Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلے، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو، ( تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ ( لشکر ) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کر سکوں، نہ لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں، اور نہ ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں، اور وہ نہ جا سکیں، پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعد الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه الا جهاد في سبيلي وايمان بي وتصديق برسلي فهو على ضامن ان ادخله الجنة او ارجعه الى مسكنه الذي خرج منه نايلا ما نال من اجر او غنيمة " . ثم قال " والذي نفسي بيده لولا ان اشق على المسلمين ما قعدت خلاف سرية تخرج في سبيل الله ابدا ولكن لا اجد سعة فاحملهم ولا يجدون سعة فيتبعوني ولا تطيب انفسهم فيتخلفون بعدي والذي نفس محمد بيده لوددت ان اغزو في سبيل الله فاقتل ثم اغزو فاقتل ثم اغزو فاقتل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے ( گھر ) واپس کرے، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو كريب قالا حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن فراس، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المجاهد في سبيل الله مضمون على الله اما ان يكفته الى مغفرته ورحمته واما ان يرجعه باجر وغنيمة ومثل المجاهد في سبيل الله كمثل الصايم القايم الذي لا يفتر حتى يرجع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ( کا وقت گزارنا ) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعبد الله بن سعيد، قالا حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غدوة او روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ( کا وقت گزارنا ) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا زكريا بن منظور، حدثنا ابو حازم، عن سهل بن سعد الساعدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غدوة او روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ( کا وقت گزارنا ) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا حميد، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لغدوة او روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اللہ کی راہ کے کسی مجاہد کو ساز و سامان سے لیس کر دے یہاں تک کہ اسے مزید کسی چیز کی ضرورت نہ رہ جائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا مجاہد کو، یہاں تک کہ وہ مر جائے یا اپنے گھر لوٹ آئے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا ليث بن سعد، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن الوليد بن ابي الوليد، عن عثمان بن عبد الله بن سراقة، عن عمر بن الخطاب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من جهز غازيا في سبيل الله حتى يستقل كان له مثل اجره حتى يموت او يرجع
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مجاہد فی سبیل اللہ کو ساز و سامان سے لیس کر دے، اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس مجاہد کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن زيد بن خالد الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جهز غازيا في سبيل الله كان له مثل اجره من غير ان ينقص من اجر الغازي شييا
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین دینار جسے آدمی خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اپنے جہاد فی سبیل اللہ کے گھوڑے پر خرچ کرتا ہے، نیز وہ دینار ہے جسے وہ اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ۔
حدثنا عمران بن موسى الليثي، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل دينار ينفقه الرجل دينار ينفقه على عياله ودينار ينفقه على فرس في سبيل الله ودينار ينفقه الرجل على اصحابه في سبيل الله
علی بن ابی طالب، ابوالدردا ء، ابوہریرہ، ابوامامہ باہلی، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمرو بن العاص، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فی سبیل اللہ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ بھیجے، اور اپنے گھر بیٹھا رہے تو اس کے لیے ہر درہم کے بدلے سات سو درہم ہیں، اور جو شخص فی سبیل اللہ ( اللہ کے راستے میں ) بذات خود جہاد کرنے نکلے، اور خرچ کرے، تو اسے ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «والله يضاعف لمن يشاء» اور اللہ تعالیٰ جیسے چاہے دو گنا کر دے ( سورۃ البقرہ: ۲۶۱ ) ۔
حدثنا هارون بن عبد الله الحمال، حدثنا ابن ابي فديك، عن الخليل بن عبد الله، عن الحسن، عن علي بن ابي طالب، وابي الدرداء، وابي، هريرة وابي امامة الباهلي وعبد الله بن عمر وعبد الله بن عمرو وجابر بن عبد الله وعمران بن الحصين كلهم يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " من ارسل بنفقة في سبيل الله واقام في بيته فله بكل درهم سبعماية درهم ومن غزا بنفسه في سبيل الله وانفق في وجه ذلك فله بكل درهم سبعماية الف درهم " . ثم تلا هذه الاية {والله يضاعف لمن يشاء}
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نہ غزوہ کرے، نہ کسی غازی کے لیے سامان جہاد کا انتظام کرے، اور نہ ہی کسی غازی کی غیر موجودگی میں اس کے گھربار کی بھلائی کے ساتھ نگہبانی کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت آنے سے قبل اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا يحيى بن الحارث الذماري، عن القاسم، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لم يغز او يجهز غازيا او يخلف غازيا في اهله بخير اصابه الله سبحانه بقارعة قبل يوم القيامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس پر جہاد فی سبیل اللہ کا کوئی نشان نہ ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس میں نقصان ہو گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد، حدثنا ابو رافع، - هو اسماعيل بن رافع - عن سمى، - مولى ابي بكر - عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لقي الله وليس له اثر في سبيل الله لقي الله وفيه ثلمة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے لوٹے، اور مدینہ کے نزدیک پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جس راہ پر تم چلے اور جس وادی سے بھی تم گزرے وہ تمہارے ہمراہ رہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: مدینہ میں رہ کر بھی وہ ہمارے ساتھ رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مدینہ میں رہ کر بھی، عذر نے انہیں روک رکھا تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن حميد، عن انس بن مالك، قال لما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من غزوة تبوك فدنا من المدينة قال " ان بالمدينة لقوما ما سرتم من مسير ولا قطعتم واديا الا كانوا معكم فيه " . قالوا يا رسول الله وهم بالمدينة قال " وهم بالمدينة حبسهم العذر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم جس وادی سے بھی گزرے، یا جس راہ پر چلے ثواب میں ہر جگہ وہ تمہارے شریک رہے، انہیں عذر نے روک رکھا تھا ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ایسا ہی کچھ احمد بن سنان نے کہا میں نے اسے لفظ بلفظ لکھ لیا۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بالمدينة رجالا ما قطعتم واديا ولا سلكتم طريقا الا شركوكم في الاجر حبسهم العذر " . قال ابو عبد الله بن ماجه او كما قال كتبته لفظا
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو میں نے تم سے صرف اس لیے نہیں بیان کی کہ میں تمہارا اور تمہارے ساتھ رہنے کا بہت حریص ہوں ۱؎، اب اس پر عمل کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے راستے میں ایک رات بھی سرحد پر پڑاؤ ڈالا، تو اسے ہزار راتوں کے صیام و قیام کے مثل ثواب ملے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن مصعب بن ثابت، عن عبد الله بن الزبير، قال خطب عثمان بن عفان الناس فقال يا ايها الناس اني سمعت حديثا من رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يمنعني ان احدثكم به الا الضن بكم وبصحابتكم فليختر مختار لنفسه او ليدع سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من رابط ليلة في سبيل الله سبحانه كانت كالف ليلة صيامها وقيامها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں «رباط» ( سرحد پر پڑاؤ ڈالے ہوئے ) مر جائے، تو جو وہ نیک عمل کرتا تھا اس کا ثواب اس کے لیے جاری رہے گا، جنت میں سے اس کا رزق مقرر ہو گا، قبر کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ہر ڈر اور گھبراہٹ سے محفوظ اٹھائے گا ۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني الليث، عن زهرة بن معبد، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من مات مرابطا في سبيل الله اجرى عليه اجر عمله الصالح الذي كان يعمل واجرى عليه رزقه وامن من الفتان وبعثه الله يوم القيامة امنا من الفزع
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثواب کی نیت سے مسلمانوں کے ناکے پر ( جہاں سے دشمن کے حملہ آور ہونے کا ڈر ہو ) اللہ کی راہ میں سرحد پر ایک دن پڑاؤ کی حفاظت کا ثواب غیر رمضان میں سو سال کے روزوں، اور ان کے قیام اللیل صیام سے بڑھ کر ہے، اور اللہ کے راستے میں مسلمانوں کے ناکے پر ثواب کی نیت سے رمضان میں ایک دن کی سرحد کی نگرانی کا ثواب ہزار سال کے نماز سے بڑھ کر ہے، پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم گھر لوٹا دیا تو ایک ہزار سال تک اس کی برائیاں نہیں لکھی جائیں گی، نیکیاں لکھی جائیں گی، اور قیامت تک «رباط» کا ثواب جاری رہے گا ۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، حدثنا محمد بن يعلى السلمي، حدثنا عمر بن صبح، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن مكحول، عن ابى بن كعب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لرباط يوم في سبيل الله من وراء عورة المسلمين محتسبا من غير شهر رمضان اعظم اجرا من عبادة ماية سنة صيامها وقيامها ورباط يوم في سبيل الله من وراء عورة المسلمين محتسبا من شهر رمضان افضل عند الله واعظم اجرا - اراه قال - من عبادة الف سنة صيامها وقيامها فان رده الله الى اهله سالما لم تكتب عليه سيية الف سنة وتكتب له الحسنات ويجرى له اجر الرباط الى يوم القيامة
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ لشکر کے پہرہ دار پر رحم فرمائے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا عبد العزيز بن محمد، عن صالح بن محمد بن زايدة، عن عمر بن عبد العزيز، عن عقبة بن عامر الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رحم الله حارس الحرس
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا: اللہ کی راہ میں ایک رات پہرہ دینا، کسی آدمی کے اپنے گھر میں رہ کر ایک ہزار سال کے صوم و صلاۃ سے بڑھ کر ہے، سال تین سو ساٹھ دن کا ہوتا ہے، جس کا ہر دن ہزار سال کے برابر ہے ۔
حدثنا عيسى بن يونس الرملي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابور، عن سعيد بن خالد بن ابي الطويل، قال سمعت انس بن مالك، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " حرس ليلة في سبيل الله افضل من صيام رجل وقيامه في اهله الف سنة السنة ثلاثماية وستون يوما واليوم كالف سنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے، اور ہر اونچی زمین پر اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتا ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن اسامة بن زيد، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لرجل " اوصيك بتقوى الله والتكبير على كل شرف
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک رات مدینہ والے گھبرا اٹھے، اور سب لوگ آواز کی جانب نکل پڑے تو راستے ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی، آپ ان سے پہلے اکیلے ہی آواز کی طرف چل پڑے تھے ۱؎، اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ننگی پیٹھ اور بغیر زین والے گھوڑے پر سوار تھے، اور اپنی گردن میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: لوگو! ڈر کی کوئی بات نہیں ہے ، یہ کہہ کر آپ لوگوں کو واپس لوٹا رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کے متعلق فرمایا: ہم نے اسے سمندر پایا، یا واقعی یہ تو سمندر ہے ۔ حماد کہتے ہیں: مجھ سے ثابت نے یا کسی اور نے بیان کیا کہ وہ گھوڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا تھا، جو سست رفتار تھا لیکن اس دن کے بعد سے وہ کبھی کسی گھوڑے سے پیچھے نہیں رہا ۲؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس بن مالك، قال ذكر النبي صلى الله عليه وسلم فقال كان احسن الناس وكان اجود الناس وكان اشجع الناس ولقد فزع اهل المدينة ليلة فانطلقوا قبل الصوت فتلقاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سبقهم الى الصوت وهو على فرس لابي طلحة عرى ما عليه سرج في عنقه السيف وهو يقول " يا ايها الناس لن تراعوا " . يردهم ثم قال للفرس " وجدناه بحرا " . او " انه لبحر " . قال حماد وحدثني ثابت او غيره قال كان فرسا لابي طلحة يبطا فما سبق بعد ذلك اليوم