے سے منع کیا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن عبد الله الرقاشي، حدثنا وهيب، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن القاسم بن مخيمرة، عن ابي سعيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يبنى على القبر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھی، پھر میت کی قبر کے پاس تشریف لا کر اس پر سرہانے سے تین مٹھی مٹی ڈالی۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا يحيى بن صالح، حدثنا سلمة بن كلثوم، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى على جنازة ثم اتى قبر الميت فحثى عليه من قبل راسه ثلاثا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا آگ کے شعلہ پر جو اسے جلا دے بیٹھنا اس کے لیے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يجلس احدكم على جمرة تحرقه خير له من ان يجلس على قبر
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں انگارے یا تلوار پہ چلوں، یا اپنا جوتا پاؤں میں سی لوں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں، اور میں کوئی فرق نہیں سمجھتا کہ میں قضائے حاجت کروں قبروں کے بیچ میں یا بازار کے بیچ میں ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، حدثنا المحاربي، عن الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، مرثد بن عبد الله اليزني عن عقبة بن عامر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان امشي على جمرة او سيف او اخصف نعلي برجلي احب الى من ان امشي على قبر مسلم وما ابالي اوسط القبور قضيت حاجتي او وسط السوق
بشیر ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا: اے ابن خصاصیہ! تجھے اللہ سے کیا شکوہ ہے ( حالانکہ تجھے یہ مقام حاصل ہو گیا ہے کہ ) تو رسول اللہ کے ساتھ چل رہا ہے ؟ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں۔ مجھے اللہ نے ہر بھلائی عنایت فرمائی ہے۔ ( اسی اثناء میں ) آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: انہیں بہت بھلائی مل گئی ۔ پھر مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ بہت سی بھلائی سے محروم رہ گئے ۔ اچانک آپ کی نگاہ ایسے آدمی پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتوں سمیت چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جوتوں والے! انہیں اتار دے ۔ امام ابن ماجہ نے اپنے استاذ محمد بن بشار سے بیان کیا کہ ابن مہدی کہتے ہیں، عبداللہ بن عثمان کہا کرتے تھے یہ حدیث عمدہ ہے اور اس کا راوی خالد بن سمیر ثقہ ہے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا الاسود بن شيبان، عن خالد بن سمير، عن بشير بن نهيك، عن بشير بن الخصاصية، قال بينما انا امشي، مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا ابن الخصاصية ما تنقم على الله اصبحت تماشي رسول الله " . فقلت يا رسول الله ما انقم على الله شييا كل خير قد اتانيه الله . فمر على مقابر المسلمين فقال " ادرك هولاء خيرا كثيرا " . ثم مر على مقابر المشركين فقال " سبق هولاء خير كثير " . قال فالتفت فراى رجلا يمشي بين المقابر في نعليه فقال " يا صاحب السبتيتين القهما " . حدثنا محمد بن بشار حدثنا عبد الرحمن بن مهدي قال كان عبد الله بن عثمان يقول حديث جيد ورجل ثقة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں کی زیارت کیا کرو، اس لیے کہ یہ تم کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن عبيد، عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " زوروا القبور فانها تذكركم الاخرة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، حدثنا روح، حدثنا بسطام بن مسلم، قال سمعت ابا التياح، قال سمعت ابن ابي مليكة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص في زيارة القبور
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک دیا تھا، تو اب ان کی زیارت کرو، اس لیے کہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے، اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۱؎ ۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، حدثنا ابن وهب، انبانا ابن جريج، عن ايوب بن هاني، عن مسروق بن الاجدع، عن ابن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروا القبور فانها تزهد في الدنيا وتذكر الاخرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ روئے، اور آپ کے گرد جو لوگ تھے انہیں بھی رلایا، اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کروں، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اور میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، لہٰذا تم قبروں کی زیارت کیا کرو اس لیے کہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال زار النبي صلى الله عليه وسلم قبر امه فبكى وابكى من حوله فقال: " استاذنت ربي في ان استغفر لها فلم ياذن لي واستاذنت ربي في ان ازور قبرها فاذن لي فزوروا القبور فانها تذكركم الموت