Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو تم اس کی تصدیق نہ کرو، میں نے دیکھا ہے کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وسويد بن سعيد، واسماعيل بن موسى السدي، قالوا حدثنا شريك، عن المقدام بن شريح بن هاني، عن ابيه، عن عايشة، قالت من حدثك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بال قايما فلا تصدقه انا رايته يبول قاعدا
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا ابن جريج، عن عبد الكريم بن ابي امية، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، قال راني رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابول قايما فقال " يا عمر لا تبل قايما " . فما بلت قايما بعد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔ ابوالحسن القطان کہتے ہیں: میں نے ابوعبداللہ محمد بن یزید ( یعنی: ابن ماجہ ) سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ سفیان ثوری نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث: «أنا رأيته يبول قاعدا» کے بارے میں کہا کہ: مرد اس بات کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ جانتے ہیں، ( احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سفیان ثوری سے ملاقات نہیں ) ۔ احمد بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: عربوں کی عادت کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی تھی، کیا تم اسے عبدالرحمٰن بن حسنہ کی حدیث میں دیکھتے نہیں ہو؟ اس میں ہے: دیکھو! وہ عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں ۔
حدثنا يحيى بن الفضل، حدثنا ابو عامر، حدثنا عدي بن الفضل، عن علي بن الحكم، عن ابي نضرة، عن جابر بن عبد الله، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبول قايما . سمعت محمد بن يزيد ابا عبد الله يقول سمعت احمد بن عبد الرحمن المخزومي يقول قال سفيان الثوري - في حديث عايشة انا رايته يبول قاعدا - قال الرجل اعلم بهذا منها . قال احمد بن عبد الرحمن كان من شان العرب البول قايما الا تراه في حديث عبد الرحمن ابن حسنة يقول قعد يبول كما تبول المراة
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ اپنے داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الحميد بن حبيب بن ابي العشرين، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، حدثني عبد الله بن ابي قتادة، اخبرني ابي انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا بال احدكم فلا يمس ذكره بيمينه ولا يستنج بيمينه " . حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، باسناده نحوه
عقبہ بن صہبان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس ہاتھ کے ذریعہ بیعت کی نہ تو میں نے گانا گایا، اور نہ جھوٹ بولا، اور نہ اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے چھوا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا الصلت بن دينار، عن عقبة بن صهبان، قال سمعت عثمان بن عفان، يقول ما تغنيت ولا تمنيت ولا مسست ذكري بيميني منذ بايعت بها رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، وعبد الله بن رجاء المكي، عن محمد بن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استطاب احدكم فلا يستطب بيمينه ليستنج بشماله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے ایسا ہی ہوں جیسے باپ اپنے بیٹے کے لیے، میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلے کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین پتھروں سے استنجاء کرنے کا حکم دیا، اور گوبر اور ہڈی سے، اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع کیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن ابن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما انا لكم مثل الوالد لولده اعلمكم اذا اتيتم الغايط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها " . وامر بثلاثة احجار ونهى عن الروث والرمة ونهى ان يستطيب الرجل بيمينه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے اور فرمایا: میرے پاس تین پتھر لاؤ ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو پتھر اور گوبر کا ایک ٹکڑا لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پتھر لے لیے اور گوبر پھینک دیا، اور فرمایا: یہ ناپاک ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن زهير، عن ابي اسحاق، - قال ليس ابو عبيدة ذكره ولكن عبد الرحمن بن الاسود - عن الاسود، عن عبد الله بن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى الخلاء فقال " ايتني بثلاثة احجار " . فاتيته بحجرين وروثة فاخذ الحجرين والقى الروثة وقال " هي رجس
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: استنجاء کے لیے تین پتھر ہوں جن میں گوبر نہ ہو ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، جميعا عن هشام بن عروة، عن ابي خزيمة، عن عمارة بن خزيمة، عن خزيمة بن ثابت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " في الاستنجاء ثلاثة احجار ليس فيها رجيع
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے کسی مشرک نے بطور استہزاء کے کہا: میں تمہارے ساتھی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں ہر چیز سکھاتے ہیں، یہاں تک کہ قضائے حاجت کے آداب بھی بتاتے ہیں! سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ نہ کریں، دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کریں، اور تین پتھر سے کم استعمال نہ کریں، ان میں کوئی گوبر ہو نہ ہڈی۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن منصور، والاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن سلمان، قال قال له بعض المشركين وهم يستهزيون به اني ارى صاحبكم يعلمكم كل شىء حتى الخراءة . قال اجل امرنا ان لا نستقبل القبلة وان لا نستنجي بايماننا ولا نكتفي بدون ثلاثة احجار ليس فيها رجيع ولا عظم
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: کوئی شخص قبلہ رو ہو کر ہرگز پیشاب نہ کرے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے لوگوں سے یہ حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، انه سمع عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي، يقول انا اول، من سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يبولن احدكم مستقبل القبلة " . وانا اول من حدث الناس بذلك
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: مشرق ( پورب ) کی طرف منہ کرو، یا پچھم کی طرف ۱؎۔
حدثنا ابو الطاهر، احمد بن عمرو بن السرح انبانا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد، انه سمع ابا ايوب الانصاري، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يستقبل الذي يذهب الى الغايط القبلة وقال " شرقوا او غربوا
معقل بن ابومعقل اسدی رضی اللہ عنہ (جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب اور پاخانے کے وقت دونوں قبلوں ( مسجد الحرام اور بیت المقدس ) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، عن سليمان بن بلال، حدثني عمرو بن يحيى المازني، عن ابي زيد، مولى الثعلبيين عن معقل بن ابي معقل الاسدي، وقد صحب النبي صلى الله عليه وسلم قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلتين بغايط او ببول
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رو ہو کر پاخانہ اور پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا ابن لهيعة، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، حدثني ابو سعيد الخدري، انه شهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم انه نهى ان نستقبل القبلة بغايط او ببول
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پانی پینے سے، اور قبلہ رو ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
قال ابو الحسن بن سلمة وحدثناه ابو سعد، عمير بن مرداس الدونقي حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم ابو يحيى البصري، حدثنا ابن لهيعة، عن ابي الزبير، عن جابر، انه سمع ابا سعيد الخدري، يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهاني ان اشرب قايما وان ابول مستقبل القبلة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو، حالانکہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ یزید بن ہارون کی حدیث ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الحميد بن حبيب، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن سعيد الانصاري، ح وحدثنا ابو بكر بن خلاد، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا يحيى بن سعيد، ان محمد بن يحيى بن حبان، اخبره ان عمه واسع بن حبان اخبره ان عبد الله بن عمر قال يقول اناس اذا قعدت للغايط فلا تستقبل القبلة ولقد ظهرت ذات يوم من الايام على ظهر بيتنا فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدا على لبنتين مستقبل بيت المقدس . هذا حديث يزيد بن هارون
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا، لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن عيسى الحناط، عن نافع، عن ابن عمر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم في كنيفه مستقبل القبلة . قال عيسى فقلت ذلك للشعبي فقال صدق ابن عمر وصدق ابو هريرة اما قول ابي هريرة فقال في الصحراء لا يستقبل القبلة ولا يستدبرها واما قول ابن عمر فان الكنيف ليس فيه قبلة استقبل فيه حيث شيت . قال ابو الحسن بن سلمة وحدثنا ابو حاتم، حدثنا عبيد الله بن موسى، فذكر نحوه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ذکر ہوا کہ کچھ لوگ بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ سمجھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ عملی طور پر بھی اجتناب کرتے ہوں گے۔ میری جائے ضرورت کا رخ قبلہ کی طرف کر دو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن حماد بن سلمة، عن خالد الحذاء، عن خالد بن ابي الصلت، عن عراك بن مالك، عن عايشة، قالت ذكر عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قوم يكرهون ان يستقبلوا بفروجهم القبلة فقال " اراهم قد فعلوها استقبلوا بمقعدتي القبلة " . قال ابو الحسن القطان حدثنا يحيى بن عبيد، حدثنا عبد العزيز بن المغيرة، عن خالد الحذاء، عن خالد بن ابي الصلت، مثله
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کرنے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر آپ کے انتقال سے ایک سال پہلے میں نے دیکھا قضائے حاجت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ قبلہ کی طرف ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت محمد بن اسحاق، عن ابان بن صالح، عن مجاهد، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلة ببول فرايته قبل ان يقبض بعام يستقبلها
یزداد یمانی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو تین مرتبہ سونت لے ( زور سے دبا کر کھینچے تاکہ اس کے اندر جو قطرات ہیں، وہ نکل جائیں ) ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا زمعة بن صالح، عن عيسى بن يزداد اليماني، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا بال احدكم فلينتر ذكره ثلاث مرات " . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا ابو نعيم، حدثنا زمعة، فذكر نحوه