Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
ابن الفراسی کہتے ہیں کہ میں شکار کیا کرتا تھا، میرے پاس ایک مشک تھی، جس میں میں پانی رکھتا تھا، اور میں نے سمندر کے پانی سے وضو کر لیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے، اور پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا يحيى بن بكير، حدثني الليث بن سعد، عن جعفر بن ربيعة، عن بكر بن سوادة، عن مسلم بن مخشي، عن ابن الفراسي، قال كنت اصيد وكانت لي قربة اجعل فيها ماء واني توضات بماء البحر فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " هو الطهور ماوه الحل ميتته
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو القاسم بن ابي الزناد، قال حدثني اسحاق بن حازم، عن عبيد الله، - هو ابن مقسم - عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن ماء البحر فقال " هو الطهور ماوه الحل ميتته " . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا علي بن الحسن الهسنجاني، حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو القاسم بن ابي الزناد، حدثني اسحاق بن حازم، عن عبيد الله، - هو ابن مقسم - عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ واپس ہوئے تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دھونے لگے تو جبہ کی آستین تنگ پڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے، انہیں دھویا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن مسلم بن صبيح، عن مسروق، عن المغيرة بن شعبة، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم لبعض حاجته فلما رجع تلقيته بالاداوة فصببت عليه فغسل يديه ثم غسل وجهه ثم ذهب يغسل ذراعيه فضاقت الجبة فاخرجهما من تحت الجبة فغسلهما ومسح على خفيه ثم صلى بنا
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ڈالو ۱؎، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا الهيثم بن جميل، حدثنا شريك، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الربيع بنت معوذ، قالت اتيت النبي صلى الله عليه وسلم بميضاة فقال " اسكبي " . فسكبت فغسل وجهه وذراعيه واخذ ماء جديدا فمسح به راسه مقدمه وموخره وغسل قدميه ثلاثا ثلاثا
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر و حضر میں کئی بار وضو کرایا ۱؎۔
حدثنا بشر بن ادم، حدثنا زيد بن الحباب، حدثني الوليد بن عقبة، حدثني حذيفة بن ابي حذيفة الازدي، عن صفوان بن عسال، قال صببت على النبي صلى الله عليه وسلم الماء في السفر والحضر في الوضوء
رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی ام عیاش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراتی تھی، میں کھڑی ہوتی تھی اور آپ بیٹھے ہوتے۔
حدثنا كردوس بن ابي عبد الله الواسطي، حدثنا عبد الكريم بن روح، حدثنا ابي روح بن عنبسة بن سعيد بن ابي عياش، مولى عثمان بن عفان عن ابيه، عنبسة بن سعيد عن جدته ام ابيه ام عياش، وكانت، امة لرقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كنت اوضي رسول الله صلى الله عليه وسلم انا قايمة وهو قاعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص رات کو سو کر بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، جب تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پہ پانی نہ بہا لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني الزهري، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن انهما حدثاه ان ابا هريرة كان يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استيقظ احدكم من الليل فلا يدخل يده في الاناء حتى يفرغ عليها مرتين او ثلاثا فان احدكم لا يدري فيم باتت يده
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن لهيعة، وجابر بن اسماعيل، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استيقظ احدكم من نومه فلا يدخل يده في الاناء حتى يغسلها
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے اٹھے، اور وضو کرنا چاہے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے، جب تک کہ اسے دھو نہ لے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا، اور اس نے اسے کس چیز پہ رکھا ۔
حدثنا اسماعيل بن توبة، حدثنا زياد بن عبد الله البكايي، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قام احدكم من النوم فاراد ان يتوضا فلا يدخل يده في وضويه حتى يغسلها فانه لا يدري اين باتت يده ولا على ما وضعها
حارث کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے پانی منگایا اور برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن الحارث، قال دعا علي بماء فغسل يديه قبل ان يدخلهما الاناء ثم قال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو وضو سے پہلے «بسم اللہ» نہ کہے اس کا وضو نہیں ۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا زيد بن الحباب، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، ح وحدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو احمد الزبيري، قالوا حدثنا كثير بن زيد، عن ربيح بن عبد الرحمن بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي سعيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں، اور جس نے «بسم اللہ» نہیں کہا، اس کا وضو نہیں ہوا ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا يزيد بن عياض، حدثنا ابو ثفال، عن رباح بن عبد الرحمن بن ابي سفيان، انه سمع جدته بنت سعيد بن زيد، تذكر انها سمعت اباها، سعيد بن زيد يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا صلاة لمن لا وضوء له ولا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں، اور جس نے «بسم اللہ» نہیں کہا، اس کا وضو نہیں ہوا ۔
حدثنا ابو كريب، وعبد الرحمن بن ابراهيم، قالا حدثنا ابن ابي فديك، حدثنا محمد بن موسى بن ابي عبد الله، عن يعقوب بن سلمة الليثي، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا صلاة لمن لا وضوء له ولا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جو وضو کے وقت «بسم اللہ» نہ پڑھے، اور اس شخص کی نماز نہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی نماز نہیں جو انصار سے محبت نہ کرے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا ابن ابي فديك، عن عبد المهيمن بن عباس بن سهل بن سعد الساعدي، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة لمن لا وضوء له ولا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه ولا صلاة لمن لا يصلي على النبي صلى الله عليه وسلم ولا صلاة لمن لا يحب الانصار " . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا ابو حاتم، حدثنا عبيس بن مرحوم العطار، حدثنا عبد المهيمن بن عباس، فذكر نحوه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب طہارت ( وضو و غسل ) کرتے اور جب کنگھا کرتے، اور جب جوتے پہنتے تو دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن اشعث بن ابي الشعثاء، ح وحدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عمر بن عبيد الطنافسي، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يحب التيمن في الطهور اذا تطهر وفي ترجله اذا ترجل وفي انتعاله اذا انتعل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم وضو کرو تو داہنے اعضاء سے شروع کرو ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو جعفر النفيلي، حدثنا زهير بن معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا توضاتم فابدءوا بميامنكم " . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا ابو حاتم، حدثنا يحيى بن صالح، وابن، نفيل وغيرهما قالوا حدثنا زهير، فذكر نحوه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی چڑھایا۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، وابو بكر بن خلاد الباهلي حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مضمض واستنشق من غرفة واحدة
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ایک ہی چلو سے تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شريك، عن خالد بن علقمة، عن عبد خير، عن علي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا فمضمض ثلاثا واستنشق ثلاثا من كف واحد
عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے وضو کے لیے پانی مانگا، ہم نے پانی حاضر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو الحسين العكلي، عن خالد بن عبد الله، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد الانصاري، قال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالنا وضوءا فاتيته بماء فمضمض واستنشق من كف واحد
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے استعمال کرو ۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حماد بن زيد، عن منصور، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن سلمة بن قيس، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا توضات فانثر واذا استجمرت فاوتر