Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کروں جب تک وہ «لا إله إلا الله» نہ کہہ دیں، جب وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں ( اور شرک سے تائب ہو جائیں ) تو انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، وحفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فاذا قالوها عصموا مني دماءهم واموالهم الا بحقها وحسابهم على الله عز وجل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار نہ کر لیں، جب انہوں نے اس کا اقرار کر لیا، تو اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فاذا قالوا لا اله الا الله عصموا مني دماءهم واموالهم الا بحقها وحسابهم على الله
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہوسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ حکایات و واقعات سنا کر ہمیں نصیحت فرما رہے تھے، کہ اتنے میں ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے آپ کے کان میں کچھ باتیں کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جا کر قتل کر دو ، جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر واپس بلایا، اور پوچھا: کیا تم «لا إله إلا الله» کہتے ہو ؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اسے چھوڑ دو، کیونکہ مجھے لوگوں سے لڑائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں، جب انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا تو اب ان کا خون اور مال مجھ پر حرام ہو گیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن بكر السهمي، حدثنا حاتم بن ابي صغيرة، عن النعمان بن سالم، ان عمرو بن اوس، اخبره ان اباه اوسا اخبره قال انا لقعود عند النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقص علينا ويذكرنا اذ اتاه رجل فساره فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اذهبوا به فاقتلوه " . فلما ولى الرجل دعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " هل تشهد ان لا اله الا الله " . قال نعم قال " اذهبوا فخلوا سبيله فانما امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فاذا فعلوا ذلك حرم على دماوهم واموالهم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نافع بن ازرق اور ان کے اصحاب ( و تلامیذ ) آئے، اور کہنے لگے: عمران! آپ ہلاک و برباد ہو گئے! عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہلاک نہیں ہوا، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ضرور ہلاک ہو گئے، تو انہوں نے کہا: آخر کس چیز نے مجھے ہلاک کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله» کافروں و مشرکوں سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ ( یعنی شرک ) باقی نہ رہے، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہو جائے ( سورة الأنفال: 39 ) ، عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے کفار سے اسی طرح لڑائی کی یہاں تک کہ ہم نے ان کو وطن سے باہر نکال دیا، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہو گیا، اگر تم چاہو تو میں تم سے ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ان لوگوں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ہاں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، میں آپ کے ساتھ موجود تھا، اور آپ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کے مقابلے کے لیے بھیجا تھا، جب ان کی مڈبھیڑ مشرکوں سے ہوئی، تو انہوں نے ان سے ڈٹ کر جنگ کی، آخر کار مشرکین نے اپنے کندھے ہماری جانب کر دئیے ( یعنی ہار کر بھاگ نکلے ) ، میرے ایک رشتہ دار نے مشرکین کا تعاقب کر کے ایک مشرک پر نیزے سے حملہ کیا، جب اس کو پکڑ لیا، ( اور کافر نے اپنے آپ کو خطرہ میں دیکھا ) تو اس نے «أشهد أن لا إله إلا الله» کہہ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا، لیکن اس نے اسے برچھی سے مار کر قتل کر دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ہلاک اور برباد ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کیا کیا ؟، ایک بار یا دو بار کہا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا وہ واقعہ بتایا جو اس نے کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا پیٹ کیوں نہیں پھاڑا کہ جان لیتے اس کے دل میں کیا ہے ؟، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر میں اس کا پیٹ پھاڑ دیتا تو کیا میں جان لیتا کہ اس کے دل میں کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے نہ تو اس کی بات قبول کی، اور نہ تمہیں اس کی دلی حالت معلوم تھی ۱؎۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق خاموش رہے، پھر وہ کچھ ہی دن زندہ رہ کر مر گیا، ہم نے اسے دفن کیا، لیکن صبح کو اس کی لاش قبر کے باہر پڑی تھی، لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ کسی دشمن نے اس کی لاش نکال پھینکی ہے، خیر پھر ہم نے اس کو دفن کیا، اس کے بعد ہم نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس کی قبر کی حفاظت کریں، لیکن پھر صبح اس کی لاش قبر سے باہر پڑی تھی، ہم نے سمجھا کہ شاید غلام سو گئے ( اور کسی دشمن نے آ کر پھر اس کی لاش نکال کر باہر پھینک دی ) ، آخر ہم نے اس کو دفن کیا، اور رات بھر خود پہرا دیا لیکن پھر اس کی لاش صبح کے وقت قبر کے باہر تھی، پھر ہم نے اس کی لاش ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں ڈال دی ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن حفص الابلي، حدثنا حفص بن غياث، عن عاصم، عن السميط، عن عمران بن الحصين، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فحمل رجل من المسلمين على رجل من المشركين فذكر الحديث وزاد فيه فنبذته الارض فاخبر النبي صلى الله عليه وسلم وقال " ان الارض لتقبل من هو اشر منه ولكن الله احب ان يريكم تعظيم حرمة لا اله الا الله
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃالوداع کے موقع پر فرمایا: آگاہ رہو! تمام دنوں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ دن ہے، آگاہ رہو! تمام مہینوں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ مہینہ ہے، آگاہ رہو! شہروں میں سب سے زیادہ حرمت والا تمہارا یہ شہر ہے، آگاہ رہو! تمہاری جان، تمہارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں، آگاہ رہو! کیا میں نے تمہیں اللہ کا پیغام نہیں پہنچا دیا ؟، لوگوں نے عرض کیا: ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع " الا ان احرم الايام يومكم هذا الا وان احرم الشهور شهركم هذا الا وان احرم البلد بلدكم هذا الا وان دماءكم واموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا الا هل بلغت " . قالوا نعم . قال " اللهم اشهد
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: تو کتنا عمدہ ہے، تیری خوشبو کتنی اچھی ہے، تو کتنا بڑے رتبہ والا ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، مومن کی حرمت ( یعنی مومن کے جان و مال کی حرمت ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے، اس لیے ہمیں مومن کے ساتھ حسن ظن ہی رکھنا چاہیئے ۔
حدثنا ابو القاسم بن ابي ضمرة، نصر بن محمد بن سليمان الحمصي حدثنا ابي، حدثنا عبد الله بن ابي قيس النصري، حدثنا عبد الله بن عمر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يطوف بالكعبة ويقول " ما اطيبك واطيب ريحك ما اعظمك واعظم حرمتك والذي نفس محمد بيده لحرمة المومن اعظم عند الله حرمة منك ماله ودمه وان نظن به الا خيرا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔
حدثنا بكر بن عبد الوهاب، حدثنا عبد الله بن نافع، ويونس بن يحيى، جميعا عن داود بن قيس، عن ابي سعيد، مولى عبد الله بن عامر بن كريز عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان اور مال کا خوف اور ڈر نہ ہو، اور مہاجر وہ ہے جو برائیوں اور گناہوں کو ترک کر دے ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، عن ابي هاني، عن عمرو بن مالك الجنبي، ان فضالة بن عبيد، حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " المومن من امنه الناس على اموالهم وانفسهم والمهاجر من هجر الخطايا والذنوب
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو علی الاعلان اور کھلم کھلا طور پر لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا ابو عاصم، حدثنا ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من انتهب نهبة مشهورة فليس منا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زانی زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب شرابی شراب پیتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب چور چوری کرتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا، جب لوٹ مار کرنے والا لوگوں کی نظروں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا ۔
حدثنا عيسى بن حماد، انبانا الليث بن سعد، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يزني الزاني حين يزني وهو مومن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مومن ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مومن ولا ينتهب نهبة يرفع الناس اليه ابصارهم حين ينتهبها وهو مومن
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حميد، حدثنا الحسن، عن عمران بن الحصين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من انتهب نهبة فليس منا
ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں دشمن کی کچھ بکریاں ملیں تو ہم نے انہیں لوٹ لیا، اور انہیں ذبح کر کے ہانڈیوں میں چڑھا دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان ہانڈیوں کے پاس ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ الٹ دی جائیں، چنانچہ وہ ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ مار حلال نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن ثعلبة بن الحكم، قال اصبنا غنما للعدو فانتهبناها فنصبنا قدورنا فمر النبي صلى الله عليه وسلم بالقدور فامر بها فاكفيت ثم قال " ان النهبة لا تحل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن ابن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سباب المسلم فسوق وقتاله كفر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن الحسن الاسدي، حدثنا ابو هلال، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " سباب المسلم فسوق وقتاله كفر
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق، اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن شريك، عن ابي اسحاق، عن محمد بن سعد، عن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سباب المسلم فسوق وقتاله كفر
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا: لوگوں کو خاموش کرو پھر فرمایا: تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا شعبة، عن علي بن مدرك، قال سمعت ابا زرعة بن عمرو بن جرير، يحدث عن جرير بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في حجة الوداع " استنصت الناس " . فقال " لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر افسوس ہے! یا ( تمہارے لیے خرابی ہو! ) تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ان کی طرح تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، اخبرني عمر بن محمد، عن ابيه، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ويحكم - او ويلكم - لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض
صنابح احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت ( تعداد ) کی وجہ سے میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم میرے بعد آپس میں ایک دوسرے کو قتل مت کرنا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي ومحمد بن بشر، قالا حدثنا اسماعيل، عن قيس، عن الصنابح الاحمسي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اني فرطكم على الحوض واني مكاثر بكم الامم فلا تقتتلن بعدي
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز فجر پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان یعنی پناہ میں ہے، اب تمہیں چاہیئے کہ تم اللہ کے ذمہ و عہد کو نہ توڑو، پھر جو ایسے شخص کو قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے بلا کر جہنم میں اوندھا منہ ڈالے گا ۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا احمد بن خالد الوهبي، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة الماجشون، عن عبد الواحد بن ابي عون، عن سعد بن ابراهيم، عن حابس اليماني، عن ابي بكر الصديق، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى الصبح فهو في ذمة الله فلا تخفروا الله في عهده فمن قتله طلبه الله حتى يكبه في النار على وجهه
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن عاصم، عن السميط بن السمير، عن عمران بن الحصين، قال اتى نافع بن الازرق واصحابه فقالوا هلكت يا عمران . قال ما هلكت . قالوا بلى . قال ما الذي اهلكني قالوا قال الله {وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله} . قال قد قاتلناهم حتى نفيناهم فكان الدين كله لله ان شيتم حدثتكم حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا وانت سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال نعم شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد بعث جيشا من المسلمين الى المشركين فلما لقوهم قاتلوهم قتالا شديدا فمنحوهم اكتافهم فحمل رجل من لحمتي على رجل من المشركين بالرمح فلما غشيه قال اشهد ان لا اله الا الله اني مسلم فطعنه فقتله فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله هلكت قال " وما الذي صنعت " . مرة او مرتين فاخبره بالذي صنع فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " فهلا شققت عن بطنه فعلمت ما في قلبه " . قال يا رسول الله لو شققت بطنه اكنت اعلم ما في قلبه قال " فلا انت قبلت ما تكلم به ولا انت تعلم ما في قلبه " . قال فسكت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يلبث الا يسيرا حتى مات فدفناه فاصبح على ظهر الارض فقالوا لعل عدوا نبشه فدفناه ثم امرنا غلماننا يحرسونه فاصبح على ظهر الارض فقلنا لعل الغلمان نعسوا فدفناه ثم حرسناه بانفسنا فاصبح على ظهر الارض فالقيناه في بعض تلك الشعاب