Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ وہ ( گھر سے ) باہر تشریف لائے۔ ( بات چیت کے دوران ان میں ابی نے ) فرمایا: مجھے مذی آ گئی تھی تو میں نے عضو خاص کو دھو کر وضو کیا ہے ( اس لیے باہر آنے میں دیر ہوئی ) عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا یہ ( وضو کر لینا ) کافی ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: کیا آپ نے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( خود ) سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا مسعر، عن مصعب بن شيبة، عن ابي حبيب بن يعلى بن منية، عن ابن عباس، انه اتى ابى بن كعب ومعه عمر فخرج عليهما فقال اني وجدت مذيا فغسلت ذكري وتوضات . فقال عمر او يجزي ذلك قال نعم . قال اسمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، سمعت سفيان، يقول لزايدة بن قدامة يا ابا الصلت هل سمعت في، هذا شييا فقال حدثنا سلمة بن كهيل، عن كريب، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قام من الليل فدخل الخلاء فقضى حاجته ثم غسل وجهه وكفيه ثم نام . حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا شعبة، انبانا سلمة بن كهيل، انبانا بكير، عن كريب، قال فلقيت كريبا فحدثني عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم ساری نماز ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا شريك، عن عمرو بن عامر، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا لكل صلاة وكنا نحن نصلي الصلوات كلها بوضوء واحد
بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، لیکن فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وضو سے ساری نماز پڑھیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن محارب بن دثار، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتوضا لكل صلاة فلما كان يوم فتح مكة صلى الصلوات كلها بوضوء واحد
فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن توبة، حدثنا زياد بن عبد الله، حدثنا الفضل بن مبشر، قال رايت جابر بن عبد الله يصلي الصلوات بوضوء واحد . فقلت ما هذا فقال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع هذا فانا اصنع كما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ان کی مجلس میں سنا، پھر جب نماز کا وقت ہوا، تو وہ اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی، پھر مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے، پھر جب عصر کا وقت آیا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز پڑھی، پھر اپنی مجلس میں واپس آئے، پھر جب مغرب کا وقت ہوا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی پھر اپنی مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے تو میں نے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے، کیا یہ وضو ( ہر نماز کے لیے ) فرض ہے یا سنت؟ کہا: کیا تم نے میرے اس کام کو سمجھ لیا اور یہ سمجھا ہے کہ یہ میں نے اپنی طرف سے کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، بولے: نہیں، ( ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض نہیں ) اگر میں نماز فجر کے لیے وضو کرتا تو اس سے وضو نہ ٹوٹنے تک ساری نماز پڑھتا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا، تو اس کے لیے دس نیکیاں ہیں ، اور مجھ کو ان نیکیوں ہی کا شوق ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا عبد الرحمن بن زياد، عن ابي غطيف الهذلي، قال سمعت عبد الله بن عمر بن الخطاب، في مجلسه في المسجد فلما حضرت الصلاة قام فتوضا وصلى ثم عاد الى مجلسه فلما حضرت العصر قام فتوضا وصلى ثم عاد الى مجلسه فلما حضرت المغرب قام فتوضا وصلى ثم عاد الى مجلسه فقلت اصلحك الله افريضة ام سنة الوضوء عند كل صلاة قال او فطنت الى والى هذا مني فقلت نعم . فقال لا لو توضات لصلاة الصبح لصليت به الصلوات كلها ما لم احدث ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من توضا على كل طهر فله عشر حسنات " . وانما رغبت في الحسنات
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس شخص کا معاملہ لے جایا گیا جس نے نماز میں ( حدث کا ) شبہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ وہ گوز کی آواز نہ سن لے، یا بو نہ محسوس کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، قال انبانا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد، وعباد بن تميم، عن عمه، قال شكي الى النبي صلى الله عليه وسلم الرجل يجد الشىء في الصلاة فقال " لا حتى يجد ريحا او يسمع صوتا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں حدث کا شبہ ہو جانے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے نماز نہ توڑے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا المحاربي، عن معمر بن راشد، عن الزهري، انبانا سعيد بن المسيب، عن ابي سعيد الخدري، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن التشبه في الصلاة فقال " لا ينصرف حتى يسمع صوتا او يجد ريحا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغیر آواز یا بو کے وضو واجب نہیں ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، وعبد الرحمن، قالوا حدثنا شعبة، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا وضوء الا من صوت او ريح
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہما کو اپنا کپڑا سونگھتے دیکھا، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بغیر بو سونگھے یا آواز سنے وضو واجب نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن عبد العزيز بن عبيد الله، عن محمد بن عمرو بن عطاء، قال رايت السايب بن يزيد يشم ثوبه فقلت مم ذلك قال اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا وضوء الا من ريح او سماع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحراء اور میدان میں واقع ان گڈھوں کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا جن سے مویشی اور درندے پانی پیتے رہتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ( دو بڑے مٹکے کے برابر ) ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا محمد بن اسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن الماء يكون بالفلاة من الارض وما ينوبه من الدواب والسباع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا بلغ الماء قلتين لم ينجسه شىء " . حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن جعفر، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو یا تین قلہ ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا حماد بن سلمة، عن عاصم بن المنذر، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان الماء قلتين او ثلاثا لم ينجسه شىء " . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا ابو حاتم، حدثنا ابو الوليد، وابو سلمة وابن عايشة القرشي قالوا حدثنا حماد بن سلمة، فذكر نحوه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو حوض و تالاب واقع ہیں، اور ان پر درندے، کتے اور گدھے پانی پینے آتے ہیں، تو ایسے حوضوں و تالابوں کا اور ان کے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ انہوں نے اپنی تہ میں سمیٹ لیا، وہ ان کا حصہ ہے، اور جو پانی حوض ( تالاب ) میں بچا، وہ ہمارے لیے پاک کرنے والا ہے ۔
حدثنا ابو مصعب المدني، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن الحياض التي بين مكة والمدينة تردها السباع والكلاب والحمر وعن الطهارة منها فقال " لها ما حملت في بطونها ولنا ما غبر طهور
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک تالاب پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی ہے ہم اس ( کے استعمال ) سے رک گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ( یہ سنا ) تو ہم نے پیا پلایا، اور پانی بھر کر لاد لیا۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا شريك، عن طريف بن شهاب، قال سمعت ابا نضرة، يحدث عن جابر بن عبد الله، قال انتهينا الى غدير فاذا فيه جيفة حمار . قال فكففنا عنه حتى انتهى الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان الماء لا ينجسه شىء " . فاستقينا واروينا وحملنا
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو چیز اس کی بو، مزہ اور رنگ پر غالب آ جائے ۱؎۔
حدثنا محمود بن خالد، والعباس بن الوليد الدمشقيان، قالا حدثنا مروان بن محمد، حدثنا رشدين، انبانا معاوية بن صالح، عن راشد بن سعد، عن ابي امامة الباهلي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الماء لا ينجسه شىء الا ما غلب على ريحه وطعمه ولونه
لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجئیے اور دوسرا کپڑا پہن لیجئیے ( تاکہ میں اسے دھو دوں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ پانی چھڑکا جاتا ہے، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن قابوس بن ابي المخارق، عن لبابة بنت الحارث، قالت بال الحسين بن علي في حجر النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اعطني ثوبك والبس ثوبا غيره فقال " انما ينضح من بول الذكر ويغسل من بول الانثى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر صرف پانی بہا لیا، اور اسے دھویا نہیں
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت اتي النبي صلى الله عليه وسلم بصبي فبال عليه فاتبعه الماء ولم يغسله
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے ایک شیرخوار بچے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ام قيس بنت محصن، قالت دخلت بابن لي على رسول الله صلى الله عليه وسلم لم ياكل الطعام فبال عليه فدعا بماء فرش عليه
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیرخوار بچے کے پیشاب کے بارے میں فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ۔
حدثنا حوثرة بن محمد، ومحمد بن سعيد بن يزيد بن ابراهيم، قالا حدثنا معاذ بن هشام، انبانا ابي، عن قتادة، عن ابي حرب بن ابي الاسود الديلي، عن ابيه، عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في بول الرضيع " ينضح بول الغلام ويغسل بول الجارية " . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا احمد بن موسى بن معقل، حدثنا ابو اليمان المصري، قال سالت الشافعي عن حديث النبي، صلى الله عليه وسلم " يرش من بول الغلام ويغسل من بول الجارية " . والماءان جميعا واحد قال لان بول الغلام من الماء والطين وبول الجارية من اللحم والدم . ثم قال لي فهمت او قال لقنت قال قلت لا . قال ان الله تعالى لما خلق ادم خلقت حواء من ضلعه القصير فصار بول الغلام من الماء والطين وصار بول الجارية من اللحم والدم . قال قال لي فهمت قلت نعم . قال لي نفعك الله به
ابوسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا، آپ کے پاس حسن یا حسین کو لایا گیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، لوگوں نے اسے دھونا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر پانی چھڑک دو، اس لیے کہ بچی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جاتا ہے ۔
حدثنا عمرو بن علي، ومجاهد بن موسى، والعباس بن عبد العظيم، قالوا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا يحيى بن الوليد، حدثنا محل بن خليفة، اخبرنا ابو السمح، قال كنت خادم النبي صلى الله عليه وسلم فجيء بالحسن او الحسين فبال على صدره فارادوا ان يغسلوه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رشه فانه يغسل بول الجارية ويرش على بول الغلام