Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز فجر پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کی امان ( پناہ ) میں ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا اشعث، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى الصبح فهو في ذمة الله عز وجل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن اللہ عزوجل کے نزدیک اس کے بعض فرشتوں سے زیادہ معزز و محترم ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا حماد بن سلمة، حدثنا ابو المهزم، يزيد بن سفيان سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن اكرم على الله عز وجل من بعض ملايكته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گمراہی کے جھنڈے تلے لڑے، عصبیت کی دعوت دے، اور عصبیت کے سبب غضب ناک ہو، اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی ۱؎۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا ايوب، عن غيلان بن جرير، عن زياد بن رياح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قاتل تحت راية عمية يدعو الى عصبية او يغضب لعصبية فقتلته جاهلية
فسیلہ نامی ایک عورت کہتی ہے کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اپنی قوم سے محبت رکھنا عصبیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ ظلم پر قوم کی مدد کرنا عصبیت ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زياد بن الربيع اليحمدي، عن عباد بن كثير الشامي، عن امراة، منهم يقال لها فسيلة قالت سمعت ابي يقول، سالت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله امن العصبية ان يحب الرجل قومه قال " لا ولكن من العصبية ان يعين الرجل قومه على الظلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت گمراہی پر کبھی جمع نہ ہو گی، لہٰذا جب تم اختلاف دیکھو تو سواد اعظم ( یعنی بڑی جماعت ) کو لازم پکڑو ۱؎۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا معان بن رفاعة السلامي، حدثني ابو خلف الاعمى، قال سمعت انس بن مالك، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان امتي لن تجتمع على ضلالة فاذا رايتم اختلافا فعليكم بالسواد الاعظم
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن بہت لمبی نماز پڑھائی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ( یا لوگوں نے ) عرض کیا: اللہ کے رسول! آج تو آپ نے نماز بہت لمبی پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، آج میں نے رغبت اور خوف والی نماز ادا کی، میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تین باتیں طلب کیں جن میں سے اللہ تعالیٰ نے دو عطا فرما دیں اور ایک قبول نہ فرمائی، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کیا تھا کہ میری امت پر اغیار میں سے کوئی دشمن مسلط نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اسے دیا، دوسری چیز میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کی تھی کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ نے اسے بھی مجھے دیا، تیسری یہ دعا کی تھی کہ میری امت آپس میں جنگ و جدال نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہ فرمائی ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن رجاء الانصاري، عن عبد الله بن شداد بن الهاد، عن معاذ بن جبل، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما صلاة فاطال فيها فلما انصرف قلنا - او قالوا - يا رسول الله اطلت اليوم الصلاة قال " اني صليت صلاة رغبة ورهبة سالت الله عز وجل لامتي ثلاثا فاعطاني اثنتين ورد على واحدة سالته ان لا يسلط عليهم عدوا من غيرهم فاعطانيها وسالته ان لا يهلكهم غرقا فاعطانيها وسالته ان لا يجعل باسهم بينهم فردها على
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین سمیٹ دی گئی حتیٰ کہ میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا، پھر اس کے دونوں خزانے زرد یا سرخ اور سفید ( یعنی سونا اور چاندی بھی ) مجھے دئیے گئے ۱؎ اور مجھ سے کہا گیا کہ تمہاری ( امت کی ) حکومت وہاں تک ہو گی جہاں تک زمین تمہارے لیے سمیٹی گئی ہے، اور میں نے اللہ تعالیٰ سے تین باتوں کا سوال کیا: پہلی یہ کہ میری امت قحط ( سوکھے ) میں مبتلا ہو کر پوری کی پوری ہلاک نہ ہو، دوسری یہ کہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے نہ کر، تیسری یہ کہ آپس میں ایک کو دوسرے سے نہ لڑا، تو مجھ سے کہا گیا کہ میں جب کوئی حکم نافذ کر دیتا ہوں تو وہ واپس نہیں ہو سکتا، بیشک میں تمہاری امت کو قحط سے ہلاک نہ کروں گا، اور میں زمین کے تمام کناروں سے سارے مخالفین کو ( ایک وقت میں ) ان پر جمع نہ کروں گا جب تک کہ وہ خود آپس میں اختلاف و لڑائی اور ایک دوسرے کو مٹانے اور قتل نہ کرنے لگیں، لیکن جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہ رکے گی، مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف گمراہ سربراہوں کا ہے، عنقریب میری امت کے بعض قبائل بتوں کی پرستش کریں گے، اور عنقریب میری امت کے بعض قبیلے مشرکوں سے مل جائیں گے، اور قیامت کے قریب تقریباً تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے، اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اور ہمیشہ ان کی مدد ہوتی رہے گی، اور جو کوئی ان کا مخالف ہو گا وہ ان کو کوئی ضرور نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے ۲؎۔ ابوالحسن ابن القطان کہتے ہیں: جب ابوعبداللہ ( یعنی امام ابن ماجہ ) اس حدیث کو بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ حدیث کتنی ہولناک ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا محمد بن شعيب بن شابور، حدثنا سعيد بن بشير، عن قتادة، انه حدثهم عن ابي قلابة الجرمي عبد الله بن زيد، عن ابي اسماء الرحبي، عن ثوبان، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " زويت لي الارض حتى رايت مشارقها ومغاربها واعطيت الكنزين الاصفر - او الاحمر - والابيض - يعني الذهب والفضة - وقيل لي ان ملكك الى حيث زوي لك واني سالت الله عز وجل ثلاثا ان لا يسلط على امتي جوعا فيهلكهم به عامة وان لا يلبسهم شيعا ويذيق بعضهم باس بعض وانه قيل لي اذا قضيت قضاء فلا مرد له واني لن اسلط على امتك جوعا فيهلكهم فيه ولن اجمع عليهم من بين اقطارها حتى يفني بعضهم بعضا ويقتل بعضهم بعضا . واذا وضع السيف في امتي فلن يرفع عنهم الى يوم القيامة وان مما اتخوف على امتي ايمة مضلين وستعبد قبايل من امتي الاوثان وستلحق قبايل من امتي بالمشركين وان بين يدى الساعة دجالين كذابين قريبا من ثلاثين كلهم يزعم انه نبي ولن تزال طايفة من امتي على الحق منصورين لا يضرهم من خالفهم حتى ياتي امر الله عز وجل " . قال ابو الحسن لما فرغ ابو عبد الله من هذا الحديث قال ما اهوله
ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا مبارک چہرہ سرخ تھا، اور آپ فرما رہے تھے: «لا إله إلا الله» عرب کے لیے تباہی ہے اس فتنے سے جو قریب آ گیا ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں سے دس کی گرہ بنائی ۱؎، زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ حالانکہ ہم میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب معصیت ( برائی ) عام ہو جائے گی ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن زينب ابنة ام سلمة، عن حبيبة، عن ام حبيبة، عن زينب بنت جحش، انها قالت استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم من نومه وهو محمر وجهه وهو يقول " لا اله الا الله ويل للعرب من شر قد اقترب فتح اليوم من ردم ياجوج وماجوج " . وعقد بيديه عشرة . قالت زينب قلت يا رسول الله انهلك وفينا الصالحون قال " اذا كثر الخبث
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کئی فتنے ظاہر ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا مگر جسے اللہ تعالیٰ علم کے ذریعہ زندہ رکھے ۔
حدثنا راشد بن سعيد الرملي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن الوليد بن سليمان بن ابي السايب، عن علي بن يزيد، عن القاسم ابي عبد الرحمن، عن ابي امامة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ستكون فتن يصبح الرجل فيها مومنا ويمسي كافرا الا من احياه الله بالعلم
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آپ نے کہا کہ تم میں سے کس کو فتنہ کے باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: مجھ کو یاد ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم بڑے جری اور نڈر ہو، پھر بولے: وہ ( حدیث ) کیسے ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: آدمی کے لیے جو فتنہ اس کے اہل و عیال، اولاد اور پڑوسی میں ہوتا ہے اسے نماز، روزہ، صدقہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں، ( یہ سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری یہ مراد نہیں ہے، بلکہ میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح امنڈ آئے گا، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کو اس فتنے سے کیا سروکار، آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان تو ایک بند دروازہ ہے، تو انہوں نے پوچھا: کیا وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ؛ بلکہ وہ توڑ دیا جائے گا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر وہ کبھی بند ہونے کے قابل نہ رہے گا ۱؎۔ ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ وہ دروازہ کون ہے؟ جواب دیا: ہاں، وہ ایسے ہی جانتے تھے جیسے یہ جانتے ہیں کہ کل سے پہلے رات ہے، میں نے ان سے ایک ایسی حدیث بیان کی تھی جس میں کوئی دھوکا جھوٹ اور مغالطہٰ نہ تھا، پھر ہمیں خوف محسوس ہوا کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کریں کہ اس دروازے سے کون شخص مراد ہے؟ پھر ہم نے مسروق سے کہا: تم ان سے پوچھو، انہوں نے پوچھا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ دروازہ خود عمر رضی اللہ عنہ ہیں ( جن کی ذات تمام بلاؤں اور فتنوں کی روک تھی ) ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو معاوية، وابي، عن الاعمش، عن شقيق، عن حذيفة، قال كنا جلوسا عند عمر فقال ايكم يحفظ حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم في الفتنة قال حذيفة فقلت انا . قال انك لجريء قال كيف قال سمعته يقول " فتنة الرجل في اهله وولده وجاره تكفرها الصلاة والصيام والصدقة والامر بالمعروف والنهى عن المنكر " . فقال عمر ليس هذا اريد انما اريد التي تموج كموج البحر . فقال مالك ولها يا امير المومنين ان بينك وبينها بابا مغلقا . قال فيكسر الباب او يفتح قال لا بل يكسر . قال ذاك اجدر ان لا يغلق . قلنا لحذيفة اكان عمر يعلم من الباب قال نعم كما يعلم ان دون غد الليلة اني حدثته حديثا ليس بالاغاليط . فهبنا ان نساله من الباب فقلنا لمسروق سله فساله فقال عمر
عبدالرحمٰن بن عبدرب الکعبہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، وہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے، اور لوگ ان کے پاس جمع تھے، تو میں نے ان کو کہتے سنا: اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ نے ایک جگہ قیام کیا، تو ہم میں سے کوئی خیمہ لگا رہا تھا، کوئی تیر چلا رہا تھا، اور کوئی اپنے جانور چرانے لے گیا، اتنے میں ایک منادی نے آواز لگائی کہ لوگو! نماز کے لیے جمع ہو جاؤ، تو ہم نماز کے لیے جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ دیا، اور فرمایا: مجھ سے پہلے جتنے بھی نبی گزرے ہیں ان پر ضروری تھا کہ وہ اپنی امت کی ان باتوں کی طرف رہنمائی کریں جن کو وہ ان کے لیے بہتر جانتے ہوں، اور انہیں ان چیزوں سے ڈرائیں جن کو وہ ان کے لیے بری جانتے ہوں، اور تمہاری اس امت کی سلامتی اس کے شروع حصے میں ہے، اور اس کے اخیر حصے کو بلا و مصیبت لاحق ہو گی، اور ایسے امور ہوں گے جن کو تم برا جانو گے، پھر ایسے فتنے آئیں گے کہ ایک کے سامنے دوسرا ہلکا محسوس ہو گا، مومن کہے گا: اس فتنے میں میری تباہی ہے، پھر وہ فتنہ ختم ہو جائے گا، اور دوسرا فتنہ آئے گا، مومن کہے گا: اس میں میری تباہی ہے پھر وہ بھی ختم ہو جائے گا، تو جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ جہنم سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے تو وہ کوشش کرے کہ اس کی موت اس حالت میں آئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو کہ لوگ اس کے ساتھ کریں، اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے، اور اس کو اپنی قسم کا ہاتھ دے کر دل سے سچا عہد کرے تو اب جہاں تک ہو سکے اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا امام آ کر اس سے لڑنے جھگڑنے لگے ( اور اپنے سے بیعت کرنے کو کہے ) تو اس دوسرے امام کی گردن مار دے ۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ( یہ سن کر ) اپنا سر لوگوں میں سے نکال کر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے کانوں کی جانب اشارہ کر کے کہا: میرے کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، وعبد الرحمن المحاربي، ووكيع، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، عن عبد الرحمن بن عبد رب الكعبة، قال انتهيت الى عبد الله بن عمرو بن العاص وهو جالس في ظل الكعبة والناس مجتمعون عليه فسمعته يقول بينا نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر اذ نزل منزلا فمنا من يضرب خباءه ومنا من ينتضل ومنا من هو في جشره اذ نادى مناديه الصلاة جامعة فاجتمعنا فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطبنا فقال " انه لم يكن نبي قبلي الا كان حقا عليه ان يدل امته على ما يعلمه خيرا لهم وينذرهم ما يعلمه شرا لهم وان امتكم هذه جعلت عافيتها في اولها وان اخرهم يصيبهم بلاء وامور تنكرونها ثم تجيء فتن يرقق بعضها بعضا فيقول المومن هذه مهلكتي ثم تنكشف ثم تجيء فتنة فيقول المومن هذه مهلكتي . ثم تنكشف فمن سره ان يزحزح عن النار ويدخل الجنة فلتدركه موتته وهو يومن بالله واليوم الاخر وليات الى الناس الذي يحب ان ياتوا اليه ومن بايع اماما فاعطاه صفقة يمينه وثمرة قلبه فليطعه ما استطاع فان جاء اخر ينازعه فاضربوا عنق الاخر " . قال فادخلت راسي من بين الناس فقلت انشدك الله انت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فاشار بيده الى اذنيه فقال سمعته اذناى ووعاه قلبي
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا جو عنقریب آنے والا ہے؟ جس میں لوگ چھانے جائیں گے ( اچھے لوگ سب مر جائیں گے ) اور خراب لوگ باقی رہ جائیں گے ( جیسے چھلنی میں آٹا چھاننے سے بھوسی باقی رہ جاتی ہے ) ، ان کے عہد و پیمان اور امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا، اور لوگ آپس میں الجھ کر اور اختلاف کر کے اس طرح ہو جائیں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھائیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تمہیں معروف ( اچھی ) معلوم ہو اسے اپنا لینا، اور جو منکر ( بری ) معلوم ہو اسے چھوڑ دینا، اور تم اپنے خصوصی معاملات و مسائل کی فکر کرنا، اور عام لوگوں کے مائل کی فکر چھوڑ دینا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، حدثني ابي، عن عمارة بن حزم، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كيف بكم وبزمان يوشك ان ياتي يغربل الناس فيه غربلة وتبقى حثالة من الناس قد مرجت عهودهم واماناتهم فاختلفوا وكانوا هكذا " . وشبك بين اصابعه قالوا كيف بنا يا رسول الله اذا كان ذلك قال " تاخذون بما تعرفون وتدعون ما تنكرون وتقبلون على خاصتكم وتذرون امر عوامكم
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی جس وقت لوگوں پر موت کی وبا آئے گی یہاں تک کہ ایک گھر یعنی قبر کی قیمت ایک غلام کے برابر ہو گی ۱؎، میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں ( یا یوں کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تم صبر سے کام لینا ، پھر فرمایا: اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ قحط اور بھوک کی مصیبت سے دو چار ہوں گے، حتیٰ کہ تم اپنی مسجد میں آؤ گے، پھر تم میں اپنے بستر تک جانے کی قوت نہ ہو گی اور نہ ہی بستر سے اٹھ کر مسجد تک آنے کی قوت ہو گی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، یا کہا ( اللہ اور اس کا رسول جو میرے لیے پسند کرے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اس وقت ) تم اپنے اوپر پاک دامنی کو لازم کر لینا ، پھر فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب ( مدینہ میں ) لوگوں کا قتل عام ہو گا، حتیٰ کہ مدینہ میں ایک پتھریلا مقام «حجارة الزيت» ۲؎ خون میں ڈوب جائے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول جو میرے لیے پسند فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں سے مل جانا جن سے تم ہو ( یعنی اپنے اہل خاندان کے ساتھ ہو جانا ) ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر ان لوگوں کو نہ ماروں جو ایسا کریں؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا کرو گے تب تو تم بھی انہیں لوگوں میں شریک ہو جاؤ گے، تمہیں چاہیئے کہ ( چپ چاپ ہو کر ) اپنے گھر ہی میں پڑے رہو ۳؎ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ میرے گھر میں گھس آئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ڈر ہو کہ تلوار کی چمک تم پر غالب آ جائے گی، تو اپنی چادر کا کنارا منہ پر ڈال لینا، ( قتل ہو جانا ) وہ قتل کرنے والا اپنا اور تمہارا دونوں کا گناہ اپنے سر لے گا، اور وہ جہنمی ہو گا ۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي عمران الجوني، عن المشعث بن طريف، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف انت يا ابا ذر وموتا يصيب الناس حتى يقوم البيت بالوصيف " . يعني القبر قلت ما خار الله لي ورسوله - او قال الله ورسوله اعلم - قال " تصبر " . قال " كيف انت وجوعا يصيب الناس حتى تاتي مسجدك فلا تستطيع ان ترجع الى فراشك ولا تستطيع ان تقوم من فراشك الى مسجدك " . قال قلت الله ورسوله اعلم او - ما خار الله لي ورسوله - قال " عليك بالعفة " . ثم قال " كيف انت وقتلا يصيب الناس حتى تغرق حجارة الزيت بالدم " . قلت ما خار الله لي ورسوله . قال " الحق بمن انت منه " . قال قلت يا رسول الله افلا اخذ بسيفي فاضرب به من فعل ذلك قال " شاركت القوم اذا ولكن ادخل بيتك " . قلت يا رسول الله فان دخل بيتي قال " ان خشيت ان يبهرك شعاع السيف فالق طرف ردايك على وجهك فيبوء باثمه واثمك فيكون من اصحاب النار
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا: قیامت سے پہلے «ہرج» ہو گا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول!«ہرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل ، کچھ مسلمانوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تو اب بھی سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کا قتل مراد نہیں بلکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے، حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، اپنے چچا زاد بھائی اور قرابت داروں کو بھی قتل کرے گا ، تو کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس وقت ہم لوگ عقل و ہوش میں ہوں گے کہ نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی، اور ان کی جگہ ایسے کم تر لوگ لے لیں گے جن کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی ۔ پھر ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ زمانہ مجھے اور تم کو پا لے، اللہ کی قسم! اگر ایسا زمانہ مجھ پر اور تم پر آ گیا تو ہمارے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا، جیسا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت کی ہے، سوائے اس کے کہ ہم اس سے ویسے ہی نکلیں جیسے داخل ہوئے
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا عوف، عن الحسن، حدثنا اسيد بن المتشمس، قال حدثنا ابو موسى، حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بين يدى الساعة لهرجا " . قال قلت يا رسول الله ما الهرج قال " القتل " . فقال بعض المسلمين يا رسول الله انا نقتل الان في العام الواحد من المشركين كذا وكذا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس بقتل المشركين ولكن يقتل بعضكم بعضا حتى يقتل الرجل جاره وابن عمه وذا قرابته " . فقال بعض القوم يا رسول الله ومعنا عقولنا ذلك اليوم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تنزع عقول اكثر ذلك الزمان ويخلف له هباء من الناس لا عقول لهم " . ثم قال الاشعري وايم الله اني لاظنها مدركتي واياكم وايم الله ما لي ولكم منها مخرج ان ادركتنا فيما عهد الينا نبينا صلى الله عليه وسلم الا ان نخرج كما دخلنا فيها
عدیسہ بنت اہبان کہتی ہیں کہ جب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یہاں بصرہ میں آئے، تو میرے والد ( اہبان بن صیفی غفاری رضی اللہ عنہ ) کے پاس تشریف لائے، اور کہا: ابو مسلم! ان لوگوں ( شامیوں ) کے مقابلہ میں تم میری مدد نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور مدد کروں گا، پھر اس کے بعد اپنی باندی کو بلایا، اور اسے تلوار لانے کو کہا: وہ تلوار لے کر آئی، ابو مسلم نے اس کو ایک بالشت برابر ( نیام سے ) نکالا، دیکھا تو وہ تلوار لکڑی کی تھی، پھر ابو مسلم نے کہا: میرے خلیل اور تمہارے چچا زاد بھائی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے کہ جب مسلمانوں میں جنگ اور فتنہ برپا ہو جائے تو میں ایک لکڑی کی تلوار بنا لوں ، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ہمراہ نکلوں، انہوں نے کہا: مجھے نہ تمہاری ضرورت ہے اور نہ تمہاری تلوار کی ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا عبد الله بن عبيد، موذن مسجد جردان قال حدثتني عديسة بنت اهبان، قالت لما جاء علي بن ابي طالب هاهنا البصرة دخل على ابي فقال يا ابا مسلم الا تعينني على هولاء القوم قال بلى . قال فدعا جارية له فقال يا جارية اخرجي سيفي . قال فاخرجته فسل منه قدر شبر فاذا هو خشب فقال ان خليلي وابن عمك صلى الله عليه وسلم عهد الى اذا كانت الفتنة بين المسلمين فاتخذ سيفا من خشب فان شيت خرجت معك . قال لا حاجة لي فيك ولا في سيفك
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب ایسے فتنے ہوں گے جیسے اندھیری رات کے حصے، ان میں آدمی صبح کو مومن ہو گا، تو شام کو کافر ہو گا اور شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر ہو گا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، اور ان فتنوں میں تم اپنی کمانوں کو توڑ ڈالنا، کمان کے تانت کاٹ ڈالنا، اپنی تلواریں پتھر پر مار کر کند کر لینا، اور اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی گھس جائے تو آدم کے دونوں بیٹوں میں سے نیک بیٹے کی طرح ہو جا نا ۱؎۔
حدثنا عمران بن موسى الليثي، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا محمد بن جحادة، عن عبد الرحمن بن ثروان، عن هزيل بن شرحبيل، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بين يدى الساعة فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل فيها مومنا ويمسي كافرا ويمسي مومنا ويصبح كافرا القاعد فيها خير من القايم والقايم فيها خير من الماشي والماشي فيها خير من الساعي فكسروا قسيكم وقطعوا اوتاركم واضربوا بسيوفكم الحجارة فان دخل على احد منكم فليكن كخير ابنى ادم
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت جلد ایک فتنہ ہو گا، فرقہ بندی ہو گی اور اختلاف ہو گا، جب یہ زمانہ آئے تو تم اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر آنا، اور اس پر اسے مارنا کہ وہ ٹوٹ جائے، اور پھر اپنے گھر بیٹھ جانا یہاں تک کہ کوئی خطاکار ہاتھ تمہیں قتل کر دے، یا موت آ جائے جو تمہارا کام تمام کر دے ۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ فتنہ آ گیا ہے، اور میں نے وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن حماد بن سلمة، عن ثابت، - او علي بن زيد بن جدعان شك ابو بكر - عن ابي بردة، قال دخلت على محمد بن مسلمة فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انها ستكون فتنة وفرقة واختلاف فاذا كان كذلك فات بسيفك احدا فاضربه حتى ينقطع ثم اجلس في بيتك حتى تاتيك يد خاطية او منية قاضية " . فقد وقعت وفعلت ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑ پڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا مبارك بن سحيم، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مسلمين التقيا باسيافهما الا كان القاتل والمقتول في النار
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑ پڑیں، تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے ( قتل کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گا ) مگر مقتول کا کیا گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا ۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا يزيد بن هارون، عن سليمان التيمي، وسعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا التقى المسلمان بسيفيهما فالقاتل والمقتول في النار " . قالوا يا رسول الله هذا القاتل فما بال المقتول قال " انه اراد قتل صاحبه
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں، پھر جب ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں ایک ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن ابي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا المسلمان حمل احدهما على اخيه السلاح فهما على جرف جهنم فاذا قتل احدهما صاحبه دخلاها جميعا