Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہما جو ابوقتادہ کی بہو تھیں کہتی ہیں کہ انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے وضو کے لیے پانی نکالا تو ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، میں ان کی جانب حیرت سے دیکھنے لگی تو انہوں نے کہا: بھتیجی! تمہیں تعجب ہو رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بلی ناپاک نہیں ہے وہ گھروں میں گھومنے پھرنے والوں یا والیوں میں سے ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، انبانا مالك بن انس، اخبرني اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة الانصاري، عن حميدة بنت عبيد بن رفاعة، عن كبشة بنت كعب، وكانت، تحت بعض ولد ابي قتادة انها صبت لابي قتادة ماء يتوضا به فجاءت هرة تشرب فاصغى لها الاناء فجعلت انظر اليه فقال يا ابنة اخي اتعجبين قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها ليست بنجس هي من الطوافين او الطوافات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے وضو کیا کرتے تھے اور اس سے پہلے بلی اس میں سے پی چکی ہوتی تھی۔
حدثنا عمرو بن رافع، واسماعيل بن توبة، قالا حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن حارثة، عن عمرة، عن عايشة، قالت كنت اتوضا انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد قد اصابت منه الهرة قبل ذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلی نماز کو نہیں توڑتی، اس لیے کہ وہ گھر کے سامانوں میں سے ایک سامان ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبيد الله بن عبد المجيد، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن ابيه، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الهرة لا تقطع الصلاة لانها من متاع البيت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی نے لگن سے غسل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور اس بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو کرنا چاہا تو وہ بولیں: اے اللہ کے رسول! میں ناپاک تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اغتسل بعض ازواج النبي صلى الله عليه وسلم في جفنة فجاء النبي صلى الله عليه وسلم ليغتسل او يتوضا فقالت يا رسول الله اني كنت جنبا . فقال " الماء لا يجنب
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی نے غسل جنابت کیا، پھر ان کے بچے ہوئے پانی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو یا غسل کیا
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان امراة، من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم اغتسلت من جنابة فتوضا او اغتسل النبي صلى الله عليه وسلم من فضل وضويها
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا۔
حدثنا محمد بن المثنى، ومحمد بن يحيى، واسحاق بن منصور، قالوا حدثنا ابو داود، حدثنا شريك، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن ميمونة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا بفضل غسلها من الجنابة
حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، عن عاصم الاحول، عن ابي حاجب، عن الحكم بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يتوضا الرجل بفضل وضوء المراة
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے، البتہ دونوں ایک ساتھ شروع کریں۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: صحیح پہلی حدیث یعنی حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی ہے، اور دوسری حدیث یعنی عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی وہم ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا المعلى بن اسد، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن سرجس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يغتسل الرجل بفضل وضوء المراة والمراة بفضل الرجل ولكن يشرعان جميعا . قال ابو عبد الله بن ماجه الصحيح هو الاول والثاني وهم . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا ابو حاتم، وابو عثمان البخاري قالا حدثنا المعلى بن اسد، نحوه
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، اور کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کرتا تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبيد الله، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم واهله يغتسلون من اناء واحد ولا يغتسل احدهما بفضل صاحبه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، عن خالته، ميمونة قالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا نے لگن جیسے ایک برتن سے غسل کیا جس میں آٹے کے اثرات تھے
حدثنا ابو عامر الاشعري عبد الله بن عامر، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا ابراهيم بن نافع، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ام هاني، ان النبي صلى الله عليه وسلم اغتسل وميمونة من اناء واحد في قصعة فيها اثر العجين
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن الحسن الاسدي، حدثنا شريك، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وازواجه يغتسلون من اناء واحد
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، انها كانت ورسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسلان من اناء واحد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مرد و عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ہی برتن سے وضو کیا کرتے تھے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مالك بن انس، حدثني نافع، عن ابن عمر، قال كان الرجال والنساء يتوضيون على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم من اناء واحد
ام صبیہ جہنیہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اکثر میرا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ایک ہی برتن سے وضو کرتے وقت ٹکرا جایا کرتا تھا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد کو کہتے ہوئے سنا کہ ام صبیہ یہ خولہ بنت قیس ہیں اور میں نے اس کا ذکر ابوزرعہ سے کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا انس بن عياض، حدثنا اسامة بن زيد، عن سالم ابي النعمان، - وهو ابن سرج - عن ام صبية الجهنية، قالت ربما اختلفت يدي ويد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الوضوء من اناء واحد . قال ابو عبد الله ابن ماجه سمعت محمدا يقول ام صبية هي خولة بنت قيس . فذكرت لابي زرعة فقال صدق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نماز کے لیے ایک ہی ساتھ وضو کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا داود بن شبيب، حدثنا حبيب بن ابي حبيب، عن عمرو بن هرم، عن عكرمة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انهما كانا يتوضان جميعا للصلاة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے «لیلۃالجن» ( جنوں سے ملاقات والی رات ) میں فرمایا: کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟ ، انہوں نے کہا: برتن میں تھوڑے سے نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی کا شربت ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ۱؎۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن ابيه، ح وحدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، عن سفيان، عن ابي فزارة العبسي، عن ابي زيد، مولى عمرو بن حريث عن عبد الله بن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له ليلة الجن " عندك طهور " . قال لا الا شىء من نبيذ في اداوة . قال " تمرة طيبة وماء طهور " . فتوضا . هذا حديث وكيع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «لیلۃالجن» میں فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں، چھاگل ( مشک ) میں نبیذ کے سوا کچھ نہیں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے، میرے اوپر ڈالو ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انڈیلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ۱؎۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا ابن لهيعة، حدثنا قيس بن الحجاج، عن حنش الصنعاني، عن عبد الله بن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لابن مسعود ليلة الجن " معك ماء " . قال لا الا نبيذا في سطيحة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تمرة طيبة وماء طهور صب على " . قال فصببت عليه فتوضا به
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں، اگر ہم اس پانی سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی بذات خود پاک ہے، اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اس کا مردار حلال ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مالك بن انس، حدثني صفوان بن سليم، عن سعيد بن سلمة، - هو من ال ابن الازرق - ان المغيرة بن ابي بردة، - وهو من بني عبد الدار - حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله انا نركب البحر ونحمل معنا القليل من الماء فان توضانا به عطشنا افنتوضا من ماء البحر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو الطهور ماوه الحل ميتته