Loading...

Loading...
کتب
۳۸ احادیث
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک بکری کو پتھر سے ذبح کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن لكعب بن مالك، عن ابيه، ان امراة، ذبحت شاة بحجر فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فلم ير به باسا
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ سرکش ہو گیا، ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں کچھ وحشی ہوتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگلی جانوروں کی طرح تو جو ان میں سے تمہارے قابو میں نہ آ سکے، اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عمر بن عبيد، عن سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة، عن جده، رافع بن خديج قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فند بعير فرماه رجل بسهم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان لها اوابد - احسبه قال - كاوابد الوحش فما غلبكم منها فاصنعوا به هكذا
ابوالعشراء کے والد کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا صرف حلق اور کوڑی کے بیچ ہی میں ( ذبح ) کرنا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی ران میں کونچ دو تو بھی کافی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن حماد بن سلمة، عن ابي العشراء، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله ما تكون الذكاة الا في الحلق واللبة قال " لو طعنت في فخذها لاجزاك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے جانوروں کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعبد الله بن سعيد، قالا حدثنا عقبة بن خالد، عن موسى بن محمد بن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يمثل بالبهايم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر نشانہ لگانے سے منع فرمایا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن هشام بن زيد بن انس بن مالك، عن انس بن مالك، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صبر البهايم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی چیز کو جس میں روح ( جان ) ہو اسے ( مشق کے لیے تیروں وغیرہ کا ) نشانہ نہ بناؤ ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا سفيان، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تتخذوا شييا فيه الروح غرضا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر تیر مارنے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، انبانا ابن جريج، حدثنا ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقتل شىء من الدواب صبرا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جلالہ» ( گندگی اور نجاست کھانے والے جانور ) کے گوشت اور اس کے دودھ سے منع فرمایا۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا ابن ابي زايدة، عن محمد بن اسحاق، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لحوم الجلالة والبانها
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا، اور اس کا گوشت کھایا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت نحرنا فرسا فاكلنا من لحمه على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے زمانہ میں گھوڑے اور نیل گائے۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا ابو عاصم، حدثنا ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول اكلنا زمن خيبر الخيل وحمر الوحش
ابواسحاق شیبانی (سلیمان بن فیروز) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم خیبر کے دن بھوک سے دوچار ہوئے، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو شہر کے باہر سے کچھ گدھے ملے تو ہم نے انہیں ذبح کیا، ہماری ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: لوگو! ہانڈیاں الٹ دو، اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ ، تو ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔ ابواسحاق ( سلیمانی بن فیروز الشیبانی الکوفی ) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھا واقعی حرام قرار دے دیا ہے؟ تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بالکل ہی حرام قرار دے دیا ہے کیونکہ وہ گندگی کھاتا ہے ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن ابي اسحاق الشيباني، قال سالت عبد الله بن ابي اوفى عن لحوم الحمر الاهلية، فقال اصابتنا مجاعة يوم خيبر ونحن مع النبي صلى الله عليه وسلم وقد اصاب القوم حمرا خارجا من المدينة فنحرناها وان قدورنا لتغلي اذ نادى منادي النبي صلى الله عليه وسلم ان اكفيوا القدور ولا تطعموا من لحوم الحمر شييا . فاكفاناها . فقلت لعبد الله بن ابي اوفى حرمها تحريما قال تحدثنا انما حرمها رسول الله صلى الله عليه وسلم البتة من اجل انها تاكل العذرة
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، حتیٰ کہ انہوں نے ( ان حرام چیزوں میں ) پالتو گدھے کا بھی ذکر کیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، عن معاوية بن صالح، حدثني الحسن بن جابر، عن المقدام بن معديكرب الكندي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حرم اشياء حتى ذكر الحمر الانسية
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پالتو گدھے کا گوشت پھینک دینے کا حکم دیا، خواہ وہ کچا ہو یا پکا ہوا ہو، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم ہمیں نہیں دیا۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن عاصم، عن الشعبي، عن البراء بن عازب، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نلقي لحوم الحمر الاهلية نيية ونضيجة ثم لم يامرنا به بعد
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی لڑی، پھر شام ہو گئی اور لوگوں نے آگ جلائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا پکا رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا: پالتو گدھے کا گوشت ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ہانڈی میں ہے اسے بہا دو، اور ہانڈیاں توڑ دو تو لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ایسا نہ کریں کہ جو ہانڈی میں ہے اسے بہا دیں اور ہانڈی کو دھل ( دھو ) ڈالیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہی کر لو ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، قال غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة خيبر فامسى الناس قد اوقدوا النيران فقال النبي صلى الله عليه وسلم " علام توقدون " . قالوا على لحوم الحمر الانسية فقال " اهريقوا ما فيها واكسروها " . فقال رجل من القوم او نهريق ما فيها ونغسلها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " او ذاك
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن ايوب، عن ابن سيرين، عن انس بن مالك، ان منادي النبي، صلى الله عليه وسلم نادى ان الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الاهلية فانها رجس
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے، میں نے کہا: اور خچروں کا؟ کہا: نہیں۔
حدثنا عمرو بن عبد الله، حدثنا وكيع، عن سفيان، ح وحدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا الثوري، ومعمر، جميعا عن عبد الكريم الجزري، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال كنا ناكل لحوم الخيل . قلت فالبغال قال لا
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ ے، خچر اور گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا بقية، حدثني ثور بن يزيد، عن صالح بن يحيى بن المقدام بن معديكرب، عن ابيه، عن جده، عن خالد بن الوليد، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لحوم الخيل والبغال والحمير
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین ( ماں کے پیٹ کے بچے ) کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اگر چاہو تو کھاؤ، کیونکہ اس کی ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی ذبح ہو جاتا ہے ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے کوسج اسحاق بن منصور کو لوگوں کے قول «الذكاة لا يقضى بها مذمة» کے سلسلے میں کہتے سنا: «مذمۃ» ذال کے کسرے سے ہو تو «ذمام» سے مشتق ہے اور ذال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو«ذمّ» سے مشتق ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن المبارك، وابو خالد الاحمر وعبدة بن سليمان عن مجالد، عن ابي الوداك، عن ابي سعيد، قال سالنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الجنين فقال " كلوه ان شيتم فان ذكاة الجنين ذكاة امه " . قال ابو عبد الله سمعت الكوسج اسحق بن منصور يقول في قولهم في الذكاة لا يقضى بها مذمة قال مذمة بكسر الذال من الذمام وبفتح الذال من الذم