Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا، اور ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا ابو مصعب المدني، حدثنا عبد المهيمن بن العباس بن سهل بن سعد الساعدي، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين وامرنا بالمسح على الخفين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ آپ نے فرمایا: کچھ پانی ہے ؟، پھر آپ نے وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا، پھر لشکر میں شامل ہوئے اور ان کی امامت فرمائی۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عمر بن عبيد الطنافسي، حدثنا عمر بن المثنى، عن عطاء الخراساني، عن انس بن مالك، قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فقال " هل من ماء " . فتوضا ومسح على خفيه ثم لحق بالجيش فامهم
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سیاہ سادے موزے بطور ہدیہ پیش کئے، آپ نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا دلهم بن صالح الكندي، عن حجير بن عبد الله الكندي، عن ابن بريدة، عن ابيه، ان النجاشي، اهدى للنبي صلى الله عليه وسلم خفين اسودين ساذجين فلبسهما ثم توضا ومسح عليهما
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزے کے اوپر اور نیچے مسح کیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ثور بن يزيد، عن رجاء بن حيوة، عن وراد، كاتب المغيرة بن شعبة عن المغيرة بن شعبة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح اعلى الخف واسفله
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہا تھا، اور اپنے دونوں موزوں کو دھو رہا تھا، آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، گویا آپ اسے روک رہے ہیں، اور فرمایا: تمہیں تو ( موزوں پر ) صرف مسح کا حکم دیا گیا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح کیا یعنی انگلیوں کے کناروں سے خط کھینچتے ہوئے پنڈلیوں کی جڑ تک لے گئے
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، قال حدثنا بقية، عن جرير بن يزيد، قال حدثني منذر، حدثني محمد بن المنكدر، عن جابر، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل يتوضا ويغسل خفيه فقال بيده كانه دفعه " انما امرت بالمسح " . وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده هكذا من اطراف الاصابع الى اصل الساق وخطط بالاصابع
شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے پوچھو، اس لیے کہ وہ اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن تک مسح کرے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحكم، قال سمعت القاسم بن مخيمرة، عن شريح بن هاني، قال سالت عايشة عن المسح، على الخفين فقالت ايت عليا فسله فانه اعلم بذلك مني . فاتيت عليا فسالته عن المسح فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا ان نمسح للمقيم يوما وليلة وللمسافر ثلاثة ايام
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن تک کی اجازت دی ہے اور اگر پوچھنے والا اپنے سوال کو جاری رکھتا تو شاید اسے آپ پانچ دن کر دیتے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابيه، عن ابراهيم التيمي، عن عمرو بن ميمون، عن خزيمة بن ثابت، قال جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم للمسافر ثلاثا ولو مضى السايل على مسالته لجعلها خمسا
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن اور ان کی راتیں مسافر کے لیے موزوں پر مسح کے حکم میں داخل ہیں ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سلمة بن كهيل، قال سمعت ابراهيم التيمي، يحدث عن الحارث بن سويد، عن عمرو بن ميمون، عن خزيمة بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة ايام - احسبه قال - ولياليهن للمسافر في المسح على الخفين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! موزوں پر طہارت کی مدت کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین رات، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو كريب قال حدثنا زيد بن الحباب، قال حدثنا عمر بن عبد الله بن ابي خثعم الثمالي، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قالوا يا رسول الله ما الطهور على الخفين قال " للمسافر ثلاثة ايام ولياليهن وللمقيم يوم وليلة
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کو رخصت دی کہ جب وہ باوضو ہو کر اپنے موزے پہنے، پھر اس کا وضو ٹوٹ جائے اور نیا وضو کرے، تو وہ اپنے موزوں پر تین دن اور تین رات تک مسح کرے، اور مقیم ایک دن، اور ایک رات تک۔
حدثنا محمد بن بشار، وبشر بن هلال الصواف، قالا حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، قال حدثنا المهاجر ابو مخلد، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه رخص للمسافر اذا توضا ولبس خفيه ثم احدث وضوءا ان يمسح ثلاثة ايام ولياليهن وللمقيم يوما وليلة
ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں دونوں قبلوں کی جانب نماز پڑھی تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا میں موزوں پر مسح کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، کہا: ایک دن تک؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، کہا: دو دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، کہا: تین دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، یہاں تک کہ سات تک پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب تک تمہارا دل چاہے ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، وعمرو بن سواد المصريان، قالا حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا يحيى بن ايوب، عن عبد الرحمن بن رزين، عن محمد بن يزيد بن ابي زياد، عن ايوب بن قطن، عن عبادة بن نسى، عن ابى بن عمارة، - وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد صلى في بيته القبلتين كلتيهما - انه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم امسح على الخفين قال " نعم " . قال يوما قال " ويومين " . قال وثلاثا حتى بلغ سبعا قال له " وما بدا لك
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مصر سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ نے اپنے موزے کب سے نہیں اتارے ہیں؟ انہوں نے کہا: جمعہ سے جمعہ تک، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سنت کو پا لیا ۱؎۔
حدثنا احمد بن يوسف السلمي، حدثنا ابو عاصم، حدثنا حيوة بن شريح، عن يزيد بن ابي حبيب، عن الحكم بن عبد الله البلوي، عن علي بن رباح اللخمي، عن عقبة بن عامر الجهني، انه قدم على عمر بن الخطاب من مصر فقال منذ كم لم تنزع خفيك قال من الجمعة الى الجمعة . قال اصبت السنة
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور پاتا ہوں اور جوتوں پر مسح کیا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي قيس الاودي، عن الهزيل بن شرحبيل، عن المغيرة بن شعبة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ومسح على الجوربين والنعلين
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور پاتا ہوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ معلی اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے «والنعلين» کہا۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا معلى بن منصور، وبشر بن ادم، قالا حدثنا عيسى بن يونس، عن عيسى بن سنان، عن الضحاك بن عبد الرحمن بن عرزب، عن ابي موسى الاشعري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ومسح على الجوربين والنعلين . قال المعلى في حديثه لا اعلمه الا قال والنعلين
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامہ ( پگڑی ) پر مسح کیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، عن الاعمش، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، عن بلال، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين والخمار
عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور عمامہ ( پگڑی ) پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۱؎۔
حدثنا دحيم، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن مصعب، حدثنا الاوزاعي، حدثنا يحيى بن ابي كثير، حدثنا ابو سلمة، عن جعفر بن عمرو، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على الخفين والعمامة
زید بن صوحان کے غلام ابو مسلم کہتے ہیں کہ میں سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وضو کے لیے اپنے موزے نکال رہا ہے، تو سلمان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اپنے موزے، عمامہ اور پیشانی پر مسح کر لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور عمامہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، عن داود بن ابي الفرات، عن محمد بن زيد، عن ابي شريح، عن ابي مسلم، مولى زيد بن صوحان قال كنت مع سلمان فراى رجلا ينزع خفيه للوضوء فقال له سلمان امسح على خفيك وعلى خمارك وبناصيتك فاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على الخفين والخمار
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، آپ کے سر پہ ایک قطری عمامہ تھا، آپ نے اپنا ہاتھ عمامہ کے نیچے داخل کر کے سر کے اگلے حصے کا مسح کیا، اور عمامہ نہیں کھولا۔
حدثنا ابو طاهر، احمد بن عمرو بن السرح حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا معاوية بن صالح، عن عبد العزيز بن مسلم، عن ابي معقل، عن انس بن مالك، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا وعليه عمامة قطرية فادخل يده من تحت العمامة فمسح مقدم راسه ولم ينقض العمامة
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار ٹوٹ کر گر گیا، وہ اس کی تلاش میں پیچھے رہ گئیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اور ان پہ ناراض ہوئے، کیونکہ ان کی وجہ سے لوگوں کو رکنا پڑا، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیمم کی اجازت والی آیت نازل فرمائی، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت مونڈھوں تک مسح کیا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، حدثنا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عمار بن ياسر، انه قال سقط عقد عايشة فتخلفت لالتماسه فانطلق ابو بكر الى عايشة فتغيظ عليها في حبسها الناس فانزل الله عز وجل الرخصة في التيمم . قال فمسحنا يوميذ الى المناكب . قال فانطلق ابو بكر الى عايشة فقال ما علمت انك لمباركة
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مونڈھوں تک تیمم کیا۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابيه، عن عمار بن ياسر، قال تيممنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى المناكب