Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خبر بھیجی کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں مسجد کے لیے حد بندی کر دیں تاکہ میں اس میں نماز پڑھا کروں، اور یہ اس لیے کہ وہ صحابی نابینا ہو گئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ان کی مراد پوری کر دی ۱؎۔
حدثنا يحيى بن الفضل المقري، حدثنا ابو عامر، حدثنا حماد بن سلمة، عن عاصم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رجلا، من الانصار ارسل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تعال فخط لي مسجدا في داري اصلي فيه وذلك بعد ما عمي فجاء ففعل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ آج میرے گھر کھانا کھائیں، اور اس میں نماز بھی پڑھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے گھر میں ایک پرانی کالی چٹائی پڑی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے ایک گوشہ کو صاف کرنے کا حکم دیا، وہ صاف کیا گیا، اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ «فحل» اس چٹائی کو کہتے ہیں جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہو گئی ہو
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابن ابي عدي، عن ابن عون، عن انس بن سيرين، عن عبد الحميد بن المنذر بن الجارود، عن انس بن مالك، قال صنع بعض عمومتي للنبي صلى الله عليه وسلم طعاما فقال للنبي صلى الله عليه وسلم اني احب ان تاكل في بيتي وتصلي فيه . قال فاتاه وفي البيت فحل من هذه الفحول فامر بناحية منه فكنس ورش فصلى وصلينا معه . قال ابو عبد الله بن ماجه الفحل هو الحصير الذي قد اسود
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسجد سے کوڑا کرکٹ نکال دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سليمان بن ابي الجون، حدثنا محمد بن صالح المدني، حدثنا مسلم بن ابي مريم، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اخرج اذى من المسجد بنى الله له بيتا في الجنة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم، واحمد بن الازهر، قالا حدثنا مالك بن سعير، انبانا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بالمساجد ان تبنى في الدور وان تطهر وتطيب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے ۔
حدثنا رزق الله بن موسى، حدثنا يعقوب بن اسحاق الحضرمي، حدثنا زايدة بن قدامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت امر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تتخذ المساجد في الدور وان تطهر وتطيب
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مسجدوں میں چراغ جلایا تھا۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا ابو معاوية، عن خالد بن اياس، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن ابي سعيد الخدري، قال اول من اسرج في المساجد تميم الداري
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر رینٹ دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: جب کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عثمان العثماني ابو مروان، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابي هريرة، وابي، سعيد الخدري انهما اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى نخامة في جدار المسجد فتناول حصاة فحكها ثم قال " اذا تنخم احدكم فلا يتنخمن قبل وجهه ولا عن يمينه وليبزق عن شماله او تحت قدمه اليسرى
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، اتنے میں قبیلہ انصار کی ایک عورت آئی اور اس نے اسے کھرچ دیا، اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا کام ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن طريف، حدثنا عايذ بن حبيب، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى نخامة في قبلة المسجد فغضب حتى احمر وجهه فجاءته امراة من الانصار فحكتها وجعلت مكانها خلوقا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما احسن هذا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، اس وقت آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بلغم کھرچ دیا، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم نخامة في قبلة المسجد وهو يصلي بين يدى الناس فحتها ثم قال حين انصرف من الصلاة " ان احدكم اذا كان في الصلاة كان الله قبل وجهه فلا يتنخمن احدكم قبل وجهه في الصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر لگا ہوا تھوک رگڑ کر صاف کر دیا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم حك بزاقا في قبلة المسجد
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، تو ایک شخص نے کہا: میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کرے تمہیں نہ ملے، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن ابي سنان، سعيد بن سنان عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رجل من دعا الى الجمل الاحمر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا وجدته انما بنيت المساجد لما بنيت له
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں گمشدہ چیزوں کے اعلان سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا ابن لهيعة، ح وحدثنا ابو كريب، حدثنا حاتم بن اسماعيل، جميعا عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن انشاد الضالة في المسجد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی کو مسجد میں کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو کہے: اللہ کرے تمہاری چیز نہ ملے، اس لیے کہ مسجدیں اس کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني حيوة بن شريح، عن محمد بن عبد الرحمن الاسدي ابي الاسود، عن ابي عبد الله، مولى شداد بن الهاد انه سمع ابا هريرة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل لا رد الله عليك فان المساجد لم تبن لهذا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، ح وحدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا يزيد بن زريع، قالا حدثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لم تجدوا الا مرابض الغنم واعطان الابل فصلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في اعطان الابل
عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو، اور اونٹوں کے باڑ میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ ان کی خلقت میں شیطنت ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا هشيم، عن يونس، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل المزني، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " صلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في اعطان الابل فانها خلقت من الشياطين
معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھی جائے، اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لی جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا عبد الملك بن ربيع بن سبرة بن معبد الجهني، اخبرني ابي، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يصلى في اعطان الابل ويصلى في مراح الغنم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك» میں اللہ کا نام لے کر داخل ہوتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك» میں اللہ کا نام لے کر جاتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور اپنے فضل کے دروازے مجھ پر کھول دے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، وابو معاوية عن ليث، عن عبد الله بن الحسن، عن امه، عن فاطمة بنت رسول الله، صلى الله عليه وسلم قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دخل المسجد يقول " بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي ابواب رحمتك " . واذا خرج قال " بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي ابواب فضلك
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، وعبد الوهاب بن الضحاك، قالا حدثنا اسماعيل بن عياش، عن عمارة بن غزية، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن عبد الملك بن سعيد بن سويد الانصاري، عن ابي حميد الساعدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دخل احدكم المسجد فليسلم على النبي صلى الله عليه وسلم ثم ليقل اللهم افتح لي ابواب رحمتك . واذا خرج فليقل اللهم اني اسالك من فضلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے اور کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے، اور کہے: «اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم» اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا الضحاك بن عثمان، حدثني سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل احدكم المسجد فليسلم على النبي صلى الله عليه وسلم وليقل اللهم افتح لي ابواب رحمتك واذا خرج فليسلم على النبي وليقل اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد آئے، اور نماز ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو، اور وہ نماز کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ہر قدم پہ اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے، پھر مسجد میں داخل ہو گیا تو جب تک نماز اسے روکے رکھے نماز ہی میں رہتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا توضا احدكم فاحسن الوضوء ثم اتى المسجد لا ينهزه الا الصلاة لا يريد الا الصلاة لم يخط خطوة الا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيية حتى يدخل المسجد فاذا دخل المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه