Loading...

Loading...
کتب
۱۲۹ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے اس کی دغا بازی کے بقدر ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا ۔
حدثنا عمران بن موسى الليثي، حدثنا حماد بن زيد، انبانا علي بن زيد بن جدعان، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا انه ينصب لكل غادر لواء يوم القيامة بقدر غدرته
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے آئی، تو آپ نے ہم سے فرمایا: ( امام کی بات سنو اور مانو ) جہاں تک تمہارے اندر طاقت و قوت ہو، میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، انه سمع محمد بن المنكدر، قال سمعت اميمة بنت رقيقة، تقول جيت النبي صلى الله عليه وسلم في نسوة نبايعه فقال لنا " فيما استطعتن واطقتن اني لا اصافح النساء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مومن عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتیں تو اللہ تعالیٰ کے فرمان: «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» ( سورة الممتحنة: 12 ) اے نبی! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی چوری نہ کریں گی، زناکاری نہ کریں گی، اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں گی، اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی، جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی، تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے والا ہے کی رو سے ان کا امتحان لیا جاتا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مومن عورتوں میں سے جو اس آیت کے مطابق اقرار کرتی وہ امتحان میں پوری اتر جاتی، عورتیں اپنی زبان سے جب اس کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: جاؤ میں نے تم سے بیعت لے لی ہے اللہ کی قسم، رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہرگز کسی عورت کے ہاتھ سے کبھی نہیں لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں سے بیعت لیتے تو صرف زبان سے اتنا کہتے: میں نے تم سے بیعت لے لی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف وہی عہد لیا جس کا حکم آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہتھیلی نے کبھی کسی ( نامحرم ) عورت کی ہتھیلی کو مس نہ کیا، آپ ان سے عہد لیتے وقت یہ فرماتے: میں نے تم سے بیعت لے لی صرف زبانی یہ کہتے۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كانت المومنات اذا هاجرن الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يمتحن بقول الله {يا ايها النبي اذا جاءك المومنات يبايعنك } الى اخر الاية قالت عايشة فمن اقر بها من المومنات فقد اقر بالمحنة فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اقررن بذلك من قولهن قال لهن رسول الله صلى الله عليه وسلم " انطلقن فقد بايعتكن " . لا والله ما مست يد رسول الله صلى الله عليه وسلم يد امراة قط غير انه يبايعهن بالكلام . قالت عايشة والله ما اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم على النساء الا ما امره الله ولا مست كف رسول الله صلى الله عليه وسلم كف امراة قط وكان يقول لهن اذا اخذ عليهن " قد بايعتكن " . كلاما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دو گھوڑوں کے مابین ایک گھوڑا داخل کیا، اور اسے جیتنے کا یقین نہیں تو یہ جوا نہیں ہے، لیکن جس شخص نے دو گھوڑوں کے مابین ایک گھوڑا داخل کیا، اور اسے جیتنے کا یقین ہے تو یہ جوا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا سفيان بن حسين، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادخل فرسا بين فرسين وهو لا يامن ان يسبق فليس بقمار ومن ادخل فرسا بين فرسين وهو يامن ان يسبق فهو قمار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کو پھرتیلا بنایا، آپ پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کو مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک اور غیر پھرتیلے گھوڑوں کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑاتے تھے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال ضمر رسول الله صلى الله عليه وسلم الخيل فكان يرسل التي ضمرت من الحفياء الى ثنية الوداع والتي لم تضمر من ثنية الوداع الى مسجد بني زريق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسابقت ( آگے بڑھنے ) کی شرط گھوڑے اور اونٹ کے علاوہ کسی میں جائز نہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي الحكم، - مولى بني ليث - عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا سبق الا في خف او حافر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت اس خطرے کے پیش نظر فرمائی کہ کہیں اسے دشمن پا نہ لیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن سنان، وابو عمر قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يسافر بالقران الى ارض العدو مخافة ان يناله العدو
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے سے منع فرماتے تھے، کیونکہ یہ خطرہ ہے کہ کہیں دشمن اسے پا نہ لیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان ينهى ان يسافر بالقران الى ارض العدو مخافة ان يناله العدو
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور خیبر کے خمس مال میں سے جو حصہ آپ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا اس کے بارے میں گفتگو کرنے لگے، چنانچہ انہوں نے کہا: آپ نے ہمارے بھائی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو تو دے دیا، جب کہ ہماری اور بنی مطلب کی قرابت بنی ہاشم سے یکساں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کو ایک ہی سمجھتا ہوں ۱؎۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، حدثنا ايوب بن سويد، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، ان جبير بن مطعم، اخبره انه، جاء هو وعثمان بن عفان الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يكلمانه فيما قسم من خمس خيبر لبني هاشم وبني المطلب فقالا قسمت لاخواننا بني هاشم وبني المطلب وقرابتنا واحدة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ارى بني هاشم وبني المطلب شييا واحدا