احادیث
#2858
سنن ابن ماجہ - Striving in the Cause of Allah
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی فوجی دستے پر کسی شخص کو امیر متعین فرماتے تو اسے ذاتی طور پر اللہ سے ڈرتے رہنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتے، اور فرماتے: اللہ کے راستے میں اللہ کا نام لے کر لڑنا، جو اللہ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑنا، اور بدعہدی نہ کرنا، ( مال غنیمت میں ) خیانت نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا، اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا، جب مشرکوں میں سے اپنے دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو انہیں تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دینا، ان میں سے جس بات پر وہ راضی ہو جائیں اسے قبول کرنا، اور ان سے جنگ سے رک جانا ( سب سے پہلے ) انہیں اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ قبول کر لیں تو ان کا اسلام قبول کرنا، اور ان کے قتل سے باز رہنا، پھر انہیں گھربار چھوڑ کر مہاجرین کے ساتھ رہنے کی دعوت دینا، اور انہیں بتانا کہ اگر وہ ایسا گریں گے تو انہیں مہاجرین جیسے حقوق حاصل ہوں گے، اور جرم و سزا کا جو قانون مہاجرین کے لیے ہے وہی ان کے لیے بھی ہو گا، اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو انہیں بتانا کہ ان کا حکم اعرابی ( دیہاتی ) مسلمانوں جیسا ہو گا، اللہ تعالیٰ کے جو احکام مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں ان پر بھی جاری ہوں گے، لیکن مال غنیمت میں اور اس مال میں جو کافروں سے جنگ کے بغیر ہاتھ آ جائے، ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا، مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کریں، تو ان سے جزیہ دینے کا مطالبہ کرنا، اگر وہ جزیہ دیں تو ان سے قبول کرنا، اور ان سے اپنا ہاتھ روک لینا، اور اگر وہ انکار کریں تو ( کامیابی کے لیے ) اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا، اور ان سے جنگ کرنا، اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کر لو اور قلعہ والے تم سے اللہ اور نبی کا عہد کرانا چاہیں تو اللہ اور نبی کا عہد مت دینا، بلکہ اپنا، اپنے باپ کا، اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دینا، کیونکہ تم اپنا اور اپنے باپ کا ذمہ اللہ اور رسول کے ذمہ کے مقابلے میں آسانی سے توڑ سکتے ہو، اگر تم نے کسی قلعے کا محاصرہ کر لیا، اور وہ اللہ کے حکم پر اترنا چاہیں تو انہیں اللہ کے حکم پہ مت اتارنا، بلکہ اپنے حکم پہ اتارنا کیونکہ تمہیں کیا معلوم کہ ان کے بارے میں تم اللہ کے حکم پر چل رہے ہو یا نہیں ۱؎۔ علقمہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے بیان کی، انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم بن ہیضم نے بیان کی، مسلم نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف الفريابي، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا امر رجلا على سرية اوصاه في خاصة نفسه بتقوى الله ومن معه من المسلمين خيرا فقال " اغزوا باسم الله وفي سبيل الله قاتلوا من كفر بالله اغزوا ولا تغدروا ولا تغلوا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا واذا انت لقيت عدوك من المشركين فادعهم الى احدى ثلاث خلال او خصال فايتهن اجابوك اليها فاقبل منهم وكف عنهم ادعهم الى الاسلام فان اجابوك فاقبل منهم وكف عنهم ثم ادعهم الى التحول من دارهم الى دار المهاجرين واخبرهم ان هم فعلوا ذلك ان لهم ما للمهاجرين وان عليهم ما على المهاجرين وان ابوا فاخبرهم انهم يكونون كاعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المومنين ولا يكون لهم في الفىء والغنيمة شىء الا ان يجاهدوا مع المسلمين فان هم ابوا ان يدخلوا في الاسلام فسلهم اعطاء الجزية فان فعلوا فاقبل منهم وكف عنهم فان هم ابوا فاستعن بالله عليهم وقاتلهم وان حاصرت حصنا فارادوك ان تجعل لهم ذمة الله وذمة نبيك فلا تجعل لهم ذمة الله ولا ذمة نبيك ولكن اجعل لهم ذمتك وذمة ابيك وذمة اصحابك فانكم ان تخفروا ذمتكم وذمة ابايكم اهون عليكم من ان تخفروا ذمة الله وذمة رسوله وان حاصرت حصنا فارادوك ان ينزلوا على حكم الله فلا تنزلهم على حكم الله ولكن انزلهم على حكمك فانك لا تدري اتصيب فيهم حكم الله ام لا " . قال علقمة فحدثت به، مقاتل بن حيان فقال حدثني مسلم بن هيصم، عن النعمان بن مقرن، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Striving in the Cause of Allah
- Hadith Index
- #2858
- Book Index
- 106
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
