Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کر چکے تو میں آپ کے پاس ایک کپڑا لائی، آپ نے اسے واپس لوٹا دیا اور ( بدن سے ) پانی جھاڑنے لگے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن كريب، حدثنا ابن عباس، عن خالته، ميمونة قالت اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بثوب حين اغتسل من الجنابة فرده وجعل ينفض الماء
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے پہنے ہوئے اون کے جبہ کو الٹ کر اس سے اپنا چہرہ پونچھ لیا ۱؎۔
حدثنا العباس بن الوليد، واحمد بن الازهر، قالا حدثنا مروان بن محمد، حدثنا يزيد بن السمط، حدثنا الوضين بن عطاء، عن محفوظ بن علقمة، عن سلمان الفارسي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا فقلب جبة صوف كانت عليه فمسح بها وجهه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، پھر تین مرتبہ «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے، اور اس کے رسول ہیں کہا، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے وہ جس دروازہ سے چاہے داخل ہو ۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن، حدثنا الحسين بن علي، وزيد بن الحباب، ح وحدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو نعيم، قالوا حدثنا عمرو بن عبد الله بن وهب ابو سليمان النخعي، قال حدثني زيد العمي، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من توضا فاحسن الوضوء ثم قال ثلاث مرات اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله فتح له ثمانية ابواب الجنة من ايها شاء دخل " . قال ابو الحسن بن سلمة القطان حدثنا ابراهيم بن نصر، حدثنا ابو نعيم، بنحوه
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی اچھی طرح سے وضو کرے پھر «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے، اور رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس دروازے سے چاہے وہ داخل ہو جائے ۔
حدثنا علقمة بن عمرو الدارمي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن عبد الله بن عطاء البجلي، عن عقبة بن عامر الجهني، عن عمر بن الخطاب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مسلم يتوضا فيحسن الوضوء ثم يقول اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله الا فتحت له ثمانية ابواب الجنة يدخل من ايها شاء
صحابی رسول عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے پیتل کے ایک چھوٹے برتن میں پانی حاضر کیا جس سے آپ نے وضو کیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا احمد بن عبد الله، عن عبد العزيز بن الماجشون، حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد، صاحب النبي صلى الله عليه وسلم قال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخرجنا له ماء في تور من صفر فتوضا به
ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس پیتل کی ایک تھال تھی جس میں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کیا کرتی تھی ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن عبيد الله بن عمر، عن ابراهيم بن محمد بن عبد الله بن جحش، عن ابيه، عن زينب بنت جحش، انه كان لها مخضب من صفر قالت فكنت ارجل راس رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھوٹے برتن میں وضو کیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن شريك، عن ابراهيم بن جرير، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا في تور
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگتے، پھر اٹھ کر بغیر وضو کے نماز پڑھتے۔ طنافسی کہتے ہیں: وکیع کا بیان ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی کہ سجدہ کی حالت میں سو جاتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينام حتى ينفخ ثم يقوم فيصلي ولا يتوضا . قال الطنافسي قال وكيع تعني وهو ساجد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھی۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن حجاج، عن فضيل بن عمرو، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نام حتى نفخ ثم قام فصلى
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سونا بیٹھے بیٹھے تھا
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، عن ابن ابي زايدة، عن حريث بن ابي مطر، عن يحيى بن عباد ابي هبيرة الانصاري، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان نومه ذلك وهو جالس . يعني النبي صلى الله عليه وسلم
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آنکھ سرین کا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کرے ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية، عن الوضين بن عطاء، عن محفوظ بن علقمة، عن عبد الرحمن بن عايذ الازدي، عن علي بن ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العين وكاء السه فمن نام فليتوضا
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے موزوں کو تین دنوں تک جنابت کے سوا پاخانے، پیشاب اور نیند کے سبب نہ اتاریں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عاصم، عن زر، عن صفوان بن عسال، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا ان لا ننزع خفافنا ثلاثة ايام الا من جنابة لكن من غايط وبول ونوم
بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ چھوئے تو وضو کرے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن مروان بن الحكم، عن بسرة بنت صفوان، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا مس احدكم ذكره فليتوضا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی اپنی شرمگاہ چھوئے تو اس پر وضو لازم ہے ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا معن بن عيسى، ح وحدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا عبد الله بن نافع، جميعا عن ابن ابي ذيب، عن عقبة بن عبد الرحمن، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا مس احدكم ذكره فعليه الوضوء
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو اپنی شرمگاہ چھوئے تو وضو کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا المعلى بن منصور، ح وحدثنا عبد الله بن احمد بن بشير بن ذكوان الدمشقي، حدثنا مروان بن محمد، قالا حدثنا الهيثم بن حميد، حدثنا العلاء بن الحارث، عن مكحول، عن عنبسة بن ابي سفيان، عن ام حبيبة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من مس فرجه فليتوضا
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اپنی شرمگاہ چھوئے وہ وضو کرے ۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن اسحاق بن ابي فروة، عن الزهري، عن عبد الله بن عبد القاري، عن ابي ايوب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من مس فرجه فليتوضا
طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ سے شرمگاہ چھونے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اس کے چھونے سے وضو نہیں ہے، وہ تو تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا محمد بن جابر، قال سمعت قيس بن طلق الحنفي، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن مس الذكر فقال " ليس فيه وضوء انما هو منك
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمگاہ چھونے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے ۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا مروان بن معاوية، عن جعفر بن الزبير، عن القاسم، عن ابي امامة، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن مس الذكر فقال " انما هو حذية منك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کرو ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا ہم گرم پانی استعمال کرنے سے بھی وضو کریں؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنو تو اس پر باتیں مت بناؤ ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " توضيوا مما غيرت النار " . فقال ابن عباس اتوضا من الحميم فقال له يا ابن اخي اذا سمعت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا فلا تضرب له الامثال
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اس چیز کے استعمال سے وضو کرو جس کو آگ پر پکایا گیا ہو ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا ابن وهب، انبانا يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " توضيوا مما مست النار