احادیث
#3930
سنن ابن ماجہ - Trials and Tribulations
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نافع بن ازرق اور ان کے اصحاب ( و تلامیذ ) آئے، اور کہنے لگے: عمران! آپ ہلاک و برباد ہو گئے! عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہلاک نہیں ہوا، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ضرور ہلاک ہو گئے، تو انہوں نے کہا: آخر کس چیز نے مجھے ہلاک کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله» کافروں و مشرکوں سے قتال کرو یہاں تک کہ فتنہ ( یعنی شرک ) باقی نہ رہے، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہو جائے ( سورة الأنفال: 39 ) ، عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے کفار سے اسی طرح لڑائی کی یہاں تک کہ ہم نے ان کو وطن سے باہر نکال دیا، اور دین پورا کا پورا اللہ کا ہو گیا، اگر تم چاہو تو میں تم سے ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ان لوگوں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ہاں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، میں آپ کے ساتھ موجود تھا، اور آپ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کے مقابلے کے لیے بھیجا تھا، جب ان کی مڈبھیڑ مشرکوں سے ہوئی، تو انہوں نے ان سے ڈٹ کر جنگ کی، آخر کار مشرکین نے اپنے کندھے ہماری جانب کر دئیے ( یعنی ہار کر بھاگ نکلے ) ، میرے ایک رشتہ دار نے مشرکین کا تعاقب کر کے ایک مشرک پر نیزے سے حملہ کیا، جب اس کو پکڑ لیا، ( اور کافر نے اپنے آپ کو خطرہ میں دیکھا ) تو اس نے «أشهد أن لا إله إلا الله» کہہ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا، لیکن اس نے اسے برچھی سے مار کر قتل کر دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ہلاک اور برباد ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کیا کیا ؟، ایک بار یا دو بار کہا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا وہ واقعہ بتایا جو اس نے کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا پیٹ کیوں نہیں پھاڑا کہ جان لیتے اس کے دل میں کیا ہے ؟، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر میں اس کا پیٹ پھاڑ دیتا تو کیا میں جان لیتا کہ اس کے دل میں کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے نہ تو اس کی بات قبول کی، اور نہ تمہیں اس کی دلی حالت معلوم تھی ۱؎۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق خاموش رہے، پھر وہ کچھ ہی دن زندہ رہ کر مر گیا، ہم نے اسے دفن کیا، لیکن صبح کو اس کی لاش قبر کے باہر پڑی تھی، لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ کسی دشمن نے اس کی لاش نکال پھینکی ہے، خیر پھر ہم نے اس کو دفن کیا، اس کے بعد ہم نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس کی قبر کی حفاظت کریں، لیکن پھر صبح اس کی لاش قبر سے باہر پڑی تھی، ہم نے سمجھا کہ شاید غلام سو گئے ( اور کسی دشمن نے آ کر پھر اس کی لاش نکال کر باہر پھینک دی ) ، آخر ہم نے اس کو دفن کیا، اور رات بھر خود پہرا دیا لیکن پھر اس کی لاش صبح کے وقت قبر کے باہر تھی، پھر ہم نے اس کی لاش ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں ڈال دی ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن عاصم، عن السميط بن السمير، عن عمران بن الحصين، قال اتى نافع بن الازرق واصحابه فقالوا هلكت يا عمران . قال ما هلكت . قالوا بلى . قال ما الذي اهلكني قالوا قال الله {وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله} . قال قد قاتلناهم حتى نفيناهم فكان الدين كله لله ان شيتم حدثتكم حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا وانت سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال نعم شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد بعث جيشا من المسلمين الى المشركين فلما لقوهم قاتلوهم قتالا شديدا فمنحوهم اكتافهم فحمل رجل من لحمتي على رجل من المشركين بالرمح فلما غشيه قال اشهد ان لا اله الا الله اني مسلم فطعنه فقتله فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله هلكت قال " وما الذي صنعت " . مرة او مرتين فاخبره بالذي صنع فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " فهلا شققت عن بطنه فعلمت ما في قلبه " . قال يا رسول الله لو شققت بطنه اكنت اعلم ما في قلبه قال " فلا انت قبلت ما تكلم به ولا انت تعلم ما في قلبه " . قال فسكت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يلبث الا يسيرا حتى مات فدفناه فاصبح على ظهر الارض فقالوا لعل عدوا نبشه فدفناه ثم امرنا غلماننا يحرسونه فاصبح على ظهر الارض فقلنا لعل الغلمان نعسوا فدفناه ثم حرسناه بانفسنا فاصبح على ظهر الارض فالقيناه في بعض تلك الشعاب
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Trials and Tribulations
- Hadith Index
- #3930
- Book Index
- 4
Grades
- Al-AlbaniHasan
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiHasan
- Shuaib Al ArnautDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
