Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى يحسر الفرات عن جبل من ذهب فيقتتل الناس عليه فيقتل من كل عشرة تسعة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک مال کی خوب فراوانی نہ ہو جائے، اور فتنہ عام نہ ہو جائے «هرج» کثرت سے ہونے لگے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «هرج» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: قتل، قتل، قتل ۔
حدثنا ابو مروان العثماني، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى يفيض المال وتظهر الفتن ويكثر الهرج " . قالوا وما الهرج يا رسول الله قال " القتل القتل القتل " . ثلاثا
زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ اس وقت ہو گا جب علم اٹھ جائے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علم کیسے اٹھ جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے اور اپنی اولاد کو پڑھاتے ہیں اور ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی اسی طرح قیامت تک سلسلہ چلتا رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیاد! تمہاری ماں تم پر روئے، میں تو تمہیں مدینہ کا سب سے سمجھدار آدمی سمجھتا تھا، کیا یہ یہود و نصاریٰ تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ لیکن ان میں سے کسی بات پر بھی یہ لوگ عمل نہیں کرتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن زياد بن لبيد، قال ذكر النبي صلى الله عليه وسلم شييا فقال " ذاك عند اوان ذهاب العلم " . قلت يا رسول الله وكيف يذهب العلم ونحن نقرا القران ونقريه ابناءنا ويقريه ابناونا ابناءهم الى يوم القيامة قال " ثكلتك امك زياد ان كنت لاراك من افقه رجل بالمدينة اوليس هذه اليهود والنصارى يقرءون التوراة والانجيل لا يعملون بشىء مما فيهما
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام ایسا ہی پرانا ہو جائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار پرانے ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ یہ جاننے والے بھی باقی نہ رہیں گے کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے؟ اور کتاب اللہ ایک رات میں ایسی غائب ہو جائے گی کہ اس کی ایک آیت بھی باقی نہ رہ جائے گی ۱؎، اور لوگوں کے چند گروہ ان میں سے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں باقی رہ جائیں گے، کہیں گے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یہ کلمہ «لا إله إلا الله» کہتے ہوئے پایا، تو ہم بھی اسے کہا کرتے ہیں ۲؎۔ صلہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جب انہیں یہ نہیں معلوم ہو گا کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ و زکاۃ کیا چیز ہے تو انہیں فقط یہ کلمہ «لا إله إلا الله» کیا فائدہ پہنچائے گا؟ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے تین بار یہ بات ان پر دہرائی لیکن وہ ہر بار ان سے منہ پھیر لیتے، پھر تیسری مرتبہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے صلہ! یہ کلمہ ان کو جہنم سے نجات دے گا، اس طرح تین بار کہا ۳؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن ابي مالك الاشجعي، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة بن اليمان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يدرس الاسلام كما يدرس وشى الثوب حتى لا يدرى ما صيام ولا صلاة ولا نسك ولا صدقة وليسرى على كتاب الله عز وجل في ليلة فلا يبقى في الارض منه اية وتبقى طوايف من الناس الشيخ الكبير والعجوز يقولون ادركنا اباءنا على هذه الكلمة لا اله الا الله فنحن نقولها " . فقال له صلة ما تغني عنهم لا اله الا الله وهم لا يدرون ما صلاة ولا صيام ولا نسك ولا صدقة فاعرض عنه حذيفة ثم ردها عليه ثلاثا كل ذلك يعرض عنه حذيفة ثم اقبل عليه في الثالثة فقال يا صلة تنجيهم من النار . ثلاثا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب کچھ دن ایسے ہوں گے جن میں علم اٹھ جائے گا، جہالت بڑھ جائے گی، اور «هرج» زیادہ ہو گا ، «هرج»: قتل کو کہتے ہیں
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي ووكيع، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يكون بين يدى الساعة ايام يرفع فيها العلم وينزل فيها الجهل ويكثر فيها الهرج " . والهرج القتل
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں جہالت چھا جائے گی، علم اٹھ جائے گا، اور«هرج» زیادہ ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «هرج» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من ورايكم اياما ينزل فيها الجهل ويرفع فيها العلم ويكثر فيها الهرج " . قالوا يا رسول الله وما الهرج قال " القتل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ ایک دوسرے سے قریب ہو جائے گا، ۱؎ علم گھٹ جائے گا، ( لوگوں کے دلوں میں ) بخیلی ڈال دی جائے گی، فتنے ظاہر ہوں گے، اور «هرج» زیادہ ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «هرج» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، يرفعه قال " يتقارب الزمان وينقص العلم ويلقى الشح وتظهر الفتن ويكثر الهرج " . قالوا يا رسول الله وما الهرج قال " القتل
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی ۱؎ اور دوسری کا منتظر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ بیان فرمایا: امانت آدمیوں کے دلوں کی جڑ میں اتری ( پیدا ہوئی ) ، ( طنافسی نے کہا: یعنی آدمیوں کے دلوں کے بیچ میں اتری ) اور قرآن کریم نازل ہوا، تو ہم نے قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کی ۲؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق ہم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی رات کو سوئے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھا لی جائے گی، ( اور جب وہ صبح کو اٹھے گا تو ) امانت کا اثر ایک نقطے کی طرح دل میں رہ جائے گا، پھر جب دوسری بار سوئے گا تو امانت اس کے دل سے چھین لی جائے گی، تو اس کا اثر ( اس کے دل میں ) کھال موٹا ۲؎ ہونے کی طرح رہ جائے گا، جیسے تم انگارے کو پاؤں پر لڑھکا دو تو کھال پھول کر آبلے کی طرح دکھائی دے گی، حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا ، پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں اپنی پنڈلی پر لڑھکا لیا، اور فرمانے لگے: پھر لوگ صبح کو ایک دوسرے سے خرید و فروخت کریں گے، لیکن ان میں سے کوئی بھی امانت دار نہ ہو گا، یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں فلاں امانت دار شخص ہے، اور یہاں تک آدمی کو کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند، کتنا توانا اور کتنا ذہین و چالاک ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا، اور مجھ پر ایک زمانہ ایسا گزرا کہ مجھے پروا نہ تھی کہ میں تم میں سے کس سے معاملہ کروں، یعنی مجھے کسی کی ضمانت کی حاجت نہ تھی، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے مجھ پر زیادتی کرنے سے روکتا، اور اگر وہ یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا گماشتہ بھی انصاف سے کام لیتا ( یعنی ان کے عامل اور عہدہ دار بھی ایماندار اور منصف ہوتے ) اور اب آج کے دن مجھے کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ میں اس سے معاملہ کروں سوائے فلاں فلاں کے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، عن حذيفة، قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثين قد رايت احدهما وانا انتظر الاخر حدثنا " ان الامانة نزلت في جذر قلوب الرجال " . - قال الطنافسي يعني وسط قلوب الرجال - ونزل القران فعلمنا من القران وعلمنا من السنة . ثم حدثنا عن رفعهما فقال " ينام الرجل النومة فترفع الامانة من قلبه فيظل اثرها كاثر الوكت ثم ينام النومة فتنزع الامانة من قلبه فيظل اثرها كاثر المجل كجمر دحرجته على رجلك فنفط فتراه منتبرا وليس فيه شىء " . ثم اخذ حذيفة كفا من حصى فدحرجه على ساقه . قال " فيصبح الناس يتبايعون ولا يكاد احد يودي الامانة حتى يقال ان في بني فلان رجلا امينا . وحتى يقال للرجل ما اعقله واجلده واظرفه . وما في قلبه حبة خردل من ايمان " . ولقد اتى على زمان ولست ابالي ايكم بايعت لين كان مسلما ليردنه على اسلامه ولين كان يهوديا او نصرانيا ليردنه على ساعيه فاما اليوم فما كنت لابايع الا فلانا وفلانا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے شرم و حیاء کو نکال لیتا ہے، پھر جب حیاء اٹھ جاتی ہے تو اللہ کے قہر میں گرفتار ہو جاتا ہے، اور اس حالت میں اس کے دل سے امانت بھی چھین لی جاتی ہے، اور جب اس کے دل سے امانت چھین لی جاتی ہے تو وہ چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے، اور جب چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے تو اس کے دل سے رحمت چھین لی جاتی ہے، اور جب اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے تو تم اسے ملعون و مردود پاؤ گے، اور جب تم ملعون و مردود دیکھو تو سمجھ لو کہ اسلام کا قلادہ اس کی گردن سے نکل چکا ہے ۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا محمد بن حرب، عن سعيد بن سنان، عن ابي الزاهرية، عن ابي شجرة، كثير بن مرة عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله عز وجل اذا اراد ان يهلك عبدا نزع منه الحياء فاذا نزع منه الحياء لم تلقه الا مقيتا ممقتا فاذا لم تلقه الا مقيتا ممقتا نزعت منه الامانة فاذا نزعت منه الامانة لم تلقه الا خاينا مخونا فاذا لم تلقه الا خاينا مخونا نزعت منه الرحمة فاذا نزعت منه الرحمة لم تلقه الا رجيما ملعنا فاذا لم تلقه الا رجيما ملعنا نزعت منه ربقة الاسلام
حذیفہ بن اسید ابو سریحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) اپنے کمرے سے جھانکا، اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوں: سورج کا پچھم سے نکلنا، دجال، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، تین بار زمین کا «خسف» ( دھنسنا ) : ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں، ایک آگ عدن کے، ایک گاؤں «أبین» کے کنویں سے ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی جانب ہانک کر لے جائے گی، جہاں یہ لوگ رات گزاریں گے تو وہیں وہ آگ ان کے ساتھ رات گزارے گی، اور جب یہ قیلولہ کریں گے تو وہ آگ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن فرات القزاز، عن عامر بن واثلة ابي الطفيل الكناني، عن حذيفة بن اسيد ابي سريحة، قال اطلع رسول الله صلى الله عليه وسلم من غرفة ونحن نتذاكر الساعة فقال " لا تقوم الساعة حتى تكون عشر ايات طلوع الشمس من مغربها والدجال والدخان والدابة وياجوج وماجوج وخروج عيسى ابن مريم عليه السلام وثلاث خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب ونار تخرج من قعر عدن ابين تسوق الناس الى المحشر تبيت معهم اذا باتوا وتقيل معهم اذا قالوا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ چیزوں کے ظاہر ہونے سے پہلے تم نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابۃ الارض ( چوپایا ) ، دجال، ہر شخص کی خاص آفت ( یعنی موت ) ، عام آفت ( جیسے وبا وغیرہ ) ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، وابن، لهيعة عن يزيد بن ابي حبيب، عن سنان بن سعد، عن انس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بادروا بالاعمال ستا طلوع الشمس من مغربها والدخان ودابة الارض والدجال وخويصة احدكم وامر العامة
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کی ) نشانیاں دو سو سال کے بعد ظاہر ہوں گی ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عون بن عمارة، حدثنا عبد الله بن المثنى بن ثمامة بن عبد الله بن انس، عن ابيه، عن جده، عن انس بن مالك، عن ابي قتادة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الايات بعد المايتين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت پا نچ طبقات پر مشتمل ہو گی: چالیس سال نیکو کاروں اور متقیوں کے ہوں گے، پھر ان کے بعد ایک سو سال تک صلہ رحمی کرنے والے اور رشتے ناطے کا خیال رکھنے والے ہوں گے، پھر ان کے بعد ایک سو ساٹھ سال تک وہ لوگ ہوں گے جو رشتہ ناطہٰ توڑیں گے، اور ایک دوسرے کی طرف سے منہ موڑیں گے، پھر اس کے بعد قتل ہی قتل ہو گا، لہٰذا تم ایسے زمانے سے نجات مانگو، نجات مانگو ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا نوح بن قيس، حدثنا عبد الله بن معقل، عن يزيد الرقاشي، عن انس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " امتي على خمس طبقات فاربعون سنة اهل بر وتقوى ثم الذين يلونهم الى عشرين وماية سنة اهل تراحم وتواصل ثم الذين يلونهم الى ستين وماية سنة اهل تدابر وتقاطع ثم الهرج الهرج النجا النجا " . حدثنا نصر بن علي، حدثنا خازم ابو محمد العنزي، حدثنا المسور بن الحسن، عن ابي معن، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امتي على خمس طبقات كل طبقة اربعون عاما فاما طبقتي وطبقة اصحابي فاهل علم وايمان واما الطبقة الثانية ما بين الاربعين الى الثمانين فاهل بر وتقوى " . ثم ذكر نحوه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے مسخ، ( صورتوں کی تبدیلی ہونا ) زمین کا دھنسنا، اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہو گی ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا ابو احمد، حدثنا بشير بن سلمان، عن سيار، عن طارق، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بين يدى الساعة مسخ وخسف وقذف
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے اخیر میں زمین کا دھنسنا، صورتوں کا مسخ ہونا، اور آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا ۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابي حازم بن دينار، عن سهل بن سعد، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " يكون في اخر امتي خسف ومسخ وقذف
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے، انہوں نے کہا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ اس نے دین میں بدعت نکالی ہے، اگر اس نے ایسا کیا ہو تو اسے میرا سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں ( یا اس امت میں ) مسخ ( صورتوں کی تبدیلی ) ، اور زمین کا دھنسنا آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا ، اور یہ قدریہ میں ہو گا جو تقدیر کے منکر ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا ابو عاصم، حدثنا حيوة بن شريح، حدثنا ابو صخر، عن نافع، ان رجلا، اتى ابن عمر فقال ان فلانا يقرا عليك السلام قال انه بلغني انه قد احدث فان كان قد احدث فلا تقريه مني السلام فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يكون في امتي - او في هذه الامة - مسخ وخسف وقذف " . وذلك في اهل القدر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں زمین کا دھنسنا، صورتوں کا مسخ ہونا، اور آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، ومحمد بن فضيل، عن الحسن بن عمرو، عن ابي الزبير، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يكون في امتي خسف ومسخ وقذف
عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایک لشکر اس بیت اللہ کا قصد کرے گا تاکہ اہل مکہ سے لڑائی کرے، لیکن جب وہ لشکر مقام بیداء میں پہنچے گا تو اس کے درمیانی حصہ کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اور دھنستے وقت جو لوگ آگے ہوں گے وہ پیچھے والوں کو آواز دیں گے لیکن آواز دیتے دیتے سب دھنس جائیں گے، ایک قاصد کے علاوہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا جو لوگوں کو جا کر خبر دے گا ۔ ( عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) جب حجاج ( حجاج بن یوسف ثقفی ) کا لشکر آیا ( اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے مکہ کی طرف بڑھا ) تو ہم سمجھے شاید وہ یہی لشکر ہو گا، ایک شخص نے ( یہ سن کر ) کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا، اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن امية بن صفوان بن عبد الله بن صفوان، سمع جده عبد الله بن صفوان، يقول اخبرتني حفصة، انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ليومن هذا البيت جيش يغزونه حتى اذا كانوا ببيداء من الارض خسف باوسطهم ويتنادى اولهم اخرهم فيخسف بهم فلا يبقى منهم الا الشريد الذي يخبر عنهم " . فلما جاء جيش الحجاج ظننا انهم هم فقال رجل اشهد عليك انك لم تكذب على حفصة و ان حفصة لم تكذب على النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اللہ کے اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہ آئیں گے حتیٰ کہ ایک لشکر لڑنے کے لیے آئے گا، جب وہ لوگ مقام بیداء یا بیداء کی سر زمین میں پہنچیں گے، تو اول سے لے کر اخیر تک تمام زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے، اور ان کے درمیان والے بھی نہیں بچیں گے ۔ میں نے عرض کیا: اگر ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جسے زبردستی اس لشکر میں شامل کیا گیا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں اپنی اپنی نیت کے موافق اٹھائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن ابي ادريس المرهبي، عن مسلم بن صفوان، عن صفية، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينتهي الناس عن غزو هذا البيت حتى يغزو جيش حتى اذا كانوا بالبيداء - او بيداء من الارض - خسف باولهم واخرهم ولم ينج اوسطهم " . قلت فان كان فيهم من يكره قال " يبعثهم الله على ما في انفسهم
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کا ذکر فرمایا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! شاید ان میں کوئی ایسا بھی ہو جسے زبردستی لایا گیا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، ونصر بن علي، وهارون بن عبد الله الحمال، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن سوقة، سمع نافع بن جبير، يخبر عن ام سلمة، قالت ذكر النبي صلى الله عليه وسلم الجيش الذي يخسف بهم فقالت ام سلمة يا رسول الله لعل فيهم المكره قال " انهم يبعثون على نياتهم