Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ہم ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، ہم نے مہدی کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ مہدی فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا احمد بن عبد الملك، حدثنا ابو المليح الرقي، عن زياد بن بيان، عن علي بن نفيل، عن سعيد بن المسيب، قال كنا عند ام سلمة فتذاكرنا المهدي فقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " المهدي من ولد فاطمة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں، اور اہل جنت کے سردار ہیں، یعنی: میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی ۔
حدثنا هدية بن عبد الوهاب، حدثنا سعد بن عبد الحميد بن جعفر، عن علي بن زياد اليمامي، عن عكرمة بن عمار، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نحن ولد عبد المطلب سادة اهل الجنة انا وحمزة وعلي وجعفر والحسن والحسين والمهدي
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ مشرق ( پورب ) کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے ۔
حدثنا حرملة بن يحيى المصري، وابراهيم بن سعيد الجوهري، قالا حدثنا ابو صالح عبد الغفار بن داود الحراني، حدثنا ابن لهيعة، عن ابي زرعة، عمرو بن جابر الحضرمي عن عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يخرج ناس من المشرق فيوطيون للمهدي " . يعني سلطانه
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا، خالد بن معدان کی طرف مڑے، اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا، خالد نے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا کہ جبیر نے مجھ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ ذی مخمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، چنانچہ میں ان دونوں کے ہمراہ چلا، ان سے صلح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب ہی روم والے تم سے ایک پر امن صلح کریں گے، اور تمہارے ساتھ مل کر دشمن سے لڑیں گے، پھر تم فتح حاصل کرو گے، اور بہت سا مال غنیمت ہاتھ آئے گا، اور تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنگ سے لوٹو گے یہاں تک کہ تم ایک تروتازہ اور سرسبز مقام پر جہاں ٹیلے وغیرہ ہوں گے، اترو گے، وہاں صلیب والوں یعنی رومیوں میں سے ایک شخص صلیب بلند کرے گا، اور کہے گا: صلیب غالب آ گئی، مسلمانوں میں سے ایک شخص غصے میں آئے گا، اور اس کے پاس جا کر صلیب توڑ دے گا، اس وقت رومی عہد توڑ دیں گے، اور سب جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عيسى بن يونس، عن الاوزاعي، عن حسان بن عطية، قال مال مكحول وابن ابي زكريا الى خالد بن معدان وملت معهما فحدثنا عن جبير بن نفير، قال قال لي جبير انطلق بنا الى ذي مخمر - وكان رجلا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم - فانطلقت معهما فساله عن الهدنة فقال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ستصالحكم الروم صلحا امنا ثم تغزون انتم وهم عدوا فتنصرون وتغنمون وتسلمون ثم تنصرفون حتى تنزلوا بمرج ذي تلول فيرفع رجل من اهل الصليب الصليب فيقول غلب الصليب . فيغضب رجل من المسلمين فيقوم اليه فيدقه فعند ذلك تغدر الروم ويجتمعون للملحمة
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن حسان بن عطية، باسناده نحوه وزاد فيه فيجتمعون للملحمة فياتون حينيذ تحت ثمانين غاية تحت كل غاية اثنا عشر الفا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بڑی بڑی جنگیں ہونے لگیں گی، تو اللہ تعالیٰ موالی ( جن کو عربوں نے آزاد کیا ہے ) میں سے ایک لشکر اٹھائے گا، جو عربوں سے زیادہ اچھے سوار ہوں گے اور ان سے بہتر ہتھیار رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دین کی مدد فرمائے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عثمان بن ابي العاتكة، عن سليمان بن حبيب المحاربي، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وقعت الملاحم بعث الله بعثا من الموالي هم اكرم العرب فرسا واجوده سلاحا يويد الله بهم الدين
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نافع بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب جزیرہ عرب والوں سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر فتح دے گا، پھر تم رومیوں سے جنگ کرو گے، ان پر بھی اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا، پھر تم دجال سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس پر فتح دے گا ۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تک روم فتح نہ ہو گا، دجال کا ظہور نہ ہو گا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسين بن علي، عن زايدة، عن عبد الملك بن عمير، عن جابر بن سمرة، عن نافع بن عتبة بن ابي وقاص، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ستقاتلون جزيرة العرب فيفتحها الله ثم تقاتلون الروم فيفتحها الله ثم تقاتلون الدجال فيفتحها الله " . قال جابر فما يخرج الدجال حتى تفتح الروم
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ عظیم، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا خروج تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، واسماعيل بن عياش، قالا حدثنا ابو بكر بن ابي مريم، عن الوليد بن سفيان بن ابي مريم، عن يزيد بن قطيب السكوني، - وقال الوليد يزيد بن قطبة - عن ابي بحرية، عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الملحمة الكبرى وفتح القسطنطينية وخروج الدجال في سبعة اشهر
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ عظیم اور فتح مدینہ ( قسطنطنیہ ) کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہے، اور دجال کا ظہور ساتویں سال میں ہو گا ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا بقية، عن بحير بن سعد، عن خالد بن ابي بلال، عن عبد الله بن بسر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بين الملحمة وفتح المدينة ست سنين ويخرج الدجال في السابعة
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں کا نزدیک ترین مورچہ مقام بولاء میں نہ ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! اے علی! اے علی! انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( فرمائیے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بہت جلد بنی اصفر ( اہل روم ) سے جنگ کرو گے اور ان سے وہ مسلمان بھی لڑیں گے جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے، یہاں تک کہ جو لوگ اسلام کی رونق ہوں گے ( یعنی اہل حجاز ) وہ بھی ان سے جنگ کے لیے نکلیں گے، اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کریں گے، بلکہ تسبیح و تکبیر کے ذریعہ قسطنطنیہ فتح کر لیں گے، اور انہیں ( وہاں ) اس قدر مال غنیمت حاصل ہو گا کہ اتنا کبھی حاصل نہ ہوا تھا، یہاں تک کہ وہ ڈھا لیں بھربھر کر تقسیم کریں گے، اور ایک آنے والا آ کر کہے گا: مسیح ( دجال ) تمہارے ملک میں ظاہر ہو گیا ہے، سن لو! یہ خبر جھوٹی ہو گی، تو مال لینے والا بھی شرمندہ ہو گا، اور نہ لینے والا بھی ۔
حدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا ابو يعقوب الحنيني، عن كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى تكون ادنى مسالح المسلمين ببولاء " . ثم قال صلى الله عليه وسلم " يا علي يا علي يا علي " . قال بابي وامي . قال " انكم ستقاتلون بني الاصفر ويقاتلهم الذين من بعدكم حتى تخرج اليهم روقة الاسلام اهل الحجاز الذين لا يخافون في الله لومة لايم فيفتتحون القسطنطينية بالتسبيح والتكبير فيصيبون غنايم لم يصيبوا مثلها حتى يقتسموا بالاترسة وياتي ات فيقول ان المسيح قد خرج في بلادكم الا وهي كذبة فالاخذ نادم والتارك نادم
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اور بنی اصفر ( رومیوں ) کے درمیان صلح ہو گی، پھر وہ تم سے عہد شکنی کریں گے، اور تمہارے مقابلے کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الله بن العلاء، حدثني بسر بن عبيد الله، حدثني ابو ادريس الخولاني، حدثني عوف بن مالك الاشجعي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تكون بينكم وبين بني الاصفر هدنة فيغدرون بكم فيسيرون اليكم في ثمانين غاية تحت كل غاية اثنا عشر الفا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر ولا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما صغار الاعين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناکیں چپٹی ہوں گی اور ان کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے، اور قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما صغار الاعين ذلف الانوف كان وجوههم المجان المطرقة ولا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر
عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، گویا وہ چپٹی ڈھال ہیں، اور قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسود بن عامر، حدثنا جرير بن حازم، حدثنا الحسن، عن عمرو بن تغلب، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان من اشراط الساعة ان تقاتلوا قوما عراض الوجوه كان وجوههم المجان المطرقة وان من اشراط الساعة ان تقاتلوا قوما ينتعلون الشعر
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور چہرے چوڑے ہوں گے، گویا کہ ان کی آنکھیں ٹڈی کی آنکھیں ہیں، اور ان کے چہرے چپٹی ڈھالیں ہیں، وہ بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور چمڑے کی ڈھالیں بنائیں گے اور کھجور کے درختوں کی جڑوں سے اپنے گھوڑے باندھیں گے ۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا عمار بن محمد، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما صغار الاعين عراض الوجوه كان اعينهم حدق الجراد كان وجوههم المجان المطرقة ينتعلون الشعر ويتخذون الدرق يربطون خيلهم بالنخل