Loading...

Loading...
کتب
۴۰۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اچھی طرح ہر عضو تک پانی پہنچا کر وضو کرو، اور اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پانی پہنچاؤ ۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، حدثنا سعد بن عبد الحميد بن جعفر، عن ابن ابي الزناد، عن موسى بن عقبة، عن صالح، مولى التوامة عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قمت الى الصلاة فاسبغ الوضوء واجعل الماء بين اصابع يديك ورجليك
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامل وضو کرو، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن سليم الطايفي، عن اسماعيل بن كثير، عن عاصم بن لقيط بن صبرة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسبغ الوضوء وخلل بين الاصابع
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو اپنی انگوٹھی ہلاتے ۱؎۔
حدثنا عبد الملك بن محمد الرقاشي، حدثنا معمر بن محمد بن عبيد الله بن ابي رافع، حدثني ابي، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا توضا حرك خاتمه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، ان کی ایڑیاں سوکھی ظاہر ہو رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کو دھلنے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے، وضو میں اچھی طرح ہر عضو تک پانی پہنچا کر وضو کرو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ابي يحيى، عن عبد الله بن عمر، قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم قوما يتوضيون واعقابهم تلوح فقال " ويل للاعقاب من النار اسبغوا الوضوء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایڑیوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ۔
قال القطان حدثنا ابو حاتم، حدثنا عبد المومن بن علي، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ويل للاعقاب من النار
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( اپنے بھائی ) عبدالرحمٰن کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: وضو مکمل کیا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ایٹریوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد الله بن رجاء المكي، عن ابن عجلان، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن سعيد، وابو خالد الاحمر عن محمد بن عجلان، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي سلمة، قال رات عايشة عبد الرحمن وهو يتوضا فقالت اسبغ الوضوء فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ويل للعراقيب من النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایٹریوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ويل للاعقاب من النار
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ایڑیوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن ابي كرب، عن جابر بن عبد الله، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ويل للعراقيب من النار
خالد بن ولید، یزید بن ابوسفیان، شرحبیل بن حسنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا وضو مکمل کیا کرو، ایڑیوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے ۔
حدثنا العباس بن عثمان، وعثمان بن اسماعيل الدمشقيان، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا شيبة بن الاحنف، عن ابي سلام الاسود، عن ابي صالح الاشعري، حدثني ابو عبد الله الاشعري، عن خالد بن الوليد، ويزيد بن ابي سفيان، وشرحبيل ابن حسنة، وعمرو بن العاص، كل هولاء سمعوا من، رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اتموا الوضوء ويل للاعقاب من النار
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر کہنے لگے: میرا مقصد یہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلا دوں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن ابي حية، قال رايت عليا توضا فغسل قدميه الى الكعبين ثم قال اردت ان اريكم طهور نبيكم صلى الله عليه وسلم
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا حريز بن عثمان، عن عبد الرحمن بن ميسرة، عن المقدام بن معديكرب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا فغسل رجليه ثلاثا ثلاثا
ربیع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے، اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، اس سے وہ اپنی وہ حدیث مراد لے رہی تھیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے دونوں پیر دھوئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ پاؤں کے دھونے ہی پر مصر ہیں جب کہ میں قرآن کریم میں پاؤں کے صرف مسح کا حکم پاتا ہوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن علية، عن روح بن القاسم، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الربيع، قالت اتاني ابن عباس فسالني عن هذا الحديث، - تعني حديثها الذي ذكرت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا وغسل رجليه - فقال ابن عباس ان الناس ابوا الا الغسل ولا اجد في كتاب الله الا المسح
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کامل وضو کیا، تو اس کی فرض نماز ایک نماز سے دوسری نماز تک کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن جامع بن شداد ابي صخرة، قال سمعت حمران، يحدث ابا بردة في المسجد انه سمع عثمان بن عفان، يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اتم الوضوء كما امره الله فالصلوات المكتوبات كفارات لما بينهن
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کی کوئی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک کہ کامل وضو نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے کہ اپنے چہرے کو اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اور دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا حجاج، حدثنا همام، حدثنا اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، حدثني علي بن يحيى بن خلاد، عن ابيه، عن عمه، رفاعة بن رافع انه كان جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " انها لا تتم صلاة لاحد حتى يسبغ الوضوء كما امره الله تعالى يغسل وجهه ويديه الى المرفقين ويمسح براسه ورجليه الى الكعبين
حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ایک چلو پانی لے کر شرمگاہ پر چھینٹا مارا۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا زكريا بن ابي زايدة، قال قال منصور حدثنا مجاهد، عن الحكم بن سفيان الثقفي، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ثم اخذ كفا من ماء فنضح به فرجه
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل ( علیہ السلام ) نے مجھے وضو سکھایا، اور مجھے اپنے کپڑے کے نیچے ( شرمگاہ ) پر چھینٹے مارنے کا حکم دیا کہ کہیں وضو کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ نہ آ گیا ہو ( تاکہ چھینٹے مارنے سے یہ شبہ زائل ہو جائے ) ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن محمد الفريابي، حدثنا حسان بن عبد الله، حدثنا ابن لهيعة، عن عقيل، عن الزهري، عن عروة، قال حدثنا اسامة بن زيد، عن ابيه، زيد بن حارثة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " علمني جبراييل الوضوء وامرني ان انضح تحت ثوبي لما يخرج من البول بعد الوضوء " . قال ابو الحسن بن سلمة حدثنا ابو حاتم، حدثنا عبد الله بن يوسف التنيسي، حدثنا ابن لهيعة، فذكر نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو ( شرمگاہ پر ) چھینٹے مار لیا کرو ۔
حدثنا الحسين بن سلمة اليحمدي، حدثنا سلم بن قتيبة، حدثنا الحسن بن علي الهاشمي، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا توضات فانتضح
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پہ چھینٹ ماری۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا قيس، عن ابن ابي ليلى، عن ابي الزبير، عن جابر، قال توضا رسول الله صلى الله عليه وسلم فنضح فرجه
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہانے کا ارادہ کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ پر پردہ کئے رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہا کر اپنا کپڑا لیا، اور اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعيد بن ابي هند، ان ابا مرة، مولى عقيل حدثه ان ام هاني بنت ابي طالب حدثته انه، لما كان عام الفتح قام رسول الله صلى الله عليه وسلم الى غسله فسترت عليه فاطمة ثم اخذ ثوبه فالتحف به
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل کیا، پھر ہم آپ کے پاس ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لپیٹ لیا۔ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس چادر کی وجہ سے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں میں ورس کے جو نشانات پڑ گئے تھے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا ابن ابي ليلى، عن محمد بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة، عن محمد بن شرحبيل، عن قيس بن سعد، قال اتانا النبي صلى الله عليه وسلم فوضعنا له ماء فاغتسل ثم اتيناه بملحفة ورسية فاشتمل بها فكاني انظر الى اثر الورس على عكنه