Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو فرماتے تھے، اور ایک صاع پانی سے غسل ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ابي ريحانة، عن سفينة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا بالمد ويغتسل بالصاع
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو فرماتے تھے، اور ایک صاع پانی سے غسل۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن همام، عن قتادة، عن صفية بنت شيبة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا بالمد ويغتسل بالصاع
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد پانی سے وضو، اور ایک صاع پانی سے غسل کیا کرتے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الربيع بن بدر، حدثنا ابو الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتوضا بالمد ويغتسل بالصاع
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں ایک مد اور غسل میں ایک صاع پانی کافی ہے ، اس پر ایک شخص نے کہا: ہمیں اتنا پانی کافی نہیں ہوتا، تو انہوں نے کہا: تم سے بہتر ذات کو، اور تم سے زیادہ بالوں والے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کافی ہو جاتا تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن المومل بن الصباح، وعباد بن الوليد، قالا حدثنا بكر بن يحيى بن زبان، حدثنا حبان بن علي، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل بن ابي طالب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يجزي من الوضوء مد ومن الغسل صاع " . فقال رجل لا يجزينا . فقال قد كان يجزي من هو خير منك واكثر شعرا . يعني النبي صلى الله عليه وسلم
اسامہ بن عمیر ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر وضو کے قبول نہیں فرماتا، اور نہ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، ح وحدثنا بكر بن خلف ابو بشر، ختن المقري حدثنا يزيد بن زريع، قالوا حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي المليح بن اسامة، عن ابيه، اسامة بن عمير الهذلي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقبل الله صلاة الا بطهور ولا يقبل صدقة من غلول " . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد بن سعيد، وشبابة بن سوار، عن شعبة، نحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی بھی نماز بغیر پاکی ( وضو ) کے اور کوئی بھی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں کرتا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا اسراييل، عن سماك، ح وحدثنا محمد بن يحيى، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، عن مصعب بن سعد، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقبل الله صلاة الا بطهور ولا صدقة من غلول
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر پاکی ( وضو ) کے اور کوئی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں فرماتا ۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا ابو زهير، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سنان بن سعد، عن انس بن مالك، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يقبل الله صلاة بغير طهور ولا يقبل صدقة من غلول
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کوئی نماز بغیر پاکی ( وضو ) کے اور کوئی صدقہ چوری کے مال سے قبول نہیں فرماتا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عقيل، حدثنا الخليل بن زكريا، حدثنا هشام بن حسان، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقبل الله صلاة بغير طهور ولا صدقة من غلول
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت ( وضو ) ہے، اور ( دوران نماز ممنوع چیزوں کو ) حرام کر دینے والی چیز تکبیر ( تحریمہ ) ہے، اور ( نماز سے باہر ) امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن محمد ابن الحنفية، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی پاکی ( وضو ) ہے، اور اس کی منافی چیزیں پہلی تکبیر تحریمہ سے حرام ہو جاتی ہیں، اور اس ( یعنی نماز ) سے باہر امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام پھیرنا ہے ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن ابي سفيان، طريف السعدي ح وحدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا ابو معاوية، عن ابي سفيان السعدي، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو ۱؎، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکو گے، اور تم جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن کرتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " استقيموا ولن تحصوا واعلموا ان خير اعمالكم الصلاة ولا يحافظ على الوضوء الا مومن
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راہ استقامت پر قائم رہو، تم ساری نیکیوں کا احاطہٰ نہیں کر سکتے، اور جان لو کہ تمہارا سب سے افضل عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے ۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن حبيب، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن ليث، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " استقيموا ولن تحصوا واعلموا ان من افضل اعمالكم الصلاة ولا يحافظ على الوضوء الا مومن
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم استقامت پر قائم رہو، اور کیا ہی بہتر ہے، اگر تم اس پر قائم رہ سکو، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا يحيى بن ايوب، حدثني اسحاق بن اسيد، عن ابي حفص الدمشقي، عن ابي امامة، يرفع الحديث قال " استقيموا ونعما ان تستقيموا وخير اعمالكم الصلاة ولا يحافظ على الوضوء الا مومن
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل وضو کرنا نصف ایمان ہے ۱؎، اور «الحمد لله» میزان کو ( ثواب سے ) بھر دیتا ہے، اور «سبحان الله»، «الله أكبر» آسمان و زمین کو ( ثواب سے ) بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے، اور زکاۃ برہان ( دلیل و حجت ) ہے، اور صبر ( دل کی ) روشنی ہے، اور قرآن دلیل و حجت ہے، ہر شخص صبح کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کو بیچنے والا ہوتا ہے، پھر وہ یا تو اسے ( جہنم سے ) آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کر دیتا ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابور، اخبرني معاوية بن سلام، عن اخيه، انه اخبره عن جده ابي سلام، عن عبد الرحمن بن غنم، عن ابي مالك الاشعري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اسباغ الوضوء شطر الايمان والحمد لله تملا الميزان والتسبيح والتكبير ملء السموات والارض والصلاة نور والزكاة برهان والصبر ضياء والقران حجة لك او عليك كل الناس يغدو فبايع نفسه فمعتقها او موبقها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی وضو کرتا ہے، اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، اور اس کے گھر سے نکلنے کا سبب صرف نماز ہی ہوتی ہے، تو اس کے ہر قدم کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احدكم اذا توضا فاحسن الوضوء ثم اتى المسجد لا ينهزه الا الصلاة لم يخط خطوة الا رفعه الله عز وجل بها درجة وحط عنه بها خطيية حتى يدخل المسجد
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تو اس کے گناہ ناک اور منہ سے نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنا منہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے منہ سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں پاؤں سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، اور اس کی نماز اور مسجد کی جانب اس کا جانا ثواب مزید کا باعث ہوتا ہے ۱؎
حدثنا سويد بن سعيد، حدثني حفص بن ميسرة، حدثني زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله الصنابحي، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من توضا فمضمض واستنشق خرجت خطاياه من فمه وانفه فاذا غسل وجهه خرجت خطاياه من وجهه حتى تخرج من تحت اشفار عينيه فاذا غسل يديه خرجت خطاياه من يديه فاذا مسح راسه خرجت خطاياه من راسه حتى تخرج من اذنيه فاذا غسل رجليه خرجت خطاياه من رجليه حتى تخرج من تحت اظفار رجليه وكانت صلاته ومشيه الى المسجد نافلة
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ وضو کرتا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے ہاتھوں سے جھڑ جاتے ہیں، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے چہرے سے جھڑ جاتے ہیں، اور جب اپنے بازو دھوتا ہے اور سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ بازوؤں اور سر سے جھڑ جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے پاؤں سے جھڑ جاتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا غندر، محمد بن جعفر عن شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن يزيد بن طلق، عن عبد الرحمن بن البيلماني، عن عمرو بن عبسة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان العبد اذا توضا فغسل يديه خرت خطاياه من يديه فاذا غسل وجهه خرت خطاياه من وجهه فاذا غسل ذراعيه ومسح براسه خرت خطاياه من ذراعيه وراسه فاذا غسل رجليه خرت خطاياه من رجليه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو قیامت کے دن کیسے پہچانیں گے جن کو آپ نے دیکھا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانی، ہاتھ اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا ابو الوليد، هشام بن عبد الملك حدثنا حماد، عن عاصم، عن زر بن حبيش، ان عبد الله بن مسعود، قال قيل يا رسول الله كيف تعرف من لم تر من امتك قال " غر محجلون بلق من اثار الطهور " . قال ابو الحسن القطان حدثنا ابو حاتم، حدثنا ابو الوليد، فذكر مثله
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مسجد کے قریب چبوترے پہ بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے وضو کا پانی منگایا، اور وضو کیا، پھر کہنے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی بیٹھنے کی جگہ پر دیکھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس بشارت سے دھوکے میں نہ آ جانا ( کہ نیک اعمال چھوڑ دو ) ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثنا يحيى بن ابي كثير، حدثني محمد بن ابراهيم، حدثني شقيق بن سلمة، حدثني حمران، مولى عثمان بن عفان قال رايت عثمان بن عفان قاعدا في المقاعد فدعا بوضوء فتوضا ثم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم في مقعدي هذا توضا مثل وضويي هذا ثم قال " من توضا مثل وضويي هذا غفر له ما تقدم من ذنبه " . وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ولا تغتروا " . حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الحميد بن حبيب، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى، حدثني محمد بن ابراهيم، حدثني عيسى بن طلحة، حدثني حمران، عن عثمان، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے تو مسواک سے دانت و منہ صاف کرتے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو معاوية، وابي، عن الاعمش، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، وحصين، عن ابي وايل، عن حذيفة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام من الليل يتهجد يشوص فاه بالسواك