Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے برباد اور خراب مقام اس شخص کا ہو گا جس نے اپنی آخرت دوسرے کی دنیا کے لیے برباد کی ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا مروان بن معاوية، عن عبد الحكم السدوسي، حدثنا شهر بن حوشب، عن ابي امامة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من شر الناس منزلة عند الله يوم القيامة عبد اذهب اخرته بدنيا غيره
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک فتنہ ایسا ہو گا جو سارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس میں قتل ہونے والے سب جہنمی ہوں گے، اس فتنہ میں زبان تلوار کی کاٹ سے زیادہ موثر ہو گی ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا حماد بن سلمة، عن ليث، عن طاوس، عن زياد، سيمين كوش عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تكون فتنة تستنظف العرب قتلاها في النار اللسان فيها اشد من وقع السيف
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فتنوں سے بچے رہنا کیونکہ اس میں زبان ہلانا تلوار چلانے کے برابر ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن الحارث، حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن البيلماني، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اياكم والفتن فان اللسان فيها مثل وقع السيف
علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے سامنے سے ایک معزز شخص کا گزر ہوا، تو انہوں نے اس سے عرض کیا: آپ کا مجھ سے ( دہرا رشتہ ہے ) ایک تو قرابت کا، دوسرے مسلمان ہونے کا، میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان امراء کے پاس آتے جاتے اور ان سے حسب منشا باتیں کرتے ہیں، میں نے صحابی رسول بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس بات کا اثر کیا ہو گا، لیکن اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے حق میں قیامت تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوتی ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا اثر ہو گا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے حق میں اپنی ناراضگی اس دن تک کے لیے لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا ۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھو افسوس ہے تم پر! تم کیا کہتے اور کیا بولتے ہو، بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی حدیث نے بعض باتوں کے کہنے سے مجھے روک دیا ہے، خاموش ہو جاتا ہوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا محمد بن عمرو، حدثني ابي، عن ابيه، علقمة بن وقاص قال مر به رجل له شرف فقال له علقمة ان لك رحما وان لك حقا واني رايتك تدخل على هولاء الامراء وتتكلم عندهم بما شاء الله ان تتكلم به واني سمعت بلال بن الحارث المزني صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احدكم ليتكلم بالكلمة من رضوان الله ما يظن ان تبلغ ما بلغت فيكتب الله عز وجل له بها رضوانه الى يوم القيامة وان احدكم ليتكلم بالكلمة من سخط الله ما يظن ان تبلغ ما بلغت فيكتب الله عز وجل عليه بها سخطه الى يوم يلقاه " . قال علقمة فانظر ويحك ماذا تقول وماذا تكلم به فرب كلام - قد - منعني ان اتكلم به ما سمعت من بلال بن الحارث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے، اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا، حالانکہ اس بات کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جاتا ہے ۔
حدثنا ابو يوسف الصيدلاني، محمد بن احمد الرقي حدثنا محمد بن سلمة، عن ابن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الرجل ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يرى بها باسا فيهوي بها في نار جهنم سبعين خريفا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليسكت
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: اللہ میرا رب ( معبود برحق ) ہے اور پھر اس پر قائم رہو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اس کا ۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن محمد بن عبد الرحمن بن ماعز العامري، ان سفيان بن عبد الله الثقفي، قال قلت يا رسول الله حدثني بامر اعتصم به . قال " قل ربي الله ثم استقم " . قلت يا رسول الله ما اكثر ما تخاف على فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بلسان نفسه ثم قال " هذا
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن میں صبح کو آپ سے قریب ہوا، اور ہم چل رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے، اور جہنم سے دور رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے، اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے ہی مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات میں آدمی کا نماز ( تہجد ) ادا کرنا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت:«تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ( سورة السجدة: 16 ) تلاوت فرمائی یہاں تک کہ «جزاء بما كانوا يعملون» تک پہنچے، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے ، پھر فرمایا: کیا ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتا دوں ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ضرور بتائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا: اسے اپنے قابو میں رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو بولتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہو گی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! تیری ماں تجھ پر روئے! لوگ اپنی زبانوں کی کارستانیوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے ۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا عبد الله بن معاذ، عن معمر، عن عاصم بن ابي النجود، عن ابي وايل، عن معاذ بن جبل، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاصبحت يوما قريبا منه ونحن نسير فقلت يا رسول الله اخبرني بعمل يدخلني الجنة ويباعدني من النار . قال " لقد سالت عظيما وانه ليسير على من يسره الله عليه تعبد الله لا تشرك به شييا وتقيم الصلاة وتوتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت " . ثم قال " الا ادلك على ابواب الجنة الصوم جنة والصدقة تطفي الخطيية كما يطفي النار الماء وصلاة الرجل في جوف الليل " . ثم قرا {تتجافى جنوبهم عن المضاجع} حتى بلغ {جزاء بما كانوا يعملون} ثم قال " الا اخبرك براس الامر وعموده وذروة سنامه الجهاد " . ثم قال " الا اخبرك بملاك ذلك كله " . قلت بلى . فاخذ بلسانه فقال " تكف عليك هذا " . قلت يا نبي الله وانا لمواخذون بما نتكلم به قال " ثكلتك امك يا معاذ وهل يكب الناس على وجوههم في النار الا حصايد السنتهم
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کی ہر بات کا اس پر وبال ہو گا، اور کسی بات سے فائدہ نہ ہو گا سوائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن يزيد بن خنيس المكي، قال سمعت سعيد بن حسان المخزومي، قال حدثتني ام صالح، عن صفية بنت شيبة، عن ام حبيبة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كلام ابن ادم عليه لا له الا الامر بالمعروف والنهى عن المنكر وذكر الله عز وجل
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ ہم امراء ( حکمرانوں ) کے پاس جاتے ہیں، تو وہاں کچھ اور باتیں کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ اور باتیں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کو نفاق سمجھتے تھے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا خالي، يعلى عن الاعمش، عن ابراهيم، عن ابي الشعثاء، قال قيل لابن عمر انا ندخل على امراينا فنقول القول فاذا خرجنا قلنا غيره . قال كنا نعد ذلك على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم النفاق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ جس بات کا تعلق اس سے نہ ہو اسے وہ چھوڑ دے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا محمد بن شعيب بن شابور، حدثنا الاوزاعي، عن قرة بن عبد الرحمن بن حيوييل، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حسن اسلام المرء تركه ما لا يعنيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اس کی پشت پر اڑ رہا ہو، اور جہاں دشمن کی آواز سنے یا مقابلے کا وقت آئے تو فوراً مقابلہ کے لیے اس جانب رخ کرتا ہو، اور موت یا قتل کی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہو اور وہ آدمی ہے جو اپنی بکریوں کو لے کر تنہا کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہو، یا کسی وادی میں جا بسے، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو حتیٰ کہ اس حالت میں اسے موت آ جائے کہ وہ لوگوں کا خیرخواہ ہو ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، اخبرني ابي، عن بعجة بن عبد الله بن بدر الجهني، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير معايش الناس لهم رجل ممسك بعنان فرسه في سبيل الله ويطير على متنه كلما سمع هيعة او فزعة طار عليه اليها يبتغي الموت او القتل مظانه ورجل في غنيمة في راس شعفة من هذه الشعاف او بطن واد من هذه الاودية يقيم الصلاة ويوتي الزكاة ويعبد ربه حتى ياتيه اليقين ليس من الناس الا في خير
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: لوگوں میں سب سے بہتر اور اچھا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو ، اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں تنہا اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا الزبيدي، حدثني الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اى الناس افضل قال " رجل مجاهد في سبيل الله بنفسه وماله " . قال ثم من قال " ثم امرو في شعب من الشعاب يعبد الله عز وجل ويدع الناس من شره
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کے بلاوے پر ادھر جائے گا وہ انہیں جہنم میں ڈال دیں گے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے ان کے کچھ اوصاف بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہم ہی میں سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے ، میں نے عرض کیا: اگر یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو، اور اگر اس وقت کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو ان تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کرو، اگرچہ تمہیں کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتیٰ کہ تمہیں اسی حالت میں موت آ جائے ا؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني بسر بن عبيد الله، حدثني ابو ادريس الخولاني، انه سمع حذيفة بن اليمان، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يكون دعاة على ابواب جهنم من اجابهم اليها قذفوه فيها " . قلت يا رسول الله صفهم لنا قال " هم قوم من جلدتنا يتكلمون بالسنتنا " . قلت فما تامرني ان ادركني ذلك قال " فالزم جماعة المسلمين وامامهم فان لم يكن لهم جماعة ولا امام فاعتزل تلك الفرق كلها ولو ان تعض باصل شجرة حتى يدركك الموت وانت كذلك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ اس وقت مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں یا بارش کے مقامات میں چلا جائے گا، وہ اپنا دین فتنوں سے بچاتا پھر رہا ہو گا ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن نمير، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن عبد الرحمن الانصاري، عن ابيه، انه سمع ابا سعيد الخدري، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوشك ان يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر يفر بدينه من الفتن
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے فتنے پیدا ہوں گے کہ ان کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے، لہٰذا اس وقت تمہارے لیے کسی درخت کی جڑ چبا کر جان دے دینا بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ تم ان بلانے والوں میں سے کسی کی پیروی کرو ۔
حدثنا محمد بن عمر بن علي المقدمي، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا ابو عامر الخزاز، عن حميد بن هلال، عن عبد الرحمن بن قرط، عن حذيفة بن اليمان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تكون فتن على ابوابها دعاة الى النار فان تموت وانت عاض على جذل شجرة خير لك من ان تتبع احدا منهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔
حدثنا محمد بن الحارث المصري، حدثنا الليث بن سعد، حدثني عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يلدغ المومن من جحر مرتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، قال حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا زمعة بن صالح، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يلدغ المومن من جحر مرتين
شعبی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ کہتے سنا، اور انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حلال واضح ہے، اور حرام بھی، ان کے درمیان بعض چیزیں مشتبہ ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جان پاتے ( کہ حلال ہے یا حرام ) جو ان مشتبہ چیزوں سے بچے، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا، وہ ایک دن حرام میں بھی پڑ جائے گا، جیسا کہ چرا گاہ کے قریب جانور چرانے والا اس بات کے قریب ہوتا ہے کہ اس کا جانور اس چراگاہ میں بھی چرنے لگ جائے، خبردار!، ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، آگاہ رہو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب تک وہ صحیح رہتا ہے تو پورا جسم صحیح رہتا ہے، اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، آگاہ رہو!، وہ دل ہے ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن زكريا بن ابي زايدة، عن الشعبي، قال سمعت النعمان بن بشير، يقول على المنبر واهوى باصبعيه الى اذنيه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الحلال بين والحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمها كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرا لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي حول الحمى يوشك ان يرتع فيه الا وان لكل ملك حمى الا وان حمى الله محارمه الا وان في الجسد مضغة اذا صلحت صلح الجسد كله واذا فسدت فسد الجسد كله الا وهي القلب
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنوں ( کے ایام ) میں عبادت کرنا ایسے ہی ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا جعفر بن سليمان، عن المعلى بن زياد، عن معاوية بن قرة، عن معقل بن يسار، قال قال رسول صلى الله عليه وسلم " العبادة في الهرج كهجرة الى