Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک لڑائی میں حاضر ہوا، تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے نفس! میرا خیال ہے کہ تجھے جنت میں جانا ناپسند ہے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تجھے جنت میں خوشی یا ناخوشی سے جانا ہی پڑے گا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا ديلم بن غزوان، حدثنا ثابت، عن انس بن مالك، قال حضرت حربا فقال عبد الله بن رواحة يا نفس الا اراك تكرهين الجنه احلف بالله لتنزلنه طايعة او لتكرهنه
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے، اور جس کے گھوڑے کو بھی زخمی کر دیا جائے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يعلى بن عبيد، حدثنا حجاج بن دينار، عن محمد بن ذكوان، عن شهر بن حوشب، عن عمرو بن عبسة، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اى الجهاد افضل قال " من اهريق دمه وعقر جواده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہونے والا شخص ( اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہو رہا ہے ) قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم بالکل اسی دن کی طرح تازہ ہو گا جس دن وہ زخمی ہوا تھا، رنگ تو خون ہی کا ہو گا، لیکن خوشبو مشک کی سی ہو گی۔
حدثنا بشر بن ادم، واحمد بن ثابت الجحدري، قالا حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا محمد بن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مجروح يجرح في سبيل الله - والله اعلم بمن يجرح في سبيله - الا جاء يوم القيامة وجرحه كهييته يوم جرح واللون لون دم والريح ريح مسك
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کفار کے ) گروہوں پر بد دعا کی، اور یوں فرمایا: اے اللہ! کتاب کے نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، گروہوں کو شکست دے، اے اللہ! انہیں شکست دے، اور جھنجوڑ کر رکھ دے ( کہ وہ پریشان و بے قرار ہو کر بھاگ کھڑے ہوں ) ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يعلى بن عبيد، حدثني اسماعيل بن ابي خالد، سمعت عبد الله بن ابي اوفى، يقول دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم على الاحزاب فقال " اللهم منزل الكتاب سريع الحساب اهزم الاحزاب اللهم اهزمهم وزلزلهم
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مرتبے پر پہنچا دے گا، گرچہ وہ اپنے بستر ہی پر فوت ہوا ہو ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى، واحمد بن عيسى المصريان، قالا حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني ابو شريح عبد الرحمن بن شريح، ان سهل بن ابي امامة بن سهل بن حنيف، حدثه عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من سال الله الشهادة بصدق من قلبه بلغه الله منازل الشهداء وان مات على فراشه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شہیدوں کا ذکر آیا، تو آپ نے فرمایا: زمین شہید کا خون خشک بھی نہیں کر پاتی کہ اس کی دونوں بیویاں ان دائیوں کی طرح اس پر جھپٹتی ہیں، جنہوں نے غیر آباد مقام میں اپنے بچے کھو دئیے ہوں، ہر بیوی کے ہاتھ میں ایسا جوڑا ہوتا ہے جو دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن ابي عدي، عن ابن عون، عن هلال بن ابي زينب، عن شهر بن حوشب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ذكر الشهداء عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لا تجف الارض من دم الشهيد حتى تبتدره زوجتاه كانهما ظيران اضلتا فصيليهما في براح من الارض وفي يد كل واحدة منهما حلة خير من الدنيا وما فيها
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے یہاں شہید کے لیے چھ بھلائیاں ہیں: ۱- خون کی پہلی ہی پھوار پر اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، اور جنت میں اس کو اپنا ٹھکانا نظر آ جاتا ہے ۲- عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، ۳- حشر کی بڑی گھبراہٹ سے مامون و بےخوف رہے گا، ۴- ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے، ۵- حورعین سے نکاح کر دیا جاتا ہے، ۶- اس کے اعزہ و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثني بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن المقدام بن معديكرب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " للشهيد عند الله ست خصال يغفر له في اول دفعة من دمه ويرى مقعده من الجنة ويجار من عذاب القبر ويامن من الفزع الاكبر ويحلى حلة الايمان ويزوج من الحور العين ويشفع في سبعين انسانا من اقاربه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب جنگ احد میں ( ان کے والد ) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے جو فرمایا ہے کیا میں تمہیں وہ نہ بتاؤں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردہ کے پیچھے سے لیکن تمہارے والد سے آمنے سامنے بات کی، اور کہا: اے میرے بندے! مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کرو، میں تجھے عطا کروں گا، انہوں نے کہا: اے میرے رب! تو مجھے دوبارہ زندہ کر دے کہ میں دوبارہ تیرے راستے میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بات کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، انہوں نے کہا: اے میرے رب! میرے پسماندگان کو ( میرا حال ) پہنچا دے، تو یہ آیت نازل ہوئی: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ( سورۃ آل عمران: ۱۶۹ ) جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں تم مردہ مت سمجھو ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحرامي، حدثنا موسى بن ابراهيم الحرامي الانصاري، سمعت طلحة بن خراش، سمعت جابر بن عبد الله، يقول لما قتل عبد الله بن عمرو بن حرام يوم احد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا جابر الا اخبرك ما قال الله عز وجل لابيك " . قلت بلى . قال " ما كلم الله احدا الا من وراء حجاب وكلم اباك كفاحا . فقال يا عبدي تمن على اعطك . قال يا رب تحييني فاقتل فيك ثانية . قال انه سبق مني انهم اليها لا يرجعون . قال يا رب فابلغ من ورايي . فانزل الله عز وجل هذه الاية {ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا} " . الاية كلها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کے بارے میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہیں چلتی پھرتی ہیں، پھر شام کو عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، ایک بار کیا ہوا کہ روحیں اسی حال میں تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جھانکا پھر فرمانے لگا: تمہیں جو چاہیئے مانگو، روحوں نے کہا: ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں چلتی پھرتی ہیں، اس سے بڑھ کر کیا مانگیں؟ جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر مانگے خلاصی نہیں تو کہنے لگیں: ہمارا سوال یہ ہے کہ تو ہماری روحوں کو دنیاوی جسموں میں لوٹا دے کہ ہم پھر تیرے راستے میں قتل کئے جائیں، اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگ رہی ہیں تو چھوڑ دیا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله، في قوله {ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا بل احياء عند ربهم يرزقون} قال اما انا سالنا عن ذلك فقال " ارواحهم كطير خضر تسرح في الجنة في ايها شاءت ثم تاوي الى قناديل معلقة بالعرش فبينما هم كذلك اذ اطلع عليهم ربك اطلاعة فيقول سلوني ما شيتم . قالوا ربنا وماذا نسالك ونحن نسرح في الجنة في ايها شينا فلما راوا انهم لا يتركون من ان يسالوا قالوا نسالك ان ترد ارواحنا في اجسادنا الى الدنيا حتى نقتل في سبيلك . فلما راى انهم لا يسالون الا ذلك تركوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہید کو قتل سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ تمہیں چیونٹی کاٹنے سے ہوتی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، واحمد بن ابراهيم الدورقي، وبشر بن ادم، قالوا حدثنا صفوان بن عيسى، انبانا محمد بن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما يجد الشهيد مس القتل الا كما يجد احدكم مس القرصة
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی ( عیادت ) کے لیے تشریف لائے، ان کے اہل خانہ میں سے کسی نے کہا: ہمیں تو یہ امید تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں شہادت کی موت مریں گے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہداء کی تعداد بہت کم ہے! ( نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) اللہ کے راستے میں قتل ہونا شہادت ہے، مرض طاعون میں مر جانا شہادت ہے، عورت کا زچگی ( جننے کی حالت ) میں مر جانا شہادت ہے، ڈوب کر یا جل کر مر جانا شہادت ہے، نیز پسلی کے ورم میں مر جانا شہادت ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن ابي العميس، عن عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك، عن ابيه، عن جده، انه مرض فاتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده فقال قايل من اهله ان كنا لنرجو ان تكون وفاته قتل شهادة في سبيل الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان شهداء امتي اذا لقليل القتل في سبيل الله شهادة والمطعون شهادة والمراة تموت بجمع شهادة - يعني الحامل - والغرق والحرق والمجنوب - يعني ذات الجنب - شهادة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کے راستے میں مارا جانا ( شہادت ہے ) فرمایا: تب تو میری امت میں بہت کم شہید ہوں گے ! ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) جو اللہ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کے راستے میں مر جائے وہ بھی شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے، طاعون کے مرض میں مرنے والا شہید ہے ۔ سہیل کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن مقسم نے خبر دی وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: اور ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ما تقولون في الشهيد فيكم " . قالوا القتل في سبيل الله . قال " ان شهداء امتي اذا لقليل من قتل في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في سبيل الله فهو شهيد والمبطون شهيد والمطعون شهيد " . قال سهيل واخبرني عبيد الله بن مقسم، عن ابي صالح، وزاد، فيه " والغرق شهيد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن اس حال میں مکہ داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر خود تھا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، وسويد بن سعيد، قالا حدثنا مالك بن انس، حدثني الزهري، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة يوم الفتح وعلى راسه المغفر
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقعہ پر اوپر نیچے دو زرہیں پہنیں۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن يزيد بن خصيفة، عن السايب بن يزيد، ان شاء الله تعالى . ان النبي صلى الله عليه وسلم يوم احد اخذ درعين كانه ظاهر بينهما
سلیمان بن حبیب کہتے ہیں کہ ہم ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو وہ ہماری تلواروں میں چاندی کا کچھ زیور دیکھ کر غصہ ہو گئے، اور کہنے لگے: لوگوں ( صحابہ کرام ) نے بہت ساری فتوحات کیں، لیکن ان کی تلواروں کا زیور سونا چاندی نہ تھا، بلکہ سیسہ، لوہا اور علابی تھا۔ ابوالحسن قطان کہتے ہیں: علابی: اونٹ کا پٹھا ( چمڑا ) ہے۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني سليمان بن حبيب، قال دخلنا على ابي امامة فراى في سيوفنا شييا من حلية فضة فغضب وقال لقد فتح الفتوح قوم ما كان حلية سيوفهم من الذهب والفضة ولكن الانك والحديد والعلابي . قال ابو الحسن القطان العلابي العصب
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن اپنی ذوالفقار نامی تلوار ( علی رضی اللہ عنہ کو ) انعام میں دی ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابن الصلت، عن ابن ابي الزناد، عن ابيه، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تنفل سيفه ذا الفقار يوم بدر
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جاتے تو اپنے ساتھ برچھا لے جاتے، اور لوٹتے وقت اسے پھینک دیتے، انہیں دینے کے لیے کوئی اسے اٹھا لاتا، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی یہ حرکت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور بتاؤں گا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کریں، کیونکہ اگر آپ نے ایسا کیا تو گمشدہ چیز اٹھائی نہیں جائے گی ۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، انبانا وكيع، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الخليل، عن علي بن ابي طالب، قال كان المغيرة بن شعبة اذا غزا مع النبي صلى الله عليه وسلم حمل معه رمحا فاذا رجع طرح رمحه حتى يحمل له . فقال له علي لاذكرن ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال " لا تفعل فانك ان فعلت لم ترفع ضالة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں ایک عربی کمان تھی، اور ایک شخص کے ہاتھ میں آپ نے فارسی کمان دیکھی تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ اسے پھینک دو، اور اس طرح کی رکھو، اور نیزے رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان دونوں کے ذریعہ سے دین کو ترقی دے گا، اور تمہیں دوسرے ملکوں کو فتح کرنے پر قادر بنا دے گا ۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، انبانا عبيد الله بن موسى، عن اشعث بن سعيد، عن عبد الله بن بسر، عن ابي راشد، عن علي، قال كانت بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم قوس عربية فراى رجلا بيده قوس فارسية فقال " ما هذه القها وعليكم بهذه واشباهها ورماح القنا فانهما يزيد الله بهما في الدين ويمكن لكم في البلاد
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تیر کے سبب اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: ثواب کی نیت سے اس کے بنانے والے کو، چلانے والے کو، اور ترکش سے نکال نکال کر دینے والے کو ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی کرو، اور سواری کا فن سیکھو، میرے نزدیک تیر اندازی سیکھنا سواری کا فن سیکھنے سے بہتر ہے، مسلمان آدمی کا ہر کھیل باطل ہے سوائے تیر اندازی، گھوڑے کے سدھانے، اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے، کیونکہ یہ تینوں کھیل سچے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلام، عن عبد الله بن الازرق، عن عقبة بن عامر الجهني، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله ليدخل بالسهم الواحد الثلاثة الجنة صانعه يحتسب في صنعته الخير والرامي به والممد به " . وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارموا واركبوا وان ترموا احب الى من ان تركبوا وكل ما يلهو به المرء المسلم باطل الا رميه بقوسه وتاديبه فرسه وملاعبته امراته فانهن من الحق
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو دشمن کو تیر مارے، اور اس کا تیر دشمن تک پہنچے، ٹھیک لگے یا چوک جائے، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، عن سليمان بن عبد الرحمن، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن عمرو بن عبسة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من رمى العدو بسهم فبلغ سهمه العدو اصاب او اخطا فيعدل رقبة