Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان سے چل کر آؤ، امام کے ساتھ جتنی نماز ملے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۱؎۔
حدثنا ابو مروان العثماني، محمد بن عثمان حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اقيمت الصلاة فلا تاتوها وانتم تسعون واتوها تمشون وعليكم السكينة فما ادركتم فصلوا وما فاتكم فاتموا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشواری و ناپسندیدگی کے باوجود پورا وضو کرنا، مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن سعيد بن المسيب، عن ابي سعيد الخدري، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الا ادلكم على ما يكفر الله به الخطايا ويزيد به في الحسنات " . قالوا بلى يا رسول الله . قال " اسباغ الوضوء عند المكاره وكثرة الخطى الى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو خوشی ہو کہ وہ کل اللہ تعالیٰ سے اسلام کی حالت میں ملاقات کرے تو جب اور جہاں اذان دی جائے ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کئے ہیں، قسم ہے اگر تم میں سے ہر ایک اپنے گھر میں نماز پڑھ لے، تو تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا، اور جب تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا تو گمراہ ہو گئے، ہم یقینی طور پر دیکھتے تھے کہ نماز سے پیچھے صرف وہی رہتا جو کھلا منافق ہوتا، اور واقعی طور پر ( عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ) ایک شخص دو آدمیوں پر ٹیک دے کر مسجد میں لایا جاتا، اور وہ صف میں شامل ہوتا، اور جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد کا ارادہ کر کے نکلے، پھر اس حالت میں نماز پڑھے، تو وہ جو قدم بھی چلے گا ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابراهيم الهجري، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال من سره ان يلقى الله غدا مسلما فليحافظ على هولاء الصلوات الخمس حيث ينادى بهن فانهن من سنن الهدى وان الله شرع لنبيكم صلى الله عليه وسلم سنن الهدى ولعمري لو ان كلكم صلى في بيته لتركتم سنة نبيكم ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم ولقد رايتنا وما يتخلف عنها الا منافق معلوم النفاق ولقد رايت الرجل يهادى بين الرجلين حتى يدخل في الصف وما من رجل يتطهر فيحسن الطهور فيعمد الى المسجد فيصلي فيه فما يخطو خطوة الا رفع الله له بها درجة وحط عنه بها خطيية
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلے اور یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك وأسألك بحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطك وابتغاء مرضاتك فأسألك أن تعيذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اے اللہ! میں تجھ سے اس حق ۱؎ کی وجہ سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے، کیونکہ میں غرور، تکبر، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لیے نکلا، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دیدے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے، اس لیے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کر سکتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جانب متوجہ ہو گا، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے ۔
حدثنا محمد بن سعيد بن يزيد بن ابراهيم التستري، حدثنا الفضل بن الموفق ابو الجهم، حدثنا فضيل بن مرزوق، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من خرج من بيته الى الصلاة فقال اللهم اني اسالك بحق السايلين عليك واسالك بحق ممشاى هذا فاني لم اخرج اشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطك وابتغاء مرضاتك فاسالك ان تعيذني من النار وان تغفر لي ذنوبي انه لا يغفر الذنوب الا انت - اقبل الله عليه بوجهه واستغفر له سبعون الف ملك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والے ہی ( قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہٰ مارنے والے ہیں ۔
حدثنا راشد بن سعيد بن راشد الرملي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ابي رافع، اسماعيل بن رافع عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المشاءون الى المساجد في الظلم اوليك الخواضون في رحمة الله
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تاریکیوں میں ( نماز کے لیے ) چل کر جانے والے خوش ہو جائیں کہ ان کے لیے قیامت کے دن کامل نور ہو گا ۔
حدثنا ابراهيم بن محمد الحلبي، حدثنا يحيى بن الحارث الشيرازي، حدثنا زهير بن محمد التميمي، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد الساعدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليبشر المشاءون في الظلم الى المساجد بنور تام يوم القيامة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت سنا دو ۔
حدثنا مجزاة بن سفيان بن اسيد، مولى ثابت البناني حدثنا سليمان بن داود الصايغ، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بشر المشايين في الظلم الى المساجد بالنور التام يوم القيامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں جو جتنا ہی دور سے آتا ہے، اس کو اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ذيب، عن عبد الرحمن بن مهران، عن عبد الرحمن بن سعد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الابعد فالابعد من المسجد اعظم اجرا
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک انصاری شخص کا مکان انتہائی دوری پر تھا، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی، مجھے اس کی یہ مشقت دیکھ کر اس پر رحم آیا، اور میں نے اس سے کہا: اے ابوفلاں! اگر تم ایک گدھا خرید لیتے جو تمہیں گرم ریت پہ چلنے، پتھروں کی ٹھوکر اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتا ( تو اچھا ہوتا ) ! اس انصاری نے کہا: اللہ کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے کسی گوشے سے ملا ہو، اس کی یہ بات مجھے بہت ہی گراں گزری ۱؎ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا، تو اس نے آپ کے سامنے بھی وہی بات کہی، اور کہا کہ مجھے نشانات قدم پر ثواب ملنے کی امید ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس ثواب کی تم امید رکھتے ہو وہ تمہیں ملے گا ۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا عباد بن عباد المهلبي، حدثنا عاصم الاحول، عن ابي عثمان النهدي، عن ابى بن كعب، قال كان رجل من الانصار بيته اقصى بيت بالمدينة وكان لا تخطيه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فتوجعت له فقلت يا فلان لو انك اشتريت حمارا يقيك الرمض ويرفعك من الوقع ويقيك هوام الارض . فقال والله ما احب ان بيتي بطنب بيت محمد صلى الله عليه وسلم . قال فحملت به حملا حتى اتيت بيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فدعاه فساله فذكر له مثل ذلك وذكر انه يرجو في اثره فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لك ما احتسبت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے گھروں کو جو مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آ رہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ویرانی کو مناسب نہ سمجھا، اور فرمایا: بنو سلمہ! کیا تم اپنے نشانات قدم میں ثواب کی نیت نہیں رکھتے؟ ، یہ سنا تو وہ وہیں رہے جہاں تھے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حميد، عن انس بن مالك، قال ارادت بنو سلمة ان يتحولوا، من ديارهم الى قرب المسجد فكره النبي صلى الله عليه وسلم ان يعروا المدينة فقال " يا بني سلمة الا تحتسبون اثاركم " . فاقاموا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آ جائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ونكتب ما قدموا وآثارهم» ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے ( يسين: 12 ) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كانت الانصار بعيدة منازلهم من المسجد فارادوا ان يقتربوا فنزلت {ونكتب ما قدموا واثارهم} قال فثبتوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں یا بازار میں تنہا نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجہ افضل ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الرجل في جماعة تزيد على صلاته في بيته وصلاته في سوقه بضعا وعشرين درجة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی فضیلت تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ ہے ۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فضل الجماعة على صلاة احدكم وحده خمس وعشرون جزءا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ افضل ہے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن هلال بن ميمون، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الرجل في جماعة تزيد على صلاته في بيته خمسا وعشرين درجة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی گئی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن عمر، رسته حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الرجل في جماعة تفضل على صلاة الرجل وحده بسبع وعشرين درجة
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی ہوئی نماز پر چوبیس یا پچیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔
حدثنا محمد بن معمر، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابيه، عن عبد الله بن ابي بصير، عن ابيه، عن ابى بن كعب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الرجل في جماعة تزيد على صلاة الرجل وحده اربعا وعشرين او خمسا وعشرين درجة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا پختہ ارادہ ہوا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لیے اقامت کہی جائے، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ہیں، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد هممت ان امر بالصلاة فتقام ثم امر رجلا فيصلي بالناس ثم انطلق برجال معهم حزم من حطب الى قوم لا يشهدون الصلاة فاحرق عليهم بيوتهم بالنار
عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں بوڑھا اور نابینا ہوں، میرا گھر دور ہے اور مجھے مسجد تک لانے والا میرے مناسب حال کوئی آدمی بھی نہیں ہے، تو کیا آپ میرے لیے ( جماعت سے غیر حاضری کی ) کوئی رخصت پاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ ، میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن زايدة، عن عاصم، عن ابي رزين، عن ابن ام مكتوم، قال قلت للنبي صلى الله عليه وسلم اني كبير ضرير شاسع الدار وليس لي قايد يلاومني فهل تجد لي من رخصة قال " هل تسمع النداء " . قلت نعم . قال " ما اجد لك رخصة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اذان سنی لیکن مسجد میں نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں ہو گی، الا یہ کہ کوئی عذر ہو ۔
حدثنا عبد الحميد بن بيان الواسطي، انبانا هشيم، عن شعبة، عن عدي بن ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من سمع النداء فلم ياته فلا صلاة له الا من عذر
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم خبر دیتے ہیں کہ ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: لوگ نماز باجماعت چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر ان کا شمار غافلوں میں ہونے لگے گا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، عن هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن الحكم بن ميناء، اخبرني ابن عباس، وابن، عمر انهما سمعا النبي صلى الله عليه وسلم يقول على اعواده " لينتهين اقوام عن ودعهم الجماعات او ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين