احادیث
#1628
سنن ابن ماجہ - Funerals
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا، تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے، اور دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے رسول کے لیے بہتر اختیار فرما، بالآخر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ملے، اور ان کو لایا گیا، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نہیں ملے، لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر کھودی گئی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا، لوگ نماز جنازہ پڑھتے جاتے تھے، جب سب مرد فارغ ہو گئے، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہو گئیں، تو بچے جانے لگے، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے آپ کے لیے قبر کھودی، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب، فضل بن عباس، ان کے بھائی قثم بن عباس، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران رضی اللہ عنہم اترے۔ ابولیلیٰ اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل ہے، ( مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں ) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اتر جاؤ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا اور کہا: قسم اللہ کی! اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے، چنانچہ اسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، انبانا وهب بن جرير، حدثنا ابي، عن محمد بن اسحاق، حدثني حسين بن عبد الله، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لما ارادوا ان يحفروا، لرسول الله صلى الله عليه وسلم بعثوا الى ابي عبيدة بن الجراح وكان يضرح كضريح اهل مكة وبعثوا الى ابي طلحة وكان هو الذي يحفر لاهل المدينة وكان يلحد فبعثوا اليهما رسولين وقالوا اللهم خر لرسولك . فوجدوا ابا طلحة فجيء به ولم يوجد ابو عبيدة فلحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فلما فرغوا من جهازه يوم الثلاثاء وضع على سريره في بيته . ثم دخل الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم ارسالا . يصلون عليه حتى اذا فرغوا ادخلوا النساء حتى اذا فرغوا ادخلوا الصبيان ولم يوم الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم احد . لقد اختلف المسلمون في المكان الذي يحفر له فقال قايلون يدفن في مسجده . وقال قايلون يدفن مع اصحابه . فقال ابو بكر اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما قبض نبي الا دفن حيث يقبض " . قال فرفعوا فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي توفي عليه فحفروا له ثم دفن رسول الله صلى الله عليه وسلم وسط الليل من ليلة الاربعاء . ونزل في حفرته علي بن ابي طالب والفضل وقثم ابنا العباس وشقران مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم . وقال اوس بن خولي وهو ابو ليلى لعلي بن ابي طالب انشدك الله وحظنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال له علي انزل . وكان شقران مولاه اخذ قطيفة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبسها فدفنها في القبر وقال والله لا يلبسها احد بعدك ابدا . فدفنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1628
- Book Index
- 196
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
