احادیث
#4079
سنن ابن ماجہ - Trials and Tribulations
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے، پھر وہ باہر آئیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:«وهم من كل حدب ينسلون» یہ لوگ ہر اونچی زمین سے دوڑتے آئیں گے ( سورة الأنبياء: 96 ) پھر ساری زمین میں پھیل جائیں گے، اور مسلمان ان سے علاحدہ رہیں گے، یہاں تک کہ جو مسلمان باقی رہیں گے وہ اپنے شہروں اور قلعوں میں اپنے مویشیوں کو لے کر پناہ گزیں ہو جائیں گے، یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج نہر سے گزریں گے، اس کا سارا پانی پی کر ختم کر دیں گے، اس میں کچھ بھی نہ چھوڑیں گے، جب ان کے پیچھے آنے والوں کا وہاں پر گزر ہو گا تو ان میں کا کوئی یہ کہے گا کہ کسی زمانہ میں یہاں پانی تھا، اور وہ زمین پر غالب آ جائیں گے، تو ان میں سے کوئی یہ کہے گا: ان اہل زمین سے تو ہم فارغ ہو گئے، اب ہم آسمان والوں سے لڑیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک اپنا نیزہ آسمان کی طرف پھینکے گا، وہ خون میں رنگا ہوا لوٹ کر گرے گا، پس وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو بھی قتل کر دیا، خیر یہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ چند جانور بھیجے گا، جو ٹڈی کے کیڑوں کی طرح ہوں گے، جو ان کی گردنوں میں گھس جائیں گے، یہ سب کے سب ٹڈیوں کی طرح مر جائیں گے، ان میں سے ایک پر ایک پڑا ہو گا، اور جب مسلمان اس دن صبح کو اٹھیں گے، اور ان کی آہٹ نہیں سنیں گے تو کہیں گے: کوئی ایسا ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کے انہیں دیکھ کر آئے کہ یاجوج ماجوج کیا ہوئے؟ چنانچہ مسلمانوں میں سے ایک شخص ( قلعہ سے ) ان کا حال جاننے کے لیے نیچے اترے گا، اور دل میں خیال کرے گا کہ وہ مجھ کو ضرور مار ڈالیں گے، خیر وہ انہیں مردہ پائے گا، تو مسلمانوں کو پکار کر کہے گا: سنو! خوش ہو جاؤ! تمہارا دشمن ہلاک ہو گیا، یہ سن کر لوگ نکلیں گے اور اپنے جانور چرنے کے لیے آزاد چھوڑیں گے، اور ان کے گوشت کے سوا کوئی چیز انہیں کھانے کے لیے نہ ملے گی، اس وجہ سے ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہوں گے، جس طرح کبھی گھاس کھا کر موٹے ہوئے تھے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، حدثني عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تفتح ياجوج وماجوج فيخرجون كما قال الله تعالى {وهم من كل حدب ينسلون} فيعمون الارض وينحاز منهم المسلمون حتى تصير بقية المسلمين في مداينهم وحصونهم ويضمون اليهم مواشيهم حتى انهم ليمرون بالنهر فيشربونه حتى ما يذرون فيه شييا فيمر اخرهم على اثرهم فيقول قايلهم لقد كان بهذا المكان مرة ماء ويظهرون على الارض فيقول قايلهم هولاء اهل الارض قد فرغنا منهم ولننازلن اهل السماء حتى ان احدهم ليهز حربته الى السماء فترجع مخضبة بالدم فيقولون قد قتلنا اهل السماء . فبينما هم كذلك اذ بعث الله دواب كنغف الجراد فتاخذ باعناقهم فيموتون موت الجراد يركب بعضهم بعضا فيصبح المسلمون لا يسمعون لهم حسا فيقولون من رجل يشري نفسه وينظر ما فعلوا فينزل منهم رجل قد وطن نفسه على ان يقتلوه فيجدهم موتى فيناديهم الا ابشروا فقد هلك عدوكم . فيخرج الناس ويخلون سبيل مواشيهم فما يكون لهم رعى الا لحومهم فتشكر عليها كاحسن ما شكرت من نبات اصابته قط
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Trials and Tribulations
- Hadith Index
- #4079
- Book Index
- 154
Grades
- Al-AlbaniHasan Sahih
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiHasan Sahih
- Shuaib Al ArnautHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
