احادیث
#3957
سنن ابن ماجہ - Trials and Tribulations
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا جو عنقریب آنے والا ہے؟ جس میں لوگ چھانے جائیں گے ( اچھے لوگ سب مر جائیں گے ) اور خراب لوگ باقی رہ جائیں گے ( جیسے چھلنی میں آٹا چھاننے سے بھوسی باقی رہ جاتی ہے ) ، ان کے عہد و پیمان اور امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا، اور لوگ آپس میں الجھ کر اور اختلاف کر کے اس طرح ہو جائیں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھائیں، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تمہیں معروف ( اچھی ) معلوم ہو اسے اپنا لینا، اور جو منکر ( بری ) معلوم ہو اسے چھوڑ دینا، اور تم اپنے خصوصی معاملات و مسائل کی فکر کرنا، اور عام لوگوں کے مائل کی فکر چھوڑ دینا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، حدثني ابي، عن عمارة بن حزم، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كيف بكم وبزمان يوشك ان ياتي يغربل الناس فيه غربلة وتبقى حثالة من الناس قد مرجت عهودهم واماناتهم فاختلفوا وكانوا هكذا " . وشبك بين اصابعه قالوا كيف بنا يا رسول الله اذا كان ذلك قال " تاخذون بما تعرفون وتدعون ما تنكرون وتقبلون على خاصتكم وتذرون امر عوامكم
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Trials and Tribulations
- Hadith Index
- #3957
- Book Index
- 32
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
