Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن رومان، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحرب خدعة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يونس بن بكير، عن مطر بن ميمون، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحرب خدعة
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے سنا کہ آیت کریمہ: «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ( سورۃ الحج: ۱۹ ) یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اپنے رب کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا سے «إن الله يفعل ما يريد» ( سورۃ الحج: ۲۴ ) تک، ان چھ لوگوں کے بارے میں اتری جو بدر کے دن باہم لڑے، حمزہ بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما مسلمانوں کی طرف سے، اور عبیدہ بن حارث، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کافروں کی طرف سے۔
حدثنا يحيى بن حكيم، وحفص بن عمرو، قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، ح وحدثنا محمد بن اسماعيل، انبانا وكيع، قالا حدثنا سفيان، عن ابي هاشم الرماني، - قال ابو عبد الله هو يحيى بن الاسود - عن ابي مجلز، عن قيس بن عباد، قال سمعت ابا ذر، يقسم لنزلت هذه الايات في هولاء الرهط الستة يوم بدر {هذان خصمان اختصموا في ربهم} الى قوله: { ان الله يفعل ما يريد} في حمزة بن عبد المطلب وعلي بن ابي طالب وعبيدة بن الحارث وعتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن عتبة اختصموا في الحجج يوم بدر
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کے لیے للکارا، اور اسے قتل کر ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چھینا ہوا سامان بطور انعام مجھے ہی دے دیا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا ابو العميس، وعكرمة بن عمار، عن اياس بن سلمة بن الاكوع، عن ابيه، قال بارزت رجلا فقتلته فنفلني رسول الله صلى الله عليه وسلم سلبه
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقعہ پر ان کے ہاتھ سے قتل کیے گئے شخص کا سامان انہیں کو دے دیا۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن عمر بن كثير بن افلح، عن ابي محمد، مولى ابي قتادة عن ابي قتادة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نفله سلب قتيل قتله يوم حنين
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( کسی کافر ) کو قتل کرے، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، حدثنا ابو مالك الاشجعي، عن نعيم بن ابي هند، عن ابن سمرة بن جندب، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتل فله السلب
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مشرکین کی آبادی پر شبخون مارتے ( رات میں حملہ کرتے ) وقت عورتیں اور بچے بھی قتل ہو جائیں گے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی انہیں میں سے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال حدثنا الصعب بن جثامة، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن اهل الدار من المشركين يبيتون فيصاب النساء والصبيان قال " هم منهم
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قبیلہ ہوازن سے جہاد کیا، چنانچہ ہم بنی فزارہ کے چشمہ کے پاس آئے اور ہم نے وہیں پر پڑاؤ ڈالا، جب صبح کا وقت ہوا، تو ہم نے ان پر حملہ کر دیا، پھر ہم چشمہ والوں کے پاس آئے ان پر بھی شبخون مارا، اور ان کے نو یا سات گھروں کے لوگوں کو قتل کیا۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، انبانا وكيع، عن عكرمة بن عمار، عن اياس بن سلمة بن الاكوع، عن ابيه، قال غزونا مع ابي بكر هوازن على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فاتينا ماء لبني فزارة فعرسنا حتى اذا كان عند الصبح شنناها عليهم غارة فاتينا اهل ماء فبيتناهم فقتلناهم تسعة او سبعة ابيات
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا ۱؎۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا عثمان بن عمر، انبانا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى امراة مقتولة في بعض الطريق فنهى عن قتل النساء والصبيان
حنظلہ الکاتب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( جنگ ) میں شریک تھے، ہمارا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا، وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے تھے، ( آپ کو دیکھ کر ) لوگوں نے آپ کے لیے جگہ خالی کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو لڑنے والوں میں نہ تھی ( پھر اسے کیوں مار ڈالا گیا ) اس کے بعد ایک شخص سے کہا: خالد بن ولید کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ عورتوں، بچوں، مزدوروں اور خادموں کو ہرگز قتل نہ کرنا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي الزناد، عن المرقع بن عبد الله بن صيفي، عن حنظلة الكاتب، قال غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمررنا على امراة مقتولة قد اجتمع عليها الناس فافرجوا له فقال (ما كانت هذه تقاتل فيمن يقاتل) . ثم قال لرجل (انطلق الى خالد بن الوليد فقل له ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرك يقول لا تقتلن ذرية ولا عسيفا). حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا قتيبة، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن المرقع، عن جده، رباح بن الربيع عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه. قال ابو بكر بن ابي شيبة يخطي الثوري فيه
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابنیٰ نامی بستی کی جانب بھیجا اور فرمایا: ابنیٰ میں صبح کے وقت جاؤ، اور اسے آگ لگا دو ۱؎۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، حدثنا وكيع، عن صالح بن ابي الاخضر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن اسامة بن زيد، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى قرية يقال لها ابنى فقال " ايت ابنى صباحا ثم حرق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کا باغ جلا دیا، اور کاٹ ڈالا، اس باغ کا نام بویرہ تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة» یعنی تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پہ باقی رہنے دیا یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا، اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے ( سورۃ الحشر: ۵ ) ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حرق نخل بني النضير وقطع . وهي البويرة فانزل الله عز وجل {ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة } الاية
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کے درخت جلا دئیے اور انہیں کاٹ دیا، اسی سے متعلق ایک شاعر کہتا ہے: «فهان على سراة بني لؤي حريق بالبويرة مستطير» بنی لؤی کے سرداروں کے لیے آسان ہوا، بویرہ میں آگ لگانا جو ہر طرف پھیلتی جا رہی تھی۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا عقبة بن خالد، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم حرق نخل بني النضير وقطع . وفيه يقول شاعرهم فهان على سراة بني لوى حريق بالبويرة مستطير
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبیلہ ہوازن سے جنگ کی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی فزارہ سے حاصل کی ہوئی ایک لونڈی مجھے بطور نفل ( انعام ) دی، وہ عرب کے خوبصورت ترین لوگوں میں سے تھی، اور پوستین پہنے ہوئی تھی، میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا تھا کہ مدینہ آیا، بازار میں میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی شان، تمہارا باپ بھی کیا خوب آدمی تھا! یہ لونڈی مجھے دے دو، میں نے وہ آپ کو ہبہ کر دی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لونڈی ان مسلمانوں کے عوض فدیہ میں دے دی جو مکہ میں تھے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، عن عكرمة بن عمار، عن اياس بن سلمة بن الاكوع، عن ابيه، قال غزونا مع ابي بكر هوازن على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فنفلني جارية من بني فزارة من اجمل العرب عليها قشع لها فما كشفت لها عن ثوب حتى اتيت المدينة فلقيني النبي صلى الله عليه وسلم في السوق فقال " لله ابوك هبها لي " . فوهبتها له فبعث بها ففادى بها اسارى من اسارى المسلمين كانوا بمكة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کا ایک گھوڑا چلا گیا، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا، پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وہ انہیں لوٹایا گیا، ان کا ایک غلام بھی بھاگ گیا، اور روم ( کے نصاریٰ ) سے جا ملا، پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کو واپس کر دیا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال ذهبت فرس له فاخذها العدو فظهر عليهم المسلمون فرد عليه في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال وابق عبد له فلحق بالروم فظهر عليهم المسلمون فرده عليه خالد بن الوليد بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اشبحع کے ایک شخص کا خیبر میں انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز ( جنازہ ) پڑھ لو، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا اور ان کے چہروں کے رنگ اڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں ( حاصل شدہ مال غنیمت میں ) خیانت کی ہے ۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو کیا دیکھتے ہیں کہ یہود کے مونگوں میں سے کچھ مونگے جو کہ دو درہم کے برابر تھے اس کے سامان میں موجود تھے۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابي عمرة، عن زيد بن خالد الجهني، قال توفي رجل من اشجع بخيبر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صلوا على صاحبكم " . فانكر الناس ذلك وتغيرت له وجوههم فلما راى ذلك قال " ان صاحبكم غل في سبيل الله " . قال زيد فالتمسوا في متاعه فاذا خرزات من خرز يهود ما تساوي درهمين
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی نگہبانی پر کرکرہ نامی ایک شخص تھا، اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہے ، لوگ اس کا سامان دیکھنے لگے تو اس میں ایک کملی یا عباء ملی جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا لی تھی۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن سالم بن ابي الجعد، عن عبد الله بن عمرو، قال كان على ثقل النبي صلى الله عليه وسلم رجل يقال له كركرة . فمات فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هو في النار " . فذهبوا ينظرون فوجدوا عليه كساء او عباءة قد غلها
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنگ حنین کے دن مال غنیمت کے ایک اونٹ کے پہلو میں نماز پڑھائی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ میں سے کوئی چیز لی جیسے اونٹ کا بال اور اسے اپنی انگلیوں سے پکڑا پھر فرمایا: لوگو! یہ بھی تمہارے مال غنیمت کا حصہ ہے، لہٰذا دھاگہ سوئی نیز اس سے چھوٹی اور بڑی چیز بھی جمع کر دو کیونکہ مال غنیمت میں خیانت ( چوری ) کرنے والے کے لیے قیامت کے دن باعث عار ( ندامت ) و شنار ( عیب ) اور باعث نار ( عذاب ) ہو گی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، عن ابي سنان، عيسى بن سنان عن يعلى بن شداد، عن عبادة بن الصامت، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين الى جنب بعير من المقاسم ثم تناول شييا من البعير فاخذ منه قردة - يعني وبرة - فجعل بين اصبعيه ثم قال " يا ايها الناس ان هذا من غنايمكم ادوا الخيط والمخيط فما فوق ذلك فما دون ذلك فان الغلول عار على اهله يوم القيامة وشنار ونار
حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں سے خمس ( پانچواں حصہ جو اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے ) نکال لینے کے بعد مال غنیمت کا ایک تہائی بطور نفل ہبہ اور عطیہ دیتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن يزيد بن يزيد بن جابر، عن مكحول، عن زيد بن جارية، عن حبيب بن مسلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نفل الثلث بعد الخمس
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن الحارث الزرقي، عن سليمان بن موسى، عن مكحول، عن ابي سلام الاعرج، عن ابي امامة، عن عبادة بن الصامت، ان النبي صلى الله عليه وسلم نفل في البداة الربع وفي الرجعة الثلث