Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آیت کریمہ: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ( سورۃ الانفال: ۶۰ ) دشمن کے لیے طاقت بھر تیاری کرو کو پڑھتے ہوئے سنا: ( اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ) آگاہ رہو! طاقت کا مطلب تیر اندازی ہی ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، انبانا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، عن ابي علي الهمداني، انه سمع عقبة بن عامر الجهني، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا على المنبر " {واعدوا لهم ما استطعتم من قوة} الا وان القوة الرمى " ثلاث مرات
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا، تو اس نے میری نافرمانی کی ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى المصري، انبانا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن لهيعة، عن عثمان بن نعيم الرعيني، عن المغيرة بن نهيك، انه سمع عقبة بن عامر الجهني، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من تعلم الرمى ثم تركه فقد عصاني
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسماعیل کی اولاد! تیر اندازی کرو، تمہارے والد ( اسماعیل ) بڑے تیر انداز تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا سفيان، عن الاعمش، عن زياد بن الحصين، عن ابي العالية، عن ابن عباس، قال مر النبي صلى الله عليه وسلم بنفر يرمون فقال " رميا بني اسماعيل فان اباكم كان راميا
حارث بن حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کھڑے دیکھا، اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے گلے میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، پھر اچانک ایک کالا بڑا جھنڈا دکھائی دیا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں جو ایک غزوہ سے واپس آئے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن الحارث بن حسان، قال قدمت المدينة فرايت النبي صلى الله عليه وسلم قايما على المنبر وبلال قايم بين يديه متقلد سيفا واذا راية سوداء فقلت من هذا قالوا هذا عمرو بن العاص قدم من غزاة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا جھنڈا سفید تھا۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، وعبدة بن عبد الله، قال حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا شريك، عن عمار الدهني، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة يوم الفتح ولواوه ابيض
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا جھنڈا کالا اور چھوٹا جھنڈا سفید تھا ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن اسحاق الواسطي الناقد، حدثنا يحيى بن اسحاق، عن يزيد بن حيان، سمعت ابا مجلز، يحدث عن ابن عباس، ان راية، رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت سوداء ولواوه ابيض
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ریشم کی گھنڈیاں لگا ہوا جبہ نکالا اور کہنے لگیں: دشمن سے مقابلہ کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن حجاج، عن ابي عمر، - مولى اسماء - عن اسماء بنت ابي بكر، انها اخرجت جبة مزررة بالديباج فقالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يلبس هذه اذا لقي العدو
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حریر اور دیباج ( ریشمی کپڑوں کے استعمال ) سے منع کرتے تھے مگر جو اتنا ہو، پھر انہوں نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا، پھر دوسری سے پھر تیسری سے پھر چوتھی سے، اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہمیں منع فرمایا کرتے تھے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن عاصم الاحول، عن ابي عثمان، عن عمر، انه كان ينهى عن الحرير، والديباج، الا ما كان هكذا ثم اشار باصبعه ثم الثانية ثم الثالثة ثم الرابعة وقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا عنه
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ کے سر پر سیاہ عمامہ ( کالی پگڑی ) ہے جس کے دونوں کنارے آپ اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن مساور، حدثني جعفر بن عمرو بن حريث، عن ابيه، قال كاني انظر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه عمامة سوداء قد ارخى طرفيها بين كتفيه
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة وعليه عمامة سوداء
خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں سوال کرتے دیکھا، جو جہاد کرنے جائے اور وہاں خرید و فروخت کرے اور تجارت کرے، تو میرے والد نے اسے جواب دیا: ہم جنگ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ ہمیں خرید و فروخت کرتے دیکھتے لیکن منع نہ فرماتے ۱؎۔
حدثنا عبيد الله بن عبد الكريم، حدثنا سنيد بن داود، عن خالد بن حيان الرقي، انبانا علي بن عروة البارقي، حدثنا يونس بن يزيد، عن ابي الزناد، عن خارجة بن زيد، قال رايت رجلا سال ابي عن الرجل، يغزو فيشتري ويبيع ويتجر في غزوه فقال له ابي كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بتبوك نشتري ونبيع وهو يرانا ولا ينهانا
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کو صبح یا شام رخصت کروں، اور اسے سواری پر بٹھاؤں، یہ میرے نزدیک دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا ابو الاسود، حدثنا ابن لهيعة، عن زبان بن فايد، عن سهل بن معاذ بن انس، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لان اشيع مجاهدا في سبيل الله فاكفه على رحله غدوة او روحة احب الى من الدنيا وما فيها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تو یہ دعا فرمائی: «أستودعك الله الذي لا تضيع ودائعه» میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابن لهيعة، عن الحسن بن ثوبان، عن موسى بن وردان، عن ابي هريرة، قال ودعني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " استودعك الله الذي لا تضيع ودايعه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو جانے والے کے لیے اس طرح دعا کرتے، «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» میں تیرے دین، تیری امانت، اور تیرے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
حدثنا عباد بن الوليد، حدثنا حبان بن هلال، حدثنا ابو محصن، عن ابن ابي ليلى، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اشخص السرايا يقول للشاخص " استودع الله دينك وامانتك وخواتيم عملك
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثم بن جون خزاعی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اکثم! اپنی قوم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ جہاد کرو، تمہارے اخلاق اچھے ہو جائیں گے، اور تمہارے ساتھیوں میں تمہاری عزت ہو گی، اکثم! چار ساتھی بہتر ہیں، بہترین دستہ چار سو سپاہیوں کا ہے، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے، نیز بارہ ہزار کا لشکر کبھی کم تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الملك بن محمد الصنعاني، حدثنا ابو سلمة العاملي، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لاكثم بن الجون الخزاعي " يا اكثم اغز مع غير قومك يحسن خلقك وتكرم على رفقايك يا اكثم خير الرفقاء اربعة وخير السرايا اربعماية وخير الجيوش اربعة الاف ولن يغلب اثنا عشر الفا من قلة
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم برابر گفتگو کرتے رہتے تھے کہ غزوہ بدر میں صحابہ کی تعداد تین سو دس سے کچھ اوپر تھی، اور یہی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں کی بھی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر پار کی ( یاد رہے کہ ) ان کے ساتھ صرف اسی شخص نے نہر پار کی تھی جو ایمان والا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال كنا نتحدث ان اصحاب، رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا يوم بدر ثلاثماية وبضعة عشر على عدة اصحاب طالوت من جاز معه النهر وما جاز معه الا مومن
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوالورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس فوجی دستے میں شرکت سے بچو جس کی دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو وہ بھاگ کھڑا ہو، اور اگر مال غنیمت حاصل ہو تو اس میں خیانت کرے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، عن ابن لهيعة، اخبرني يزيد بن ابي حبيب، عن لهيعة بن عقبة، قال سمعت ابا الورد، صاحب النبي صلى الله عليه وسلم يقول اياكم والسرية التي ان لقيت فرت وان غنمت غلت
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم سے نصاریٰ کے کھانے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کھانے سے متعلق تمہارے دل میں وسوسہ نہ آنا چاہیئے، ورنہ یہ نصاریٰ کی مشابہت ہو جائے گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سماك بن حرب، عن قبيصة بن هلب، عن ابيه، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن طعام النصارى فقال " لا يختلجن في صدرك طعام ضارعت فيه نصرانية
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم مشرکین کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں نہ پکاؤ میں نے کہا: اگر اس کی ضرورت پیش آ جائے اور ہمارے لیے کوئی چارہ کار ہی نہ ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تم انہیں اچھی طرح دھو لو، پھر پکاؤ اور کھاؤ ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، حدثني ابو فروة، يزيد بن سنان حدثني عروة بن، رويم اللخمي، عن ابي ثعلبة الخشني، - قال ولقيه وكلمه - قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالته فقلت يا رسول الله قدور المشركين نطبخ فيها قال " لا تطبخوا فيها " . قلت فان احتجنا اليها فلم نجد منها بدا قال " فارحضوها رحضا حسنا ثم اطبخوا وكلوا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے ۔ علی بن محمد نے اپنی روایت میں عبداللہ بن یزید یا زید کہا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا مالك بن انس، عن عبد الله بن يزيد، عن نيار، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا لا نستعين بمشرك " . قال علي في حديثه عبد الله بن يزيد او زيد