Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو نئی قبروں کے پاس سے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے ( کہ جس سے بچنا مشکل تھا ) ، ایک شخص تو پیشاب ( کی چھینٹوں ) سے نہیں بچتا تھا، اور دوسرا غیبت ( چغلی ) کیا کرتا تھا
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، ووكيع، عن الاعمش، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبرين جديدين فقال " انهما ليعذبان وما يعذبان في كبير اما احدهما فكان لا يستنزه من بوله واما الاخر فكان يمشي بالنميمة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ تر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكثر عذاب القبر من البول
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے ( جس سے بچنا مشکل تھا ) ایک شخص کو تو پیشاب کی چھینٹے سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے، اور دوسرا غیبت ( چغلی ) کرنے کی وجہ سے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا الاسود بن شيبان، حدثني بحر بن مرار، عن جده ابي بكرة، قال مر النبي صلى الله عليه وسلم بقبرين فقال " انهما ليعذبان وما يعذبان في كبير اما احدهما فيعذب في البول واما الاخر فيعذب في الغيبة
مہاجر بن قنفذ بن عمرو بن جدعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تمہارے سلام کا جواب دینے میں رکاوٹ والی چیز یہ تھی کہ میں باوضو نہ تھا
حدثنا اسماعيل بن محمد الطلحي، واحمد بن سعيد الدارمي، قالا حدثنا روح بن عبادة، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن حضين بن المنذر بن الحارث بن وعلة ابي ساسان الرقاشي، عن المهاجر بن قنفذ بن عمير بن جدعان، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتوضا فسلمت عليه فلم يرد على السلام فلما فرغ من وضويه قال " انه لم يمنعني من ان ارد عليك الا اني كنت على غير وضوء " . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا ابو حاتم، حدثنا الانصاري، عن سعيد بن ابي عروبة، فذكر نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس شخص نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ ہو گئے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پہ ماریں، اور تیمم کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مسلمة بن على، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال مر رجل على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فسلم عليه فلم يرد عليه فلما فرغ ضرب بكفيه الارض فتيمم ثم رد عليه السلام
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتَنِي عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَيَّ، فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا عيسى بن يونس، عن هاشم بن البريد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، ان رجلا، مر على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فسلم عليه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتني على مثل هذه الحالة فلا تسلم على فانك ان فعلت ذلك لم ارد عليك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، والحسين بن ابي السري العسقلاني، قالا حدثنا ابو داود، عن سفيان، عن الضحاك بن عثمان، عن نافع، عن ابن عمر، قال مر رجل على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فسلم عليه فلم يرد عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نہ دیکھا کہ آپ پاخانہ سے نکلے ہوں اور پانی نہ لیا ہو ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من غايط قط الا مس ماء
ابوایوب انصاری، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ( سورة التوبة: 108 ) ، اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے، تو وہ تمہاری کیسی طہارت ہے ، ان لوگوں نے کہا: ہماری طہارت یہ ہے کہ ہم لوگ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، اور جنابت ہونے سے غسل کرتے ہیں، اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کا ) یہی سبب ہے، لہٰذا تم لوگ اس طہارت پر کاربند رہو ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا عتبة بن ابي حكيم، حدثني طلحة بن نافع ابو سفيان، قال حدثني ابو ايوب الانصاري، وجابر بن عبد الله، وانس بن مالك، ان هذه الاية، نزلت {فيه رجال يحبون ان يتطهروا والله يحب المطهرين} قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر الانصار ان الله قد اثنى عليكم في الطهور فما طهوركم " . قالوا نتوضا للصلاة ونغتسل من الجنابة ونستنجي بالماء . قال " هو ذلك فعليكموه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرین کو تین بار دھوتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے بھی ایسے ہی کیا، تو اسے دوا اور پاکی دونوں پایا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن شريك، عن جابر، عن زيد العمي، عن ابي الصديق الناجي، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يغسل مقعدته ثلاثا . قال ابن عمر فعلناه فوجدناه دواء وطهورا . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا ابو حاتم، وابراهيم بن سليمان الواسطي، قالا حدثنا ابو نعيم، حدثنا شريك، نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آیت کریمہ اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ( سورة التوبة: 108 ) ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ پانی سے استنجاء کرتے تھے تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا معاوية بن هشام، عن يونس بن الحارث، عن ابراهيم بن ابي ميمونة، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نزلت في اهل قباء {فيه رجال يحبون ان يتطهروا والله يحب المطهرين} قال كانوا يستنجون بالماء فنزلت فيهم هذه الاية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی، پھر پانی کے برتن سے استنجاء کیا پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر دھویا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن شريك، عن ابراهيم بن جرير، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى حاجته ثم استنجى من تور ثم دلك يده بالارض . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا ابو حاتم، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، عن شريك، نحوه
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کی ایک جھاڑی میں داخل ہوئے، اور قضائے حاجت کی، جریر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک برتن لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے استنجاء کیا، اور اپنا ہاتھ مٹی سے رگڑ کر دھویا ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابان بن عبد الله، حدثني ابراهيم بن جرير، عن ابيه، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم دخل الغيضة فقضى حاجته فاتاه جرير باداوة من ماء فاستنجى منها ومسح يده بالتراب
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے مشکیزوں کے منہ باندھ کر اور برتنوں کو ڈھک کر رکھیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يعلى بن عبيد، حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال امرنا النبي صلى الله عليه وسلم ان نوكي اسقيتنا ونغطي انيتنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو تین برتن ڈھانپ کر رکھتی تھی، ایک برتن آپ کی طہارت ( وضو ) کے لیے، دوسرا آپ کی مسواک کے لیے، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے۔
حدثنا عصمة بن الفضل، ويحيى بن حكيم، قالا حدثنا حرمي بن عمارة بن ابي حفصة، حدثنا حريش بن الخريت، انبانا ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت كنت اضع لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة انية من الليل مخمرة اناء لطهوره واناء لسواكه واناء لشرابه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طہارت ( وضو ) کے برتن کو کسی دوسرے کے سپرد نہیں کرتے تھے، اور نہ اس چیز کو جس کو صدقہ کرنا ہوتا، بلکہ اس کا انتظام خود کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بدر، عباد بن الوليد حدثنا مطهر بن الهيثم، حدثنا علقمة بن ابي جمرة الضبعي، عن ابيه ابي جمرة الضبعي، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يكل طهوره الى احد ولا صدقته التي يتصدق بها يكون هو الذي يتولاها بنفسه
ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی پیشانی پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا: اے عراق والو! تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہوں تاکہ تم فائدے میں رہو اور میرے اوپر گناہ ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي رزين، قال رايت ابا هريرة يضرب جبهته بيده ويقول يا اهل العراق انتم تزعمون اني اكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم ليكون لكم المهنا وعلى الاثم اشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا ولغ الكلب في اناء احدكم فليغسله سبع مرات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا مالك بن انس، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا شرب الكلب في اناء احدكم فليغسله سبع مرات
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال کر پی لے تو اسے سات مرتبہ دھو ڈالو، اور آٹھویں مرتبہ مٹی مل کر دھوؤ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، حدثنا شعبة، عن ابي التياح، قال سمعت مطرفا، يحدث عن عبد الله بن المغفل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا ولغ الكلب في الاناء فاغسلوه سبع مرات وعفروه الثامنة بالتراب
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات مرتبہ دھوئے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابن ابي مريم، انبانا عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ولغ الكلب في اناء احدكم فليغسله سبع مرات