Loading...

Loading...
کتب
۳۸ احادیث
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن ابيه، عن سباع بن ثابت، عن ام كرز، قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " عن الغلام، شاتان مكافيتان وعن الجارية، شاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ہم لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کریں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، انبانا عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن يوسف بن ماهك، عن حفصة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، قالت امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نعق عن الغلام شاتين وعن الجارية شاة
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کا عقیقہ ہے تو تم اس کی طرف سے خون بہاؤ، اور اس سے گندگی کو دور کرو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا هشام بن حسان، عن حفصة بنت سيرين، عن سلمان بن عامر، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان مع الغلام عقيقة فاهريقوا عنه دما واميطوا عنه الاذى
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور نام رکھا جائے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا شعيب بن اسحاق، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل غلام مرتهن بعقيقته تذبح عنه يوم السابع ويحلق راسه ويسمى
یزید بن عبدالمزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے، اور اس کے سر میں عقیقہ کے جانور کا خون نہ لگایا جائے ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني عمرو بن الحارث، عن ايوب بن موسى، انه حدثه ان يزيد بن عبد المزني حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يعق عن الغلام ولا يمس راسه بدم
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور کہا: اللہ کے رسول! ہم زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں «عتیرہ» کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مہینے میں چاہو اللہ کے لیے قربانی کرو، اللہ تعالیٰ کے لیے نیک عمل کرو، اور ( غریبوں کو ) کھانا کھلاؤ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں «فرع» کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر «سائمہ» ( چرنے والے جانور ) میں «فرع» ہے جس کو تمہارا جانور جنے یہاں تک کہ جب وہ بوجھ لادنے کے لائق ( یعنی جوان ) ہو جائے تو اسے ذبح کرو، اور اس کا گوشت ( میرا خیال ہے انہوں نے کہا ) مسافروں پر صدقہ کر دے تو یہ بہتر ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا يزيد بن زريع، عن خالد الحذاء، عن ابي المليح، عن نبيشة، قال نادى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله انا كنا نعتر عتيرة في الجاهلية في رجب فما تامرنا قال " اذبحوا لله عز وجل في اى شهر ما كان وبروا الله واطعموا " . قالوا يا رسول الله انا كنا نفرع فرعا في الجاهلية فما تامرنا قال " في كل سايمة فرع تغذوه ماشيتك حتى اذا استحمل ذبحته فتصدقت بلحمه - اراه قال - على ابن السبيل فان ذلك هو خير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ «فرعہ» ہے اور نہ «عتیرہ» ( یعنی واجب اور ضروری نہیں ہے ) ، ہشام کہتے ہیں:«فرعہ»: جانور کے پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں، ۱؎ اور «عتیرہ: وہ بکری ہے جسے گھر والے رجب میں ذبح کرتے ہیں ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا فرعة ولا عتيرة " . قال هشام في حديثه والفرعة اول النتاج . والعتيرة الشاة يذبحها اهل البيت في رجب
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ «فرعہ» ( واجب ) ہے اور نہ «عتیرہ» ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ابی عمر عدنی کے تفردات میں سے ہے۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان بن عيينة، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا فرعة ولا عتيرة " . قال ابن ماجه هذا من فرايد العدني
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل نے ہر چیز میں احسان ( رحم اور انصاف ) کو فرض قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو ( تاکہ مخلوق کو تکلیف نہ ہو ) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث، عن شداد بن اوس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله عز وجل كتب الاحسان على كل شىء فاذا قتلتم فاحسنوا القتلة واذا ذبحتم فاحسنوا الذبح وليحد احدكم شفرته وليرح ذبيحته
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو ایک بکری کا کان پکڑے اسے گھسیٹ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کان چھوڑ دو، اور اس کی گردن کی طرف پکڑ لو ( تاکہ اسے تکلیف نہ ہو ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عقبة بن خالد، عن موسى بن محمد بن ابراهيم التيمي، اخبرني ابي، عن ابي سعيد الخدري، قال مر النبي صلى الله عليه وسلم برجل وهو يجر شاة باذنها فقال " دع اذنها وخذ بسالفتها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری کو تیز کرنے، اور اسے جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی ذبح کرے تو اچھی طرح ذبح کرے تاکہ اس کی جان جلد نکل جائے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحمن ابن اخي، حسين الجعفي حدثنا مروان بن محمد، حدثنا ابن لهيعة، حدثني قرة بن حيوييل، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه عبد الله بن عمر، قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بحد الشفار وان توارى عن البهايم وقال " اذا ذبح احدكم فليجهز " . حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا ابو الاسود، حدثنا ابن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ آیت کریمہ: «إن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» ( سورة الأنعام: 121 ) کی تفسیر میں کہتے ہیں: ان کی وحی یہ تھی کہ جس ( ذبیحہ ) پر اللہ کا نام لیا جائے اس کو مت کھاؤ، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے کھاؤ، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ ۱؎۔
حدثنا عمرو بن عبد الله، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، {ان الشياطين ليوحون الى اوليايهم} قال كانوا يقولون ما ذكر عليه اسم الله فلا تاكلوا وما لم يذكر اسم الله عليه فكلوه . فقال الله عز وجل {ولا تاكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه}
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت ( بیچنے کے لیے ) لاتے ہیں، اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ کہہ کر کھاؤ اور وہ لوگ ( ابھی ) نو مسلم تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة ام المومنين، ان قوما، قالوا يا رسول الله ان قوما ياتونا بلحم لا ندري ذكر اسم الله عليه ام لا قال " سموا انتم وكلوا " . وكانوا حديث عهد بالكفر
محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک تیز دھار والے پتھر سے دو خرگوش ذبح کئے، پھر انہیں لے کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے کھانے کی اجازت دی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن عاصم، عن الشعبي، عن محمد بن صيفي، قال ذبحت ارنبين بمروة فاتيت بهما النبي صلى الله عليه وسلم فامرني باكلهما
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بھیڑئیے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دیئے، تو لوگوں نے اس بکری کو پتھر سے ذبح کر ڈالا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا غندر، حدثنا شعبة، سمعت حاضر بن مهاجر، يحدث عن سليمان بن يسار، عن زيد بن ثابت، ان ذيبا، نيب في شاة فذبحوها بمروة فرخص لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم في اكلها
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم شکار کرتے ہیں اور ہمیں ذبح کرنے کے لیے تیز پتھر اور دھار دار لکڑی کے سوا کچھ نہیں ملتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز سے چاہو خون بہاؤ، اور اس پر اللہ کا نام لے لو ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن سماك بن حرب، عن مري بن قطري، عن عدي بن حاتم، قال قلت يا رسول الله انا نصيد الصيد فلا نجد سكينا الا الظرار وشقة العصا . قال " امرر الدم بما شيت واذكر اسم الله عليه
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ غزوات میں ہوتے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خون بہا دے اور جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے، کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عمر بن عبيد الطنافسي، عن سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة، عن جده، رافع بن خديج قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فقلت يا رسول الله انا نكون في المغازي فلا يكون معنا مدى فقال " ما انهر الدم وذكر اسم الله عليه فكل غير السن والظفر فان السن عظم والظفر مدى الحبشة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الگ ہو جاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو ، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا مروان بن معاوية، حدثنا هلال بن ميمون الجهني، عن عطاء بن يزيد الليثي، - قال عطاء لا اعلمه الا عن ابي سعيد الخدري - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بغلام يسلخ شاة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " تنح حتى اريك " . فادخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يده بين الجلد واللحم فدحس بها حتى توارت الى الابط وقال " يا غلام هكذا فاسلخ " . ثم مضى وصلى للناس ولم يتوضا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی ضیافت کے لیے جانور ذبح کرنے کے واسطے چھری سنبھالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: دودھ والی سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خلف بن خليفة، ح وحدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، انبانا مروان بن معاوية، جميعا عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى رجلا من الانصار فاخذ الشفرة ليذبح لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اياك والحلوب
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم دونوں ہمیں واقفی کے پاس لے چلو، تو ہم لوگ چاندنی رات میں چلے یہاں تک کہ باغ میں پہنچے تو اس نے ہمیں مرحبا و خوش آمدید کہا، پھر چھری سنبھالی اور بکریوں میں گھوما آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ والی یا فرمایا: تھن والی بکری سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الرحمن المحاربي، عن يحيى بن عبيد الله، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال حدثني ابو بكر بن ابي قحافة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له ولعمر " انطلقوا بنا الى الواقفي " . قال فانطلقنا في القمر حتى اتينا الحايط فقال مرحبا واهلا . ثم اخذ الشفرة ثم جال في الغنم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اياك والحلوب " . او قال " ذات الدر