Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ( غسل ) پانی ( منی نکلنے ) سے ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابن السايب، عن عبد الرحمن بن سعاد، عن ابي ايوب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الماء من الماء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔
حدثنا علي بن محمد الطنافسي، وعبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، انبانا عبد الرحمن بن القاسم، اخبرنا القاسم بن محمد، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت اذا التقى الختانان فقد وجب الغسل فعلته انا ورسول الله صلى الله عليه وسلم فاغتسلنا
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی، پھر ہمیں بعد میں غسل کا حکم دیا گیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، انبانا يونس، عن الزهري، قال قال سهل بن سعد الساعدي انبانا ابى بن كعب، قال انما كانت رخصة في اول الاسلام ثم امرنا بالغسل بعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورت کے چار زانوؤں کے درمیان بیٹھے، پھر مجامعت کرے، تو غسل واجب ہو گیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الفضل بن دكين، عن هشام الدستوايي، عن قتادة، عن الحسن، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا جلس الرجل بين شعبها الاربع ثم جهدها فقد وجب الغسل
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں اور حشفہ ( سپاری ) چھپ جائے، تو غسل واجب ہو گیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن حجاج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا التقى الختانان وتوارت الحشفة فقد وجب الغسل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، اور تری دیکھے، لیکن احتلام یاد نہ ہو تو غسل کر لے، اور اگر احتلام یاد ہو لیکن تری نہ دیکھے تو اس پر غسل نہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حماد بن خالد، عن العمري، عن عبيد الله، عن القاسم، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا استيقظ احدكم من نومه فراى بللا ولم ير انه احتلم اغتسل واذا راى انه قد احتلم ولم ير بللا فلا غسل عليه
ابوالسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: میری طرف پیٹھ کر لو تو میں پیٹھ آپ کی طرف کر لیتا، اور کپڑا پھیلا کر پردہ کر دیتا۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، وابو حفص عمرو بن علي الفلاس ومجاهد بن موسى قالوا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا يحيى بن الوليد، اخبرني محل بن خليفة، حدثني ابو السمح، قال كنت اخدم النبي صلى الله عليه وسلم فكان اذا اراد ان يغتسل قال " ولني " . فاوليه قفاى وانشر الثوب فاستره به
عبداللہ بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں: میں نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں نفل نماز پڑھی ہے؟ تو مجھے کوئی بتانے والا نہیں ملا، یہاں تک کہ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال آئے، پھر آپ نے ایک پردہ لگانے کا حکم دیا، پردہ کر دیا گیا، تو آپ نے غسل کیا، پھر نفل کی آٹھ رکعتیں پڑھیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عبد الله بن عبد الله بن نوفل، انه قال سالت فلم اجد احدا يخبرني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سبح في سفر حتى اخبرتني ام هاني بنت ابي طالب انه قدم عام الفتح فامر بستر فستر عليه فاغتسل ثم سبح ثماني ركعات
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھلے میدان میں یا چھت پر بغیر پردہ کے کوئی شخص ہرگز غسل نہ کرے، اگر وہ کسی کو نہ دیکھتا ہو تو اسے تو کوئی دیکھ سکتا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبيد بن ثعلبة الحماني، حدثنا عبد الحميد ابو يحيى الحماني، حدثنا الحسن بن عمارة، عن المنهال بن عمرو، عن ابي عبيدة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يغتسلن احدكم بارض فلاة ولا فوق سطح لا يواريه فان لم يكن يرى فانه يرى
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص قضائے حاجت کا ارادہ کرے، اور نماز کے لیے اقامت کہی جائے، تو پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو لے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن ارقم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اراد احدكم الغايط واقيمت الصلاة فليبدا به
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی نماز پڑھے اور وہ پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے ہو۔
حدثنا بشر بن ادم، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا معاوية بن صالح، عن السفر بن نسير، عن يزيد بن شريح، عن ابي امامة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يصلي الرجل وهو حاقن
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی پیشاب یا پاخانہ کی اذیت و تکلیف کی حالت میں نماز کے لیے نہ کھڑا ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن ادريس الاودي، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقوم احدكم الى الصلاة وبه اذى
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے نماز کے لیے نہ کھڑا ہو جب تک کہ وہ قضائے حاجت کر کے ہلکا نہ ہو جائے ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية، عن حبيب بن صالح، عن ابي حى الموذن، عن ثوبان، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يقوم احد من المسلمين وهو حاقن حتى يتخفف
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور آپ سے ( کثرت ) خون کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رگ کا خون ہے، تم دیکھتی رہو جب مدت حیض آئے تو نماز نہ پڑھو، اور جب حیض گزر جائے تو غسل کرو، پھر دوسرے حیض کے آنے تک نماز پڑھتی رہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله، عن المنذر بن المغيرة، عن عروة بن الزبير، ان فاطمة بنت ابي حبيش، حدثته انها، اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فشكت اليه الدم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك عرق فانظري اذا اتى قروك فلا تصلي فاذا مر القرء فتطهري ثم صلي ما بين القرء الى القرء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے مسلسل خون آتا رہتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ رگ کا خون ہے، حیض نہیں ہے جب حیض آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو خون دھو کر ( یعنی غسل کر کے ) نماز پڑھو ۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، حدثنا حماد بن زيد، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاءت فاطمة بنت ابي حبيش الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني امراة استحاض فلا اطهر افادع الصلاة قال " لا انما ذلك عرق وليس بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي " . هذا حديث وكيع
ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے بہت لمبا استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس سے متعلق بتانے اور فتوی پوچھنے کے لیے آئی، میں نے آپ کو اپنی بہن زینب رضی اللہ عنہا کے پاس پایا، میں نے عرض کیا: اے رسول اللہ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خاتون! تجھے کیا کام ہے؟ میں نے کہا: مجھے ایک لمبے عرصہ تک خون آتا رہتا ہے جو نماز اور روزہ میں رکاوٹ کا سبب ہے، آپ اس سلسلے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں ( اس کو شرمگاہ پہ رکھ لیا کرو ) کیونکہ یہ خون جذب کر لے گی ، میں نے عرض کیا: خون اس سے بھی زیادہ ہے، پھر راوی نے شریک کے ہم معنی حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، - املاء على من كتابه وكان السايل غيري - انبانا ابن جريج عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن ابراهيم بن محمد بن طلحة عن عمر بن طلحة عن ام حبيبة بنت جحش قالت كنت استحاض حيضة كثيرة طويلة . قالت فجيت الى النبي صلى الله عليه وسلم استفتيه واخبره . قالت فوجدته عند اختي زينب . قالت قلت يا رسول الله ان لي اليك حاجة . قال " وما هي اى هنتاه " . قلت اني استحاض حيضة طويلة كبيرة وقد منعتني الصلاة والصوم فما تامرني فيها قال " انعت لك الكرسف فانه يذهب الدم " . قلت هو اكثر . فذكر نحو حديث شريك
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، پاک نہیں رہتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ جن دنوں میں تمہیں حیض آتا ہے اتنے دن نماز چھوڑ دو ، ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی حدیث میں کہا: ہر مہینہ سے بقدر ایام حیض نماز چھوڑ دو، پھر غسل کرو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر نماز ادا کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، قالت سالت امراة النبي صلى الله عليه وسلم قالت اني استحاض فلا اطهر افادع الصلاة قال " لا ولكن دعي قدر الايام والليالي التي كنت تحيضين " . قال ابو بكر في حديثه " وقدرهن من الشهر ثم اغتسلي واستثفري بثوب وصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے جس سے میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں ہے، اپنے حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھو، پھر غسل کرو اور ہر نماز کے لیے الگ وضو کرو، ( اور نماز پڑھو ) خواہ خون چٹائی ہی پر کیوں نہ ٹپکے ۔
حدثنا علي بن محمد، وابو بكر بن ابي شيبة قالا حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت جاءت فاطمة بنت ابي حبيش الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني امراة استحاض فلا اطهر افادع الصلاة قال " لا انما ذلك عرق وليس بالحيضة اجتنبي الصلاة ايام محيضك ثم اغتسلي وتوضيي لكل صلاة وان قطر الدم على الحصير
عدی بن ثابت کے دادا دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور روزے رکھے اور نماز پڑھے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، واسماعيل بن موسى، قالا حدثنا شريك، عن ابي اليقظان، عن عدي بن ثابت، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المستحاضة تدع الصلاة ايام اقرايها ثم تغتسل وتتوضا لكل صلاة وتصوم وتصلي
عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھی، جو سات برس تک استحاضہ میں مبتلا رہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ ایک رگ کا خون ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو غسل کرو، اور نماز پڑھو ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں پھر نماز پڑھتی تھیں، اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ایک ٹب میں بیٹھا کرتی تھیں یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو المغيرة، حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، وعمرة بنت عبد الرحمن، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت استحيضت ام حبيبة بنت جحش وهي تحت عبد الرحمن بن عوف سبع سنين فشكت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان هذه ليست بالحيضة وانما هو عرق فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغتسلي وصلي " . قالت عايشة فكانت تغتسل لكل صلاة ثم تصلي وكانت تقعد في مركن لاختها زينب بنت جحش حتى ان حمرة الدم لتعلو الماء