Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا ليث بن سعد، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا داود بن عبد الله الجعفري، عن عبد العزيز بن محمد، جميعا عن يزيد بن عبد الله بن اسامة بن الهاد، عن الوليد بن ابي الوليد، عن عثمان بن عبد الله بن سراقة العدوي، عن عمر بن الخطاب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من بنى مسجدا يذكر فيه اسم الله بنى الله له بيتا في الجنة
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے مسجد بنوائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن ابيه، عن محمود بن لبيد، عن عثمان بن عفان، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من بنى لله مسجدا بنى الله له مثله في الجنة
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لیے خالص اپنے مال سے مسجد بنوائی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ابن لهيعة، حدثني ابو الاسود، عن عروة، عن علي بن ابي طالب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من بنى لله مسجدا من ماله بنى الله له بيتا في الجنة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۱؎۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، حدثنا عبد الله بن وهب، عن ابراهيم بن نشيط، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي حسين النوفلي، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من بنى مسجدا لله كمفحص قطاة او اصغر بنى الله له بيتا في الجنة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت قائم ہو گی، جب لوگ مسجدوں کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں گے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا حماد بن سلمة، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى يتباهى الناس في المساجد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم لوگ میرے بعد مسجدوں کو ویسے ہی بلند اور عالی شان بناؤ گے جس طرح یہود نے اپنے گرجا گھروں کو، اور نصاریٰ نے اپنے کلیساؤں کو بنایا ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا عبد الكريم بن عبد الرحمن البجلي، عن ليث، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اراكم ستشرفون مساجدكم بعدي كما شرفت اليهود كنايسها وكما شرفت النصارى بيعها
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی قوم کے اعمال خراب ہوئے تو اس نے اپنی مسجدوں کو سنوارا سجایا ۱؎۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا عبد الكريم بن عبد الرحمن، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عمر بن الخطاب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ساء عمل قوم قط الا زخرفوا مساجدهم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی زمین قبیلہ بنو نجار کی ملکیت تھی، جس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم مجھ سے اس کی قیمت لے لو ، ان لوگوں نے کہا: ہم ہرگز اس کی قیمت نہ لیں گے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنا رہے تھے اور صحابہ آپ کو ( سامان دے رہے تھے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: سنو! زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے، اے اللہ! تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مسجد کی تعمیر سے پہلے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے تھے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن حماد بن سلمة، عن ابي التياح الضبعي، عن انس بن مالك، قال كان موضع مسجد النبي صلى الله عليه وسلم لبني النجار وكان فيه نخل ومقابر للمشركين فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم " ثامنوني به " . قالوا لا ناخذ له ثمنا ابدا . قال فكان النبي صلى الله عليه وسلم يبنيه وهم يناولونه والنبي صلى الله عليه وسلم يقول " الا ان العيش عيش الاخرة فاغفر للانصار والمهاجرة " . قال وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي قبل ان يبني المسجد حيث ادركته الصلاة
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو همام الدلال، حدثنا سعيد بن السايب، عن محمد بن عبد الله بن عياض، عن عثمان بن ابي العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امره ان يجعل مسجد الطايف حيث كان طاغيتهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ان باغات میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا جن میں پاخانہ ڈالا جاتا ہے، انہوں نے کہا: جب ان باغات کو کئی بار پانی سے سینچا گیا ہو تو ان میں نماز پڑھ لو۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا موسى بن اعين، حدثنا محمد بن اسحاق، عن نافع، عن ابن عمر، وسيل، عن الحيطان، تلقى فيها العذرات فقال " اذا سقيت مرارا فصلوا فيها " . يرفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبرستان اور حمام ( غسل خانہ ) کے سوا ساری زمین مسجد ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا سفيان، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، وحماد بن سلمة، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الارض كلها مسجد الا المقبرة والحمام
ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا خانہ، مذبح ( ذبیحہ گھر ) ، قبرستان، عام راستہ، غسل خانہ، اونٹ کے باڑے اور خانہ کعبہ کی چھت پر ۔
حدثنا محمد بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا عبد الله بن يزيد، عن يحيى بن ايوب، عن زيد بن جبيرة، عن داود بن الحصين، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يصلى في سبع مواطن في المزبلة والمجزرة والمقبرة وقارعة الطريق والحمام ومعاطن الابل وفوق الكعبة
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات مقامات پر نماز جائز نہیں ہے: خانہ کعبہ کی چھت پر، قبرستان، کوڑا خانہ، مذبح، اونٹوں کے باندھے جانے کی جگہوں اور عام راستوں پر ۔
حدثنا علي بن داود، ومحمد بن ابي الحسين، قالا حدثنا ابو صالح، حدثني الليث، حدثني نافع، عن ابن عمر، عن عمر بن الخطاب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " سبع مواطن لا تجوز فيها الصلاة ظاهر بيت الله والمقبرة والمزبلة والمجزرة والحمام وعطن الابل ومحجة الطريق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چند اعمال ایسے ہیں جو مسجد میں نامناسب ہیں، اس کو عام گزرگاہ نہ بنایا جائے، اس میں ہتھیار ننگا نہ کیا جائے، تیر اندازی کے لیے کمان نہ پکڑی جائے، اس میں تیروں کو نہ پھیلایا جائے، کچا گوشت لے کر نہ گزرا جائے، اس میں حد نہ قائم کی جائے، کسی سے قصاص نہ لیا جائے، اور اس کو بازار نہ بنایا جائے ۔
حدثنا يحيى بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا محمد بن حمير، حدثنا زيد بن جبيرة الانصاري، عن داود بن الحصين، عن نافع، عن ابن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خصال لا تنبغي في المسجد لا يتخذ طريقا ولا يشهر فيه سلاح ولا ينبض فيه بقوس ولا ينشر فيه نبل ولا يمر فيه بلحم نيء ولا يضرب فيه حد ولا يقتص فيه من احد ولا يتخذ سوقا
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت اور ( غیر دینی ) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد الكندي، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البيع والابتياع وعن تناشد الاشعار في المساجد
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی مسجدوں کو بچوں، دیوانوں ( پاگلوں ) ، خرید و فروخت کرنے والوں، اور اپنے جھگڑوں ( اختلافی مسائل ) ، زور زور بولنے، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو، اور مسجدوں کے دروازوں پر طہارت خانے بناؤ، اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو جلایا کرو ۱؎۔
حدثنا احمد بن يوسف السلمي، حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا الحارث بن نبهان، حدثنا عتبة بن يقظان، عن ابي سعيد، عن مكحول، عن واثلة بن الاسقع، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم وشراركم وبيعكم وخصوماتكم ورفع اصواتكم واقامة حدودكم وسل سيوفكم واتخذوا على ابوابها المطاهر وجمروها في الجمع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سوتے تھے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا عبد الله بن نمير، انبانا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال كنا ننام في المسجد على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
قیس بن طخفة (جو اصحاب صفہ میں سے تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم سب چلو ، چنانچہ ہم سب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، وہاں ہم نے کھایا پیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: اگر تم لوگ چاہو تو یہیں سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ ، ہم نے کہا کہ ہم مسجد ہی جائیں گے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسن بن موسى، حدثنا شيبان بن عبد الرحمن، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، ان يعيش بن قيس بن طخفة، حدثه عن ابيه، وكان، من اصحاب الصفة قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " انطلقوا " . فانطلقنا الى بيت عايشة واكلنا وشربنا فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان شيتم نمتم هاهنا وان شيتم انطلقتم الى المسجد " . قال فقلنا بل ننطلق الى المسجد
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الحرام ، میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مسجد الاقصیٰ ، میں نے پوچھا: ان دونوں کی مدت تعمیر میں کتنا فاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال کا، پھر ساری زمین تمہارے لیے نماز کی جگہ ہے، جہاں پر نماز کا وقت ہو جائے وہیں ادا کر لو ۱؎۔
حدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا محمد بن عبيد، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر الغفاري، قال قلت يا رسول الله اى مسجد وضع اول قال " المسجد الحرام " . قال قلت ثم اى قال " ثم المسجد الاقصى " . قلت كم بينهما قال " اربعون عاما ثم الارض لك مصلى فصل حيث ما ادركتك الصلاة
محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور ان کو وہ کلی یاد تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول سے لے کر ان کے کنویں میں کر دی تھی، انہوں نے عتبان بن مالک سالمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( جو اپنی قوم بنی سالم کے امام تھے اور غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے ) وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو گئی ہے، جب سیلاب آتا ہے تو وہ میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، اسے پار کرنا میرے لیے دشوار ہوتا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھر تشریف لائیں اور گھر کے کسی حصے میں نماز پڑھ دیں، تاکہ میں اس کو اپنے لیے مصلیٰ ( نماز کی جگہ ) بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، میں ایسا کروں گا ، اگلے روز جب دن خوب چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ فرمایا: تم اپنے گھر کے کس حصہ کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے لیے وہاں نماز پڑھ دوں؟ ، میں جہاں نماز پڑھنا چاہتا تھا ادھر میں نے اشارہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر میں نے آپ کو خزیرہ ( حلیم ) ۱؎ تناول کرنے کے لیے روک لیا جو ان لوگوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ۲؎۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن محمود بن الربيع الانصاري، - وكان قد عقل مجة مجها رسول الله صلى الله عليه وسلم من دلو في بير لهم - عن عتبان بن مالك السالمي - وكان امام قومه بني سالم وكان شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال جيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني قد انكرت من بصري وان السيل ياتيني فيحول بيني وبين مسجد قومي ويشق على اجتيازه فان رايت ان تاتيني فتصلي في بيتي مكانا اتخذه مصلى فافعل . قال " افعل " . فغدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر بعد ما اشتد النهار واستاذن فاذنت له ولم يجلس حتى قال " اين تحب ان اصلي لك من بيتك " . فاشرت له الى المكان الذي احب ان اصلي فيه فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصففنا خلفه فصلى بنا ركعتين ثم احتبسته على خزيرة تصنع لهم