Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں پر رکھتے اور کہتے: یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: تم ہر اس چیز کے استعمال سے وضو کرو جسے آگ پر پکایا گیا ہو ۔
حدثنا هشام بن خالد الازرق، حدثنا خالد بن يزيد بن ابي مالك، عن ابيه، عن انس بن مالك، قال كان يضع يديه على اذنيه ويقول صمتا ان لم اكن سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " توضيوا مما مست النار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نیچے بچھے ہوئے چمڑے میں اپنا ہاتھ پونچھا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھائی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اكل النبي صلى الله عليه وسلم كتفا ثم مسح يديه بمسح كان تحته ثم قام الى الصلاة فصلى
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے روٹی اور گوشت کھایا، اور وضو نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن الصباح، اخبرنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن المنكدر، وعمرو بن دينار، وعبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، قال اكل النبي صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر خبزا ولحما ولم يتوضيوا
زہری کہتے ہیں کہ میں ولید یا عبدالملک کے ساتھ شام کے کھانے پہ حاضر ہوا، جب نماز کا وقت ہوا تو میں وضو کے لیے اٹھا تو جعفر بن عمرو بن امیہ ۱؎ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد ( عمرو بن امیہ ضمری مدنی رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ پہ پکا ہوا کھانا کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ علی بن عبداللہ بن عباس نے کہا کہ میں اپنے والد ( عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ) کے بارے میں بھی اسی طرح کی گواہی دیتا ہوں۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثنا الزهري، قال حضرت عشاء الوليد - او عبد الملك - فلما حضرت الصلاة قمت لاتوضا فقال جعفر بن عمرو بن امية اشهد على ابي انه شهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم انه اكل طعاما مما غيرت النار ثم صلى ولم يتوضا . وقال علي بن عبد الله بن عباس وانا اشهد، على ابي بمثل ذلك
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کی ( پکی ہوئی ) دست پیش کی گئی، آپ نے اس میں سے کھایا، پھر نماز پڑھی، اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن علي بن الحسين، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، قالت اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بكتف شاة فاكل منه وصلى ولم يمس ماء
سوید بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جانب نکلے، جب مقام صہباء ۱؎ میں پہنچے تو عصر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگایا تو صرف ستو لایا گیا لوگوں نے اسے کھایا، پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا، اور کلی کی، پھر اٹھے اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، انبانا سويد بن النعمان الانصاري، انهم خرجوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى خيبر حتى اذا كانوا بالصهباء صلى العصر ثم دعا باطعمة فلم يوت الا بسويق فاكلوا وشربوا ثم دعا بماء فمضمض فاه ثم قام فصلى بنا المغرب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر کلی کی، اور اپنے ہاتھ دھو کر نماز پڑھی ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اكل كتف شاة فمضمض وغسل يديه وصلى
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، وابو معاوية قالا حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن عبد الله، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء بن عازب، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوضوء من لحوم الابل فقال " توضيوا منها
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ کا گوشت کھائیں تو وضو کریں، اور بکری کا گوشت کھائیں تو وضو نہ کریں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا زايدة، واسراييل، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن جعفر بن ابي ثور، عن جابر بن سمرة، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نتوضا من لحوم الابل ولا نتوضا من لحوم الغنم
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکری کا دودھ پی کر وضو نہ کرو، البتہ اونٹنی کا دودھ پی کر وضو کرو ۔
حدثنا ابو اسحاق الهروي، ابراهيم بن عبد الله بن حاتم حدثنا عباد بن العوام، عن حجاج، عن عبد الله بن عبد الله، مولى بني هاشم - وكان ثقة وكان الحكم ياخذ عنه - حدثنا عبد الرحمن بن ابي ليلى عن اسيد بن حضير قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا توضيوا من البان الغنم وتوضيوا من البان الابل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اونٹ کے گوشت سے وضو کر لیا کرو، اور بکری کے گوشت سے وضو نہ کرو، اور اونٹنی کے دودھ سے وضو کیا کرو، اور بکری کے دودھ سے وضو نہ کرو، بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھو، اور اونٹ کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يزيد بن عبد ربه، حدثنا بقية، عن خالد بن يزيد بن عمر بن هبيرة الفزاري، عن عطاء بن السايب، قال سمعت محارب بن دثار، يقول سمعت عبد الله بن عمر، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " توضيوا من لحوم الابل ولا توضيوا من لحوم الغنم وتوضيوا من البان الابل ولا توضيوا من البان الغنم وصلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في معاطن الابل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ پی کر کلی کر لیا کرو کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " مضمضوا من اللبن فان له دسما
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دودھ پیو تو کلی کر لیا کرو کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، عن موسى بن يعقوب، حدثني ابو عبيدة بن عبد الله بن زمعة، عن ابيه، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا شربتم اللبن فمضمضوا فان له دسما
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ پی کر کلی کر لیا کرو کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا عبد المهيمن بن عباس بن سهل بن سعد الساعدي، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " مضمضوا من اللبن فان له دسما
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری دودھ کر دودھ پیا، پھر پانی منگوا کر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم السواق، حدثنا الضحاك بن مخلد، حدثنا زمعة بن صالح، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال حلب رسول الله صلى الله عليه وسلم شاة وشرب من لبنها ثم دعا بماء فمضمض فاه وقال " ان له دسما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا، ( عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ) میں نے ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) کہا: وہ آپ ہی رہی ہوں گی! تو وہ ہنس پڑیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل بعض نسايه ثم خرج الى الصلاة ولم يتوضا . قلت ما هي الا انت . فضحكت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے پھر بوسہ لیتے، اور بغیر وضو کئے نماز پڑھتے، اور بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ بھی ایسا کیا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن حجاج، عن عمرو بن شعيب، عن زينب السهمية، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتوضا ثم يقبل ويصلي ولا يتوضا وربما فعله بي
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس میں وضو ہے، اور منی ۲؎ میں غسل ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا هشيم، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المذى فقال " فيه الوضوء وفي المني الغسل
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی سے قریب ہوتا ہے، اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ایسا ہو تو آدمی اپنی شرمگاہ پر پانی ڈال لے یعنی اسے دھو لے، اور وضو کر لے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا مالك بن انس، عن سالم ابي النضر، عن سليمان بن يسار، عن المقداد بن الاسود، انه سال النبي صلى الله عليه وسلم عن الرجل يدنو من امراته فلا ينزل قال " اذا وجد احدكم ذلك فلينضح فرجه - يعني ليغسله - ويتوضا
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے شدت سے مذی آتی تھی جس کی وجہ سے میں کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کافی ہے ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! جو کپڑے میں لگ جائے اس کا حکم کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک چلو پانی لو، اور جہاں پہ دیکھو کہ مذی لگ گئی ہے وہاں پہ چھڑک دو، بس یہ تمہارے لیے کافی ہو گا ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن المبارك، وعبدة بن سليمان، عن محمد بن اسحاق، حدثنا سعيد بن عبيد بن السباق، عن ابيه، عن سهل بن حنيف، قال كنت القى من المذى شدة فاكثر منه الاغتسال فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انما يجزيك من ذلك الوضوء " . قلت يا رسول الله كيف بما يصيب ثوبي قال " انما يكفيك كف من ماء تنضح به من ثوبك حيث ترى انه اصاب