Loading...

Loading...
کتب
۲۰۵ احادیث
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہم سب ایک رخ تھے، لیکن جب آپ کا انتقال ہو گیا تو پھر ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا عبد الوهاب بن عطاء العجلي، عن ابن عون، عن الحسن، عن ابى بن كعب، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وانما وجهنا واحد فلما قبض نظرنا هكذا وهكذا
ام المؤمنین ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے نماز پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقام سے آگے نہ بڑھتی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کر دیا۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا خالي، محمد بن ابراهيم بن المطلب بن السايب بن ابي وداعة السهمي حدثني موسى بن عبد الله بن ابي امية المخزومي، حدثني مصعب بن عبد الله، عن ام سلمة بنت ابي امية، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت كان الناس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام المصلي يصلي لم يعد بصر احدهم موضع قدميه فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان الناس اذا قام احدهم يصلي لم يعد بصر احدهم موضع جبينه فتوفي ابو بكر وكان عمر فكان الناس اذا قام احدهم يصلي لم يعد بصر احدهم موضع القبلة وكان عثمان بن عفان فكانت الفتنة فتلفت الناس يمينا وشمالا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلئے، ہم ام ایمن ( برکہ ) رضی اللہ عنہا سے ملنے چلیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے جایا کرتے تھے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، انہوں نے کہا: میں جانتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہو گیا، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن انس، قال قال ابو بكر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمر انطلق بنا الى ام ايمن نزورها كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزورها . قال: فلما انتهينا اليها بكت فقالا لها: ما يبكيك؟ فما عند الله خير لرسوله . قالت: اني لاعلم ان ما عند الله خير لرسوله ولكن ابكي ان الوحى قد انقطع من السماء . قال: فهيجتهما على البكاء فجعلا يبكيان معها
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا ہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن لوگ بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن کثرت سے میرے اوپر درود ( صلاۃ و سلام ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ جب کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسين بن علي، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن ابي الاشعث الصنعاني، عن اوس بن اوس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من افضل ايامكم يوم الجمعة فيه خلق ادم وفيه النفخة وفيه الصعقة فاكثروا على من الصلاة فيه فان صلاتكم معروضة على . فقال رجل يا رسول الله كيف تعرض صلاتنا عليك وقد ارمت - يعني بليت - قال " ان الله حرم على الارض ان تاكل اجساد الانبياء
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ۱؎۔
حدثنا عمرو بن سواد المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن سعيد بن ابي هلال، عن زيد بن ايمن، عن عبادة بن نسى، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكثروا الصلاة على يوم الجمعة فانه مشهود تشهده الملايكة وان احدا لن يصلي على الا عرضت على صلاته حتى يفرغ منها " . قال قلت وبعد الموت قال " وبعد الموت ان الله حرم على الارض ان تاكل اجساد الانبياء " . فنبي الله حى يرزق