Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اسے عذاب دیا جاتا ہے ۱؎ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شاذان، ح: وحدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن الوليد، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، ح: وحدثنا نصر بن علي، حدثنا عبد الصمد، ووهب بن جرير، قالوا: حدثنا شعبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عمر، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " الميت يعذب بما نيح عليه
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردے کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب لوگ کہتے ہیں: «واعضداه واكاسياه. واناصراه واجبلاه» ہائے میرے بازو، ہائے میرے کپڑے پہنانے والے، ہائے میری مدد کرنے والے، ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور اور اس طرح کے دوسرے کلمات، تو اسے ڈانٹ کر کہا جاتا ہے: کیا تو ایسا ہی تھا؟ کیا تو ایسا ہی تھا؟ اسید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا تو انہوں ( موسیٰ ) نے کہا: تمہارے اوپر افسوس ہے، میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان فرمائی، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے؟ یا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا ہے؟۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، حدثنا اسيد بن ابي اسيد، عن موسى بن ابي موسى الاشعري، عن ابيه، . ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الميت يعذب ببكاء الحى اذا قالوا واعضداه واكاسياه . واناصراه واجبلاه ونحو هذا - يتعتع ويقال انت كذلك انت كذلك " . قال اسيد فقلت سبحان الله ان الله يقول {ولا تزر وازرة وزر اخرى } . قال ويحك احدثك ان ابا موسى حدثني عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فترى ان ابا موسى كذب على النبي صلى الله عليه وسلم او ترى اني كذبت على ابي موسى؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت کا انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا، تو فرمایا: اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت انما كانت يهودية ماتت. فسمعهم النبي صلى الله عليه وسلم يبكون عليها قال: " فان اهلها يبكون عليها وانها تعذب في قبرها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر تو وہ ہے جو مصیبت کے اول وقت میں ہو ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعد بن سنان، عن انس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما الصبر عند الصدمة الاولى
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدمی! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو، اور ثواب کی نیت رکھو، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا ثابت بن عجلان، عن القاسم، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " يقول الله سبحانه: ابن ادم ان صبرت واحتسبت عند الصدمة الاولى لم ارض لك ثوابا دون الجنة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دعا پڑھے: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا، تو مجھے اس میں اجر دے، اور مجھے اس کا بدلہ دے جب یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر دے گا، اور اس سے بہتر اس کا بدلہ عنایت کرے گا ۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی، چنانچہ میں نے کہا: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» اور جب «وعضني خيرا منها» مجھے اس سے بہتر بدلا دے کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا: کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر بدلہ دیا جا سکتا ہے؟ پھر میں نے یہ جملہ کہا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا عبد الملك بن قدامة الجمحي، عن ابيه، عن عمر بن ابي سلمة، عن ام سلمة، ان ابا سلمة، حدثها انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ما من مسلم يصاب بمصيبة فيفزع الى ما امر الله به من قوله: انا لله وانا اليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فاجرني فيها وعضني منها - الا اجره الله عليها وعاضه خيرا منها " . قالت: فلما توفي ابو سلمة ذكرت الذي حدثني عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: انا لله وانا اليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي هذه فاجرني عليها . فاذا اردت ان اقول وعضني خيرا منها قلت في نفسي: اعاض خيرا من ابي سلمة ؟ ثم قلتها فعاضني الله محمدا صلى الله عليه وسلم . واجرني في مصيبتي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا، اور فرمایا: اے لوگو! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے بعد ایسی مصیبت نہ ہو گی جو میری وفات کی مصیبت سے اس پر زیادہ سخت ہو ۱؎۔
حدثنا الوليد بن عمرو بن السكين، حدثنا ابو همام، حدثنا موسى بن عبيدة، حدثنا مصعب بن محمد، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، قالت فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم بابا بينه وبين الناس او كشف سترا فاذا الناس يصلون وراء ابي بكر فحمد الله على ما راى من حسن حالهم رجاء ان يخلفه الله فيهم بالذي راهم فقال " يا ايها الناس ايما احد من الناس او من المومنين اصيب بمصيبة فليتعز بمصيبته بي عن المصيبة التي تصيبه بغيري فان احدا من امتي لن يصاب بمصيبة بعدي اشد عليه من مصيبتي
حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے کوئی مصیبت پیش آئی ہو، پھر وہ اسے یاد کر کے نئے سرے سے: «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہے، اگرچہ مصیبت کا زمانہ پرانا ہو گیا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس دن لکھا تھا جس دن اس کو یہ مصیبت پیش آئی تھی۱؎ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، عن هشام بن زياد، عن امه، عن فاطمة بنت الحسين، عن ابيها، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اصيب بمصيبة فذكر مصيبته فاحدث استرجاعا - وان تقادم عهدها - كتب الله له من الاجر مثله يوم اصيب
محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، حدثني قيس ابو عمارة، مولى الانصار قال سمعت عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، يحدث عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ما من مومن يعزي اخاه بمصيبة الا كساه الله سبحانه من حلل الكرامة يوم القيامة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مصیبت زدہ کو تسلی دے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا ( جتنا مصیبت زدہ کو ملے گا ) ۔
حدثنا عمرو بن رافع، قال حدثنا علي بن عاصم، عن محمد بن سوقة، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من عزى مصابا فله مثل اجره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر قسم پوری کرنے کے لیے ۱؎ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يموت لرجل ثلاثة من الولد فيلج النار الا تحلة القسم
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس مسلمان کے تین بچے ( بلوغت سے پہلے ) مر جائیں، تو وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے استقبال کریں گے، جس میں سے چاہے وہ داخل ہو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، قال حدثنا اسحاق بن سليمان، حدثنا حريز بن عثمان، عن شرحبيل بن شفعة، قال لقيني عتبة بن عبد السلمي فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ما من مسلم يموت له ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث الا تلقوه من ابواب الجنة الثمانية من ايها شاء دخل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان مرد و عورت کے تین بچے ( بلوغت سے پہلے ) مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ ایسے والدین اور بچوں کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا ۔
حدثنا يوسف بن حماد المعني، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مسلمين يتوفى لهما ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث الا ادخلهم الله الجنة بفضل رحمة الله اياهم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین نابالغ بچے آگے بھیجے، تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہوں گے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دو بچے آگے بھیجے ہیں، آپ نے فرمایا: اور دو بھی ، پھر قاریوں کے سردار ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو ایک ہی آگے بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور ایک بھی ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا اسحاق بن يوسف، عن العوام بن حوشب، عن ابي محمد، مولى عمر بن الخطاب عن ابي عبيدة، عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قدم ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث كانوا له حصنا حصينا من النار " . فقال ابو ذر: قدمت اثنين . قال: " واثنين " . فقال ابى بن كعب ابو المنذر سيد القراء: قدمت واحدا . قال" " وواحدا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناتمام بچہ جسے میں آگے بھیجوں، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں ۱؎ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا يزيد بن عبد الملك النوفلي، عن يزيد بن رومان، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لسقط اقدمه بين يدى احب الى من فارس اخلفه خلفي
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساقط بچہ اپنے رب سے جھگڑا کرے گا ۱؎، جب وہ اس کے والدین کو جہنم میں ڈالے گا، تو کہا جائے گا: رب سے جھگڑنے والے ساقط بچے! اپنے والدین کو جنت میں داخل کر، وہ ان دونوں کو اپنی ناف سے کھینچے گا یہاں تک کہ جنت میں لے جائے گا ۱؎ ۔ ابوعلی کہتے ہیں: «يُراغم ربه» کے معنی ( «یغاضب» ) یعنی اپنے رب سے جھگڑا کرنے کے ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، ومحمد بن اسحاق ابو بكر البكايي، قالا حدثنا ابو غسان، قال حدثنا مندل، عن الحسن بن الحكم النخعي، عن اسماء بنت عابس بن ربيعة، عن ابيها، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان السقط ليراغم ربه اذا ادخل ابويه النار . فيقال ايها السقط المراغم ربه ادخل ابويك الجنة . فيجرهما بسرره حتى يدخلهما الجنة
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ساقط بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف سے جنت میں کھینچے گا جب کہ وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے ۔
حدثنا علي بن هاشم بن مرزوق، حدثنا عبيدة بن حميد، حدثنا يحيى بن عبيد الله، عن عبيد الله بن مسلم الحضرمي، عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " والذي نفسي بيده ان السقط ليجر امه بسرره الى الجنة اذا احتسبته
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جعفر کی موت کی جب خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، اس لیے کہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے جس نے ان کو مشغول کر دیا ہے، یا ان کے پاس ایسا معاملہ آ پڑا ہے جو ان کو مشغول کئے ہوئے ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن خالد، عن ابيه، عن عبد الله بن جعفر، قال لما جاء نعى جعفر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصنعوا لال جعفر طعاما. فقد اتاهم ما يشغلهم او امر يشغلهم
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب جعفر رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے پاس آئے، اور فرمایا: جعفر کے گھر والے اپنی میت کے مسئلہ میں مشغول ہیں، لہٰذا تم لوگ ان کے لیے کھانا بناؤ ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ طریقہ برابر چلا آ رہا تھا یہاں تک کہ اس میں بدعت آ داخل ہوئی، تو اسے چھوڑ دیا گیا ۱؎۔
حدثنا يحيى بن خلف ابو سلمة، قال حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، حدثني عبد الله بن ابي بكر، عن ام عيسى الجزار، قالت حدثتني ام عون ابنة محمد بن جعفر، عن جدتها، اسماء بنت عميس قالت لما اصيب جعفر رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اهله فقال " ان ال جعفر قد شغلوا بشان ميتهم فاصنعوا لهم طعاما " . قال عبد الله فما زالت سنة حتى كان حديثا فترك
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے لیے ان کے گھر کھانا تیار کرنے کو نوحہ سمجھتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، قال حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا هشيم، ح وحدثنا شجاع بن مخلد ابو الفضل، قال حدثنا هشيم، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله البجلي، قال كنا نرى الاجتماع الى اهل الميت وصنعة الطعام من النياحة