Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ابوعبیدہ (عامر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں جب خرابیاں پیدا ہوئیں، تو ان کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، لیکن دوسرے دن پھر اس کے ساتھ کھاتا پیتا اور مل جل کر رہتا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مردہ کر دیا، اور آپس کی محبت ختم کر دی، اور ان ہی لوگوں کے بارے میں قرآن اترا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم»کی تلاوت کی یہاں تک کہ آپ «ولو كانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولكن كثيرا منهم فاسقون» ( سورۃ المائدہ: ۷۸ -۸۱ ) تک پہنچے۔ ( جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم ( علیہم السلام ) کی زبانی لعنت کی گئی، کیونکہ وہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کرتے تھے، وہ جس برائی کے خود مرتکب ہوتے اس سے لوگوں کو بھی نہیں روکتے تھے، بہت ہی برا کرتے تھے، تو ان میں سے اکثر کو دیکھ رہا ہے کہ وہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں یہ وطیرہ انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا اختیار کیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ان پر سخت ناراض ہے، اور آخرت میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں رہیں گے، اور اگر یہ اللہ پر اور نبی پر اور جو اس کی طرف اترا ہے اس پر ایمان لاتے تو ان کافروں کو دوست نہ بناتے، لیکن بہت سے ان میں فاسق ( بدکار اور بے راہ ) ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا: تم اس وقت تک عذاب سے محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک کہ تم ظالم کو ظلم کرتے دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے انصاف کرنے پر مجبور نہ کر دو ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن علي بن بذيمة، عن ابي عبيدة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بني اسراييل لما وقع فيهم النقص كان الرجل يرى اخاه على الذنب فينهاه عنه فاذا كان الغد لم يمنعه ما راى منه ان يكون اكيله وشريبه وخليطه فضرب الله قلوب بعضهم ببعض ونزل فيهم القران فقال {لعن الذين كفروا من بني اسراييل على لسان داود وعيسى ابن مريم} حتى بلغ {ولو كانوا يومنون بالله والنبي وما انزل اليه ما اتخذوهم اولياء ولكن كثيرا منهم فاسقون } " . قال وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم متكيا فجلس وقال " لا حتى تاخذوا على يدى الظالم فتاطروه على الحق اطرا " . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، - املاه على - حدثنا محمد بن ابي الوضاح، عن علي بن بذيمة، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو جو باتیں کہیں، ان میں یہ بات بھی تھی: آگاہ رہو! کسی شخص کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے، جب وہ حق کو جانتا ہو ، یہ حدیث بیان کر کے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت سی باتیں ( خلاف شرع ) دیکھیں، لیکن ہم ڈر اور ہیبت کا شکار ہو گئے۔
حدثنا عمران بن موسى، انبانا حماد بن زيد، حدثنا علي بن زيد بن جدعان، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام خطيبا فكان فيما قال " الا لا يمنعن رجلا هيبة الناس ان يقول بحق اذا علمه " . قال فبكى ابو سعيد وقال قد والله راينا اشياء فهبنا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر نہ جانے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو کیسے حقیر جانتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کوئی بات ہوتے دیکھے اور اس کے بارے میں اسے اللہ کا حکم معلوم ہو لیکن نہ کہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے فرمائے گا: تجھے فلاں بات کہنے سے کس نے منع کیا تھا؟ وہ جواب دے گا: لوگوں کے خوف نے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے لیے زیادہ درست بات یہ تھی کہ تو مجھ سے ڈرتا ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو معاوية عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن ابي البختري، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحقر احدكم نفسه " . قالوا يا رسول الله كيف يحقر احدنا نفسه قال " يرى امرا لله عليه فيه مقال ثم لا يقول فيه فيقول الله عز وجل له يوم القيامة ما منعك ان تقول في كذا وكذا فيقول خشية الناس . فيقول فاياى كنت احق ان تخشى
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قوم میں گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے، اور ان میں ایسے زور آور لوگ ہوں جو انہیں روک سکتے ہوں لیکن وہ نہ روکیں، تو اللہ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب میں گرفتار کر لیتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عبيد الله بن جرير، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من قوم يعمل فيهم بالمعاصي هم اعز منهم وامنع لا يغيرون الا عمهم الله بعقاب
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سمندر کے مہاجرین ( یعنی مہاجرین حبشہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے وہ عجیب باتیں کیوں نہیں بیان کرتے جو تم نے ملک حبشہ میں دیکھی ہیں؟ ، ان میں سے ایک نوجوان نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! اسی دوران کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، ان راہباؤں میں سے ایک بوڑھی راہبہ ہمارے سامنے سر پر پانی کا مٹکا لیے ہوئے ایک حبشی نوجوان کے قریب سے ہو کر گزری، تو اس حبشی نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ اس بڑھیا کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ کر اس کو دھکا دیا جس کے باعث وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑی، اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا، جب وہ اٹھی تو اس حبشی نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی: غدار! ( دھوکا باز ) عنقریب تجھے پتہ چل جائے گا جب اللہ تعالیٰ کرسی رکھے ہو گا، اور اگلے پچھلے سارے لوگوں کو جمع کرے گا، اور ہاتھ پاؤں ہر اس کام کی گواہی دیں گے جو انہوں نے کیے ہیں، تو کل اس کے پاس تجھے اپنا اور میرا فیصلہ معلوم ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ سنتے جاتے اور فرماتے جاتے: اس بڑھیا نے سچ کہا، اس بڑھیا نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ اس امت کو گناہوں سے کیسے پاک فرمائے گا، جس میں کمزور کا بدلہ طاقتور سے نہ لیا جا سکے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا يحيى بن سليم، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن ابي الزبير، عن جابر، قال لما رجعت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم مهاجرة البحر قال " الا تحدثوني باعاجيب ما رايتم بارض الحبشة " . قال فتية منهم بلى يا رسول الله بينا نحن جلوس مرت بنا عجوز من عجايز رهابينهم تحمل على راسها قلة من ماء فمرت بفتى منهم فجعل احدى يديه بين كتفيها ثم دفعها فخرت على ركبتيها فانكسرت قلتها فلما ارتفعت التفتت اليه فقالت سوف تعلم يا غدر اذا وضع الله الكرسي وجمع الاولين والاخرين وتكلمت الايدي والارجل بما كانوا يكسبون فسوف تعلم كيف امري وامرك عنده غدا . قال يقول رسول الله صلى الله عليه وسلم " صدقت صدقت كيف يقدس الله امة لا يوخذ لضعيفهم من شديدهم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر جہاد، ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی بات کہنی ہے ۔
حدثنا القاسم بن زكريا بن دينار، حدثنا عبد الرحمن بن مصعب، ح وحدثنا محمد بن عبادة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، قالا حدثنا اسراييل، انبانا محمد بن جحادة، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جاير
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمرہ اولیٰ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے جمرہ کی رمی کی تو اس نے پھر آپ سے یہی سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر جب آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، تو سوار ہونے کے لیے آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا اور فرمایا: سوال کرنے والا کہاں ہے ؟، اس نے عرض کیا: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( سب سے بہتر جہاد ) ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی بات کہنی ہے ۔
حدثنا راشد بن سعيد الرملي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي غالب، عن ابي امامة، قال عرض لرسول الله صلى الله عليه وسلم رجل عند الجمرة الاولى فقال يا رسول الله اى الجهاد افضل فسكت عنه فلما راى الجمرة الثانية ساله فسكت عنه فلما رمى جمرة العقبة وضع رجله في الغرز ليركب قال " اين السايل " . قال انا يا رسول الله قال " كلمة حق عند ذي سلطان جاير
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز عید سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ایک شخص نے کہا: مروان! آپ نے سنت کے خلاف کیا، ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالانکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا، پھر آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم میں سے جو شخص کوئی بات خلاف شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے معمولی درجہ ہے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن اسماعيل بن رجاء، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، وعن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن ابي سعيد الخدري، قال اخرج مروان المنبر في يوم عيد فبدا بالخطبة قبل الصلاة فقال رجل يا مروان خالفت السنة اخرجت المنبر في هذا اليوم ولم يكن يخرج وبدات بالخطبة قبل الصلاة ولم يكن يبدا بها . فقال ابو سعيد اما هذا فقد قضى ما عليه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من راى منكم منكرا فاستطاع ان يغيره بيده فليغيره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذلك اضعف الايمان
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے پوچھا کہ اس آیت کریمہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے پوچھا: کون سی آیت؟ میں نے عرض کیا: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو! اپنے آپ کی فکر کرو، جب تم ہدایت یاب ہو گے تو دوسروں کی گمراہی تمہیں ضرر نہیں پہنچائے گی ( سورة المائدة: 105 ) انہوں نے کہا: تم نے ایک جان کار شخص سے اس کے متعلق سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم دو، اور بری باتوں سے روکو یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخیل کی اطاعت کی جاتی ہے، خواہشات کے پیچھے چلا جاتا ہے، اور دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے، ہر صاحب رائے اپنی رائے اور عقل پر نازاں ہے اور تمہیں ایسے کام ہوتے نظر آئیں جنہیں روکنے کی تم میں طاقت نہ ہو تو ایسے وقت میں تم خاص اپنے آپ سے کام رکھو۔ تمہارے پیچھے ایسے دن بھی آئیں گے کہ ان میں صبر کرنا مشکل ہو جائے گا، اور اس وقت دین پر صبر کرنا اتنا مشکل ہو جائے گا جتنا کہ انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا، اس زمانہ میں عمل کرنے والے کو اتنا ثواب ملے گا، جتنا اس جیسا عمل کرنے والے پچاس لوگوں کو ملے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثني عتبة بن ابي حكيم، حدثني عمي، عمرو بن جارية عن ابي امية الشعباني، قال اتيت ابا ثعلبة الخشني قال قلت كيف تصنع في هذه الاية قال اية اية قلت {يا ايها الذين امنوا عليكم انفسكم لا يضركم من ضل اذا اهتديتم} قال سالت عنها خبيرا سالت عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " بل ايتمروا بالمعروف وتناهوا عن المنكر حتى اذا رايت شحا مطاعا وهوى متبعا ودنيا موثرة واعجاب كل ذي راى برايه ورايت امرا لا يدان لك به فعليك خويصة نفسك ودع امر العوام فان من ورايكم ايام الصبر الصبر فيهن مثل قبض على الجمر للعامل فيهن مثل اجر خمسين رجلا يعملون بمثل عمله
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کس وقت ترک کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت جب تم میں وہ باتیں ظاہر ہو جائیں جو گذشتہ امتوں میں ظاہر ہوئی تھیں ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے گذشتہ امتوں میں کون سی باتیں ظاہر ہوئی تھیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکومت تمہارے کم عمروں میں چلی جائے گی، اور تمہارے بڑے آدمیوں میں فحش کاری آ جائے گی، اور علم تمہارے ذلیل لوگوں میں چلا جائے ۔ زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: «والعلم في رذالتكم» کا مطلب یہ ہے کہ علم ( دین ) فاسقوں میں چلا جائے گا۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا زيد بن يحيى بن عبيد الخزاعي، حدثنا الهيثم بن حميد، حدثنا ابو معيد، حفص بن غيلان الرعيني عن مكحول، عن انس بن مالك، قال قيل يا رسول الله متى نترك الامر بالمعروف والنهى عن المنكر قال " اذا ظهر فيكم ما ظهر في الامم قبلكم " . قلنا يا رسول الله وما ظهر في الامم قبلنا قال " الملك في صغاركم والفاحشة في كباركم والعلم في رذالتكم " . قال زيد تفسير معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم " والعلم في رذالتكم " . اذا كان العلم في الفساق
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو رسوا و ذلیل کرے ، لوگوں نے عرض کیا: اپنے آپ کو کیسے رسوا و ذلیل کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی مصیبت کا سامنا کرے گا، جس کی اس میں طاقت نہ ہو گی ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن الحسن، عن جندب، عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينبغي للمومن ان يذل نفسه " . قالوا وكيف يذل نفسه قال " يتعرض من البلاء لما لا يطيقه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا یہاں تک کہ وہ پو چھے گا کہ تم نے جب خلاف شرع کام ہوتے دیکھا تو اسے منع کیوں نہ کیا؟ تو جب اس سے کوئی جواب نہ بن سکے گا تو اللہ تعالیٰ خود اس کو جواب سکھائے گا اور وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیرے رحم کی امید رکھی، اور لوگوں کا خوف کیا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن ابو طوالة، حدثنا نهار العبدي، انه سمع ابا سعيد الخدري، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله ليسال العبد يوم القيامة حتى يقول ما منعك اذ رايت المنكر ان تنكره فاذا لقن الله عبدا حجته قال يا رب رجوتك وفرقت من الناس
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة» تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے ( سورة الهود: 102 ) ، کی تلاوت کی۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يملي للظالم فاذا اخذه لم يفلته " . ثم قرا {وكذلك اخذ ربك اذا اخذ القرى وهي ظالمة}
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ گے، اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تم اس میں مبتلا ہو، ( وہ پانچ باتیں یہ ہیں ) پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں علانیہ فحش ( فسق و فجور اور زناکاری ) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں، دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں، تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کو روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا، چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد و پیمان کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کر دیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے چھین لیتا ہے، پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمراں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے
حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن ابو ايوب، عن ابن ابي مالك، عن ابيه، عن عطاء بن ابي رباح، عن عبد الله بن عمر، قال اقبل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا معشر المهاجرين خمس اذا ابتليتم بهن واعوذ بالله ان تدركوهن لم تظهر الفاحشة في قوم قط حتى يعلنوا بها الا فشا فيهم الطاعون والاوجاع التي لم تكن مضت في اسلافهم الذين مضوا . ولم ينقصوا المكيال والميزان الا اخذوا بالسنين وشدة المونة وجور السلطان عليهم . ولم يمنعوا زكاة اموالهم الا منعوا القطر من السماء ولولا البهايم لم يمطروا ولم ينقضوا عهد الله وعهد رسوله الا سلط الله عليهم عدوا من غيرهم فاخذوا بعض ما في ايديهم . وما لم تحكم ايمتهم بكتاب الله ويتخيروا مما انزل الله الا جعل الله باسهم بينهم
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ شراب پئیں گے، اور اس کا نام کچھ اور رکھیں گے، ان کے سروں پر باجے بجائے جائیں گے، اور گانے والی عورتیں گائیں گی، تو اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا، اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دے گا ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا معن بن عيسى، عن معاوية بن صالح، عن حاتم بن حريث، عن مالك بن ابي مريم، عن عبد الرحمن بن غنم الاشعري، عن ابي مالك الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليشربن ناس من امتي الخمر يسمونها بغير اسمها يعزف على رءوسهم بالمعازف والمغنيات يخسف الله بهم الارض ويجعل منهم القردة والخنازير
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ: «يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون» یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں ( سورة البقرة: 159 ) ، کی تفسیر میں فرمایا: «اللاعنون» سے زمین کے چوپائے مراد ہیں ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عمار بن محمد، عن ليث، عن المنهال، عن زاذان، عن البراء بن عازب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " {يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون } " . قال " دواب الارض
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی ہی عمر کو بڑھاتی ہے، اور تقدیر کو دعا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی، اور کبھی آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے ملنے والے رزق سے محروم ہو جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن عيسى، عن عبد الله بن ابي الجعد، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزيد في العمر الا البر ولا يرد القدر الا الدعاء وان الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔
حدثنا يوسف بن حماد المعني، ويحيى بن درست، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم، عن مصعب بن سعد، عن ابيه، سعد بن ابي وقاص قال قلت يا رسول الله اى الناس اشد بلاء قال " الانبياء ثم الامثل فالامثل يبتلى العبد على حسب دينه فان كان في دينه صلبا اشتد بلاوه وان كان في دينه رقة ابتلي على حسب دينه فما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشي على الارض وما عليه من خطيية
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو بخار آ رہا تھا، میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو آپ کے بخار کی گرمی مجھے اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اوپر سے محسوس ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بہت ہی سخت بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا یہی حال ہے ہم لوگوں پر مصیبت بھی دگنی ( سخت ) آتی ہے، اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن لوگوں پر زیادہ سخت مصیبت آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء پر ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کن پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نیک لوگوں پر، بعض نیک لوگ ایسی تنگ دستی میں مبتلا کر دئیے جاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چوغہ کے سوا جسے وہ اپنے اوپر لپیٹتے رہتے ہیں کچھ نہیں ہوتا، اور بعض آزمائش سے اس قدر خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی مال و دولت ملنے پر خوش ہوتا ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا ابن ابي فديك، حدثني هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يوعك فوضعت يدي عليه فوجدت حره بين يدى فوق اللحاف فقلت يا رسول الله ما اشدها عليك قال " انا كذلك يضعف لنا البلاء ويضعف لنا الاجر " . قلت يا رسول الله اى الناس اشد بلاء قال " الانبياء " . قلت يا رسول الله ثم من قال " ثم الصالحون ان كان احدهم ليبتلى بالفقر حتى ما يجد احدهم الا العباءة يحويها وان كان احدهم ليفرح بالبلاء كما يفرح احدكم بالرخاء
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کرام ( علیہم السلام ) میں سے ایک نبی کی حکایت بیان کر رہے تھے جن کو ان کی قوم نے مارا پیٹا تھا، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے، اور یہ کہتے جاتے تھے: اے میرے رب! میری قوم کی مغفرت فرما، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال كاني انظر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يحكي نبيا من الانبياء ضربه قومه وهو يمسح الدم عن وجهه ويقول رب اغفر لقومي فانهم لا يعلمون