Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ جماعتوں کے چھوڑنے سے ضرور باز رہیں، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا ۔
حدثنا عثمان بن اسماعيل الهذلي الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ابن ابي ذيب، عن الزبرقان بن عمرو الضمري، عن اسامة بن زيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لينتهين رجال عن ترك الجماعة او لاحرقن بيوتهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو عشاء اور فجر کی نماز کا ثواب معلوم ہو جائے، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آئیں، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثنا يحيى بن ابي كثير، حدثني محمد بن ابراهيم التيمي، حدثني عيسى بن طلحة، حدثتني عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو يعلم الناس ما في صلاة العشاء وصلاة الفجر لاتوهما ولو حبوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، انبانا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر ولو يعلمون ما فيهما لاتوهما ولو حبوا
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس شخص نے مسجد میں چالیس دن تک جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، اور نماز عشاء کی پہلی رکعت فوت نہ ہوئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دے گا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن عمارة بن غزية، عن انس بن مالك، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول " من صلى في مسجد جماعة اربعين ليلة لا تفوته الركعة الاولى من صلاة العشاء كتب الله له بها عتقا من النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز کے لیے رکے رہتا ہے تو وہ نماز ہی میں رہتا ہے، اور فرشتے اس شخص کے لیے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز ادا کی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، یہ دعا یوں ہی جاری رہتی ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے، اور جب تک وہ ایذا نہ دے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احدكم اذا دخل المسجد كان في صلاة ما كانت الصلاة تحبسه والملايكة يصلون على احدكم مادام في مجلسه الذي صلى فيه يقولون اللهم اغفر له اللهم ارحمه اللهم تب عليه ما لم يحدث فيه ما لم يوذ فيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے، تو گھر والے خوش ہوتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، حدثنا ابن ابي ذيب، عن المقبري، عن سعيد بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما توطن رجل مسلم المساجد للصلاة والذكر الا تبشبش الله له كما يتبشبش اهل الغايب بغايبهم اذا قدم عليهم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، کچھ لوگ واپس چلے گئے، اور کچھ لوگ پیچھے مسجد میں رہ گئے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ آئے، آپ کا سانس پھول رہا تھا، اور آپ کے دونوں گھٹنے کھلے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ! یہ تمہارا رب ہے، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا، اور تمہارا ذکر فرشتوں سے فخریہ فرما رہا ہے اور کہہ رہا ہے: فرشتو! میرے بندوں کو دیکھو، ان لوگوں نے ایک فریضے کی ادائیگی کر لی ہے، اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا النضر بن شميل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن ابي ايوب، عن عبد الله بن عمرو، قال صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المغرب فرجع من رجع وعقب من عقب فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم مسرعا قد حفزه النفس و قد حسر عن ركبتيه فقال " ابشروا هذا ربكم قد فتح بابا من ابواب السماء يباهي بكم الملايكة يقول انظروا الى عبادي قد قضوا فريضة وهم ينتظرون اخرى
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو مسجد میں ( نماز کے لیے ) پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله» اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتے ہیں ( سورة التوبة: ۱۸ ) ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا رشدين بن سعد، عن عمرو بن الحارث، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا رايتم الرجل يعتاد المساجد فاشهدوا له بالايمان قال الله تعالى {انما يعمر مساجد الله من امن بالله} الاية