Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین میرے لیے نماز کی جگہ اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، ح وحدثنا ابو اسحاق الهروي، حدثنا اسماعيل بن جعفر، جميعا عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " جعلت لي الارض مسجدا وطهورا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃً لیا، اور وہ کھو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈھونڈنے کے لیے کچھ لوگوں کو بھیجا، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، لوگوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی، جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے تو آپ سے اس کی شکایت کی، تو اس وقت تیمم کی آیت نازل ہوئی، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کو کوئی مشکل پیش آئی، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نجات کا راستہ پیدا فرما دیا، اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت رکھ دی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، انها استعارت من اسماء قلادة فهلكت فارسل النبي صلى الله عليه وسلم اناسا في طلبها فادركتهم الصلاة فصلوا بغير وضوء فلما اتوا النبي صلى الله عليه وسلم شكوا ذلك اليه فنزلت اية التيمم فقال اسيد بن حضير جزاك الله خيرا فوالله ما نزل بك امر قط الا جعل الله لك منه مخرجا وجعل للمسلمين فيه بركة
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا اور پانی نہیں پایا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ ایک لشکر میں تھے، ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہ مل سکا تو آپ نے نماز نہیں پڑھی، اور میں مٹی میں لوٹا، اور نماز پڑھ لی، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا کافی تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان دونوں میں پھونک ماری، اور اپنے چہرے اور دونوں پہنچوں پر اسے مل لیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ذر، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، ان رجلا، اتى عمر بن الخطاب فقال اني اجنبت فلم اجد الماء . فقال عمر لا تصل . فقال عمار بن ياسر اما تذكر يا امير المومنين اذ انا وانت في سرية فاجنبنا فلم نجد الماء فاما انت فلم تصل واما انا فتمعكت في التراب فصليت فلما اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له . فقال " انما كان يكفيك " . وضرب النبي صلى الله عليه وسلم بيديه الى الارض ثم نفخ فيهما ومسح بهما وجهه وكفيه
حکم اور سلمہ بن کہیل نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا، پھر عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، اور انہیں جھاڑ کر اپنے چہرے پر مل لیا۔ حکم کی روایت میں «يديه» اور سلمہ کی روایت میں «مرفقيه» کا لفظ ہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن ابن ابي ليلى، عن الحكم، وسلمة بن كهيل، انهما سالا عبد الله بن ابي اوفى عن التيمم، فقال امر النبي صلى الله عليه وسلم عمارا ان يفعل هكذا وضرب بيديه الى الارض ثم نفضهما ومسح على وجهه . قال الحكم ويديه . وقال سلمة ومرفقيه
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیمم کیا، تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا، تو انہوں نے اپنی ہتھیلیاں مٹی پر ماریں اور ہاتھ میں کچھ بھی مٹی نہ لی، پھر اپنے چہروں پر ایک بار مل لیا، پھر دوبارہ اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا، اور اپنے ہاتھوں پر مل لیا ۱؎۔
حدثنا ابو الطاهر، احمد بن عمرو بن السرح المصري حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عمار بن ياسر، حين تيمموا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر المسلمين فضربوا باكفهم التراب ولم يقبضوا من التراب شييا فمسحوا بوجوههم مسحة واحدة ثم عادوا فضربوا باكفهم الصعيد مرة اخرى فمسحوا بايديهم
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کے سر میں زخم ہو گیا، پھر اسے احتلام ہوا، تو لوگوں نے اسے غسل کا حکم دیا، اس نے غسل کر لیا جس سے اسے ٹھنڈ کی بیماری ہو گئی، اور وہ مر گیا، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں ہلاک کرے، کیا عاجزی ( لاعلمی کا علاج مسئلہ ) پوچھ لینا نہ تھا ۔ عطاء نے کہا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کاش وہ اپنا جسم دھو لیتا اور اپنے سر کا زخم والا حصہ چھوڑ دیتا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الحميد بن حبيب بن ابي العشرين، حدثنا الاوزاعي، عن عطاء بن ابي رباح، قال سمعت ابن عباس، يخبر ان رجلا، اصابه جرح في راسه على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم اصابه احتلام فامر بالاغتسال فاغتسل فكز فمات فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " قتلوه قتلهم الله افلم يكن شفاء العي السوال " . قال عطاء وبلغنا ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو غسل جسده وترك راسه حيث اصابه الجراح
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا اور برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر انڈیلا، اور دونوں ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پہ پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اور اپنا چہرہ اور بازو تین تین بار دھویا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر غسل کی جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، مولى ابن عباس حدثنا ابن عباس، عن خالته، ميمونة قالت وضعت للنبي صلى الله عليه وسلم غسلا فاغتسل من الجنابة فاكفا الاناء بشماله على يمينه فغسل كفيه ثلاثا ثم افاض على فرجه ثم دلك يده في الارض ثم مضمض واستنشق وغسل وجهه ثلاثا وذراعيه ثلاثا ثم افاض الماء على ساير جسده ثم تنحى فغسل رجليه
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ہم نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالتے، پھر انہیں برتن میں داخل کرتے، پھر اپنا سر تین مرتبہ دھوتے، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے، لیکن ہم عورتیں تو اپنے سر کو چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار دھوتی تھیں۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا صدقة بن سعيد الحنفي، حدثنا جميع بن عمير التيمي، قال انطلقت مع عمتي وخالتي فدخلنا على عايشة فسالناها كيف كان يصنع رسول الله صلى الله عليه وسلم عند غسله من الجنابة قالت كان يفيض على كفيه ثلاث مرات ثم يدخلها في الاناء ثم يغسل راسه ثلاث مرات ثم يفيض على جسده ثم يقوم الى الصلاة واما نحن فانا نغسل رءوسنا خمس مرار من اجل الضفر
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل جنابت کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنے سر پہ تین چلو پانی ڈالتا ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن سليمان بن صرد، عن جبير بن مطعم، قال تماروا في الغسل من الجنابة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انا فافيض على راسي ثلاث اكف
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تین بار ( سارے جسم پر پانی بہائیں ) تو وہ کہنے لگا: میرے بال زیادہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ بال والے تھے، اور تم سے زیادہ پاک و صاف رہتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، ح وحدثنا ابو كريب، حدثنا ابن فضيل، جميعا عن فضيل بن مرزوق، عن عطية، عن ابي سعيد، ان رجلا، ساله عن الغسل، من الجنابة فقال ثلاثا . فقال الرجل ان شعري كثير . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اكثر شعرا منك واطيب
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سرد علاقہ میں رہتا ہوں، غسل جنابت کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتا ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، قال حدثنا حفص بن غياث، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، قال قلت يا رسول الله انا في، ارض باردة فكيف الغسل من الجنابة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انا فاحثو على راسي ثلاثا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا: جب میں غسل جنابت کروں تو اپنے سر پر کتنا پانی ڈالوں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین پانی چلو ڈالتے تھے، اس پر اس شخص نے کہا: میرے بال لمبے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ بال والے، اور زیادہ پاک و صاف رہنے والے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، ساله رجل كم افيض على راسي وانا جنب قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحثو على راسه ثلاث حثيات . قال الرجل ان شعري طويل . قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اكثر شعرا منك واطيب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعبد الله بن عامر بن زرارة، واسماعيل بن موسى السدي، قالوا حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يتوضا بعد الغسل من الجنابة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شريك، عن حريث، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل من الجنابة ثم يستدفي بي قبل ان اغتسل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے، اور پانی چھوے بغیر سو جاتے، پھر اس کے بعد اٹھتے اور غسل فرماتے
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجنب ثم ينام ولا يمس ماء حتى يقوم بعد ذلك فيغتسل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر اپنی بیوی سے کوئی حاجت ہوتی تو اسے پوری فرماتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ان كانت له الى اهله حاجة قضاها ثم ينام كهييته لا يمس ماء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز یہ حدیث بیان کی تو مجھ سے اسماعیل نے کہا: اے نوجوان! اس حدیث کو کسی دوسری حدیث سے تقویت دی جانی چاہیئے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجنب ثم ينام كهييته لا يمس ماء . قال سفيان فذكرت الحديث يوما فقال لي اسماعيل يا فتى يشد هذا الحديث بشىء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے، اور جنبی ہوتے تو نماز جیسا وضو کرتے۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان ينام وهو جنب توضا وضوءه للصلاة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب وضو کر لے ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان عمر بن الخطاب، قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ايرقد احدنا وهو جنب قال " نعم اذا توضا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں رات میں جنابت لاحق ہوتی اور سونا چاہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے کہ وہ وضو کر کے سوئیں۔
حدثنا ابو مروان العثماني، محمد بن عثمان حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن عبد الله بن خباب، عن ابي سعيد الخدري، انه كان تصيبه الجنابة بالليل فيريد ان ينام فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يتوضا ثم ينام