Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا اسامة بن زيد، عن عمرو بن شعيب، عن ام كرز، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بول الغلام ينضح وبول الجارية يغسل
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو اطمینان سے کر لینے دو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا، اور اس پر بہا دیا۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، حدثنا ثابت، عن انس، ان اعرابيا، بال في المسجد فوثب اليه بعض القوم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزرموه " . ثم دعا بدلو من ماء فصب عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے اللہ! میری اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرما دے، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی اللہ کی مغفرت ) کو تنگ کر دیا ، پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، پھر دین کی سمجھ آ جانے کے بعد ( یہ قصہ بیان کر کے ) دیہاتی نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف یہ فرمایا: یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال دخل اعرابي المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس فقال اللهم اغفر لي ولمحمد ولا تغفر لاحد معنا . فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " لقد احتظرت واسعا " . ثم ولى حتى اذا كان في ناحية المسجد فشج يبول . فقال الاعرابي بعد ان فقه فقام الى بابي وامي . فلم يونب ولم يسب . فقال " ان هذا المسجد لا يبال فيه وانما بني لذكر الله وللصلاة " . ثم امر بسجل من ماء فافرغ على بوله
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ اپنی رحمت میں کسی کو شریک نہ کر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا، افسوس ہے تم پر یا تمہارے لیے خرابی ہے ، واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ پاؤں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: رکو، رکو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو ( پیشاب کر لینے دو ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا اور اس پر بہا دیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن عبد الله، عن عبيد الله الهذلي، - قال محمد بن يحيى وهو عندنا ابن ابي حميد - انبانا ابو المليح الهذلي، عن واثلة بن الاسقع، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اللهم ارحمني ومحمدا ولا تشرك في رحمتك ايانا احدا . فقال " لقد حظرت واسعا ويحك - او ويلك - " . قال فشج يبول فقال اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعوه " . ثم دعا بسجل من ماء فصب عليه
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہا انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا: میرا دامن بہت لمبا ہے، اور مجھے گندی جگہ میں چلنا پڑتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ناپاک زمین کے بعد والی زمین اس دامن کو پاک کر دیتی ہے
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مالك بن انس، حدثنا محمد بن عمارة بن عمرو بن حزم، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث التيمي، عن ام ولد، لابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف انها سالت ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت اني امراة اطيل ذيلي فامشي في المكان القذر فقالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يطهره ما بعده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم مسجد جاتے ہیں تو ناپاک راستے پر ہمارے پیر پڑ جاتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین کا دوسرا ( پاک ) حصہ اسے پاک کر دیتا ہے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابراهيم بن اسماعيل اليشكري، عن ابن ابي حبيبة، عن داود بن الحصين، عن ابي سفيان، عن ابي هريرة، قال قيل يا رسول الله انا نريد المسجد فنطا الطريق النجسة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الارض يطهر بعضها بعضا
قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک عورت رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: میرے اور مسجد کے مابین ایک گندا راستہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بعد اس سے صاف راستہ ہے ، میں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے بدلے ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شريك، عن عبد الله بن عيسى، عن موسى بن عبد الله بن يزيد، عن امراة، من بني عبد الاشهل قالت سالت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت ان بيني وبين المسجد طريقا قذرة . قال " فبعدها طريق انظف منها " . قلت نعم . قال " فهذه بهذه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنبی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کے کسی راستے میں انہیں ملے، تو وہ چپکے سے نکل لیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غائب پایا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ ، کہا: اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کے وقت میں جنبی تھا، اور بغیر غسل کئے آپ کی محفل میں بیٹھنا مجھے اچھا نہیں لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن حميد، عن بكر بن عبد الله، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، انه لقيه النبي صلى الله عليه وسلم في طريق من طرق المدينة وهو جنب فانسل ففقده النبي صلى الله عليه وسلم فلما جاء قال " اين كنت يا ابا هريرة " . قال يا رسول الله لقيتني وانا جنب فكرهت ان اجالسك حتى اغتسل . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن لا ينجس
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہو گئی اور میں جنبی تھا، میں کھسک لیا، پھر غسل کر کے حاضر خدمت ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا تھا؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا اسحاق بن منصور، انبانا يحيى بن سعيد، جميعا عن مسعر، عن واصل الاحدب، عن ابي وايل، عن حذيفة، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم فلقيني وانا جنب فحدت عنه فاغتسلت ثم جيت فقال " ما لك " . قلت كنت جنبا . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان المسلم لا ينجس
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو؟ سلیمان نے کہا: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عمرو بن ميمون، قال سالت سليمان بن يسار عن الثوب، يصيبه المني انغسله او نغسل الثوب كله قال سليمان قالت عايشة كان النبي صلى الله عليه وسلم يصيب ثوبه فيغسله من ثوبه ثم يخرج في ثوبه الى الصلاة وانا ارى اثر الغسل فيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بعض اوقات میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ دیا کرتی تھی۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، ح وحدثنا محمد بن طريف، حدثنا عبدة بن سليمان، جميعا عن الاعمش، عن ابراهيم، عن همام بن الحارث، عن عايشة، قالت ربما فركته من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مہمان آیا، انہوں نے مہمان کے لیے اپنی پیلی چادر دینے کا حکم دیا، اسے اس چادر میں احتلام ہو گیا، اسے شرم محسوس ہوئی کہ وہ چادر کو اس حال میں بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو، اس نے چادر پانی میں ڈبو دی، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے تو انگلی سے کھرچ دینا کافی تھا، میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی اپنی انگلی سے کھرچی ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن همام بن الحارث، قال نزل بعايشة ضيف فامرت له بملحفة لها صفراء فاحتلم فيها فاستحيى ان يرسل بها وفيها اثر الاحتلام فغمسها في الماء ثم ارسل بها فقالت عايشة لم افسدت علينا ثوبنا انما كان يكفيك ان تفركه باصبعك ربما فركته من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم باصبعي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگی دیکھتی تو اسے کھرچ دیتی تھی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا هشيم، عن مغيرة، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت لقد رايتني اجده في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحته عنه
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، لیکن ایسا تب ہوتا تھا جب کپڑوں میں گندگی نہ لگی ہوتی تھی۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سويد بن قيس، عن معاوية بن حديج، عن معاوية بن ابي سفيان، انه سال اخته ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في الثوب الذي يجامع فيه قالت نعم اذا لم يكن فيه اذى
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی، جسے آپ اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا داہنا کنارا بائیں کندھے پر اور بایاں داہنے کندھے پر تھا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھا لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو ۔
حدثنا هشام بن خالد الازرق، حدثنا الحسن بن يحيى الخشني، حدثنا زيد بن واقد، عن بسر بن عبيد الله، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي الدرداء، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وراسه يقطر ماء فصلى بنا في ثوب واحد متوشحا به قد خالف بين طرفيه فلما انصرف قال عمر بن الخطاب يا رسول الله تصلي بنا في ثوب واحد قال " نعم اصلي فيه وفيه " . اى قد جامعت فيه
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا وہ اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے جس میں بیوی سے صحبت کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مگر یہ کہ اس میں کسی گندگی کا نشان دیکھے تو اسے دھو لے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يحيى بن يوسف الزمي، ح وحدثنا احمد بن عثمان بن حكيم، حدثنا سليمان بن عبيد الله الرقي، قالا حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن عبد الملك بن عمير، عن جابر بن سمرة، قال سال رجل النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في الثوب الذي ياتي فيه اهله قال " نعم الا ان يرى فيه شييا فيغسله
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ کہا: میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگ جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث پسند کرتے تھے، اس لیے کہ انہوں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا، ( کیونکہ سورۃ المائدہ میں پیر کے دھونے کا حکم تھا ) ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن همام بن الحارث، قال بال جرير بن عبد الله ثم توضا ومسح على خفيه فقيل له اتفعل هذا قال وما يمنعني وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله . قال ابراهيم كان يعجبهم حديث جرير لان اسلامه كان بعد نزول المايدة
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، ح وحدثنا ابو همام الوليد بن شجاع بن الوليد، حدثنا ابي وابن، عيينة وابن ابي زايدة جميعا عن الاعمش، عن ابي وايل، عن حذيفة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ومسح على خفيه
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، وہ ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیے، جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہو گئے، تو وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن سعد بن ابراهيم، عن نافع بن جبير، عن عروة بن المغيرة بن شعبة، عن ابيه المغيرة بن شعبة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه خرج لحاجته فاتبعه المغيرة باداوة فيها ماء حتى فرغ من حاجته فتوضا ومسح على الخفين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سعد بن مالک ( سعد بن مالک ابن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیا آپ لوگ بھی ایسا کرتے ہیں؟ وہ دونوں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھا ہوئے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتائیے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے تھے، اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: خواہ کوئی بیت الخلاء سے آئے؟ فرمایا: ہاں۔
حدثنا عمران بن موسى الليثي، حدثنا محمد بن سواء، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، انه راى سعد بن مالك وهو يمسح على الخفين فقال انكم لتفعلون ذلك فاجتمعنا عند عمر فقال سعد لعمر افت ابن اخي في المسح على الخفين . فقال عمر كنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نمسح على خفافنا لم نر بذلك باسا . فقال ابن عمر وان جاء من الغايط قال نعم