Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لیے باہر تشریف لے گئے، اور عمر رضی اللہ عنہ پیچھے سے پانی لے کر پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمر یہ کیا ہے؟ کہا: پانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں، تو وضو کروں، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عبد الله بن يحيى التوام، عن ابن ابي مليكة، عن امه، عن عايشة، قالت انطلق النبي صلى الله عليه وسلم يبول فاتبعه عمر بماء فقال " ما هذا يا عمر " . قال ماء . قال " ما امرت كلما بلت ان اتوضا ولو فعلت لكانت سنة
ابوسعید حمیری بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایسی احادیث بیان کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نہیں سنی ہوتی تھیں، چنانچہ جو حدیثیں سنی ہوئی ہوتیں ان کے بیان سے خاموش رہتے، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو ان کی یہ حالت اور بیان کردہ روایات پہنچیں تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا فرماتے ہوئے نہیں سنا، قریب ہے کہ معاذ تم کو قضائے حاجت کے مسئلے میں فتنے میں مبتلا کر دیں، یہ خبر معاذ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ ان سے جا کر ملے اور کہا: اے عبداللہ بن عمرو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو جھٹلانا نفاق ہے، اگر کہنے والے نے کوئی بات جھوٹ کہی تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعی یہ کہتے ہوئے سنا ہے: تین ایسی چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں: مسافروں کے وارد ہونے کی جگہوں پر، سائے دار درختوں کے نیچے، اور عام راستوں پر قضائے حاجت کرنے سے ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني نافع بن يزيد، عن حيوة بن شريح، ان ابا سعيد الحميري، حدثه قال كان معاذ بن جبل يتحدث بما لم يسمع اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ويسكت عما سمعوا فبلغ عبد الله بن عمرو ما يتحدث به فقال والله ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هذا واوشك معاذ ان يفتنكم في الخلاء . فبلغ ذلك معاذا فلقيه فقال معاذ يا عبد الله بن عمرو ان التكذيب بحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم نفاق وانما اثمه على من قاله لقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اتقوا الملاعن الثلاث البراز في الموارد والظل وقارعة الطريق
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور نماز پڑھنے سے بچو، اس لیے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے باربار آنے اور جانے کا راستہ ہے، اور وہاں قضائے حاجت سے بھی بچو اس لیے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عمرو بن ابي سلمة، عن زهير، قال قال سالم سمعت الحسن، يقول حدثنا جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اياكم والتعريس على جواد الطريق والصلاة عليها فانها ماوى الحيات والسباع وقضاء الحاجة عليها فانها من الملاعن
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں نماز پڑھنے یا پاخانہ پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا ابن لهيعة، عن قرة، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يصلى على قارعة الطريق او يضرب الخلاء عليها او يبال فيها
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور جاتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن المغيرة بن شعبة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا ذهب المذهب ابعد
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عمر بن عبيد، عن عمر بن المثنى، عن عطاء الخراساني، عن انس، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فتنحى لحاجته ثم جاء فدعا بوضوء فتوضا
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تو دور نکل جاتے۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا يحيى بن سليم، عن ابن خثيم، عن يونس بن خباب، عن يعلى بن مرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا ذهب الى الغايط ابعد
عبدالرحمٰن بن ابوقراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، آپ قضائے حاجت کے لیے دور نکل گئے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن ابي جعفر الخطمي، - قال ابو بكر بن ابي شيبة واسمه عمير بن يزيد - عن عمارة بن خزيمة، والحارث بن فضيل، عن عبد الرحمن بن ابي قراد، قال حججت مع النبي صلى الله عليه وسلم فذهب لحاجته فابعد
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله بن موسى، انبانا اسماعيل بن عبد الملك، عن ابي الزبير، عن جابر، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا ياتي البراز حتى يتغيب فلا يرى
بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور نکل جاتے۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا عبد الله بن كثير بن جعفر، حدثنا كثير بن عبد الله المزني، عن ابيه، عن جده، عن بلال بن الحارث المزني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد الحاجة ابعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو طاق استعمال کرے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہ کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو خلال کرے ( اور دانتوں سے کچھ نکلے ) تو اسے تھوک دے، اور جو چیز زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص قضائے حاجت کے لیے باہر میدان میں جائے تو آڑ میں ہو جائے، اگر آڑ کی جگہ نہ پائے اور ریت کا کوئی تودہ ہو تو اسی کی آڑ میں ہو جائے، اس لیے کہ شیطان انسانوں کی شرمگاہوں سے کھیل کرتا ہے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الملك بن الصباح، حدثنا ثور بن يزيد، عن حصين الحميري، عن ابي سعيد الخير، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من استجمر فليوتر من فعل ذلك فقد احسن ومن لا فلا حرج ومن تخلل فليلفظ ومن لاك فليبتلع من فعل ذلك فقد احسن ومن لا فلا حرج ومن اتى الخلاء فليستتر فان لم يجد الا كثيبا من رمل فليمدده عليه فان الشيطان يلعب بمقاعد ابن ادم من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج
اس سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: جو سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن عمر، حدثنا عبد الملك بن الصباح، باسناده نحوه وزاد فيه " ومن اكتحل فليوتر من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج ومن لاك فليبتلع
مرہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھ سے کہا: تم کھجور کے ان دونوں چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں باہم مل جانے کا حکم دے رہے ہیں ، چنانچہ حکم پاتے ہی وہ دونوں درخت باہم مل گئے ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی اور پھر مجھ سے فرمایا: ان دونوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ جائیں ۔ مرہ کہتے ہیں: میں نے جا کر ان سے یہ کہا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن المنهال بن عمرو، عن يعلى بن مرة، عن ابيه، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاراد ان يقضي حاجته فقال لي " ايت تلك الاشاءتين " . - قال وكيع يعني النخل الصغار . قال ابو بكر القصار - " فقل لهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامركما ان تجتمعا " . فاجتمعتا فاستتر بهما فقضى حاجته ثم قال لي " ايتهما فقل لهما لترجع كل واحدة منكما الى مكانها " . فقلت لهما فرجعتا
عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے وقت آڑ کے لیے ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سب سے زیادہ پسندیدہ تھے
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو النعمان، حدثنا مهدي بن ميمون، حدثنا محمد بن ابي يعقوب، عن الحسن بن سعد، عن عبد الله بن جعفر، قال كان احب ما استتر به النبي صلى الله عليه وسلم لحاجته هدف او حايش نخل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستہ چھوڑ کر ایک گھاٹی کی جانب مڑے اور پیشاب کیا، یہاں تک کہ مجھے ترس آتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیروں کو پیشاب کے وقت بہت زیادہ کشادہ کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن عقيل بن خويلد، حدثني حفص بن عبد الله، حدثني ابراهيم بن طهمان، عن محمد بن ذكوان، عن يعلى بن حكيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال عدل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الشعب فبال حتى اني اوي له من فك وركيه حين بال
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قضائے حاجت کے وقت دو آدمی آپس میں کانا پھوسی نہ کریں کہ آپس میں ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ رہا ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوتا ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن رجاء، انبانا عكرمة بن عمار، عن يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن عياض، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يتناجى اثنان على غايطهما ينظر كل واحد منهما الى عورة صاحبه فان الله عز وجل يمقت على ذلك " . حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سلم بن ابراهيم الوراق، حدثنا عكرمة، عن يحيى بن ابي كثير، عن عياض بن هلال، . قال محمد بن يحيى هو الصواب . حدثنا محمد بن حميد، حدثنا علي بن ابي بكر، عن سفيان الثوري، عن عكرمة بن عمار، عن يحيى بن ابي كثير، عن عياض بن عبد الله، نحوه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه نهى عن ان يبال في الماء الراكد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبولن احدكم في الماء الراكد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن المبارك، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا ابن ابي فروة، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبولن احدكم في الماء الناقع
عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا اور اس کی آڑ میں بیٹھ کر پیشاب کیا، کچھ لوگوں نے ( بطور استہزاء ) کہا کہ انہیں دیکھو ایسے پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا اور فرمایا: افسوس ہے تم پر، بنی اسرائیل کے ایک شخص کو جو مصیبت پہنچی، تمہیں اس کی خبر نہیں؟ ان کے کپڑوں میں پیشاب لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹتے تھے، ایک شخص نے انہیں اس عمل سے روک دیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، عن عبد الرحمن ابن حسنة، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي يده الدرقة فوضعها ثم جلس فبال اليها فقال بعضهم انظروا اليه يبول كما تبول المراة . فسمعه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ويحك اما علمت ما اصاب صاحب بني اسراييل كانوا اذا اصابهم البول قرضوه بالمقاريض فنهاهم عن ذلك فعذب في قبره " . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا ابو حاتم، حدثنا عبيد الله بن موسى، انبانا الاعمش، فذكر نحوه