Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین سے «دابة» ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ سلیمان بن داود علیہما السلام کی انگوٹھی اور موسیٰ بن عمران علیہ السلام کا عصا ہو گا، اس عصا ( چھڑی ) سے وہ مومن کا چہرہ روشن کر دے گا، اور انگوٹھی سے کافر کی ناک پر نشان لگائے گا، حتیٰ کہ جب ایک محلہ کے لوگ جمع ہوں گے تو یہ کہے گا: اے مومن! اور وہ کہے گا: اے کافر! ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن اوس بن خالد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تخرج الدابة ومعها خاتم سليمان بن داود وعصا موسى بن عمران عليهما السلام فتجلو وجه المومن بالعصا و تخطم انف الكافر بالخاتم حتى ان اهل الحواء ليجتمعون فيقول هذا يا مومن ويقول هذا يا كافر " . قال ابو الحسن القطان حدثناه ابراهيم بن يحيى، حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، فذكر نحوه وقال فيه مرة فيقول هذا يا مومن . وهذا يا كافر
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مکہ کے قریب ایک جگہ صحراء میں لے گئے، تو وہ ایک خشک زمین تھی جس کے اردگرد ریت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور ( «دابۃ الارض» ) یہاں سے نکلے گا، میں نے وہ جگہ دیکھی، وہ ایک بالشت میں سے انگشت شہادت اور انگوٹھے کے درمیان کی دوری کے برابر تھی ۔ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی سال کے بعد حج کیا تو بریدہ رضی اللہ عنہ ( یعنی میرے والد ) نے ہمیں «دابۃ الارض» کا عصا دکھایا جو میرے عصا کے بقدر لمبا اور موٹا تھا۔
حدثنا ابو غسان، محمد بن عمرو زنيج حدثنا ابو تميلة، حدثنا خالد بن عبيد، حدثنا عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال ذهب بي رسول الله صلى الله عليه وسلم الى موضع بالبادية قريب من مكة فاذا ارض يابسة حولها رمل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تخرج الدابة من هذا الموضع " . فاذا فتر في شبر . قال ابن بريدة فحججت بعد ذلك بسنين فارانا عصا له فاذا هو بعصاى هذه كذا وكذا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکلے گا، جب سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھیں گے تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایسا وقت ہو گا کہ اس وقت جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتے تھے، ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها فاذا طلعت وراها الناس امن من عليها فذلك حين لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن امنت من قبل
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی پہلی نشانی سورج کا پچھم سے نکلنا، اور چاشت کے وقت لوگوں پر «دابہ» ( چوپایہ ) کا ظاہر ہونا ہے ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے جو بھی پہلے نکلے، تو دوسرا اس سے قریب ہو گا، میرا یہی خیال ہے کہ پہلے سورج پچھم سے نکلے گا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي حيان التيمي، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اول الايات خروجا طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة على الناس ضحى " . قال عبد الله فايتهما ما خرجت قبل الاخرى فالاخرى منها قريب . قال عبد الله ولا اظنها الا طلوع الشمس من مغربها
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغرب ( یعنی سورج کے ڈوبنے کی سمت ) میں ایک کھلا دروازہ ہے، اس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، یہ دروازہ توبہ کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا، جب تک سورج ادھر سے نہ نکلے، اور جب سورج ادھر سے نکلے گا تو اس وقت کسی شخص کا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان لا کر کوئی نیکی نہ کما لی ہو، اس کا ایمان لانا کسی کام نہ آئے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن عاصم، عن زر، عن صفوان بن عسال، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من قبل مغرب الشمس بابا مفتوحا عرضه سبعون سنة فلا يزال ذلك الباب مفتوحا للتوبة حتى تطلع الشمس من نحوه فاذا طلعت من نحوه لم ينفع نفسا ايمانها لم تكن امنت من قبل او كسبت في ايمانها خيرا
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ کا کانا، اور بہت بالوں والا ہو گا، اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی، لیکن اس کی جہنم جنت اور اس کی جنت جہنم ہو گی ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الدجال اعور عين اليسرى جفال الشعر معه جنة ونار فناره جنة وجنته نار
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان کی: دجال مشرق ( پورب ) کے ایک ملک سے ظاہر ہو گا، جس کو«خراسان» کہا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، ومحمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالوا حدثنا روح بن عبادة، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن ابي التياح، عن المغيرة بن سبيع، عن عمرو بن حريث، عن ابي بكر الصديق، قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الدجال يخرج من ارض بالمشرق يقال لها خراسان يتبعه اقوام كان وجوههم المجان المطرقة
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنے سوالات میں نے کئے ہیں، اتنے کسی اور نے نہیں کئے، ( ابن نمیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں «أشد سؤالا مني» یعنی مجھ سے زیادہ سوال اور کسی نے نہیں کئے ، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر وہ اس سے بھی زیادہ آسان ہے ۱؎۔)
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن المغيرة بن شعبة، قال ما سال احد النبي صلى الله عليه وسلم عن الدجال اكثر مما سالته - وقال ابن نمير اشد سوالا مني - فقال لي " ما تسال عنه " . قلت انهم يقولون ان معه الطعام والشراب قال " هو اهون على الله من ذلك
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، اور منبر پر تشریف لے گئے، اور اس سے پہلے جمعہ کے علاوہ آپ منبر پر تشریف نہ لے جاتے تھے، لوگوں کو اس سے پریشانی ہوئی، کچھ لوگ آپ کے سامنے کھڑے تھے کچھ بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں منبر پر اس لیے نہیں چڑھا ہوں کہ کوئی ایسی بات کہوں جو تمہیں کسی رغبت یا دہشت والے کام کا فائدہ دے، بلکہ بات یہ ہے کہ میرے پاس تمیم داری آئے، اور انہوں نے مجھے ایک خبر سنائی ( جس سے مجھے اتنی مسرت ہوئی کہ خوشی کی وجہ سے میں قیلولہ نہ کر سکا، میں نے چاہا کہ تمہارے نبی کی خوشی کو تم پر بھی ظاہر کر دوں ) ، سنو! تمیم داری کے ایک چچا زاد بھائی نے مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا کہ ( ایک سمندری سفر میں ) ہوا ان کو ایک جزیرے کی طرف لے گئی جس کو وہ پہچانتے نہ تھے، یہ لوگ چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر سوار ہو کر اس جزیرے میں گئے، انہیں وہاں ایک کالے رنگ کی چیز نظر آئی، جس کے جسم پر کثرت سے بال تھے، انہوں نے اس سے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں جساسہ ( دجال کی جاسوس ) ہوں، ان لوگوں نے کہا: تو ہمیں کچھ بتا، اس نے کہا: ( نہ میں تمہیں کچھ بتاؤں گی، نہ کچھ تم سے پوچھوں گی ) ، لیکن تم اس دیر ( راہبوں کے مسکن ) میں جسے تم دیکھ رہے ہو جاؤ، وہاں ایک شخص ہے جو اس بات کا خواہشمند ہے کہ تم اسے خبر بتاؤ اور وہ تمہیں بتائے، کہا: ٹھیک ہے، یہ سن کر وہ لوگ اس کے پاس آئے، اس گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں ایک بوڑھا شخص زنجیروں میں سخت جکڑا ہوا ( رنج و غم کا اظہار کر رہا ہے، اور اپنا دکھ درد سنانے کے لیے بے چین ہے ) تو اس نے ان لوگوں سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: شام سے، اس نے پوچھا: عرب کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہم عرب لوگ ہیں، تم کس کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے پوچھا: اس شخص کا کیا حال ہے ( یعنی محمد کا ) جو تم لوگوں میں ظاہر ہوا؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اس نے قوم سے دشمنی کی، پھر اللہ نے اسے ان پر غلبہ عطا کیا، تو آج ان میں اجتماعیت ہے، ان کا معبود ایک ہے، ان کا دین ایک ہے، پھر اس نے پوچھا: زغر ( شام میں ایک گاؤں ) کے چشمے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، لوگ اس سے اپنے کھیتوں کو پانی دیتے ہیں، اور پینے کے لیے بھی اس میں سے پانی لیتے ہیں، پھر اس نے پوچھا: ( عمان اور بیسان ( ملک شام کے دو شہر کے درمیان ) کھجور کے درختوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: ہر سال وہ اپنا پھل کھلا رہے ہیں، اس نے پوچھا: طبریہ کے نالے کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: اس کے دونوں کناروں پر پانی خوب زور و شور سے بہ رہا ہے، یہ سن کر اس شخص نے تین آہیں بھریں ) پھر کہا: اگر میں اس قید سے چھوٹا تو میں اپنے پاؤں سے چل کر زمین کے چپہ چپہ کا گشت لگاؤں گا، کوئی گوشہ مجھ سے باقی نہ رہے گا سوائے طیبہ ( مدینہ ) کے، وہاں میرے جانے کی کوئی سبیل نہ ہو گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سن کر مجھے بےحد خوشی ہوئی، طیبہ یہی شہر ( مدینہ ) ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مدینہ کے ہر تنگ و کشادہ اور نیچے اونچے راستوں پر ننگی تلوار لیے ایک فرشتہ متعین ہے جو قیامت تک پہرہ دیتا رہے گا ۱؎۔
نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( ایک دن ) صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو اس میں آپ نے کبھی بہت دھیما لہجہ استعمال کیا اور کبھی روز سے کہا، آپ کے اس بیان سے ہم یہ محسوس کرنے لگے کہ جیسے وہ انہی کھجوروں میں چھپا ہوا ہے، پھر جب ہم شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے چہروں پر خوف کے آثار کو دیکھ کر فرمایا: تم لوگوں کا کیا حال ہے ؟ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے جو صبح کے وقت دجال کا ذکر فرمایا تھا اور جس میں آپ نے پہلے دھیما پھر تیز لہجہ استعمال کیا تو اس سے ہمیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ وہ انہی کھجوروں کے درختوں میں چھپا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم لوگوں پر دجال کے علاوہ اوروں کا زیادہ ڈر ہے، اگر دجال میری زندگی میں ظاہر ہوا تو میں تم سب کی جانب سے اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر انسان اس کا مقابلہ خود کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے ( یعنی ہر مسلمان کا میرے بعد ذمہ دار ہے ) دیکھو دجال جوان ہو گا، اس کے بال بہت گھنگریالے ہوں گے، اس کی ایک آنکھ اٹھی ہوئی اونچی ہو گی گویا کہ میں اسے عبدالعزی بن قطن کے مشابہ سمجھتا ہوں، لہٰذا تم میں سے جو کوئی اسے دیکھے اسے چاہیئے کہ اس پر سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے، دیکھو! دجال کا ظہور عراق اور شام کے درمیانی راستے سے ہو گا، وہ روئے زمین پر دائیں بائیں فساد پھیلاتا پھرے گا، اللہ کے بندو! ایمان پر ثابت قدم رہنا ۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن تک، ایک دن ایک سال کے برابر، دوسرا دن ایک مہینہ کے اور تیسرا دن ایک ہفتہ کے برابر ہو گا، اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے ۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس دن میں جو ایک سال کا ہو گا ہمارے لیے ایک دن کی نماز کافی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نہیں بلکہ ) تم اسی ایک دن کا اندازہ کر کے نماز پڑھ لینا ۔ ہم نے عرض کیا: زمین میں اس کے چلنے کی رفتار آخر کتنی تیز ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہو، وہ ایک قوم کے پاس آ کر انہیں اپنی الوہیت کی طرف بلائے گا، تو وہ قبول کر لیں گے، اور اس پر ایمان لے آئیں گے، پھر وہ آسمان کو بارش کا حکم دے گا، تو وہ برسے گا، پھر زمین کو سبزہ اگانے کا حکم دے گا تو زمین سبزہ اگائے گی، اور جب اس قوم کے جانور شام کو چر کر واپس آیا کریں گے تو ان کے کوہان پہلے سے اونچے، تھن زیادہ دودھ والے، اور کوکھیں بھری ہوں گی، پہلو بھرے بھرے ہوں گے، پھر وہ ایک دوسری قوم کے پاس جائے گا، اور ان کو اپنی طرف دعوت دے گا، تو وہ اس کی بات نہ مانیں گے، آخر یہ دجال وہاں سے واپس ہو گا، تو صبح کو وہ قوم قحط میں مبتلا ہو گی، اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا، پھر دجال ایک ویران جگہ سے گزرے گا، اور اس سے کہے گا: تو اپنے خزانے نکال، وہاں کے خزانے نکل کر اس طرح اس کے ساتھ ہو جائیں گے جیسے شہد کی مکھیاں «یعسوب» ( مکھیوں کے بادشاہ ) کے پیچھے چلتی ہیں، پھر وہ ایک ہٹے کٹے نوجوان کو بلائے گا، اور تلوار کے ذریعہ اسے ایک ہی وار میں قتل کر کے اس کے دو ٹکڑے کر دے گا، ان دونوں ٹکڑوں میں اتنی دوری کر دے گا جتنی دوری پر تیر جاتا ہے، پھر اس کو بلائے گا تو وہ شخص زندہ ہو کر روشن چہرہ لیے ہنستا ہوا چلا آئے گا، الغرض دجال اور دنیا والے اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ الصلاۃ والسلام کو بھیجے گا، وہ دمشق کے سفید مشرقی مینار کے پاس دو زرد ہلکے کپڑے پہنے ہوئے اتریں گے، جو زعفران اور ورس سے رنگے ہوئے ہوں گے، اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں گے، اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے پانی کے قطرے موتی کی طرح گریں گے، ان کی سانس میں یہ اثر ہو گا کہ جس کافر کو لگ جائے گی وہ مر جائے گا، اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر کام کرے گی۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام چلیں گے یہاں تک کہ اس ( دجال ) کو باب لد کے پاس پکڑ لیں گے، وہاں اسے قتل کریں گے، پھر دجال کے قتل کے بعد اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کے پاس آئیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے دجال کے شر سے بچا رکھا ہو گا، ان کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر انہیں تسلی دیں گے، اور ان سے جنت میں ان کے درجات بیان کریں گے، یہ لوگ ابھی اسی کیفیت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی نازل کرے گا: اے عیسیٰ! میں نے اپنے کچھ ایسے بندے پیدا کئے ہیں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں، تو میرے بندوں کو طور پہاڑ پر لے جا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو بھیجے گا، اور وہ لوگ ویسے ہی ہوں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «من كل حدب ينسلون» یہ لوگ ہر ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے ( سورة الأنبياء: 96 ) ان میں کے آگے والے طبریہ کے چشمے پر گزریں گے، تو اس کا سارا پانی پی لیں گے، پھر جب ان کے پچھلے لوگ گزریں گے تو وہ کہیں گے: کسی زمانہ میں اس تالاب کے اندر پانی تھا، اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی طور پہاڑ پر حاضر رہیں گے ۱؎، ان مسلمانوں کے لیے اس وقت بیل کا سر تمہارے آج کے سو دینار سے بہتر ہو گا، پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے، چنانچہ اللہ یاجوج و ماجوج کی گردن میں ایک ایسا پھوڑا نکالے گا، جس میں کیڑے ہوں گے، اس کی وجہ سے ( دوسرے دن ) صبح کو سب ایسے مرے ہوئے ہوں گے جیسے ایک آدمی مرتا ہے، اور اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی طور پہاڑ سے نیچے اتریں گے اور ایک بالشت کے برابر جگہ نہ پائیں گے، جو ان کی بدبو، خون اور پیپ سے خالی ہو، عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹ کی گردن کی مانند پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو گا وہاں پھینک دیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ( سخت ) بارش نازل کرے گا جس سے کوئی پختہ یا غیر پختہ مکان چھوٹنے نہیں پائے گا، یہ بارش ان سب کو دھو ڈالے گی، اور زمین کو آئینہ کی طرح بالکل صاف کر دے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا کہ تو اپنے پھل اگا، اور اپنی برکت ظاہر کر، تو اس وقت ایک انار کو ایک جماعت کھا کر آسودہ ہو گی، اور اس انار کے چھلکوں سے سایہ حاصل کریں گے اور دودھ میں اللہ تعالیٰ اتنی برکت دے گا کہ ایک اونٹنی کا دودھ کئی جماعتوں کو کافی ہو گا، اور ایک دودھ دینے والی گائے ایک قبیلہ کے لوگوں کو کافی ہو گی، اور ایک دودھ دینے والی بکری ایک چھوٹے قبیلے کو کافی ہو گی، لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں کے تلے اثر کرے گی اور ہر مسلمان کی روح قبض کرے گی، اور ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جو جھگڑالو ہوں گے، اور گدھوں کی طرح لڑتے جھگڑتے یا اعلانیہ جماع کرتے رہیں گے، تو انہی ( شریر ) لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ۔
نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان یاجوج و ماجوج کے تیر، کمان، اور ڈھال کو سات سال تک جلائیں گے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا ابن جابر، عن يحيى بن جابر الطايي، حدثني عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، انه سمع النواس بن سمعان، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سيوقد المسلمون من قسي ياجوج وماجوج ونشابهم واترستهم سبع سنين
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، آپ کے خطبے کا اکثر حصہ دجال والی وہ حدیث تھی جو آپ نے ہم سے بیان کی، اور ہم کو اس سے ڈرایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو پیدا کیا ہے اس وقت سے دجال کے فتنے سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو ( فتنہ ) دجال سے نہ ڈرایا ہو، میں چونکہ تمام انبیاء علیہم السلام کے اخیر میں ہوں، اور تم بھی آخری امت ہو اس لیے دجال یقینی طور پر تم ہی لوگوں میں ظاہر ہو گا، اگر وہ میری زندگی میں ظاہر ہو گیا تو میں ہر مسلمان کی جانب سے اس کا مقابلہ کروں گا، اور اگر وہ میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اپنا بچاؤ کرے گا، اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے، ( یعنی اللہ میرے بعد ہر مسلمان کا محافظ ہو گا ) ، سنو! دجال شام و عراق کے درمیانی راستے سے نکلے گا اور اپنے دائیں بائیں ہر طرف فساد پھیلائے گا، اے اللہ کے بندو! ( اس وقت ) ایمان پر ثابت قدم رہنا، میں تمہیں اس کی ایک ایسی صفت بتاتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہیں بتائی، پہلے تو وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا، اور کہے گا: میں نبی ہوں ، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، پھر دوسری بار کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں ، حالانکہ تم اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتے، وہ کانا ہو گا، اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے، اور دجال کی پیشانی پر لفظ کافر لکھا ہو گا، جسے ہر مومن خواہ پڑھا لکھا ہو یا جاہل پڑھ لے گا۔ اور اس کا ایک فتنہ یہ ہو گا کہ اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہو گی، لیکن حقیقت میں اس کی جہنم جنت ہو گی، اور جنت جہنم ہو گی، تو جو اس کی جہنم میں ڈالا جائے، اسے چاہیئے کہ وہ اللہ سے فریاد کرے، اور سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے تو وہ جہنم اس پر ایسی ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی جیسے ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اور اس دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک گنوار دیہاتی سے کہے گا: اگر میں تیرے والدین کو زندہ کر دوں تو کیا تو مجھے رب تسلیم کرے گا؟ وہ کہے گا: ہاں، پھر دو شیطان اس کے باپ اور اس کی ماں کی شکل میں آئیں گے اور اس سے کہیں گے: اے میرے بیٹے! تو اس کی اطاعت کر، یہ تیرا رب ہے۔ ایک فتنہ اس کا یہ ہو گا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کر دیا جائے گا، پھر اسے قتل کر دے گا، اور اسے آرے سے چیر دے گا یہاں تک کہ اس کے دو ٹکڑے کر کے ڈال دے گا، پھر کہے گا: تم میرے اس بندے کو دیکھو، میں اس بندے کو اب زندہ کرتا ہوں، پھر وہ کہے گا: میرے علاوہ اس کا کوئی اور رب ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا، اور دجال خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: میرا رب تو اللہ ہے، اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے، اللہ کی قسم! اب تو مجھے تیرے دجال ہونے کا مزید یقین ہو گیا ۔ ابوالحسن طنافسی کہتے ہیں کہ ہم سے محاربی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبیداللہ بن ولید وصافی نے بیان کیا، انہوں نے عطیہ سے روایت کی، عطیہ نے ابو سعید خدری سے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے اس شخص کا درجہ جنت میں بہت اونچا ہو گا ۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہمارا خیال تھا کہ یہ شخص سوائے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے کوئی نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ وہ اپنی راہ گزر گئے۔ محاربی کہتے ہیں کہ اب ہم پھر ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جو ابورافع نے روایت کی ہے بیان کرتے ہیں کہ دجال کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے اور زمین کو غلہ اگانے کا حکم دے گا، چنانچہ بارش نازل ہو گی، اور غلہ اگے گا، اور اس کا فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس گزرے گا، وہ لوگ اس کو جھوٹا کہیں گے، تو ان کا کوئی چوپایہ باقی نہ رہے گا، بلکہ سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس گزرے گا، وہ لوگ اس کی تصدیق کریں گے، پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ برسے گا، اور زمین کو غلہ و اناج اگانے کا حکم دے گا تو وہ غلہ اگائے گی، یہاں تک کہ اس دن شام کو چرنے والے ان کے جانور پہلے سے خوب موٹے بھاری ہو کر لوٹیں گے، کوکھیں بھری ہوئی، اور تھن دودھ سے لبریز ہوں گے، مکہ اور مدینہ کو چھوڑ کر زمین کا کوئی خطہٰ ایسا نہ ہو گا جہاں دجال نہ جائے، اور اس پر غالب نہ آئے، مکہ اور مدینہ کا کوئی دروازہ ایسا نہ ہو گا جہاں فرشتے ننگی تلواروں کے ساتھ اس سے نہ ملیں، یہاں تک کہ دجال ایک چھوٹی سرخ پہاڑی کے پاس اترے گا، جہاں کھاری زمین ختم ہوئی ہے، اس وقت مدینہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا، جس کی وجہ سے مدینہ میں جتنے مرد اور عورتیں منافق ہوں گے وہ اس کے پاس چلے جائیں گے اور مدینہ میل کو ایسے نکال پھینکے گا جیسے بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے، اور اس دن کا نام یوم الخلاص ( چھٹکارے کا دن، یوم نجات ) ہو گا ۔ ام شریک بنت ابی العسکر نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس روز عرب بہت کم ہوں گے اور ان میں سے اکثر بیت المقدس میں ایک صالح امام کے ماتحت ہوں گے، ایک روز ان کا امام آگے بڑھ کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑا ہو گا، کہ اتنے میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام صبح کے وقت نازل ہوں گے، تو یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹ آنا چاہے گا تاکہ عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھا سکیں، لیکن عیسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ کر فرمائیں گے کہ تم ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھاؤ اس لیے کہ تمہارے ہی لیے تکبیر کہی گئی ہے، خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا، جب وہ نماز سے فارغ ہو گا تو عیسیٰ علیہ السلام ( قلعہ والوں سے ) فرمائیں گے کہ دروازہ کھولو، تو دروازہ کھول دیا جائے گا، اس ( دروازے ) کے پیچھے دجال ہو گا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، ہر یہودی کے پاس سونا چاندی سے مرصع و مزین تلوار اور سبز چادر ہو گی، جب یہ دجال عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا، تو اس طرح گھلے گا جس طرح پانی میں نمک گھل جاتا ہے، اور وہ انہیں دیکھ کر بھاگ کھڑا ہو گا، عیسیٰ علیہ السلام اس سے کہیں گے: تجھے میرے ہاتھ سے ایک ضرب کھانی ہے تو اس سے بچ نہ سکے گا، آخر کار وہ اسے لد کے مشرقی دروازے کے پاس پکڑ لیں گے، اور اسے قتل کر دیں گے، پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا، اور یہودی اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے جس چیز کی بھی آڑ میں چھپے گا، خواہ وہ درخت ہو یا پتھر، دیوار ہو یا جانور، اس چیز کو اللہ تعالیٰ بولنے کی طاقت دے گا، اور ہر چیز کہے گی: اے اللہ کے مسلمان بندے! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، اسے آ کر قتل کر دے، سوائے ایک درخت کے جس کو غرقد کہتے ہیں، یہ یہودیوں کے درختوں میں سے ایک درخت ہے یہ نہیں بولے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال چالیس سال تک رہے گا، جن میں سے ایک سال چھ مہینہ کے برابر ہو گا، اور ایک سال ایک مہینہ کے برابر ہو گا، اور ایک مہینہ جمعہ ( ایک ہفتہ ) کے برابر اور دجال کے باقی دن ایسے گزر جائیں گے جیسے چنگاری اڑ جاتی ہے، اگر تم میں سے کوئی مدینہ کے ایک دروازے پر صبح کے وقت ہو گا، تو اسے دوسرے دروازے پر پہنچتے پہنچتے شام ہو جائے گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اتنے چھوٹے دنوں میں ہم نماز کس طرح پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح تم ان بڑے دنوں میں اندازہ کر کے پڑھتے ہو اسی طرح ان ( چھوٹے ) دنوں میں بھی اندازہ کر کے پڑھ لینا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام میری امت میں ایک عادل حاکم اور منصف امام ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ اٹھا دیں گے، اور صدقہ و زکاۃ لینا چھوڑ دیں گے، تو یہ بکریوں اور گھوڑوں پر وصول نہیں کیا جائے گا، لوگوں کے دلوں سے کینہ اور بغض اٹھ جائے گا، اور ہر قسم کے زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا، حتیٰ کہ اگر بچہ سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈالے گا تو وہ اسے نقصان نہ پہنچائے گا، اور بچی شیر کو بھگائے گی تو وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، بھیڑیا بکریوں میں اس طرح رہے گا جس طرح محافظ کتا بکریوں میں رہتا ہے، زمین صلح اور انصاف سے ایسے بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جاتا ہے، اور ( سب لوگوں کا ) کلمہ ایک ہو جائے گا، اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے گی، لڑائی اپنے سامان رکھ دے گی ( یعنی دنیا سے لڑائی اٹھ جائے گی ) قریش کی سلطنت جاتی رہے گی، اور زمین چاندی کی طشتری کی طرح ہو گی، اپنے پھل اور ہریالی ایسے اگائے گی جس طرح آدم کے عہد میں اگایا کرتی تھی، یہاں تک کہ انگور کے ایک خوشے پر ایک جماعت جمع ہو جائے گی تو سب آسودہ ہو جائیں گے، اور ایک انار پر ایک جماعت جمع ہو جائے گی تو سب آسودہ ہو جائیں گے، اور بیل اتنے اتنے داموں میں ہوں گے، اور گھوڑے چند درہموں میں ملیں گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھوڑے کیوں سستے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑائی کے لیے گھوڑوں پر سواری نہیں ہو گی ، پھر آپ سے عرض کیا گیا: بیل کیوں مہنگا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساری زمین میں کھیتی ہو گی اور دجال کے ظہور سے پہلے تین سال تک سخت قحط ہو گا، ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے، پہلے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو تہائی بارش روکنے اور زمین کو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، پھر دوسرے سال آسمان کو دو تہائی بارش روکنے اور زمین کو دو تہائی پیداوار روکنے کا حکم دے گا، اور تیسرے سال اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم دے گا کہ بارش بالکل روک لے پس ایک قطرہ بھی بارش نہ ہو گی، اور زمین کو یہ حکم دے گا کہ وہ اپنے سارے پودے روک لے تو وہ اپنی تمام پیداوار روک لے گی، نہ کوئی گھاس اگے گی، نہ کوئی سبزی، بالآخر کھر والے جانور ( گائے بکری وغیرہ چوپائے ) سب ہلاک ہو جائیں گے، کوئی باقی نہ بچے گا مگر جسے اللہ بچا لے ، عرض کیا گیا: پھر اس وقت لوگ کس طرح زندہ رہیں گے؟ آپ نے فرمایا: تہلیل ( «لا إله إلا الله» ) تکبیر ( «الله أكبر» ) تسبیح ( «سبحان الله» ) اور تحمید ( «الحمد لله» ) کا کہنا، ان کے لیے غذا کا کام دے گا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن طنافسی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے عبدالرحمٰن محاربی سے سنا وہ کہتے تھے: یہ حدیث تو اس لائق ہے کہ مکتب کے استادوں کو دے دی جائے تاکہ وہ مکتب میں بچوں کو یہ حدیث پڑھائیں ۱؎۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک عیسیٰ بن مریم عادل حاکم اور منصف امام بن کر نازل نہ ہوں، وہ آ کر صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، اور جزیہ کو معاف کر دیں گے، اور مال اس قدر زیادہ ہو گا کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى ينزل عيسى ابن مريم حكما مقسطا واماما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، پھر وہ باہر آئیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:«وهم من كل حدب ينسلون» یہ لوگ ہر اونچی زمین سے دوڑتے آئیں گے ( سورة الأنبياء: 96 ) پھر ساری زمین میں پھیل جائیں گے، اور مسلمان ان سے علاحدہ رہیں گے، یہاں تک کہ جو مسلمان باقی رہیں گے وہ اپنے شہروں اور قلعوں میں اپنے مویشیوں کو لے کر پناہ گزیں ہو جائیں گے، یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج نہر سے گزریں گے، اس کا سارا پانی پی کر ختم کر دیں گے، اس میں کچھ بھی نہ چھوڑیں گے، جب ان کے پیچھے آنے والوں کا وہاں پر گزر ہو گا تو ان میں کا کوئی یہ کہے گا کہ کسی زمانہ میں یہاں پانی تھا، اور وہ زمین پر غالب آ جائیں گے، تو ان میں سے کوئی یہ کہے گا: ان اہل زمین سے تو ہم فارغ ہو گئے، اب ہم آسمان والوں سے لڑیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک اپنا نیزہ آسمان کی طرف پھینکے گا، وہ خون میں رنگا ہوا لوٹ کر گرے گا، پس وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو بھی قتل کر دیا، خیر یہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ چند جانور بھیجے گا، جو ٹڈی کے کیڑوں کی طرح ہوں گے، جو ان کی گردنوں میں گھس جائیں گے، یہ سب کے سب ٹڈیوں کی طرح مر جائیں گے، ان میں سے ایک پر ایک پڑا ہو گا، اور جب مسلمان اس دن صبح کو اٹھیں گے، اور ان کی آہٹ نہیں سنیں گے تو کہیں گے: کوئی ایسا ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کے انہیں دیکھ کر آئے کہ یاجوج ماجوج کیا ہوئے؟ چنانچہ مسلمانوں میں سے ایک شخص ( قلعہ سے ) ان کا حال جاننے کے لیے نیچے اترے گا، اور دل میں خیال کرے گا کہ وہ مجھ کو ضرور مار ڈالیں گے، خیر وہ انہیں مردہ پائے گا، تو مسلمانوں کو پکار کر کہے گا: سنو! خوش ہو جاؤ! تمہارا دشمن ہلاک ہو گیا، یہ سن کر لوگ نکلیں گے اور اپنے جانور چرنے کے لیے آزاد چھوڑیں گے، اور ان کے گوشت کے سوا کوئی چیز انہیں کھانے کے لیے نہ ملے گی، اس وجہ سے ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہوں گے، جس طرح کبھی گھاس کھا کر موٹے ہوئے تھے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، حدثني عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تفتح ياجوج وماجوج فيخرجون كما قال الله تعالى {وهم من كل حدب ينسلون} فيعمون الارض وينحاز منهم المسلمون حتى تصير بقية المسلمين في مداينهم وحصونهم ويضمون اليهم مواشيهم حتى انهم ليمرون بالنهر فيشربونه حتى ما يذرون فيه شييا فيمر اخرهم على اثرهم فيقول قايلهم لقد كان بهذا المكان مرة ماء ويظهرون على الارض فيقول قايلهم هولاء اهل الارض قد فرغنا منهم ولننازلن اهل السماء حتى ان احدهم ليهز حربته الى السماء فترجع مخضبة بالدم فيقولون قد قتلنا اهل السماء . فبينما هم كذلك اذ بعث الله دواب كنغف الجراد فتاخذ باعناقهم فيموتون موت الجراد يركب بعضهم بعضا فيصبح المسلمون لا يسمعون لهم حسا فيقولون من رجل يشري نفسه وينظر ما فعلوا فينزل منهم رجل قد وطن نفسه على ان يقتلوه فيجدهم موتى فيناديهم الا ابشروا فقد هلك عدوكم . فيخرج الناس ويخلون سبيل مواشيهم فما يكون لهم رعى الا لحومهم فتشكر عليها كاحسن ما شكرت من نبات اصابته قط
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج ہر روز ( اپنی دیوار ) کھودتے ہیں یہاں تک کہ جب قریب ہوتا ہے کہ سورج کی روشنی ان کو دکھائی دے تو جو شخص ان کا سردار ہوتا ہے وہ کہتا ہے: اب لوٹ چلو ( باقی ) کل کھودیں گے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ویسی ہی مضبوط کر دیتا ہے جیسی وہ پہلے تھی، یہاں تک کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی، اور اللہ تعالیٰ کو ان کا خروج منظور ہو گا، تو وہ ( عادت کے مطابق ) دیوار کھودیں گے جب کھودتے کھودتے قریب ہو گا کہ سورج کی روشنی دیکھیں تو اس وقت ان کا سردار کہے گا کہ اب لوٹ چلو، ان شاءاللہ کل کھودیں گے، اور ان شاءاللہ کا لفظ کہیں گے، چنانچہ ( اس دن ) وہ لوٹ جائیں گے، اور دیوار اسی حال پر رہے گی، جیسے وہ چھوڑ گئے تھے، پھر وہ صبح آ کر اسے کھودیں گے اور اسے کھود کر باہر نکلیں گے، اور سارا پانی پی کر ختم کر دیں گے، اور لوگ ( اس وقت ) بھاگ کر اپنے قلعوں میں محصور ہو جائیں گے، یہ لوگ ( زمین پر پھیل کر ) آسمان کی جانب اپنے تیر ماریں گے، تو ان کے تیر خون میں لت پت ان کے پاس لوٹیں گے، وہ کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو تو مغلوب کیا، اور آسمان والوں پر بھی غالب ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں ( گردنوں ) میں کیڑے پیدا فرمائے گا جو انہیں مار ڈالیں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین کے جانور ان کا گوشت اور چربی کھا کر خوب موٹے ہوں گے ۱؎۔
حدثنا ازهر بن مروان، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، قال حدثنا ابو رافع، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ياجوج وماجوج يحفرون كل يوم حتى اذا كادوا يرون شعاع الشمس قال الذي عليهم ارجعوا فسنحفره غدا . فيعيده الله اشد ما كان حتى اذا بلغت مدتهم واراد الله ان يبعثهم على الناس حفروا حتى اذا كادوا يرون شعاع الشمس قال الذي عليهم ارجعوا فستحفرونه غدا ان شاء الله تعالى واستثنوا فيعودون اليه وهو كهييته حين تركوه فيحفرونه ويخرجون على الناس فينشفون الماء ويتحصن الناس منهم في حصونهم فيرمون بسهامهم الى السماء فترجع عليها الدم الذي اجفظ فيقولون قهرنا اهل الارض وعلونا اهل السماء فيبعث الله نغفا في اقفايهم فيقتلهم بها " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده ان دواب الارض لتسمن وتشكر شكرا من لحومهم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسراء ( معراج ) کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی، تو سب نے آپس میں قیامت کا ذکر کیا، پھر سب نے پہلے ابراہیم علیہ السلام سے قیامت کے متعلق پوچھا، لیکن انہیں قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، تو انہیں بھی قیامت کے متعلق کچھ علم نہ تھا، پھر سب نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: قیامت کے آ دھمکنے سے کچھ پہلے ( دنیا میں جانے کا ) مجھ سے وعدہ لیا گیا ہے، لیکن قیامت کے آنے کا صحیح علم صرف اللہ ہی کو ہے ( کہ وہ کب قائم ہو گی ) ، پھر عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے ظہور کا تذکرہ کیا، اور فرمایا: میں ( زمین پر ) اتر کر اسے قتل کروں گا، پھر لوگ اپنے اپنے شہروں ( ملکوں ) کو لوٹ جائیں گے، اتنے میں یاجوج و ماجوج ان کے سامنے آئیں گے، اور ہر بلندی سے وہ چڑھ دوڑیں گے، وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے، اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے، اسے تباہ و برباد کر دیں گے، پھر لوگ اللہ سے دعا کرنے کی درخواست کریں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا کہ انہیں مار ڈالے ( چنانچہ وہ سب مر جائیں گے ) ان کی لاشوں کی بو سے تمام زمین بدبودار ہو جائے گی، لوگ پھر مجھ سے دعا کے لیے کہیں گے تو میں پھر اللہ سے دعا کروں گا، تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جو ان کی لاشیں اٹھا کر سمندر میں بہا لے جائے گی، اس کے بعد پہاڑ ریزہ ریزہ کر دئیے جائیں گے، اور زمین چمڑے کی طرح کھینچ کر دراز کر دی جائے گی، پھر مجھے بتایا گیا ہے کہ جب یہ باتیں ظاہر ہوں تو قیامت لوگوں سے ایسی قریب ہو گی جس طرح حاملہ عورت کے حمل کا زمانہ پورا ہو گیا ہو، اور وہ اس انتظار میں ہو کہ کب ولادت کا وقت آئے گا، اور اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہ ہو۔ عوام ( عوام بن حوشب ) کہتے ہیں کہ اس واقعہ کی تصدیق اللہ کی کتاب میں موجود ہے: «حتى إذا فتحت يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون» یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، تو پھر وہ ہر ایک ٹیلے پر سے چڑھ دوڑیں گے ( سورة الأنبياء: 96 ) ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا العوام بن حوشب، حدثني جبلة بن سحيم، عن موثر بن عفازة، عن عبد الله بن مسعود، قال لما كان ليلة اسري برسول الله صلى الله عليه وسلم لقي ابراهيم وموسى وعيسى فتذاكروا الساعة فبدءوا بابراهيم فسالوه عنها فلم يكن عنده منها علم ثم سالوا موسى فلم يكن عنده منها علم فرد الحديث الى عيسى ابن مريم فقال قد عهد الى فيما دون وجبتها فاما وجبتها فلا يعلمها الا الله . فذكر خروج الدجال قال فانزل فاقتله فيرجع الناس الى بلادهم فيستقبلهم ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون فلا يمرون بماء الا شربوه ولا بشىء الا افسدوه فيجارون الى الله فادعو الله ان يميتهم فتنتن الارض من ريحهم فيجارون الى الله فادعو الله فيرسل السماء بالماء فيحملهم فيلقيهم في البحر ثم تنسف الجبال وتمد الارض مد الاديم فعهد الى متى كان ذلك كانت الساعة من الناس كالحامل التي لا يدري اهلها متى تفجوهم بولادتها . قال العوام ووجد تصديق ذلك في كتاب الله تعالى {حتى اذا فتحت ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون}
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں بنی ہاشم کے چند نوجوان آئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں، اور آپ کا رنگ بدل گیا، میں نے عرض کیا: ہم آپ کے چہرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے ( یعنی آپ کے رنج سے ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اس گھرانے والے ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلے آخرت پسند کی ہے، میرے بعد بہت جلد ہی میرے اہل بیت مصیبت، سختی، اخراج اور جلا وطنی میں مبتلا ہوں گے، یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے، جن کے ساتھ سیاہ جھنڈے ہوں گے، وہ خیر ( خزانہ ) طلب کریں گے، لوگ انہیں نہ دیں گے تو وہ لوگوں سے جنگ کریں گے، اور ( اللہ کی طرف سے ) ان کی مدد ہو گی، پھر وہ جو مانگتے تھے وہ انہیں دیا جائے گا، ( یعنی لوگ ان کی حکومت پر راضی ہو جائیں گے اور خزانہ سونپ دیں گے ) ، یہ لوگ اس وقت اپنے لیے حکومت قبول نہ کریں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو یہ خزانہ اور حکومت سونپ دیں گے، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر دیا تھا، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانہ کو پائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ( لشکر میں ) شریک ہو، اگرچہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا علي بن صالح، عن يزيد بن ابي زياد، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ اقبل فتية من بني هاشم فلما راهم النبي صلى الله عليه وسلم اغرورقت عيناه وتغير لونه قال فقلت ما نزال نرى في وجهك شييا نكرهه . فقال " انا اهل بيت اختار الله لنا الاخرة على الدنيا وان اهل بيتي سيلقون بعدي بلاء وتشريدا وتطريدا حتى ياتي قوم من قبل المشرق معهم رايات سود فيسالون الخير فلا يعطونه فيقاتلون فينصرون فيعطون ما سالوا فلا يقبلونه حتى يدفعوها الى رجل من اهل بيتي فيملوها قسطا كما ملووها جورا فمن ادرك ذلك منكم فلياتهم ولو حبوا على الثلج
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے، ورنہ نو برس رہیں گے، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا: اے مہدی! مجھے کچھ دیں، وہ جواب دیں گے: لے لو ( اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے ) ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا محمد بن مروان العقيلي، حدثنا عمارة بن ابي حفصة، عن زيد العمي، عن ابي صديق الناجي، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يكون في امتي المهدي ان قصر فسبع والا فتسع فتنعم فيه امتي نعمة لم ينعموا مثلها قط توتى اكلها ولا تدخر منهم شييا والمال يوميذ كدوس فيقوم الرجل فيقول يا مهدي اعطني فيقول خذ
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ایک خزانے کے پاس تین آدمی باہم لڑائی کریں گے، ان میں سے ہر ایک خلیفہ کا بیٹا ہو گا، لیکن ان میں سے کسی کو بھی وہ خزانہ میسر نہ ہو گا، پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے نمودار ہوں گے، اور وہ تم کو ایسا قتل کریں گے کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اور بھی بیان فرمایا جسے میں یاد نہ رکھ سکا، اس کے بعد آپ نے فرمایا: لہٰذا جب تم اسے ظاہر ہوتے دیکھو تو جا کر اس سے بیعت کرو اگرچہ گھٹنوں کے بل برف پر گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا ۔
حدثنا محمد بن يحيى، واحمد بن يوسف، قالا حدثنا عبد الرزاق، عن سفيان الثوري، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء الرحبي، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقتتل عند كنزكم ثلاثة كلهم ابن خليفة ثم لا يصير الى واحد منهم ثم تطلع الرايات السود من قبل المشرق فيقتلونكم قتلا لم يقتله قوم " . ثم ذكر شييا لا احفظه فقال " فاذا رايتموه فبايعوه ولو حبوا على الثلج فانه خليفة الله المهدي
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اور اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کو صالح بنا دے گا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو داود الحفري، حدثنا ياسين، عن ابراهيم بن محمد ابن الحنفية، عن ابيه، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المهدي منا اهل البيت يصلحه الله في ليلة
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن مجالد، عن الشعبي، عن فاطمة بنت قيس، قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم وصعد المنبر وكان لا يصعد عليه قبل ذلك الا يوم الجمعة فاشتد ذلك على الناس فمن بين قايم وجالس فاشار اليهم بيده ان اقعدوا " فاني والله ما قمت مقامي هذا لامر ينفعكم لرغبة ولا لرهبة ولكن تميما الداري اتاني فاخبرني خبرا منعني القيلولة من الفرح وقرة العين فاحببت ان انشر عليكم فرح نبيكم الا ان ابن عم لتميم الداري اخبرني ان الريح الجاتهم الى جزيرة لا يعرفونها فقعدوا في قوارب السفينة فخرجوا فيها فاذا هم بشىء اهدب اسود قالوا له ما انت قال انا الجساسة . قالوا اخبرينا . قالت ما انا بمخبرتكم شييا ولا سايلتكم ولكن هذا الدير قد رمقتموه فاتوه فان فيه رجلا بالاشواق الى ان تخبروه ويخبركم فاتوه فدخلوا عليه فاذا هم بشيخ موثق شديد الوثاق يظهر الحزن شديد التشكي فقال لهم من اين قالوا من الشام . قال ما فعلت العرب قالوا نحن قوم من العرب عم تسال قال ما فعل هذا الرجل الذي خرج فيكم قالوا خيرا ناوى قوما فاظهره الله عليهم فامرهم اليوم جميع الههم واحد ودينهم واحد قال ما فعلت عين زغر قالوا خيرا يسقون منها زروعهم ويستقون منها لسقيهم قال فما فعل نخل بين عمان وبيسان قالوا يطعم ثمره كل عام . قال فما فعلت بحيرة الطبرية قالوا تدفق جنباتها من كثرة الماء . قال فزفر ثلاث زفرات ثم قال لو انفلت من وثاقي هذا لم ادع ارضا الا وطيتها برجلى هاتين الا طيبة ليس لي عليها سبيل " . قال النبي صلى الله عليه وسلم " الى هذا ينتهي فرحي هذه طيبة والذي نفسي بيده ما فيها طريق ضيق ولا واسع ولا سهل ولا جبل الا وعليه ملك شاهر سيفه الى يوم القيامة
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني عبد الرحمن بن جبير بن نفير، حدثني ابي انه، سمع النواس بن سمعان الكلابي، يقول ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال الغداة فخفض فيه ورفع حتى ظننا انه في طايفة النخل فلما رحنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم عرف ذلك فينا فقال " ما شانكم " . فقلنا يا رسول الله ذكرت الدجال الغداة فخفضت فيه ثم رفعت حتى ظننا انه في طايفة النخل . قال " غير الدجال اخوفني عليكم ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم وان يخرج ولست فيكم فامرو حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم انه شاب قطط عينه قايمة كاني اشبهه بعبد العزى بن قطن فمن راه منكم فليقرا عليه فواتح سورة الكهف انه يخرج من خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا يا عباد الله اثبتوا " . قلنا يا رسول الله وما لبثه في الارض قال " اربعون يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وساير ايامه كايامكم " . قلنا يا رسول الله فذلك اليوم الذي كسنة تكفينا فيه صلاة يوم قال " فاقدروا له قدرا " . قال قلنا فما اسراعه في الارض قال " كالغيث اشتد به الريح " . قال " فياتي القوم فيدعوهم فيستجيبون له ويومنون به فيامر السماء ان تمطر فتمطر ويامر الارض ان تنبت فتنبت وتروح عليهم سارحتهم اطول ما كانت ذرى واسبغه ضروعا وامده خواصر ثم ياتي القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ما بايديهم شىء ثم يمر بالخربة فيقول لها اخرجي كنوزك فينطلق فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا ممتليا شبابا فيضربه بالسيف ضربة فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل يتهلل وجهه يضحك فبينما هم كذلك اذ بعث الله عيسى ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طاطا راسه قطر واذا رفعه ينحدر منه جمان كاللولو ولا يحل لكافر ان يجد ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه فينطلق حتى يدركه عند باب لد فيقتله ثم ياتي نبي الله عيسى قوما قد عصمهم الله فيمسح وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة فبينما هم كذلك اذ اوحى الله اليه يا عيسى اني قد اخرجت عبادا لي لا يدان لاحد بقتالهم واحرز عبادي الى الطور . ويبعث الله ياجوج وماجوج وهم كما قال الله من كل حدب ينسلون فيمر اوايلهم على بحيرة الطبرية فيشربون ما فيها ثم يمر اخرهم فيقولون لقد كان في هذا ماء مرة ويحضر نبي الله عيسى واصحابه حتى يكون راس الثور لاحدهم خيرا من ماية دينار لاحدكم اليوم فيرغب نبي الله عيسى واصحابه الى الله فيرسل الله عليهم النغف في رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة . ويهبط نبي الله عيسى واصحابه فلا يجدون موضع شبر الا قد ملاه زهمهم ونتنهم ودماوهم فيرغبون الى الله سبحانه فيرسل عليهم طيرا كاعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شاء الله ثم يرسل الله عليهم مطرا لا يكن منه بيت مدر ولا وبر فيغسله حتى يتركه كالزلقة ثم يقال للارض انبتي ثمرتك وردي بركتك فيوميذ تاكل العصابة من الرمانة فتشبعهم ويستظلون بقحفها ويبارك الله في الرسل حتى ان اللقحة من الابل تكفي الفيام من الناس واللقحة من البقر تكفي القبيلة واللقحة من الغنم تكفي الفخذ . فبينما هم كذلك اذ بعث الله عليهم ريحا طيبة فتاخذ تحت اباطهم فتقبض روح كل مسلم ويبقى ساير الناس يتهارجون كما تتهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الرحمن المحاربي، عن اسماعيل بن رافع ابي رافع، عن ابي زرعة السيباني، يحيى بن ابي عمرو عن ابي امامة الباهلي، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان اكثر خطبته حديثا حدثناه عن الدجال وحذرناه فكان من قوله ان قال " انه لم تكن فتنة في الارض منذ ذرا الله ذرية ادم اعظم من فتنة الدجال وان الله لم يبعث نبيا الا حذر امته الدجال وانا اخر الانبياء وانتم اخر الامم وهو خارج فيكم لا محالة وان يخرج وانا بين ظهرانيكم فانا حجيج لكل مسلم وان يخرج من بعدي فكل امري حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم وانه يخرج من خلة بين الشام والعراق فيعيث يمينا ويعيث شمالا . يا عباد الله ايها الناس فاثبتوا فاني ساصفه لكم صفة لم يصفها اياه نبي قبلي انه يبدا فيقول انا نبي ولا نبي بعدي ثم يثني فيقول انا ربكم . ولا ترون ربكم حتى تموتوا وانه اعور وان ربكم ليس باعور وانه مكتوب بين عينيه كافر يقروه كل مومن كاتب او غير كاتب وان من فتنته ان معه جنة ونارا فناره جنة وجنته نار فمن ابتلي بناره فليستغث بالله وليقرا فواتح الكهف فتكون عليه بردا وسلاما كما كانت النار على ابراهيم وان من فتنته ان يقول لاعرابي ارايت ان بعثت لك اباك وامك اتشهد اني ربك فيقول نعم . فيتمثل له شيطانان في صورة ابيه وامه فيقولان يا بنى اتبعه فانه ربك . وان من فتنته ان يسلط على نفس واحدة فيقتلها وينشرها بالمنشار حتى يلقى شقتين ثم يقول انظروا الى عبدي هذا فاني ابعثه الان ثم يزعم ان له ربا غيري . فيبعثه الله ويقول له الخبيث من ربك فيقول ربي الله وانت عدو الله انت الدجال والله ما كنت بعد اشد بصيرة بك مني اليوم " . قال ابو الحسن الطنافسي فحدثنا المحاربي حدثنا عبيد الله بن الوليد الوصافي عن عطية عن ابي سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ذلك الرجل ارفع امتي درجة في الجنة " . قال قال ابو سعيد والله ما كنا نرى ذلك الرجل الا عمر بن الخطاب حتى مضى لسبيله . قال المحاربي ثم رجعنا الى حديث ابي رافع قال " وان من فتنته ان يامر السماء ان تمطر فتمطر ويامر الارض ان تنبت فتنبت وان من فتنته ان يمر بالحى فيكذبونه فلا تبقى لهم سايمة الا هلكت وان من فتنته ان يمر بالحى فيصدقونه فيامر السماء ان تمطر فتمطر ويامر الارض ان تنبت فتنبت حتى تروح مواشيهم من يومهم ذلك اسمن ما كانت واعظمه وامده خواصر وادره ضروعا وانه لا يبقى شىء من الارض الا وطيه وظهر عليه الا مكة والمدينة لا ياتيهما من نقب من نقابهما الا لقيته الملايكة بالسيوف صلتة حتى ينزل عند الظريب الاحمر عند منقطع السبخة فترجف المدينة باهلها ثلاث رجفات فلا يبقى منافق ولا منافقة الا خرج اليه فتنفي الخبث منها كما ينفي الكير خبث الحديد ويدعى ذلك اليوم يوم الخلاص " . فقالت ام شريك بنت ابي العكر يا رسول الله فاين العرب يوميذ قال " هم يوميذ قليل وجلهم ببيت المقدس وامامهم رجل صالح فبينما امامهم قد تقدم يصلي بهم الصبح اذ نزل عليهم عيسى ابن مريم الصبح فرجع ذلك الامام ينكص يمشي القهقرى ليتقدم عيسى يصلي بالناس فيضع عيسى يده بين كتفيه ثم يقول له تقدم فصل فانها لك اقيمت . فيصلي بهم امامهم فاذا انصرف قال عيسى عليه السلام افتحوا الباب . فيفتح ووراءه الدجال معه سبعون الف يهودي كلهم ذو سيف محلى وساج فاذا نظر اليه الدجال ذاب كما يذوب الملح في الماء وينطلق هاربا ويقول عيسى عليه السلام ان لي فيك ضربة لن تسبقني بها . فيدركه عند باب اللد الشرقي فيقتله فيهزم الله اليهود فلا يبقى شىء مما خلق الله يتوارى به يهودي الا انطق الله ذلك الشىء لا حجر ولا شجر ولا حايط ولا دابة - الا الغرقدة فانها من شجرهم لا تنطق - الا قال يا عبد الله المسلم هذا يهودي فتعال اقتله " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وان ايامه اربعون سنة السنة كنصف السنة والسنة كالشهر والشهر كالجمعة واخر ايامه كالشررة يصبح احدكم على باب المدينة فلا يبلغ بابها الاخر حتى يمسي " . فقيل له يا رسول الله كيف نصلي في تلك الايام القصار قال " تقدرون فيها الصلاة كما تقدرونها في هذه الايام الطوال ثم صلوا " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فيكون عيسى ابن مريم عليه السلام في امتي حكما عدلا واماما مقسطا يدق الصليب ويذبح الخنزير ويضع الجزية ويترك الصدقة فلا يسعى على شاة ولا بعير وترفع الشحناء والتباغض وتنزع حمة كل ذات حمة حتى يدخل الوليد يده في في الحية فلا تضره وتفر الوليدة الاسد فلا يضرها ويكون الذيب في الغنم كانه كلبها وتملا الارض من السلم كما يملا الاناء من الماء وتكون الكلمة واحدة فلا يعبد الا الله وتضع الحرب اوزارها وتسلب قريش ملكها وتكون الارض كفاثور الفضة تنبت نباتها بعهد ادم حتى يجتمع النفر على القطف من العنب فيشبعهم ويجتمع النفر على الرمانة فتشبعهم ويكون الثور بكذا وكذا من المال وتكون الفرس بالدريهمات " . قالوا يا رسول الله وما يرخص الفرس قال " لا تركب لحرب ابدا " . قيل له فما يغلي الثور قال " تحرث الارض كلها وان قبل خروج الدجال ثلاث سنوات شداد يصيب الناس فيها جوع شديد يامر الله السماء في السنة الاولى ان تحبس ثلث مطرها ويامر الارض فتحبس ثلث نباتها ثم يامر السماء في السنة الثانية فتحبس ثلثى مطرها ويامر الارض فتحبس ثلثى نباتها ثم يامر الله السماء في السنة الثالثة فتحبس مطرها كله فلا تقطر قطرة ويامر الارض فتحبس نباتها كله فلا تنبت خضراء فلا تبقى ذات ظلف الا هلكت الا ما شاء الله " . قيل فما يعيش الناس في ذلك الزمان قال " التهليل والتكبير والتسبيح والتحميد ويجرى ذلك عليهم مجرى الطعام " . قال ابو عبد الله سمعت ابا الحسن الطنافسي يقول سمعت عبد الرحمن المحاربي يقول ينبغي ان يدفع هذا الحديث الى المودب حتى يعلمه الصبيان في الكتاب