Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو فوراً نکل کھڑے ہو ۔
حدثنا احمد بن عبد الرحمن بن بكار بن عبد الملك بن الوليد بن بسر بن ابي ارطاة، حدثنا الوليد، حدثني شيبان، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا استنفرتم فانفروا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ کا غبار، اور جہنم کا دھواں، دونوں کسی مسلمان کے پیٹ میں اکٹھا نہ ہوں گے ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن عبد الرحمن، - مولى ال طلحة - عن عيسى بن طلحة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم في جوف عبد مسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک شام بھی اللہ کی راہ میں چلا، تو جتنا غبار اس پر پڑا قیامت کے دن اس کے لیے اتنی ہی مشک ہو گی ۔
حدثنا محمد بن سعيد بن يزيد بن ابراهيم التستري، حدثنا ابو عاصم، عن شبيب، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من راح روحة في سبيل الله كان له بمثل ما اصابه من الغبار مسكا يوم القيامة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز میرے قریب سوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے لائے گئے جو اس سمندر کے اوپر اس طرح سوار ہو رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں ، ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ سے آپ دعا کر دیجئیے کہ وہ مجھے بھی ان ہی لوگوں میں سے کر دے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرما دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سو گئے، پھر ویسے ہی ہوا، آپ اٹھے تو ہنستے ہوئے، اور ام حرام رضی اللہ عنہا نے وہی پوچھا جو پہلی بار پوچھا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہی جواب دیا جو پہلی بار دیا تھا، اس بار بھی انہوں نے عرض کیا: آپ اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ وہ مجھے بھی انہی لوگوں میں سے کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو ۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جہاد کے لیے نکلیں، یہ پہلا موقع تھا کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ مسلمان بحری جہاد پر گئے تھے چنانچہ جب لوگ جہاد سے لوٹ رہے تھے تو شام میں رکے، ام حرام رضی اللہ عنہا کی سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا، جس نے انہیں گرا دیا، اور وہ فوت ہو گئیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن ابن حبان، - هو محمد بن يحيى بن حبان - عن انس بن مالك، عن خالته ام حرام بنت ملحان، انها قالت نام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما قريبا مني ثم استيقظ يبتسم فقلت يا رسول الله ما اضحكك قال " ناس من امتي عرضوا على يركبون ظهر هذا البحر كالملوك على الاسرة " . قالت فادع الله ان يجعلني منهم . قال فدعا لها ثم نام الثانية ففعل مثلها ثم قالت مثل قولها فاجابها مثل جوابه الاول . قالت فادع الله ان يجعلني منهم قال " انت من الاولين " . قال فخرجت مع زوجها عبادة بن الصامت غازية اول ما ركب المسلمون البحر مع معاوية بن ابي سفيان فلما انصرفوا من غزاتهم قافلين فنزلوا الشام فقربت اليها دابة لتركب فصرعتها فماتت
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بحری ( سمندری ) جہاد دس بری جہادوں کے برابر ہے، اور سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے خون میں لوٹ رہا ہو ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا بقية، عن معاوية بن يحيى، عن ليث بن ابي سليم، عن يحيى بن عباد، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " غزوة في البحر مثل عشر غزوات في البر والذي يسدر في البحر كالمتشحط في دمه في سبيل الله سبحانه
ابواسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: سمندر کا شہید خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے، سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ خشکی میں اپنے خون میں لوٹنے والے کی مانند ہے، اور ایک موج سے دوسری موج تک جانے والا اللہ کی اطاعت میں پوری دنیا کا سفر کرنے والے کی طرح ہے، اللہ تعالیٰ نے روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت ( عزرائیل ) کو مقرر کیا ہے، لیکن سمندر کے شہید کی جان اللہ تعالیٰ خود قبض کرتا ہے، خشکی میں شہید ہونے والے کے قرض کے علاوہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں، لیکن سمندر کے شہید کے قرض سمیت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔
حدثنا عبيد الله بن يوسف الجبيري، حدثنا قيس بن محمد الكندي، حدثنا عفير بن معدان الشامي، عن سليم بن عامر، قال سمعت ابا امامة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " شهيد البحر مثل شهيدى البر والمايد في البحر كالمتشحط في دمه في البر وما بين الموجتين كقاطع الدنيا في طاعة الله وان الله عز وجل وكل ملك الموت بقبض الارواح الا شهيد البحر فانه يتولى قبض ارواحهم ويغفر لشهيد البر الذنوب كلها الا الدين ولشهيد البحر الذنوب والدين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن باقی رہا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ میرے خاندان کے ایک فرد کی حکومت قائم ہو، اور پھر وہ دیلم پہاڑ اور شہر قسطنطنیہ پر قابض ہو جائے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو داود، ح وحدثنا محمد بن عبد الملك الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، ح وحدثنا علي بن المنذر، حدثنا اسحاق بن منصور، كلهم عن قيس، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو لم يبق من الدنيا الا يوم لطوله الله عز وجل حتى يملك رجل من اهل بيتي يملك جبل الديلم والقسطنطينية
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم ملکوں کو فتح کرو گے اور عنقریب تم ایک ایسا شہر فتح کرو گے جسے قزوین کہا جاتا ہے جو اس میں چالیس دن یا چالیس رات سرحد کی نگرانی کرے گا، اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک ستون ہو گا، جس پر سبز زمرد لگا ہو گا، پھر اس ستون پر سرخ یا قوت کا قبہ ہو گا جس کے ستر ہزار سونے کے چوکھٹے ( دروازے ) ہوں گے، اور ہر چوکھٹے پر بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے ایک بیوی ہو گی ۔
حدثنا اسماعيل بن اسد، حدثنا داود بن المحبر، انبانا الربيع بن صبيح، عن يزيد بن ابان، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ستفتح عليكم الافاق وستفتح عليكم مدينة يقال لها قزوين من رابط فيها اربعين يوما او اربعين ليلة كان له في الجنة عمود من ذهب عليه زبرجدة خضراء عليها قبة من ياقوتة حمراء لها سبعون الف مصراع من ذهب على كل مصراع زوجة من الحور العين
معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا: میں اللہ کی رضا اور دار آخرت کی بھلائی کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس، کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، اور اپنی ماں کی خدمت کرو پھر میں دوسری جانب سے آیا، اور میں نے عرض کیا: میں اللہ کی رضا جوئی اور دار آخرت کی خاطر آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ میں نے پھر کہا: ہاں! اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس واپس چلے جاؤ اور اس کی خدمت کرو ، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ کی رضا اور دار آخرت کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس، کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ میں نے جواب دیا: ہاں! اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس! اس کے پیر کے پاس رہو، وہیں جنت ہے ۔
حدثنا ابو يوسف، محمد بن احمد الرقي حدثنا محمد بن سلمة الحراني، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن طلحة بن عبد الرحمن بن ابي بكر الصديق، عن معاوية بن جاهمة السلمي، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني كنت اردت الجهاد معك ابتغي بذلك وجه الله والدار الاخرة . قال " ويحك احية امك " . قلت نعم . قال " ارجع فبرها " . ثم اتيته من الجانب الاخر فقلت يا رسول الله اني كنت اردت الجهاد معك ابتغي بذلك وجه الله والدار الاخرة . قال " ويحك احية امك " . قلت نعم يا رسول الله قال " فارجع اليها فبرها " . ثم اتيته من امامه فقلت يا رسول الله اني كنت اردت الجهاد معك ابتغي بذلك وجه الله والدار الاخرة . قال " ويحك احية امك " . قلت نعم يا رسول الله . قال " ويحك الزم رجلها فثم الجنة " . حدثنا هارون بن عبد الله الحمال، حدثنا حجاج بن محمد، حدثنا ابن جريج، اخبرني محمد بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي بكر الصديق، عن ابيه، طلحة عن معاوية بن جاهمة السلمي، ان جاهمة، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه . قال ابو عبد الله بن ماجه هذا جاهمة بن عباس بن مرداس السلمي الذي عاتب النبي صلى الله عليه وسلم يوم حنين
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ جہاد کے ارادے سے آیا ہوں، جس سے میرا مقصد رضائے الٰہی اور آخرت کا ثواب ہے، لیکن میں اپنے والدین کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس واپس لوٹ جاؤ اور جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا المحاربي، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال اتى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني جيت اريد الجهاد معك ابتغي وجه الله والدار الاخرة ولقد اتيت وان والدى ليبكيان . قال " فارجع اليهما فاضحكهما كما ابكيتهما
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بہادری کی شہرت کے لیے لڑتا ہے، اور جو خاندانی عزت کی خاطر لڑتا ہے، اور جس کا مقصد ریا و نمود ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے کلمے کی بلندی کے مقصد سے جو لڑتا ہے وہی مجاہد فی سبیل اللہ ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن ابي موسى، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن الرجل يقاتل شجاعة ويقاتل حمية ويقاتل رياء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله
ابوعقبہ رضی اللہ عنہ جو کہ اہل فارس کے غلام تھے کہتے ہیں کہ میں جنگ احد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا، میں نے ایک مشرک پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا کہ لے میرا یہ وار، میں فارسی جوان ہوں، اس کی خبر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ لے میرا یہ وار اور میں انصاری نوجوان ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حسين بن محمد، حدثنا جرير بن حازم، عن محمد بن اسحاق، عن داود بن الحصين، عن عبد الرحمن بن ابي عقبة، عن ابي عقبة، - وكان مولى لاهل فارس - قال شهدت مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم احد فضربت رجلا من المشركين فقلت خذها مني وانا الغلام الفارسي . فبلغت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " الا قلت خذها مني وانا الغلام الانصاري
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہو ے سنا: لشکر کی جو ٹکڑی اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور مال غنیمت پا لے، تو سمجھو اس نے ثواب کا دو تہائی حصہ تو دنیا ہی میں حاصل کر لیا، لیکن اگر مال غنیمت نہیں ملتا تو ان کے لیے پورا ثواب ہو گا ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا حيوة، اخبرني ابو هاني، انه سمع ابا عبد الرحمن الحبلي، يقول انه سمع عبد الله بن عمرو، يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ما من غازية تغزو في سبيل الله فيصيبوا غنيمة الا تعجلوا ثلثى اجرهم فان لم يصيبوا غنيمة تم لهم اجرهم
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی پر قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن شبيب بن غرقدة، عن عروة البارقي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخير معقود بنواصي الخيل الى يوم القيامة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " الخيل في نواصيها الخير الى يوم القيامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی میں بھلائی ہے یا فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر اور بھلائی بندھی ہوئی ہے، گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں، ایک شخص کے لیے وہ اجر و ثواب ہیں، ایک کے لیے ستر ( پردہ ) ہیں، اور ایک کے واسطے عذاب ہیں، ( پھر آپ نے تفصیل بیان کی ) اس شخص کے لیے تو باعث اجر و ثواب ہیں جو انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کی غرض سے رکھے، اور انہیں تیار کرے، چنانچہ ان کے پیٹ میں جو چیز بھی جائے گی وہ اس شخص کے لیے نیکی شمار ہو گی، اگر وہ انہیں گھاس والی زمین میں بھی چرائے گا تو جو وہ کھائیں گے اس کا ثواب اسے ملے گا، اگر وہ انہیں بہتی نہر سے پانی پلائے گا تو پیٹ میں جانے والے ہر قطرے کے بدلے اسے ثواب ملے گا، حتیٰ کہ آپ نے ان کے پیشاب اور لید ( گوبر ) میں بھی ثواب بتایا، اگر وہ ایک یا دو میل دوڑیں تو بھی ہر قدم کے بدلے جسے وہ اٹھائیں گے ثواب ملے گا، اور جس شخص کے لیے گھوڑے ستر ( پردہ ) ہیں وہ ہے جو انہیں عزت اور زینت کی غرض سے رکھتا ہے، لیکن ان کی پیٹھ اور پیٹ کے حق سے تنگی اور آسانی کسی حال میں غافل نہیں رہتا، لیکن جس شخص کے حق میں یہ گھوڑے گناہ ہیں وہ شخص ہے جو غرور، تکبر، فخر اور ریا و نمود کی خاطر انہیں رکھتا ہے، تو یہی وہ گھوڑے ہیں جو اس کے حق میں گناہ ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخيل في نواصيها الخير - او قال الخيل معقود في نواصيها قال سهيل انا اشك الخير - الى يوم القيامة الخيل ثلاثة فهي لرجل اجر ولرجل ستر وعلى رجل وزر فاما الذي هي له اجر فالرجل يتخذها في سبيل الله ويعدها له فلا تغيب شييا في بطونها الا كتب له اجر ولو رعاها في مرج ما اكلت شييا الا كتب له بها اجر ولو سقاها من نهر جار كان له بكل قطرة تغيبها في بطونها اجر - حتى ذكر الاجر في ابوالها وارواثها - ولو استنت شرفا او شرفين كتب له بكل خطوة تخطوها اجر . واما الذي هي له ستر فالرجل يتخذها تكرما وتجملا ولا ينسى حق ظهورها وبطونها في عسرها ويسرها . واما الذي هي عليه وزر فالذي يتخذها اشرا وبطرا وبذخا ورياء للناس فذلك الذي هي عليه وزر
ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا گھوڑا جس کی پیشانی، ہاتھ، پیر، ناک اور اوپر کا ہونٹ سفید ہوں، اور دایاں ہاتھ باقی جسم کی طرح ہو، سب سے عمدہ ہے، اگر وہ کالا نہ ہو تو انہیں صفات والا سرخ سیاہی مائل گھوڑا عمدہ ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت يحيى بن ايوب، يحدث عن يزيد بن ابي حبيب، عن على بن رباح، عن ابي قتادة الانصاري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خير الخيل الادهم الاقرح المحجل الارثم طلق اليد اليمنى فان لم يكن ادهم فكميت على هذه الشية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کے تین پیر سفید اور ایک پیر کا رنگ باقی جسم کا ہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سلم بن عبد الرحمن النخعي، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يكره الشكال من الخيل
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے گھوڑا باندھا، پھر دانہ چارہ اپنے ہاتھ سے کھلایا، تو اس کے لیے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی ہو گی ۔
حدثنا ابو عمير، عيسى بن محمد الرملي حدثنا احمد بن يزيد بن روح الداري، عن محمد بن عقبة القاضي، عن ابيه، عن جده، عن تميم الداري، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من ارتبط فرسا في سبيل الله ثم عالج علفه بيده كان له بكل حبة حسنة
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا: جو مسلمان شخص اللہ کے راستے میں اونٹنی کا دودھ دوھنے کے درمیانی وقفہ کے برابر لڑا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۱؎۔
حدثنا بشر بن ادم، حدثنا الضحاك بن مخلد، حدثنا ابن جريج، حدثنا سليمان بن موسى، حدثنا مالك بن يخامر، حدثنا معاذ بن جبل، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من قاتل في سبيل الله عز وجل من رجل مسلم فواق ناقة وجبت له الجنة