Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مکمل طور پر وضو کرو، اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو، الا یہ کہ تم روزے سے ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شي��ة، حدثنا يحيى بن سليم الطايفي، عن اسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لقيط بن صبرة، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله اخبرني عن الوضوء، . قال " اسبغ الوضوء وبالغ في الاستنشاق الا ان تكون صايما
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بار یا تین بار اچھی طرح ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسحاق بن سليمان، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ذيب، عن قارظ بن شيبة، عن ابي غطفان المري، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " استنثروا مرتين بالغتين او ثلاثا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرے تو اچھی طرح ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑے، اور جب استنجاء کرے تو طاق ڈھیلے استعمال کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، وداود بن عبد الله، قالا حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا فليستنثر ومن استجمر فليوتر
ثابت بن ابوصفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر سے پوچھا: کیا آپ کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا، کہا: ہاں، میں نے کہا: اور دو دو بار اور تین تین بار؟ کہا: ہاں
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا شريك بن عبد الله النخعي، عن ثابت بن ابي صفية الثمالي، قال سالت ابا جعفر قلت له حدثت عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا مرة مرة قال نعم . قلت ومرتين مرتين وثلاثا ثلاثا قال نعم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اعضاء وضو کو ایک ایک چلو سے دھویا۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن سفيان، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا غرفة غرفة
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں دیکھا کہ آپ نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا رشدين بن سعد، انبانا الضحاك بن شرحبيل، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك توضا واحدة واحدة
شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اعضاء وضو کو تین تین بار دھوتے تھے، اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ایسا ہی تھا۔
حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم الدمشقي، عن ابن ثوبان، عن عبدة بن ابي لبابة، عن شقيق بن سلمة، قال رايت عثمان وعليا يتوضان ثلاثا ثلاثا ويقولان هكذا كان وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو الحسن بن سلمة حدثناه ابو حاتم، حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، فذكر نحوه
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب، عن ابن عمر، انه توضا ثلاثا ثلاثا ورفع ذلك الى النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا خالد بن حيان، عن سالم ابي المهاجر، عن ميمون بن مهران، عن عايشة، وابي، هريرة ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا ثلاثا ثلاثا
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور سر کا مسح ایک بار کیا۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عيسى بن يونس، عن فايد ابي الورقاء بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ثلاثا ثلاثا ومسح راسه مرة
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعضاء وضو کو تین تین بار دھوتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، عن سفيان، عن ليث، عن شهر بن حوشب، عن ابي مالك الاشعري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا ثلاثا ثلاثا
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الربيع بنت معوذ بن عفراء، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ثلاثا ثلاثا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا، اور فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بغیر نماز قبول نہیں فرماتا ، پھر دو دو بار دھویا، اور فرمایا: یہ ایک مناسب درجے کا وضو ہے ، اور پھر تین تین بار دھویا، اور فرمایا: یہ سب سے کامل وضو ہے اور یہی میرا اور اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کا وضو ہے، جس شخص نے اس طرح وضو کیا ، پھر وضو سے فراغت کے بعد کہا: «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس سے چاہے داخل ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثني مرحوم بن عبد العزيز العطار، حدثني عبد الرحيم بن زيد العمي، عن ابيه، عن معاوية بن قرة، عن ابن عمر، قال توضا رسول الله صلى الله عليه وسلم واحدة واحدة فقال " هذا وضوء من لا يقبل الله منه صلاة الا به " . ثم توضا ثنتين ثنتين فقال " هذا وضوء القدر من الوضوء " . وتوضا ثلاثا ثلاثا وقال " هذا اسبغ الوضوء وهو وضويي ووضوء خليل الله ابراهيم ومن توضا هكذا ثم قال عند فراغه اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله فتح له ثمانية ابواب الجنة يدخل من ايها شاء
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا، اور ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، اور فرمایا: یہ وضو کے صحیح ہونے کی لازمی مقدار ہے ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: یہ اس کا وضو ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی بھی نماز قبول نہیں فرماتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا، اور فرمایا: یہ وضو اس درجہ کا ہے کہ جو ایسا وضو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر دے گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور فرمایا: یہ میرا وضو ہے، اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کا وضو ہے ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا اسماعيل بن قعنب ابو بشر، حدثنا عبد الله بن عرادة الشيباني، عن زيد بن الحواري، عن معاوية بن قرة، عن عبيد بن عمير، عن ابى بن كعب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا بماء فتوضا مرة مرة فقال " هذا وظيفة الوضوء " . او قال " وضوء من لم يتوضاه لم يقبل الله له صلاة " . ثم توضا مرتين مرتين ثم قال " هذا وضوء من توضاه اعطاه الله كفلين من الاجر " . ثم توضا ثلاثا ثلاثا فقال " هذا وضويي ووضوء المرسلين من قبلي
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں وسوسہ ڈالنے کے کام کے لیے ایک شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے، لہٰذا تم پانی کے وسوسوں سے بچو ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا خارجة بن مصعب، عن يونس بن عبيد، عن الحسن، عن عتى بن ضمرة السعدي، عن ابى بن كعب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان للوضوء شيطانا يقال له ولهان فاتقوا وسواس الماء
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، اور آپ سے وضو کے سلسلے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کر کے اسے دکھایا، پھر فرمایا: یہی ( مکمل ) وضو ہے، لہٰذا جس نے اس سے زیادہ کیا اس نے برا کیا، یا حد سے تجاوز کیا، یا ظلم کیا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا خالي، يعلى عن سفيان، عن موسى بن ابي عايشة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن الوضوء فاراه ثلاثا ثلاثا ثم قال " هذا الوضوء فمن زاد على هذا فقد اساء وتعدى او ظلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، اور آپ نے ایک پرانے مشکیزے سے بہت ہی ہلکا وضو کیا، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎۔
حدثنا ابو اسحاق الشافعي، ابراهيم بن محمد بن العباس حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع كريبا، يقول سمعت ابن عباس، يقول بت عند خالتي ميمونة فقام النبي صلى الله عليه وسلم فتوضا من شنة وضوءا يقلله فقمت فصنعت كما صنع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اسراف ( فضول خرچی ) نہ کرو، اسراف ( فضول خرچی ) نہ کرو ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية، عن محمد بن الفضل، عن ابيه، عن سالم، عن ابن عمر، قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يتوضا فقال " لا تسرف لا تسرف
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ وضو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسا اسراف ہے؟ ، انہوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں چاہے تم بہتی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن حيى بن عبد الله المعافري، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بسعد وهو يتوضا فقال " ما هذا السرف " . فقال افي الوضوء اسراف قال " نعم وان كنت على نهر جار
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کامل وضو کا حکم دیا ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا موسى بن سالم ابو جهضم، حدثنا عبد الله بن عبيد الله بن عباس، عن ابن عباس، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم باسباغ الوضوء