Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہیں اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو اس کے بعد وہ اعرابی ( دیہاتی ) مسلمان ہو گیا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن البختري الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، عن ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان ابي كان يصل الرحم وكان وكان. فاين هو قال " في النار " . قال فكانه وجد من ذلك فقال يا رسول الله فاين ابوك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حيثما مررت بقبر كافر فبشره بالنار " . قال فاسلم الاعرابي بعد وقال لقد كلفني رسول الله صلى الله عليه وسلم تعبا ما مررت بقبر كافر الا بشرته بالنار
حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو بشر قالا حدثنا قبيصة، ح: وحدثنا ابو كريب، حدثنا عبيد بن سعيد، ح: وحدثنا محمد بن خلف العسقلاني، حدثنا الفريابي، وقبيصة، كلهم عن سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن عبد الرحمن بن بهمان، عن عبد الرحمن بن حسان بن ثابت، عن ابيه، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم زوارات القبور
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
حدثنا ازهر بن مروان، حدثنا عبد الوارث، حدثنا محمد بن جحادة، عن ابي صالح، عن ابن عباس، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم زوارات القبور
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
حدثنا محمد بن خلف العسقلاني ابو نصر، حدثنا محمد بن طالب، حدثنا ابو عوانة، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم زوارات القبور
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن حفصة، عن ام عطية، قالت: نهينا عن اتباع الجنايز، ولم يعزم علينا
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اسے اٹھاؤ گی ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ ( اپنے گھروں کو ) واپس جاؤ ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا احمد بن خالد، حدثنا اسراييل، عن اسماعيل بن سلمان، عن دينار ابي عمر، عن ابن الحنفية، عن علي، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا نسوة جلوس فقال " ما يجلسكن " . قلن ننتظر الجنازة . قال " هل تغسلن " . قلن لا . قال " هل تحملن " . قلن لا . قال " هل تدلين فيمن يدلي " . قلن لا . قال " فارجعن مازورات غير ماجورات
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ولا يعصينك في معروف» ( سورة الممتنحة: 12 ) نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: اس سے مراد نوحہ ہے ۱؎ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن يزيد بن عبد الله، مولى الصهباء عن شهر بن حوشب، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم {ولا يعصينك في معروف} قال: " النوح
معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام حریز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ ( چلّا کر رونے ) سے منع فرمایا ہے
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا عبد الله بن دينار، حدثنا حريز، مولى معاوية قال خطب معاوية بحمص فذكر في خطبته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن النوح
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نوحہ ( ماتم ) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ ( ماتم ) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول ( ڈامر ) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا ۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابن معانق، عن ابي مالك الاشعري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " النياحة من امر الجاهلية وان النايحة اذا ماتت ولم تتب قطع الله لها ثيابا من قطران ودرعا من لهب النار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مر جائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا عمر بن راشد اليمامي، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " النياحة على الميت من امر الجاهلية فان النايحة ان لم تتب قبل ان تموت فانها تبعث يوم القيامة عليها سرابيل من قطران ثم يعلى عليها بدروع من لهب النار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہو ۔
حدثنا احمد بن يوسف، حدثنا عبيد الله، انبانا اسراييل، عن ابي يحيى، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تتبع جنازة معها رانة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( نوحہ میں ) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن، جميعا عن سفيان، عن زبيد، عن ابراهيم، عن مسروق، ح وحدثنا علي بن محمد، وابو بكر بن خلاد قالا: حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من شق الجيوب وضرب الخدود ودعا بدعوى الجاهلية
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا ( نوحہ میں ) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔
حدثنا محمد بن جابر المحاربي، ومحمد بن كرامة، قالا حدثنا ابو اسامة، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن مكحول، والقاسم، عن ابي امامة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن الخامشة وجهها والشاقة جيبها والداعية بالويل والثبور
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن عثمان بن حكيم الاودي، حدثنا جعفر بن عون، عن ابي العميس، قال سمعت ابا صخرة، يذكر عن عبد الرحمن بن يزيد، وابي، بردة قالا: لما ثقل ابو موسى اقبلت امراته ام عبد الله تصيح برنة فافاق فقال لها: او ما علمت اني بريء ممن بري منه رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان يحدثها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " انا بريء ممن حلق وسلق وخرق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو ( روتے ) دیکھا تو اس پر چلائے، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے، جان مصیبت میں ہے، اور ( صدمہ کا ) زمانہ قریب ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن وهب بن كيسان، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في جنازة فراى عمر امراة فصاح بها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " دعها يا عمر فان العين دامعة والنفس مصابة والعهد قريب " . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، عن حماد بن سلمة، عن هشام بن عروة، عن وهب بن كيسان، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سلمة بن الازرق، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا: جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں لڑکی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ بلا بھیجا، اور قسم دلائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی، ( راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا: ) گویا وہ پرانی مشک ہے ( اور اس میں پانی ہل رہا ہے ) : یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم الاحول، عن ابي عثمان، عن اسامة بن زيد، قال كان ابن لبعض بنات رسول الله صلى الله عليه وسلم يقضي فارسلت اليه ان ياتيها فارسل اليها ان " لله ما اخذ وله ما اعطى وكل شىء عنده الى اجل مسمى فلتصبر ولتحتسب " . فارسلت اليه فاقسمت عليه فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقمت معه ومعه معاذ بن جبل وابى بن كعب وعبادة بن الصامت فلما دخلنا ناولوا الصبي رسول الله صلى الله عليه وسلم وروحه تقلقل في صدره . قال حسبته قال كانه شنة . قال فبكى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له عبادة بن الصامت: ما هذا يا رسول الله؟ قال: " الرحمة التي جعلها الله في بني ادم وانما يرحم الله من عباده الرحماء
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے نے ( وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما ) کہا: آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ۱؎ ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا يحيى بن سليم، عن ابن خثيم، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، قالت لما توفي ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم ابراهيم بكى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له المعزي - اما ابو بكر واما عمر - انت احق من عظم الله حقه . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول ما يسخط الرب لولا انه وعد صادق وموعود جامع وان الاخر تابع للاول لوجدنا عليك يا ابراهيم افضل مما وجدنا وانا بك لمحزونون
حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا: آپ کا بھائی قتل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، «إنا لله وإنا إليه راجعون» ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں لوگوں نے بتایا: آپ کے شوہر قتل کر دئیے گئے، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا: ہائے غم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی کو شوہر سے ایک ایسا قلبی لگاؤ ہوتا ہے جو دوسرے کسی سے نہیں ہوتا ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا اسحاق بن محمد الفروي، حدثنا عبد الله بن عمر، عن ابراهيم بن محمد بن عبد الله بن جحش، عن ابيه، عن حمنة بنت جحش، انه قيل لها قتل اخوك . فقالت رحمه الله وانا لله وانا اليه راجعون . قالوا قتل زوجك . قالت واحزناه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان للزوج من المراة لشعبة ما هي لشىء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قبیلہ ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں ، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں، اور حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، تو فرمایا: ان عورتوں کا برا ہو، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں ۔
حدثنا هارون بن سعيد المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا اسامة بن زيد، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بنساء عبد الاشهل يبكين هلكاهن يوم احد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لكن حمزة لا بواكي له " . فجاء نساء الانصار يبكين حمزة فاستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ويحهن ما انقلبن بعد؟ مروهن فلينقلبن ولا يبكين على هالك بعد اليوم
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن ابراهيم الهجري، عن ابن ابي اوفى، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المراثي