Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پردیسی کی موت شہادت ہے ۔
حدثنا جميل بن الحسن، قال حدثنا ابو المنذر الهذيل بن الحكم، حدثنا عبد العزيز بن ابي رواد، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " موت غربة شهادة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ۱؎ ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، قال حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني حيى بن عبد الله المعافري، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو، قال توفي رجل بالمدينة ممن ولد بالمدينة فصلى عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: " يا ليته مات في غير مولده " . فقال رجل من الناس ولم يا رسول الله؟ قال: " ان الرجل اذا مات في غير مولده قيس له من مولده الى منقطع اثره في الجنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی ۔
حدثنا احمد بن يوسف، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا ابن جريج، ح وحدثنا ابو عبيدة بن ابي السفر، قال حدثنا حجاج بن محمد، قال قال ابن جريج اخبرني ابراهيم بن محمد بن ابي عطاء، عن موسى بن وردان، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من مات مريضا مات شهيدا ووقي فتنة القبر وغدي وريح عليه برزقه من الجنة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردے کی ہڈی کو توڑنا زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، قال حدثنا سعد بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كسر عظم الميت ككسره حيا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردہ کی ہڈی کے توڑنے کا گناہ زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے ۔
حدثنا محمد بن معمر، حدثنا محمد بن بكر، حدثنا عبد الله بن زياد، اخبرني ابو عبيدة بن عبد الله بن زمعة، عن امه، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كسر عظم الميت ككسر عظم الحى في الاثم
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اماں جان! مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا حال بیان کیجئے تو انہوں نے بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ( اپنے بدن پر ) پھونکنا شروع کیا، ہم نے آپ کے پھونکنے کو انگور کھانے والے کے پھونکنے سے تشبیہ دی ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کا باری باری چکر لگایا کرتے تھے، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہنے کی اجازت مانگی، اور یہ کہ بقیہ بیویاں آپ کے پاس آتی جاتی رہیں گی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس دو آدمیوں کے سہارے سے آئے، اس حال میں کہ آپ کے پیر زمین پہ گھسٹ رہے تھے، ان دو میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا، جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، قال: سالت عايشة فقلت: اى امه اخبريني عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت: اشتكى فعلق ينفث فجعلنا نشبه نفثه بنفثة اكل الزبيب وكان يدور على نسايه فلما ثقل استاذنهن ان يكون في بيت عايشة وان يدرن عليه . قالت: فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بين رجلين ورجلاه تخطان بالارض احدهما العباس فحدثت به ابن عباس فقال: اتدري من الرجل الذي لم تسمه عايشة؟ هو علي بن ابي طالب
(ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ حفاظت و عافیت کی دعا کرتے تھے «أذهب الباس رب الناس. واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب! بیماری دور کر دے، اور شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء تو بس تیری ہی شفاء ہے، تو ایسی شفاء عنایت فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بیماری سخت ہو گئی جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی، اور یہ کلمات کہتی جاتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکال لیا، اور فرمایا: «اللهم اغفر لي وألحقني بالرفيق الأعلى» اے اللہ! مجھے بخش دے، اور رفیق اعلیٰ سے ملا دے ) یہی آخری کلمہ تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عايشة، قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يتعوذ بهولاء الكلمات " اذهب الباس رب الناس . واشف انت الشافي لا شفاء الا شفاوك شفاء لا يغادر سقما " . فلما ثقل النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه اخذت بيده فجعلت امسحه واقولها . فنزع يده من يدي ثم قال: " اللهم اغفر لي والحقني بالرفيق الاعلى " . قالت: فكان هذا اخر ما سمعت من كلامه صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو نبی بھی بیمار ہوا اسے دنیا یا آخرت میں رہنے کا اختیار دیا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو آپ کو ہچکی آنے لگی، میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے: «مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين» ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے احسان کیا، انبیاء، صدیقین شہداء، اور صالحین میں سے تو اس وقت میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔
حدثنا ابو مروان العثماني، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عروة، عن عايشة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من نبي يمرض الا خير بين الدنيا والاخرة " . قالت فلما كان مرضه الذي قبض فيه اخذته بحة فسمعته يقول " مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين " . فعلمت انه خير
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہی، اتنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کی طرح تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بیٹی! خوش آمدید پھر انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا، اور چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں روئیں؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتی، میں نے کہا: آج جیسی خوشی جو غم سے قریب تر ہو میں نے کبھی نہیں دیکھی، جب فاطمہ روئیں تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خاص بات تم سے فرمائی ہے، جو ہم سے نہیں کہی کہ تم رو رہی ہو، اور میں نے پوچھا: آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد میں نے ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن کا دور کراتے تھے اب کی سال دو بار دور کرایا، تو میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، اور تم میرے رشتہ داروں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی، اور میں تمہارے لیے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں یہ سن کر میں روئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے مجھ سے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی، یہ سن کر میں ہنسی ۱؎ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن زكريا، عن فراس، عن عامر، عن مسروق، عن عايشة، قالت اجتمعن نساء النبي صلى الله عليه وسلم فلم تغادر منهن امراة فجاءت فاطمة كان مشيتها مشية رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " مرحبا بابنتي " . ثم اجلسها عن شماله ثم انه اسر اليها حديثا فبكت فاطمة. ثم انه سارها. فضحكت ايضا فقلت لها: ما يبكيك؟ قالت: ما كنت لافشي سر رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقلت: ما رايت كاليوم فرحا اقرب من حزن . فقلت لها حين بكت: اخصك رسول الله صلى الله عليه وسلم بحديث دوننا ثم تبكين؟ وسالتها عما قال . فقالت: ما كنت لافشي سر رسول الله -صلى الله عليه وسلم - . حتى اذا قبض سالتها عما قال. فقالت: انه كان يحدثني ان جبراييل كان يعارضه بالقران في كل عام مرة وانه عارضه به العام مرتين " ولا اراني الا قد حضر اجلي وانك اول اهلي لحوقا بي ونعم السلف انا لك " . فبكيت ثم انه سارني فقال: " الا ترضين ان تكوني سيدة نساء المومنين - او نساء هذه الامة - " . فضحكت لذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھی ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا مصعب بن المقدام، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن شقيق، عن مسروق، قال: قالت عايشة: ما رايت احدا اشد عليه الوجع من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا ليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن موسى بن سرجس، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يموت وعنده قدح فيه ماء فيدخل يده في القدح ثم يمسح وجهه بالماء ثم يقول: " اللهم اعني على سكرات الموت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار مجھے دوشنبہ کے دن ہوا، آپ نے ( اپنے حجرہ کا ) پردہ اٹھایا، میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا، تو گویا مصحف کا ایک ورق تھا، لوگ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا، پھر اسی دن کی شام کو آپ کا انتقال ہو گیا ۱؎ ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، سمع انس بن مالك، يقول اخر نظرة نظرتها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم كشف الستارة يوم الاثنين فنظرت الى وجهه كانه ورقة مصحف والناس خلف ابي بكر في الصلاة فاراد ان يتحرك فاشار اليه ان اثبت والقى السجف ومات من اخر ذلك اليوم
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس مرض میں کہ جس میں آپ کا انتقال ہو گیا، فرما رہے تھے: «الصلاة وما ملكت أيمانكم» نمسش کا، اور لونڈیوں اور غلاموں کا خیال رکھنا آپ برابر یہی جملہ کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی زبان مبارک رکنے لگی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا همام، عن قتادة، عن صالح ابي الخليل، عن سفينة، عن ام سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في مرضه الذي توفي فيه " الصلاة وما ملكت ايمانكم " . فما زال يقولها حتى ما يفيض بها لسانه
اسود کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی تھے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے ان کو کب وصیت کی؟ میں تو آپ کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی، یا گود میں لیے ہوئے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طشت منگوایا، پھر آپ میری گود میں لڑھک گئے، اور وفات پا گئے، مجھے محسوس تک نہ ہوا، پھر آپ نے وصیت کب کی؟۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ابن عون، عن ابراهيم، عن الاسود، قال: ذكروا عند عايشة ان عليا كان وصيا . فقالت: متى اوصى اليه؟ فلقد كنت مسندته الى صدري - او الى حجري فدعا بطست فلقد انخنث في حجري فمات وما شعرت به. فمتى اوصى صلى الله عليه وسلم ؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہو گیا ہے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور کہا: آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے ۱؎، قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں ہیں، اور نہ آپ مریں گے، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، منبر پر چڑھے اور کہا: جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، مرا نہیں، اور جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد وفات پا گئے، ( پھر یہ آیت پڑھی ) : «وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين» ( سورة آل عمران: 144 ) محمد صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول آئے، اگر آپ کا انتقال ہو جائے یا قتل کر دئیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو پھر جائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس دن سے پہلے کبھی اس آیت کو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن عبد الرحمن بن ابي بكر، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر عند امراته ابنة خارجة بالعوالي فجعلوا يقولون لم يمت النبي صلى الله عليه وسلم انما هو بعض ما كان ياخذه عند الوحى . فجاء ابو بكر فكشف عن وجهه وقبل بين عينيه وقال انت اكرم على الله من ان يميتك مرتين قد والله مات رسول الله صلى الله عليه وسلم . وعمر في ناحية المسجد يقول والله ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يموت حتى يقطع ايدي اناس من المنافقين كثير وارجلهم . فقام ابو بكر فصعد المنبر فقال من كان يعبد الله فان الله حى لم يمت ومن كان يعبد محمدا فان محمدا قد مات {وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شييا وسيجزي الله الشاكرين} . قال عمر فلكاني لم اقراها الا يوميذ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا، تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے، اور دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے رسول کے لیے بہتر اختیار فرما، بالآخر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ملے، اور ان کو لایا گیا، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نہیں ملے، لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر کھودی گئی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا، لوگ نماز جنازہ پڑھتے جاتے تھے، جب سب مرد فارغ ہو گئے، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہو گئیں، تو بچے جانے لگے، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے آپ کے لیے قبر کھودی، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب، فضل بن عباس، ان کے بھائی قثم بن عباس، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران رضی اللہ عنہم اترے۔ ابولیلیٰ اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل ہے، ( مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں ) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اتر جاؤ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا اور کہا: قسم اللہ کی! اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے، چنانچہ اسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، انبانا وهب بن جرير، حدثنا ابي، عن محمد بن اسحاق، حدثني حسين بن عبد الله، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لما ارادوا ان يحفروا، لرسول الله صلى الله عليه وسلم بعثوا الى ابي عبيدة بن الجراح وكان يضرح كضريح اهل مكة وبعثوا الى ابي طلحة وكان هو الذي يحفر لاهل المدينة وكان يلحد فبعثوا اليهما رسولين وقالوا اللهم خر لرسولك . فوجدوا ابا طلحة فجيء به ولم يوجد ابو عبيدة فلحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فلما فرغوا من جهازه يوم الثلاثاء وضع على سريره في بيته . ثم دخل الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم ارسالا . يصلون عليه حتى اذا فرغوا ادخلوا النساء حتى اذا فرغوا ادخلوا الصبيان ولم يوم الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم احد . لقد اختلف المسلمون في المكان الذي يحفر له فقال قايلون يدفن في مسجده . وقال قايلون يدفن مع اصحابه . فقال ابو بكر اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما قبض نبي الا دفن حيث يقبض " . قال فرفعوا فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي توفي عليه فحفروا له ثم دفن رسول الله صلى الله عليه وسلم وسط الليل من ليلة الاربعاء . ونزل في حفرته علي بن ابي طالب والفضل وقثم ابنا العباس وشقران مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم . وقال اوس بن خولي وهو ابو ليلى لعلي بن ابي طالب انشدك الله وحظنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال له علي انزل . وكان شقران مولاه اخذ قطيفة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبسها فدفنها في القبر وقال والله لا يلبسها احد بعدك ابدا . فدفنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سختی محسوس کی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہائے میرے والد کی سخت تکلیف ۱؎، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے بعد تیرے والد پر کبھی سختی نہ ہو گی، اور تیرے والد پر وہ وقت آیا ہے جو سب پر آنے والا ہے، اب قیامت کے دن ملاقات ہو گی ۲؎۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا عبد الله بن الزبير ابو الزبير، حدثنا ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال لما وجد رسول الله صلى الله عليه وسلم من كرب الموت ما وجد قالت فاطمة واكرب ابتاه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا كرب على ابيك بعد اليوم انه قد حضر من ابيك ما ليس بتارك منه احدا الموافاة يوم القيامة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے میرے والد، میں جبرائیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں، ہائے میرے والد، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہو گئے، ہائے میرے والد، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے، ہائے میرے والد، اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔ حماد نے کہا: میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، حدثني حماد بن زيد، حدثني ثابت، عن انس بن مالك، قال قالت لي فاطمة يا انس كيف سخت انفسكم ان تحثوا التراب على رسول الله صلى الله عليه وسلم . وحدثنا ثابت، عن انس، ان فاطمة، قالت حين قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وا ابتاه الى جبراييل انعاه وا ابتاه من ربه ما ادناه وا ابتاه جنة الفردوس ماواه وا ابتاه اجاب ربا دعاه . قال حماد فرايت ثابتا حين حدث بهذا الحديث بكى حتى رايت اضلاعه تختلف
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا، اور ہم لوگوں نے ابھی آپ کے کفن دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑا تھا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلہ ہوا پایا۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، حدثنا ثابت، عن انس، قال لما كان اليوم الذي دخل فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة اضاء منها كل شىء فلما كان اليوم الذي مات فيه اظلم منها كل شىء . وما نفضنا عن النبي صلى الله عليه وسلم الايدي حتى انكرنا قلوبنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بےتکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔
حدثنا محمد بن بشار، اخبرنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال كنا نتقي الكلام والانبساط الى نساينا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مخافة ان ينزل فينا القران فلما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم تكلمنا