Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے حقدار ہیں ۱؎ جب انہوں نے کہا: اے میرے رب تو مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ( لیکن یہ سوال اس لیے ہے ) کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے، اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، وہ زور آور شخص کی پناہ ڈھونڈھتے تھے، اگر میں اتنے دنوں تک قید میں رہا ہوتا جتنے عرصہ یوسف علیہ السلام رہے، تو جس وقت بلانے والا آیا تھا میں اسی وقت اس کے ساتھ ہو لیتا ۲؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى، ويونس بن عبد الاعلى، قالا حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، وسعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نحن احق بالشك من ابراهيم اذ قال {رب ارني كيف تحيي الموتى قال او لم تومن قال بلى ولكن ليطمين قلبي} ويرحم الله لوطا لقد كان ياوي الى ركن شديد ولو لبثت في السجن طول ما لبث يوسف لاجبت الداعي
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا، اور سر زخمی ہو گیا، تو خون آپ کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو اپنے چہرہ سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا ہو، حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شيء» اے نبی! آپ کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہے ( سورة آل عمران: 128 ) ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا عبد الوهاب، حدثنا حميد، عن انس بن مالك، قال لما كان يوم احد كسرت رباعية رسول الله صلى الله عليه وسلم وشج فجعل الدم يسيل على وجهه وجعل يمسح الدم عن وجهه ويقول " كيف يفلح قوم خضبوا وجه نبيهم بالدم وهو يدعوهم الى الله " . فانزل الله عز وجل {ليس لك من الامر شىء}
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کر دیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں دکھائیے ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی، وہ آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، ( یہ دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یہ نشانی ( معجزہ ) ہی کافی ہے ۔
حدثنا محمد بن طريف، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن انس، قال جاء جبريل عليه السلام ذات يوم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو جالس حزين قد خضب بالدماء قد ضربه بعض اهل مكة فقال ما لك فقال " فعل بي هولاء وفعلوا " . قال اتحب ان اريك اية قال " نعم ارني " . فنظر الى شجرة من وراء الوادي فقال ادع تلك الشجرة . فدعاها فجاءت تمشي حتى قامت بين يديه قال قل لها فلترجع فقال لها فرجعت حتى عادت الى مكانها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حسبي
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتاؤ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر ( اب بھی دشمن کی طرف سے ) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جاؤ ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی نماز بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احصوا لي كل من تلفظ بالاسلام " . قلنا يا رسول الله اتخاف علينا ونحن ما بين الستماية الى السبعماية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انكم لا تدرون لعلكم ان تبتلوا " . قال فابتلينا حتى جعل الرجل منا ما يصلي الا سرا
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات ایک خوشبو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل! یہ کیسی خوشبو ہے ؟، انہوں نے کہا: یہ اس عورت کی قبر کی خوشبو ہے جو فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتی تھی، اور اس کے دونوں بیٹوں اور شوہر کے قبر کی خوشبو ہے، ( جنہیں ایمان لانے کی وجہ سے فرعون نے قتل کر دیا تھا ) اور ان کے قصے کی ابتداء اس طرح ہے کہ خضر بنی اسرائیل کے شریف لوگوں میں تھے، ان کا گزر ایک ( راہب ) درویش کے عبادت خانے سے ہوتا تو وہ عابد راہب اوپر سے ان کو جھانکتا، اور ان کو اسلام کی تعلیم دیتا، آخر کار جب خضر جوان ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کا نکاح کر دیا، خضر نے اس عورت کو اسلام کی تعلیم دی، اور اس سے عہد لے لیا کہ اس بات سے کسی کو باخبر مت کرنا، خضر عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے، آخر انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی، اس کے بعد ان کے والد نے ان کا نکاح دوسری عورت سے کر دیا، خضر نے اس سے بھی نہ بتانے کا عہد لے کر اسے دین کی تعلیم دی، لیکن ان میں سے ایک عورت نے اس راز کو چھپا لیا، اور دوسری نے ظاہر کر دیا ( کہ یہ دین کی تعلیم اسے خضر نے سکھائی ہے، فرعون نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا یہ سنتے ہی ) وہ فرار ہو کر سمندر کے ایک جزیرہ میں چھپ گئے، وہاں دو شخص لکڑیاں چننے کے لیے آئے، اور ان دونوں نے خضر کو دیکھا، ان میں سے بھی ایک نے تو ان کا حال پوشیدہ رکھا، اور دوسرے نے ظاہر کر دیا اور کہا: میں نے خضر کو فلاں جزیرے میں دیکھا ہے، لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ اور کسی شخص نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: فلاں شخص نے بھی دیکھا ہے، جب اس شخص سے سوال کیا گیا تو اس نے چھپایا، اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ جو جھوٹ بولے، اسے قتل کر دیا جائے، الغرض اس شخص نے اس عورت سے نکاح کر لیا، جس نے اپنا دین چھپایا تھا، ( اور خضر کا نام نہیں بتایا تھا ) ، اسی دوران کہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کے سر میں کنگھی کر رہی تھی، اتنے میں اس کے ہاتھ سے کنگھی گر پڑی اور اس کی زبان سے بے اختیار نکل گیا کہ فرعون تباہ و برباد ہو ( اپنی بے دینی کی وجہ سے ) بیٹی نے یہ کلمہ اس کی زبان سے سن کر اسے اپنے باپ کو بتا دیا، اور اس عورت کے دو بیٹے تھے، اور ایک شوہر تھا، فرعون نے ان سبھوں کو بلا بھیجا، اور عورت اور اس کے شوہر کو دین اسلام چھوڑ کر اپنے دین میں آنے کے لیے پھسلایا، ان دونوں نے انکار کیا، تو اس نے کہا: میں تم دونوں کو قتل کر دوں گا، ان دونوں نے جواب دیا: اگر تم ہمیں قتل کرنا چاہتے ہو تو ہم پر اتنا احسان کرنا کہ ہمیں ایک ہی قبر میں دفن کر دینا، چنانچہ فرعون نے ایسا ہی کیا، جب نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم نے اسراء کی رات میں خوشبو محسوس کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہ انہیں لوگوں کی قبر ہے ( جس سے یہ خوشبو آ رہی ہے ) ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا سعيد بن بشير، عن قتادة، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن ابى بن كعب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه ليلة�� اسري به وجد ريحا طيبة فقال " يا جبريل ما هذه الريح الطيبة قال هذه ريح قبر الماشطة وابنيها وزوجها . قال وكان بدء ذلك ان الخضر كان من اشراف بني اسراييل وكان ممره براهب في صومعته فيطلع عليه الراهب فيعلمه الاسلام فلما بلغ الخضر زوجه ابوه امراة فعلمها الخضر واخذ عليها ان لا تعلمه احدا وكان لا يقرب النساء فطلقها ثم زوجه ابوه اخرى فعلمها واخذ عليها ان لا تعلمه احدا فكتمت احداهما وافشت عليه الاخرى فانطلق هاربا حتى اتى جزيرة في البحر فاقبل رجلان يحتطبان فراياه فكتم احدهما وافشى الاخر وقال قد رايت الخضر . فقيل ومن راه معك قال فلان فسيل فكتم وكان في دينهم ان من كذب قتل قال فتزوج المراة الكاتمة فبينما هي تمشط ابنة فرعون اذ سقط المشط فقالت تعس فرعون . فاخبرت اباها وكان للمراة ابنان وزوج فارسل اليهم فراود المراة وزوجها ان يرجعا عن دينهما فابيا فقال اني قاتلكما . فقالا احسانا منك الينا ان قتلتنا ان تجعلنا في بيت ففعل فلما اسري بالنبي صلى الله عليه وسلم وجد ريحا طيبة فسال جبريل فاخبره
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی بڑی مصیبت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا ثواب ہوتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے، پھر جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے، اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعد بن سنان، عن انس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " عظم الجزاء مع عظم البلاء وان الله اذا احب قوما ابتلاهم فمن رضي فله الرضا ومن سخط فله السخط
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا عبد الواحد بن صالح، حدثنا اسحاق بن يوسف، عن الاعمش، عن يحيى بن وثاب، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن الذي يخالط الناس ويصبر على اذاهم اعظم اجرا من المومن الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على اذاهم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا ذائقہ پائے گا، ( بندار کی روایت میں ہے کہ وہ ایمان کی حلاوت ( مٹھاس ) پائے گا ) ایک وہ شخص جو کسی سے صرف اللہ کے لیے محبت کرتا ہو، دوسرے وہ جسے اللہ اور اس کا رسول دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں، تیسرے وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے کفر سے نجات دی، اس کے بعد اسے آگ میں ڈالا جانا تو پسند ہو، لیکن کفر کی طرف پلٹ جانا پسند نہ ہو ۔
حدثنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، يحدث عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث من كن فيه وجد طعم الايمان - وقال بندار حلاوة الايمان - من كان يحب المرء لا يحبه الا لله . ومن كان الله ورسوله احب اليه مما سواهما . ومن كان ان يلقى في النار احب اليه من ان يرجع في الكفر بعد اذ انقذه الله منه
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو وصیت کی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاؤ، اور جلا دئیے جاؤ، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اٹھ گئی، اور تم شراب مت پینا، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے ۔
حدثنا الحسين بن الحسن المروزي، حدثنا ابن ابي عدي، ح وحدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، قالا حدثنا راشد ابو محمد الحماني، عن شهر بن حوشب، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال اوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم ان " لا تشرك بالله شييا وان قطعت وحرقت ولا تترك صلاة مكتوبة متعمدا فمن تركها متعمدا فقد بريت منه الذمة ولا تشرب الخمر فانها مفتاح كل شر
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا میں فتنوں اور مصیبتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہا ۔
حدثنا غياث بن جعفر الرحبي، انبانا الوليد بن مسلم، سمعت ابن جابر، يقول قال سمعت ابا عبد ربه، يقول سمعت معاوية، يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لم يبق من الدنيا الا بلاء وفتنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں «رويبضة» بات کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: «رويبضة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا عبد الملك بن قدامة الجمحي، عن اسحاق بن ابي الفرات، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سياتي على الناس سنوات خداعات يصدق فيها الكاذب ويكذب فيها الصادق ويوتمن فيها الخاين ويخون فيها الامين وينطق فيها الرويبضة قيل وما الرويبضة قال الرجل التافه في امر العامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک آدمی قبر پر جا کر نہ لوٹے، اور یہ تمنا نہ کرے کہ کاش! اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا، اس کا سبب دین و ایمان نہیں ہو گا، بلکہ وہ دنیا کی بلا اور فتنے کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا ۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، حدثنا محمد بن فضيل، عن ابي اسماعيل الاسلمي، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يمر الرجل على القبر فيتمرغ عليه ويقول يا ليتني كنت مكان صاحب هذا القبر وليس به الدين الا البلاء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے چن لیے جاؤ گے جیسے عمدہ کھجوریں ردی کھجوروں میں سے چنی جاتی ہیں، تمہارے نیک لوگ گزر جائیں گے، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم بھی مر جانا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا طلحة بن يحيى، عن يونس، عن الزهري، عن ابي حميد، - يعني مولى مسافع - عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لتنتقون كما ينتقى التمر من اغفاله فليذهبن خياركم وليبقين شراركم فموتوا ان استطعتم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن بہ دن معاملہ سخت ہوتا چلا جائے گا، اور دنیا تباہی کی طرف بڑھتی جائے گی، اور لوگ بخیل ہوتے جائیں گے، اور قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہو گی، اور مہدی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، حدثنا محمد بن ادريس الشافعي، حدثني محمد بن خالد الجندي، عن ابان بن صالح، عن الحسن، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يزداد الامر الا شدة ولا الدنيا الا ادبارا ولا الناس الا شحا ولا تقوم الساعة الا على شرار الناس ولا المهدي الا عيسى ابن مريم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں ، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، وابو هشام الرفاعي محمد بن يزيد قالا حدثنا ابو بكر بن عياش، حدثنا ابو حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بعثت انا والساعة كهاتين " . وجمع بين اصبعيه
حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، ہم لوگ آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں گی قیامت قائم نہ ہو گی، جن میں سے دجال، دھواں اور سورج کا پچھم سے نکلنا بھی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن فرات القزاز، عن ابي الطفيل، عن حذيفة بن اسيد، قال اطلع علينا النبي صلى الله عليه وسلم من غرفة ونحن نتذاكر الساعة فقال " لا تقوم الساعة حتى تكون عشر ايات الدجال والدخان وطلوع الشمس من مغربها
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ غزوہ تبوک میں چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں خیمے کے صحن میں بیٹھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عوف! اندر آ جاؤ ، میں نے عرض کیا: پورے طور سے، اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پورے طور سے ، پھر آپ نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی، انہیں یاد رکھنا، ان میں سے ایک میری موت ہے ، میں یہ سن کر بہت رنجیدہ ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو ایک، دوسری بیت المقدس کی فتح ہے، تیسری ایک بیماری ہے جو تم میں ظاہر ہو گی اس کے ذریعہ اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو شہید کر دے گا، اور اس کے ذریعہ تمہارے اعمال کو پاک کرے گا، چوتھی تم میں مال کی کثرت ہو گی حتیٰ کہ آدمی کو سو دینار ملیں گے تو وہ اس سے بھی راضی نہ ہو گا، پانچویں تمہارے درمیان ایک فتنہ برپا ہو گا جس سے کوئی گھر باقی نہ رہے گا جس میں وہ نہ پہنچا ہو، چھٹی تمہارے اور اہل روم کے درمیان ایک صلح ہو گی، لیکن پھر وہ لوگ تم سے دغا کریں گے، اور تمہارے مقابلہ کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الله بن العلاء، حدثني بسر بن عبيد الله، حدثني ابو ادريس الخولاني، حدثني عوف بن مالك الاشجعي، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في غزوة تبوك وهو في خباء من ادم فجلست بفناء الخباء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادخل يا عوف " . فقلت بكلي يا رسول الله قال " بكلك " . ثم قال " يا عوف احفظ خلالا ستا بين يدى الساعة احداهن موتي " . قال فوجمت عندها وجمة شديدة . فقال " قل احدى ثم فتح بيت المقدس ثم داء يظهر فيكم يستشهد الله به ذراريكم وانفسكم ويزكي به اموالكم ثم تكون الاموال فيكم حتى يعطى الرجل ماية دينار فيظل ساخطا وفتنة تكون بينكم لا يبقى بيت مسلم الا دخلته ثم تكون بينكم وبين بني الاصفر هدنة فيغدرون بكم فيسيرون اليكم في ثمانين غاية تحت كل غاية اثنا عشر الفا
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ تم اپنے امام کو قتل کرو گے، اور اپنی تلواریں لے کر باہم لڑو گے، اور تمہارے بدترین لوگ تمہاری دنیا کے مالک بن جائیں گے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد العزيز الدراوردي، حدثنا عمرو، - مولى المطلب - عن عبد الله بن عبد الرحمن الانصاري، عن حذيفة بن اليمان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى تقتلوا امامكم وتجتلدوا باسيافكم ويرث دنياكم شراركم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز لوگوں کے پاس باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتاتا ہوں، جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے، تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن لوگ لوگوں کے سردار بن جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بکریاں چرانے والے عالی شان عمارتوں پر فخر کرنے لگ جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں ہے، اور قیامت کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام» اللہ ہی کو معلوم ہے کہ قیامت کب ہو گی، وہی بارش نازل کرتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ( سورة لقما ن: 34 ) ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ابي حيان، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما بارزا للناس فاتاه رجل فقال يا رسول الله متى الساعة فقال " ما المسيول عنها باعلم من السايل ولكن ساخبرك عن اشراطها اذا ولدت الامة ربتها فذاك من اشراطها واذا كانت الحفاة العراة رءوس الناس فذاك من اشراطها واذا تطاول رعاء الغنم في البنيان فذاك من اشراطها في خمس لا يعلمهن الا الله " . فتلا رسول الله صلى الله عليه وسلم {ان الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الارحام} الاية
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تم سے وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اور میرے بعد تم سے وہ حدیث کوئی بیان کرنے والا نہیں ہو گا، میں نے اسے آپ ہی سے سنا ہے کہ قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، زنا عام ہو جائے گا، شراب پی جانے لگے گی، مرد کم ہو جائیں گے، عورتیں زیادہ ہوں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا «قيم» ( سر پرست و کفیل ) ایک مرد ہو گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، سمعت قتادة، يحدث عن انس بن مالك، قال الا احدثكم حديثا سمعته من، رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحدثكم به احد بعدي سمعته منه " ان من اشراط الساعة ان يرفع العلم ويظهر الجهل ويفشو الزنا ويشرب الخمر ويذهب الرجال ويبقى النساء حتى يكون لخمسين امراة قيم واحد