Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے، تو وضو کر لے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم الاحول، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتى احدكم اهله ثم اراد ان يعود فليتوضا
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ساری بیویوں کے پاس ہو آنے کے بعد آخر میں ایک غسل کر لیتے تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى ابو موسى، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، وابو احمد عن سفيان، عن معمر، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يطوف على نسايه في غسل واحد
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ نے رات میں اپنی ساری بیویوں سے صحبت کے بعد ( ایک ہی ) غسل کیا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن صالح بن ابي الاخضر، عن الزهري، عن انس، قال وضعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم غسلا فاغتسل من جميع نسايه في ليلة
ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آئے ۱؎، اور ہر ایک کے پاس غسل کرتے رہے، آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ آخر میں ایک ہی غسل کیوں نہیں کر لیتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: یہ طریقہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور بہترین ہے ۲؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا عبد الصمد، حدثنا حماد، حدثنا عبد الرحمن بن ابي رافع، عن عمته، سلمى عن ابي رافع، ان النبي صلى الله عليه وسلم طاف على نسايه في ليلة وكان يغتسل عند كل واحدة منهن فقيل له يا رسول الله الا تجعله غسلا واحدا فقال " هو ازكى واطيب واطهر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو وضو کر لیتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن علية، وغندر، ووكيع، عن شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان ياكل وهو جنب توضا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنبی کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ ( بحالت جنابت ) سو سکتا ہے، یا کھا پی سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب وہ نماز جیسا وضو کر لے ۔
حدثنا محمد بن عمر بن هياج، حدثنا اسماعيل بن صبيح، حدثنا ابو اويس، عن شرحبيل بن سعد، عن جابر بن عبد الله، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن الجنب هل ينام او ياكل او يشرب قال " نعم اذا توضا وضوءه للصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھو لیتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن يونس، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان ياكل وهو جنب غسل يديه
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء جاتے اور اپنی حاجت پوری فرماتے، پھر واپس آ کر ہمارے ساتھ روٹی اور گوشت کھاتے، قرآن پڑھتے، آپ کو قرآن پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی چیز نہ روکتی تھی ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، قال دخلت على علي بن ابي طالب فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ياتي الخلاء فيقضي الحاجة ثم يخرج فياكل معنا الخبز واللحم ويقرا القران ولا يحجبه - وربما قال ولا يحجزه - عن القران شىء الا الجنابة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھیں ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقرا القران الجنب ولا الحايض
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنبی اور حائضہ کچھ بھی قرآن نہ پڑھیں ۔
قال ابو الحسن وحدثنا ابو حاتم، حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقرا الجنب والحايض شييا من القران
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم بالوں کو دھویا کرو، اور بدن کی جلد کو صاف کیا کرو ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا الحارث بن وجيه، حدثنا مالك بن دينار، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشرة
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزانہ پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، اور امانت کی ادائیگی ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں ، میں نے پوچھا: امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غسل جنابت، کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثني عتبة بن ابي حكيم، حدثني طلحة بن نافع، حدثني ابو ايوب الانصاري، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الصلوات الخمس والجمعة الى الجمعة واداء الامانة كفارة لما بينها " . قلت وما اداء الامانة قال " غسل الجنابة فان تحت كل شعرة جنابة
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غسل جنابت کے وقت اپنے جسم سے ایک بال کی مقدار بھی چھوڑ دیا اور اسے نہ دھویا، تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا اور ایسا کیا جائے گا ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کر لی، وہ اپنے بال خوب کاٹ ڈالتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الاسود بن عامر، حدثنا حماد بن سلمة، عن عطاء بن السايب، عن زاذان، عن علي بن ابي طالب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ترك موضع شعرة من جسده من جنابة لم يغسلها فعل به كذا وكذا من النار " . قال علي فمن ثم عاديت شعري . وكان يجزه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور آپ سے پوچھا کہ اگر عورت خواب میں ویسا ہی دیکھے جیسا مرد دیکھتا ہے تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب پانی ( منی ) دیکھے تو غسل کرے ، میں نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: تم نے تو عورتوں کو رسوا کیا یعنی ان کی جگ ہنسائی کا سامان مہیا کرا دیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھلا ہو، اگر ایسا نہیں ہوتا تو کس وجہ سے بچہ اس کے مشابہ ہوتا ہے؟ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب بنت ام سلمة، عن امها ام سلمة، قالت جاءت ام سليم الى النبي صلى الله عليه وسلم فسالته عن المراة ترى في منامها ما يرى الرجل قال " نعم اذا رات الماء فلتغتسل " . فقلت فضحت النساء وهل تحتلم المراة قال النبي صلى الله عليه وسلم " تربت يمينك فبم يشبهها ولدها اذا
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ عورت اپنے خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ ایسا دیکھے اور اسے انزال ہو، تو اس پر غسل ہے ، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے، اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس کا پانی پہلے ماں کے رحم ( بچہ دانی ) میں پہنچ جائے یا غالب رہے، بچہ اسی کے ہم شکل ہوتا ہے ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، وعبد الاعلى، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس، ان ام سليم، سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المراة ترى في منامها ما يرى الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رات ذلك فانزلت فعليها الغسل " . فقالت ام سلمة يا رسول الله ايكون هذا قال " نعم ماء الرجل غليظ ابيض وماء المراة رقيق اصفر فايهما سبق او علا اشبهه الولد
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورت کے اپنے خواب میں اس چیز کے دیکھنے سے متعلق سوال کیا جو مرد دیکھتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک انزال نہ ہو اس پر غسل نہیں، جیسے مرد پر بغیر انزال کے غسل نہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن خولة بنت حكيم، انها سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المراة ترى في منامها ما يرى الرجل فقال " ليس عليها غسل حتى تنزل كما انه ليس على الرجل غسل حتى ينزل
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں چوٹی کو مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں، کیا اسے غسل جنابت کے لیے کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں یہی کافی ہے کہ تین چلو پانی لے کر اپنے سر پر بہا لو پھر پورے بدن پر پانی ڈالو، پاک ہو جاؤ گی ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اس وقت تم پاک ہو گئیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب بن موسى، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن عبد الله بن رافع، عن ام سلمة، قالت قلت يا رسول الله اني امراة اشد ضفر راسي افانقضه لغسل الجنابة فقال " انما يكفيك ان تحثي عليه ثلاث حثيات من ماء ثم تفيضي عليك من الماء فتطهرين " . او قال " فاذا انت قد طهرت
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنی بیویوں کو غسل کے وقت چوٹی کھولنے کا حکم دیتے ہیں، تو فرمایا: عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے، وہ عورتوں کو سر منڈانے کا حکم کیوں نہیں دے دیتے، بیشک میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین چلو سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ايوب، عن ابي الزبير، عن عبيد بن عمير، قال بلغ عايشة ان عبد، الله بن عمرو يامر نساءه اذا اغتسلن ان ينقضن رءوسهن فقالت يا عجبا لابن عمرو هذا افلا يامرهن ان يحلقن رءوسهن لقد كنت انا ورسول الله صلى الله عليه وسلم نغتسل من اناء واحد فلا ازيد على ان افرغ على راسي ثلاث افراغات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے ، پھر کسی نے کہا: ابوہریرہ! تب وہ کیا کرے؟ کہا: اس میں سے پانی لے لے کر غسل کرے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عيسى، وحرملة بن يحيى المصريان، قالا حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، ان ابا السايب، مولى هشام بن زهرة حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يغتسل احدكم في الماء الدايم وهو جنب " . فقال كيف يفعل يا ابا هريرة فقال يتناوله تناولا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر قبیلہ انصار کے ایک شخص کے پاس ہوا، آپ نے اسے بلوایا، وہ آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید ہم نے تم کو جلد بازی میں ڈال دیا ، اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جلد بازی میں ڈال دئیے جاؤ، یا جماع انزال ہونے سے قبل موقوف کرنا پڑے تو تم پر غسل واجب نہیں بلکہ وضو کافی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا غندر، محمد بن جعفر عن شعبة، عن الحكم، عن ذكوان، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على رجل من الانصار فارسل اليه فخرج راسه يقطر فقال " لعلنا اعجلناك " . قال نعم يا رسول الله . قال " اذا اعجلت او اقحطت فلا غسل عليك وعليك الوضوء