Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا، تو ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، ويعقوب بن حميد بن كاسب، وسويد بن سعيد، قالوا حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، حدثنا يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بدا الاسلام غريبا وسيعود غريبا فطوبى للغرباء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، اور عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا عمرو بن الحارث، وابن، لهيعة عن يزيد بن ابي حبيب، عن سنان بن سعد، عن انس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الاسلام بدا غريبا وسيعود غريبا فطوبى للغرباء
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے، آپ سے سوال کیا گیا: غرباء کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہیں جو اپنے قبیلے سے نکال دئیے گئے ہوں ۱؎۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الاسلام بدا غريبا وسيعود غريبا فطوبى للغرباء " . قال قيل ومن الغرباء قال النزاع من القبايل
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن وہ مسجد نبوی کی جانب گئے، تو وہاں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں، انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ایک ایسی بات رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: معمولی ریاکاری بھی شرک ہے، بیشک جس نے اللہ کے کسی دوست سے دشمنی کی، تو اس نے اللہ سے اعلان جنگ کیا، اللہ تعالیٰ ان نیک، گم نام متقی لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اگر غائب ہو جائیں تو کوئی انہیں تلاش نہیں کرتا، اور اگر وہ حاضر ہو جائیں تو لوگ انہیں کھانے کے لیے نہیں بلاتے، اور نہ انہیں پہچانتے ہیں، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ایسے لوگ ہر گرد آلود تاریک فتنے سے نکل جائیں گے ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن لهيعة، عن عيسى بن عبد الرحمن، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر بن الخطاب، انه خرج يوما الى مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجد معاذ بن جبل قاعدا عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم يبكي فقال ما يبكيك قال يبكيني شىء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان يسير الرياء شرك وان من عادى لله وليا فقد بارز الله بالمحاربة ان الله يحب الابرار الاتقياء الاخفياء الذين اذا غابوا لم يفتقدوا وان حضروا لم يدعوا ولم يعرفوا قلوبهم مصابيح الهدى يخرجون من كل غبراء مظلمة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کے مانند ہے، جن میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پاؤ گے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، حدثنا زيد بن اسلم، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الناس كابل ماية لا تكاد تجد فيها راحلة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تفرقت اليهود على احدى وسبعين فرقة وتفترق امتي على ثلاث وسبعين فرقة
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود اکہتر ( ۷۱ ) فرقوں میں بٹ گئے جن میں سے ایک جنت میں جائے گا اور ستر ( ۷۰ ) جہنم میں، نصاریٰ کے بہتر فرقے ہوئے جن میں سے اکہتر ( ۷۱ ) جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میری امت تہتر ( ۷۳ ) فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک فرقہ جنت میں جائے گا، اور بہتر ( ۷۲ ) فر قے جہنم میں ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الجماعة»۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا عباد بن يوسف، حدثنا صفوان بن عمرو، عن راشد بن سعد، عن عوف بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افترقت اليهود على احدى وسبعين فرقة فواحدة في الجنة وسبعون في النار وافترقت النصارى على ثنتين وسبعين فرقة فاحدى وسبعون في النار وواحدة في الجنة والذي نفس محمد بيده لتفترقن امتي على ثلاث وسبعين فرقة فواحدة في الجنة وثنتان وسبعون في النار " . قيل يا رسول الله من هم قال " الجماعة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سوائے ایک کے سب جہنمی ہوں گے، اور وہ «الجماعة» ہے، ( وہ جماعت جو میری اور میرے صحابہ کی روش اور طریقے پر ہو ) ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابو عمرو، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بني اسراييل افترقت على احدى وسبعين فرقة وان امتي ستفترق على ثنتين وسبعين فرقة كلها في النار الا واحدة وهي الجماعة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے اگر وہ ہاتھ پھیلانے کے مقدار چلے ہوں گے ۱؎، تو تم بھی وہی مقدار چلو گے، اور اگر وہ ایک ہاتھ چلے ہوں گے تو تم بھی ایک ہاتھ چلو گے، اور اگر وہ ایک بالشت چلے ہوں گے تو تم بھی ایک بالشت چلو گے، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ یہود اور نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب اور کون ہو سکتے ہیں ؟ ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لتتبعن سنة من كان قبلكم باعا بباع وذراعا بذراع وشبرا بشبر حتى لو دخلوا في جحر ضب لدخلتم فيه " . قالوا يا رسول الله اليهود والنصارى قال " فمن اذا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا: اللہ کی قسم، لوگو! مجھے تمہارے متعلق کسی بات کا خوف نہیں، ہاں صرف اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیاوی مال و دولت سے نوازے گا ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا خیر ( مال و دولت ) سے شر پیدا ہوتا ہے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر قدرے سکوت کے بعد فرمایا: تم نے کیسے کہا تھا ؟ میں نے عرض کیا: کیا خیر ( یعنی مال و دولت کی زیادتی ) سے شر پیدا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر سے تو خیر ہی پیدا ہوتا ہے، اور کیا وہ مال خیر ہے؟ ہر وہ سبزہ جسے موسم بہار اگاتا ہے، جانور کا پیٹ پھلا کر بدہضمی سے مار ڈالتا ہے، یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے، مگر اس جانور کو جو گھاس کھائے یہاں تک کہ جب پیٹ پھول کر اس کے دونوں پہلو تن جائیں تو دھوپ میں چل پھر کر، پاخانہ پیشاب کرے، اور جگالی کر کے ہضم کر لے، اور واپس آ کر پھر کھائے، تو اسی طرح جو شخص مال کو جائز طریقے سے حاصل کرے گا، تو اس کے مال میں برکت ہو گی، اور جو اسے ناجائز طور پر حاصل کرے گا، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کھاتا رہے اور آسودہ نہ ہو ۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، انبانا الليث بن سعد، عن سعيد المقبري، عن عياض بن عبد الله، انه سمع ابا سعيد الخدري، يقول قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطب فقال " لا والله ما اخشى عليكم ايها الناس الا ما يخرج الله لكم من زهرة الدنيا " . فقال له رجل يا رسول الله اياتي الخير بالشر فصمت رسول الله صلى الله عليه وسلم ساعة ثم قال " كيف قلت " . قال قلت وهل ياتي الخير بالشر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الخير لا ياتي الا بخير اوخير هو ان كل ما ينبت الربيع يقتل حبطا او يلم الا اكلة الخضر اكلت حتى اذا امتلات خاصرتاها استقبلت الشمس فثلطت وبالت ثم اجترت فعادت فاكلت فمن ياخذ مالا بحقه يبارك له ومن ياخذ مالا بغير حقه فمثله كمثل الذي ياكل ولا يشبع
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم پر فارس اور روم کے خزانے کھول دئیے جائیں گے، تو اس وقت تم کون لوگ ہو گے ( تم کیا کہو گے ) ؟ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم وہی کہیں گے ( اور کریں گے ) جو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہو گے؟ تم مال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش کرو گے، اور ایک دوسرے سے حسد کرو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ موڑو گے، اور ایک دوسرے سے بغض و نفرت رکھو گے یا ایسا ہی کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اس کے بعد مسکین مہاجرین کے پاس جاؤ گے، پھر ان کا بوجھ ان ہی پر رکھو گے ۔
حدثنا عمرو بن سواد المصري، اخبرني عبد الله بن وهب، انبانا عمرو بن الحارث، ان بكر بن سوادة، حدثه ان يزيد بن رباح حدثه عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا فتحت عليكم خزاين فارس والروم اى قوم انتم " . قال عبد الرحمن بن عوف نقول كما امرنا الله . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " او غير ذلك تتنافسون ثم تتحاسدون ثم تتدابرون ثم تتباغضون او نحو ذلك ثم تنطلقون في مساكين المهاجرين فتجعلون بعضهم على رقاب بعض
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنو عامر بن لوی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کا جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کر لی تھی، اور ان پر علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تھا، ابوعبیدہ ( ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ) بحرین سے مال لے کر آئے، اور جب انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو سب نماز فجر میں آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، پھر جب آپ نماز پڑھ کر لوٹے، تو راستے میں یہ لوگ آپ کے سامنے آ گئے، آپ انہیں دیکھ کر مسکرائے، پھر فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ تم لوگوں نے یہ سنا کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ مال لائے ہیں ، انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم لوگ خوش ہو جاؤ، اور امید رکھو اس چیز کی جو تم کو خوش کر دے گی، اللہ کی قسم! میں تم پر فقر اور مفلسی سے نہیں ڈرتا، لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا تم پر اسی طرح کشادہ نہ کر دی جائے جیسے تم سے پہلے کے لوگوں پر کر دی گئی تھی، تو تم بھی اسی طرح سبقت کرنے لگو جیسے ان لوگوں نے کی تھی، پھر تم بھی اسی طرح ہلاک ہو جاؤ جس طرح وہ ہلاک ہو گئے ۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى المصري، اخبرني ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، . ان المسور بن مخرمة، اخبره عن عمرو بن عوف، - وهو حليف بني عامر بن لوى وكان شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث ابا عبيدة بن الجراح الى البحرين ياتي بجزيتها وكان النبي صلى الله عليه وسلم هو صالح اهل البحرين وامر عليهم العلاء بن الحضرمي فقدم ابو عبيدة بمال من البحرين فسمعت الانصار بقدوم ابي عبيدة فوافوا صلاة الفجر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف فتعرضوا له فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين راهم ثم قال " اظنكم سمعتم ان ابا عبيدة قدم بشىء من البحرين " . قالوا اجل يا رسول الله . قال " ابشروا واملوا ما يسركم فوالله ما الفقر اخشى عليكم ولكني اخشى عليكم ان تبسط الدنيا عليكم كما بسطت على من كان قبلكم فتنافسوها كما تنافسوها فتهلككم كما اهلكتهم
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور مضر کوئی فتنہ نہیں پاتا ۱؎۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن سليمان التيمي، ح وحدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان النهدي، عن اسامة بن زيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ادع بعدي فتنة اضر على الرجال من النساء
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر صبح دو فرشتے یہ پکارتے ہیں: مردوں کے لیے عورتوں کی وجہ سے بربادی ہے، اور عورتوں کے لیے مردوں کی وجہ سے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن خارجة بن مصعب، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من صباح الا وملكان يناديان ويل للرجال من النساء وويل للنساء من الرجال
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے، تو اس خطبہ میں یہ بھی فرمایا: دنیا ہری بھری اور میٹھی ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے، تو وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟ سنو! تم دنیا سے بھی بچاؤ کرو، اور عورتوں سے بھی ۱؎۔
حدثنا عمران بن موسى الليثي، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا علي بن زيد بن جدعان، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام خطيبا فكان فيما قال " ان الدنيا خضرة حلوة وان الله مستخلفكم فيها فناظر كيف تعملون الا فاتقوا الدنيا واتقوا النساء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں قبیلہ مزینہ کی ایک عورت مسجد میں بنی ٹھنی اتراتی ہوئی داخل ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی عورتوں کو زیب و زینت کا لباس پہن کر اور ناز و ادا کے ساتھ مسجد میں آنے سے منع کرو، کیونکہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اس وقت آئی تھی جبکہ ان کی عورتوں نے لباس فاخرہ پہننے شروع کئے، اور مسجدوں میں ناز و ادا کے ساتھ داخل ہونے لگیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا عبيد الله بن موسى، عن موسى بن عبيدة، عن داود بن مدرك، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في المسجد اذ دخلت امراة من مزينة ترفل في زينة لها في المسجد فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ايها الناس انهوا نساءكم عن لبس الزينة والتبختر في المسجد فان بني اسراييل لم يلعنوا حتى لبس نساوهم الزينة وتبخترن في المساجد
ابورہم کے عبید نامی غلام کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوا جو خوشبو لگائے مسجد جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ کی بندی! کہاں جا رہی ہو؟ اس نے جواب دیا: مسجد، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے اسی کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو عورت خوشبو لگا کر مسجد جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ غسل کر لے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عاصم، عن مولى ابي رهم، - واسمه عبيد - ان ابا هريرة، لقي امراة متطيبة تريد المسجد فقال يا امة الجبار اين تريدين قالت المسجد قال وله تطيبت قالت نعم . قال فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ايما امراة تطيبت ثم خرجت الى المسجد لم تقبل لها صلاة حتى تغتسل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کی جماعت! تم صدقہ و خیرات کرو، کثرت سے استغفار کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں تم عورتوں کو زیادہ دیکھا ہے ، ان میں سے ایک سمجھ دار عورت نے سوال کیا: اللہ کے رسول ہمارے جہنم میں زیادہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لعنت و ملامت زیادہ کرتی ہو، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، میں نے باوجود اس کے کہ تم ناقص العقل اور ناقص الدین ہو، تم سے زیادہ مرد کی عقل کو مغلوب اور پسپا کر دینے والا کسی کو نہیں دیکھا ، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری عقل کی کمی ( و نقصان ) تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے، اور دین کی کمی یہ ہے کہ تم کئی دن ایسے گزارتی ہو کہ اس میں نہ نماز پڑھ سکتی ہو، اور نہ رمضان کے روزے رکھ سکتی ہو ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن الهاد، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " يا معشر النساء تصدقن واكثرن من الاستغفار فاني رايتكن اكثر اهل النار " . فقالت امراة منهن جزلة وما لنا يا رسول الله اكثر اهل النار قال " تكثرن اللعن وتكفرن العشير ما رايت من ناقصات عقل ودين اغلب لذي لب منكن " . قالت يا رسول الله وما نقصان العقل والدين قال " اما نقصان العقل فشهادة امراتين تعدل شهادة رجل فهذا من نقصان العقل وتمكث الليالي ما تصلي وتفطر في رمضان فهذا من نقصان الدين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، عن هشام بن سعد، عن عمرو بن عثمان، عن عاصم بن عمر بن عثمان، عن عروة، عن عايشة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل ان تدعوا فلا يستجاب لكم
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، اس کے بعد فرمایا: لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو! اپنے آپ کی فکر کرو، اور تمہیں دوسرے شخص کی گمراہی ضرر نہ دے گی، جب تم ہدایت پر ہو ( سورة المائدة: 105 ) ۔ اور بیشک ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عام عذاب نازل کر د ے ۔ ابواسامہ نے دوسری بار کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو اسامة عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، قال قام ابو بكر فحمد الله واثنى عليه ثم قال يا ايها الناس انكم تقرءون هذه الاية {يا ايها الذين امنوا عليكم انفسكم لا يضركم من ضل اذا اهتديتم} وانا سمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الناس اذا راوا المنكر لا يغيرونه اوشك ان يعمهم الله بعقابه " . قال ابو اسامة مرة اخرى فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول