Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مال غنیمت سے ہبہ اور عطیہ کا سلسلہ ختم ہو گیا، اب طاقتور مسلمان کمزور مسلمانوں کو مال لوٹائیں گے ۱؎۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع لڑائی میں ملنے والے کو مال غنیمت کا چوتھائی حصہ بطور ہبہ اور عطیہ دیا، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیا ۲؎۔ تو عمرو بن شعیب نے سلیمان بن موسیٰ سے کہا کہ میں تمہیں اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا ( عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما ) سے روایت کر رہا ہوں اور تم مجھ سے مکحول کے حوالے سے بیان کر رہے ہو؟
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو الحسين، انبانا رجاء بن ابي سلمة، حدثنا عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال لا نفل بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم يرد المسلمون قويهم على ضعيفهم . قال رجاء فسمعت سليمان بن موسى، يقول له حدثني مكحول، عن حبيب بن مسلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نفل في البداة الربع وحين قفل الثلث . فقال عمرو احدثك عن ابي عن جدي وتحدثني عن مكحول
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر میں گھوڑ سوار کے لیے تین حصے متعین فرمائے، دو حصے گھوڑے کے، اور ایک حصہ آدمی کا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم اسهم يوم خيبر للفارس ثلاثة اسهم للفرس سهمان وللرجل سهم
محمد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے آبی اللحم ( وکیع کہتے ہیں کہ وہ گوشت نہیں کھاتے تھے ) کے غلام عمیر رضی اللہ عنہما سے سنا: وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے مالک کے ہمراہ خیبر کے دن جہاد کیا، چونکہ میں غلام تھا لہٰذا مجھے مال غنیمت میں حصہ نہیں ملا، صرف ردی چیزوں میں سے ایک تلوار ملی، جب اسے میں لٹکا کر چلتا تو ( وہ اتنی لمبی تھی ) کہ وہ گھسٹتی رہتی تھی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا هشام بن سعد، عن محمد بن زيد بن مهاجر بن قنفذ، قال سمعت عميرا، مولى ابي اللحم - قال وكيع كان لا ياكل اللحم - قال غزوت مع مولاى يوم خيبر وانا مملوك فلم يقسم لي من الغنيمة واعطيت من خرثي المتاع سيفا فكنت اجره اذا تقلدته
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی تھی، مردوں کی غیر موجودگی میں ان کے ڈیروں میں رہتی، ان کے لیے کھانا بناتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن هشام، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية الانصارية، قالت غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع غزوات اخلفهم في رحالهم واصنع لهم الطعام واداوي الجرحى واقوم على المرضى
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستے میں بھیجا تو فرمایا: اللہ کے نام پر، اللہ کے راستے میں جاؤ، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑو، لیکن مثلہ نہ کرنا، ( ناک کان مت کاٹنا ) عہد شکنی نہ کرنا، مال غنیمت میں چوری نہ کرنا، اور بچے کو قتل نہ کرنا ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا ابو اسامة، حدثني عطية بن الحارث ابو روق الهمداني، حدثني ابو الغريف، عبيد الله بن خليفة عن صفوان بن عسال، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فقال " سيروا باسم الله وفي سبيل الله قاتلوا من كفر بالله ولا تمثلوا ولا تغدروا ولا تغلوا ولا تقتلوا وليدا
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی فوجی دستے پر کسی شخص کو امیر متعین فرماتے تو اسے ذاتی طور پر اللہ سے ڈرتے رہنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتے، اور فرماتے: اللہ کے راستے میں اللہ کا نام لے کر لڑنا، جو اللہ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑنا، اور بدعہدی نہ کرنا، ( مال غنیمت میں ) خیانت نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا، اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا، جب مشرکوں میں سے اپنے دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو انہیں تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دینا، ان میں سے جس بات پر وہ راضی ہو جائیں اسے قبول کرنا، اور ان سے جنگ سے رک جانا ( سب سے پہلے ) انہیں اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ قبول کر لیں تو ان کا اسلام قبول کرنا، اور ان کے قتل سے باز رہنا، پھر انہیں گھربار چھوڑ کر مہاجرین کے ساتھ رہنے کی دعوت دینا، اور انہیں بتانا کہ اگر وہ ایسا گریں گے تو انہیں مہاجرین جیسے حقوق حاصل ہوں گے، اور جرم و سزا کا جو قانون مہاجرین کے لیے ہے وہی ان کے لیے بھی ہو گا، اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو انہیں بتانا کہ ان کا حکم اعرابی ( دیہاتی ) مسلمانوں جیسا ہو گا، اللہ تعالیٰ کے جو احکام مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں ان پر بھی جاری ہوں گے، لیکن مال غنیمت میں اور اس مال میں جو کافروں سے جنگ کے بغیر ہاتھ آ جائے، ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا، مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کریں، تو ان سے جزیہ دینے کا مطالبہ کرنا، اگر وہ جزیہ دیں تو ان سے قبول کرنا، اور ان سے اپنا ہاتھ روک لینا، اور اگر وہ انکار کریں تو ( کامیابی کے لیے ) اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا، اور ان سے جنگ کرنا، اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کر لو اور قلعہ والے تم سے اللہ اور نبی کا عہد کرانا چاہیں تو اللہ اور نبی کا عہد مت دینا، بلکہ اپنا، اپنے باپ کا، اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دینا، کیونکہ تم اپنا اور اپنے باپ کا ذمہ اللہ اور رسول کے ذمہ کے مقابلے میں آسانی سے توڑ سکتے ہو، اگر تم نے کسی قلعے کا محاصرہ کر لیا، اور وہ اللہ کے حکم پر اترنا چاہیں تو انہیں اللہ کے حکم پہ مت اتارنا، بلکہ اپنے حکم پہ اتارنا کیونکہ تمہیں کیا معلوم کہ ان کے بارے میں تم اللہ کے حکم پر چل رہے ہو یا نہیں ۱؎۔ علقمہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے بیان کی، انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم بن ہیضم نے بیان کی، مسلم نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف الفريابي، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا امر رجلا على سرية اوصاه في خاصة نفسه بتقوى الله ومن معه من المسلمين خيرا فقال " اغزوا باسم الله وفي سبيل الله قاتلوا من كفر بالله اغزوا ولا تغدروا ولا تغلوا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا واذا انت لقيت عدوك من المشركين فادعهم الى احدى ثلاث خلال او خصال فايتهن اجابوك اليها فاقبل منهم وكف عنهم ادعهم الى الاسلام فان اجابوك فاقبل منهم وكف عنهم ثم ادعهم الى التحول من دارهم الى دار المهاجرين واخبرهم ان هم فعلوا ذلك ان لهم ما للمهاجرين وان عليهم ما على المهاجرين وان ابوا فاخبرهم انهم يكونون كاعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المومنين ولا يكون لهم في الفىء والغنيمة شىء الا ان يجاهدوا مع المسلمين فان هم ابوا ان يدخلوا في الاسلام فسلهم اعطاء الجزية فان فعلوا فاقبل منهم وكف عنهم فان هم ابوا فاستعن بالله عليهم وقاتلهم وان حاصرت حصنا فارادوك ان تجعل لهم ذمة الله وذمة نبيك فلا تجعل لهم ذمة الله ولا ذمة نبيك ولكن اجعل لهم ذمتك وذمة ابيك وذمة اصحابك فانكم ان تخفروا ذمتكم وذمة ابايكم اهون عليكم من ان تخفروا ذمة الله وذمة رسوله وان حاصرت حصنا فارادوك ان ينزلوا على حكم الله فلا تنزلهم على حكم الله ولكن انزلهم على حكمك فانك لا تدري اتصيب فيهم حكم الله ام لا " . قال علقمة فحدثت به، مقاتل بن حيان فقال حدثني مسلم بن هيصم، عن النعمان بن مقرن، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری بات مانی اس نے اللہ کی بات مانی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، ( اسی طرح ) جس نے امام کی بات مانی اس نے میری بات مانی، اور جس نے امام کی نافرمانی کی اس نے میری نا فرمانی کی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اطاعني فقد اطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله ومن اطاع الامام فقد اطاعني ومن عصى الامام فقد عصاني
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو، گرچہ تم پر حبشی غلام ہی امیر ( حاکم ) کیوں نہ بنا دیا جائے، جس کا سر منقی ( کشمش ) کی طرح ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، وابو بشر بكر بن خلف قالا حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا شعبة، حدثني ابو التياح، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسمعوا واطيعوا وان استعمل عليكم عبد حبشي كان راسه زبيبة
ام الحصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم پر کوئی نک کٹا حبشی غلام امیر ( حاکم ) بنا دیا جائے تو بھی اس کی بات سنو اور مانو، جب تک کہ وہ اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق تمہاری سربراہی کرتا رہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، عن شعبة، عن يحيى بن الحصين، عن جدته ام الحصين، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان امر عليكم عبد حبشي مجدع فاسمعوا له واطيعوا ما قادكم بكتاب الله
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے، اس سے کہا گیا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل ( جگری دوست ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي عمران الجوني، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، انه انتهى الى الربذة وقد اقيمت الصلاة فاذا عبد يومهم فقيل هذا ابو ذر . فذهب يتاخر فقال ابو ذر اوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم ان اسمع واطيع وان كان عبدا حبشيا مجدع الاطراف
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن مجزر رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا، میں بھی اس لشکر میں تھا، جب وہ لشکر کے آخری پڑاؤ پر پہنچے یا درمیان راستے ہی میں تھے تو لشکر کی ایک جماعت نے ( آگے جانے کی ) اجازت مانگی، علقمہ رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی، اور عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کر دیا، میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کے ساتھ غزوہ کیا، ابھی وہ راستہ ہی میں تھے کہ ان لوگوں نے تاپنے یا کچھ پکانے کے لیے آگ جلائی، تو عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ ( جن کے مزاج میں خوش طبعی پائی جاتی تھی ) نے کہا: کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں؟ کہا: میں کسی کام کے کرنے کا تمہیں حکم دوں تو تم حکم بجا لاؤ گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، کہا: میں لازمی حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں چھلانگ لگا دو، کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کودنے کے لیے کمر کس لی، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ گمان ہوا کہ واقعی یہ تو کود ہی جائیں گے، تو بولے: ٹھہرو، میں تم سے یونہی مذاق کر رہا تھا ۱؎۔ جب ہم لوگ واپس مدینہ آئے، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا ماجرا سنایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکام میں جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات نہ ما نو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا محمد بن عمرو، عن عمر بن الحكم بن ثوبان، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث علقمة بن مجزز على بعث وانا فيهم فلما انتهى الى راس غزاته او كان ببعض الطريق استاذنته طايفة من الجيش فاذن لهم وامر عليهم عبد الله بن حذافة بن قيس السهمي فكنت فيمن غزا معه فلما كان ببعض الطريق اوقد القوم نارا ليصطلوا او ليصنعوا عليها صنيعا فقال عبد الله - وكانت فيه دعابة - اليس لي عليكم السمع والطاعة قالوا بلى . قال فما انا بامركم بشىء الا صنعتموه قالوا نعم . قال فاني اعزم عليكم الا تواثبتم في هذه النار . فقام ناس فتحجزوا فلما ظن انهم واثبون قال امسكوا على انفسكم فانما كنت امزح معكم . فلما قدمنا ذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من امركم منهم بمعصية الله فلا تطيعوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی پر ( امیر اور حاکم کی ) بات ماننا لازم ہے، چاہے وہ اسے پسند ہو یا ناپسند، ہاں اگر اللہ اور رسول کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اس کو سننا ماننا نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ح وحدثنا محمد بن الصباح، وسويد بن سعيد، قالا حدثنا عبد الله بن رجاء المكي، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " على المرء المسلم الطاعة فيما احب او كره الا ان يومر بمعصية فمن امر بمعصية فلا سمع ولا طاعة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ زمانہ قریب ہے کہ میرے بعد تمہارے معاملات کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آئے گی جو سنت کو مٹائیں گے، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے، اور نماز کی وقت پر ادائیگی میں تاخیر کریں گے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو کیا کروں؟ فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا کروں؟ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی بات نہیں مانی جائے گی ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا يحيى بن سليم، ح وحدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، قالا حدثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن ابيه، عن جده عبد الله بن مسعود، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " سيلي اموركم بعدي رجال يطفيون السنة ويعملون بالبدعة ويوخرون الصلاة عن مواقيتها " فقلت يا رسول الله ان ادركتهم كيف افعل قال " تسالني يا ابن ام عبد كيف تفعل لا طاعة لمن عصى الله
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی اور فراخی، خوشی و ناخوشی، اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کی حالت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، نیز اس بات پر بیعت کی کہ حکمرانوں سے نہ جھگڑیں، اور جہاں بھی ہوں حق بات کہیں، اور اللہ کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن محمد بن اسحاق، ويحيى بن سعيد، وعبيد الله بن عمر، وابن، عجلان عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت، عن ابيه، عن عبادة بن الصامت، قال بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة في العسر واليسر والمنشط والمكره والاثرة علينا وان لا ننازع الامر اهله وان نقول الحق حيثما كنا لا نخاف في الله لومة لايم
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے ؟ ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے ( بیعت کرنے کے بعد ) ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت تو کر چکے لیکن یہ کس بات پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرو، حکم سنو اور مانو ، پھر ایک بات چپکے سے فرمائی: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو ، راوی کا بیان ہے کہ ( اس بات کا ان لوگوں پر اتنا اثر ہوا کہ ) میں نے ان میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا بھی گر جاتا تو کسی سے یہ نہ کہتا کہ کوڑا اٹھا کر مجھے دو ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا سعيد بن عبد العزيز التنوخي، عن ربيعة بن يزيد، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي مسلم، قال حدثني الحبيب الامين، - اما هو الى فحبيب واما هو عندي فامين - عوف بن مالك الاشجعي قال كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم سبعة او ثمانية او تسعة فقال " الا تبايعون رسول الله " . فبسطنا ايدينا فقال قايل يا رسول الله انا قد بايعناك فعلام نبايعك فقال " ان تعبدوا الله ولا تشركوا به شييا وتقيموا الصلوات الخمس وتسمعوا وتطيعوا - واسر كلمة خفية - ولا تسالوا الناس شييا " . قال فلقد رايت بعض اوليك النفر يسقط سوطه فلا يسال احدا يناوله اياه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، تو آپ نے فرمایا: جہاں تک تم سے ہو سکے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا شعبة، عن عتاب، - مولى هرمز - قال سمعت انس بن مالك، يقول بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة فقال " فيما استطعتم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے غلام ہونے کا معلوم ہی نہ ہوا، چنانچہ اس کا مالک جب اسے لینے کے مقصد سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ غلام مجھے بیچ دو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد کسی سے بھی یہ معلوم کئے بغیر بیعت نہیں کرتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے؟۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر، قال جاء عبد فبايع النبي صلى الله عليه وسلم على الهجرة ولم يشعر النبي صلى الله عليه وسلم انه عبد فجاء سيده يريده فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بعنيه " . فاشتراه بعبدين اسودين ثم لم يبايع احدا بعد ذلك حتى يساله اعبد هو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس کے پاس چٹیل میدان میں فالتو پانی ہو اور مسافر کو پانی لینے سے منع کرے، دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی کے ہاتھ سامان بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ چیز اتنے اتنے میں لی ہے، پھر خریدار نے اس کی بات کا یقین کر لیا، حالانکہ اس نے غلط بیانی سے کام لیا تھا، تیسرا وہ آدمی جس نے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کی، اور مقصد محض دنیاوی فائدہ تھا، چنانچہ اگر اس نے اسے کچھ دیا تو بیعت کو پورا کیا، اور اگر نہیں دیا تو پورا نہیں کیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، واحمد بن سنان، قالوا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا يكلمهم الله ولا ينظر اليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم رجل على فضل ماء بالفلاة يمنعه من ابن السبيل ورجل بايع رجلا بسلعة بعد العصر فحلف بالله لاخذها بكذا وكذا فصدقه وهو على غير ذلك ورجل بايع اماما لا يبايعه الا لدنيا فان اعطاه منها وفى له وان لم يعطه منها لم يف له
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی حکومت ان کے انبیاء چلایا کرتے تھے، ایک نبی چلا جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا، لیکن میرے بعد تم میں کوئی نبی ہونے والا نہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلیفہ ہوں گے اور بہت ہوں گے ، لوگوں نے کہا: پھر کیسے کریں گے؟ فرمایا: پہلے کی بیعت پوری کرو، پھر اس کے بعد والے کی، اور اپنا حق ادا کرو، اللہ تعالیٰ ان سے ان کے حق کے بارے میں سوال کرے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن حسن بن فرات، عن ابيه، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بني اسراييل كانت تسوسهم انبياوهم كلما ذهب نبي خلفه نبي وانه ليس كاين بعدي نبي فيكم " . قالوا فما يكون يا رسول الله قال " تكون خلفاء فيكثروا " . قالوا فكيف نصنع قال " اوفوا ببيعة الاول فالاول ادوا الذي عليكم فسيسالهم الله عز وجل عن الذي عليهم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دغا بازی ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ينصب لكل غادر لواء يوم القيامة فيقال هذه غدرة فلان